فوجی عدالتوں پر سپریم کورٹ نے آئینی و قانونی ہونے کی مہر لگا دی ہے۔ کسی نے اِسے ''نظریہ ضرورت‘‘ کا دوسرا جنم کہا تو کسی نے وقت کی ضرورت قرار دیا، لیکن ایک بات طے ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے نتیجے میں سندھ میں بیٹھے قانون شکن عناصر ‘بلوچستان‘ فاٹا اور اطراف میں دہشت گردی سے نمٹنے میں جہاں مدد ملے گی وہاں یہ تلوار بھی ہٹ جائے گی کہ فوجی عدالتوںکے فیصلے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جاکر نہ پھنس جائیں۔ چالاک وکلا نے اپیل کے حق کو آئینی پٹیشن کے ذریعے چیلنج کرنا شروع کر رکھا تھا اور وہ پورے سسٹم کو للکار کر نظام کی زنجیریں ہلا رہے تھے ۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے جمہوری نظام کو دھچکا لگے گا ، لیکن بعض لوگ تویہاں تک کہتے ہیں کہ جمہوری نظام ہوگا تو دھچکا لگے گا۔ یہاں تو جاگیردارانہ نظام کو عام بوتل پر آب زم زم کی طرح لکھ کرکام چلایا جارہا ہے۔ بھارت سے لے کر برطانیہ تک کا جائزہ لیں تو دادا ‘ باپ‘ بیٹا ایک ہی حلقہ انتخاب سے باری باری جیت رہے ہیں ، نسل در نسل ووٹ کا استعمال بھی بآسانی سمجھ آجاتا ہے۔ ان حلقوں میں بھی تبدیلی ضرور آتی ہے لیکن یہ تبدیلی اُس خاندان کے پارٹی بدلنے کی ہوتی ہے، باقی نظام جوں کا توں رہتا ہے۔
فوجی عدالتوں کا قیام پاکستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ لوگ چاہتے ہیںکہ جرائم پیشہ عناصرکو فوری سزائیں دی جائیں۔ عوام کے مطالبات نے مجبورکیا کہ فوجی عدالتیں قائم ہوں اورسپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر عوام کوسکونِ قلبی عطا کیا تاکہ معاشرے میں جرائم اور دہشت گردی کے بیج بونے والے بچ نہ سکیں۔ لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد ہے، اگر یہ ٹھیک کام کررہا ہوتا تو فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں بعض افراد یہاں تک کہتے ہیں کہ دادا کے مقدمے کا فیصلہ پوتا سنتا ہے۔ لوگ وزیر اعظم نواز شریف کو اِس لحاظ سے خوش قسمت قرار دے رہے ہیں کہ جمہوری دور میں دوسری بار فوجی عدالتیں قائم کرنا نواز شریف کے حصے میں آیا۔ پاکستان کے عدالتی نظام کا المیہ یہ ہے کہ 30 لاکھ مقدمات سول عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں جبکہ ملزم کو حق حاصل ہے کہ اگر مقدمے کی سماعت دو سال تک نہ ہو تو ملزم عدالت میں بریت کی درخواست دے کر رہا ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام کی تاریخ 1953ء سے شروع ہوئی جس کے بعد ملک میں نافذ ہونے والے چار مارشل لا کے ادوار فوجی عدالتوں کے ساتھ گزرے ۔1977ء کی تحریک نظام مصطفی کے آخری ایام میں ذوالفقار علی بھٹو نے تین شہروں میں مارشل لا نافذ کیا اورفوجی عدالتیں بھی قائم کیں۔ جون 1992ء میں میاں نواز شریف کا پہلا دور حکومت تھا، اندرون سندھ اور بعد ازاں کراچی میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں جو کسی جمہوری دور حکومت میں قائم ہونے والی پہلی فوجی عدالتیں تھیں۔ آج بھی آپریشن جاری ہے، نواز شریف کی حکومت ہے اور فوجی عدالتوں کو اپنا کام کرنے کے لئے گرین سگنل مل چکا ہے۔
