کراچی کا بلدیاتی الیکشن اپنے نتائج کے لحاظ سے اہلیان کراچی کیلئے حیران کن نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ کراچی کا پتّا پتّا اور بوٹا بوٹا یہ جانتا تھا کہ کسے جیتنا ہے اور کس کو جتانا ہے۔۔۔