کراچی میں رینجرز نے کریمنل مافیا کے خلاف غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔کچھ کوتاہیاں اور انسانی غلطیاں بھی ہوئی ہوںگی جو انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن عموماً بعض افراد کی کوششوں کے باوجود رینجرز کے خلاف نفرت اور مزاحمتی سوچ فروغ نہ پاسکی۔ کراچی کے عوام یہ ضرور چاہتے ہیں کہ شہر میں
امن ہو، روشنیوں کا یہ شہر ایک بار پھر کاروبار کا مرکز بنے، غیر ملکی نہ سہی کم از کم ملکی سیاح توکراچی شہر میں آنا جانا شروع کریں اوریہ صرف اِسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ یہاں امن ہو۔ رینجرز کے آپریشن کے چند ماہ بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جوڑیا بازار میںرات 8 بجے بھی چہل پہل اور رونق نظر آرہی ہے جس سے دکاندار اور گاہک دونوں خوش ہیں۔ اب وہاں بھتہ خور اور گینگ وار کے کارندے نظر نہیں آتے، پرسکون کاروبار نے اِس شہر کو زندگی کی ایک نئی مستی سے آشناکردیا ہے۔کاروباری طبقہ نئے نئے پروجیکٹ پلان کر رہا ہے۔ حالات دو تا تین ماہ ایسے رہے تو یہ شہر اپنی پرانی ڈگر پر واپس آنا شروع ہوجائے گا۔
رینجرز کوابتداہی میں کراچی کے عوام اور بعض مرحلوں پر سیاسی جماعتوںکا تعاون حاصل رہا۔ سیاسی جماعتوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے حق میں ہیں۔ رینجرز کے اعلیٰ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی تمام سرگرمیوں کو سیاسی جماعتوں کے معاملات سے دور رکھا ہے، ہم سیاسی معاملات میں رکاوٹ نہیں ڈالتے۔ سیاسی لوگ سیاست کرتے رہیں لیکن عام شہریوں کے لئے تکلیف کا باعث
نہ بنیں،کریمنلز کی سر پرستی نہ کریں۔ رینجرزکے اِس اصول کو عوام نے پذیرائی دی۔کراچی میں رینجرز کا کردار تحسین آمیز رہا اورحیرت انگیز طور پر پولیس کا کردار نظر نہ آنے کے برابر ہے۔ کراچی پولیس کی خرابی یہ ہے کہ یہ مقامی نہیں بلکہ بیرونی اضلاع سے ''درآمد شدہ‘‘ ہے۔ اِس کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں پر افسران نے ملازمت ٹیسٹ پاس کرکے نہیں ٹینڈر پاس کرکے لی ہے، جس کی پوری ''قیمت ‘‘ چکائی گئی۔ لیکن آپریشن رکاوٹ بن گیا اور رینجرز آگئی جس کی وجہ سے بہت سوں کی وصولیاں ادھوری رہ گئیں۔ اس صورت حال نے سندھ پولیس کے غیر مقامی افسران کو'معاشی‘ نقصان پہنچایا۔ اس وقت کراچی پولیس کا کردار وی آئی پیز کے لئے سکیورٹی گارڈ جیسا ہوکررہ گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے کردار کو موثرکیا جائے اور قواعد کے مطابق گریڈ 16 تک کی ملازمتیں اُسی ضلع سے لی جائیں۔ اِس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی طور پر لنگڑی ‘ لولی اور دیہی وزرا پر مشتمل سندھ حکومت شہری علاقوں میں غیر موثر ہوکر رہ گئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کو دولسانی صوبہ تسلیم کیا تھا جس سے سندھ میں مستقل سیاسی استحکام آیا تھا، لیکن اب وہ صورت حال نہیں رہی جبکہ غیر متوازن کابینہ کو دیکھ کر بھٹو صاحب بھی شرما رہے ہوں گے۔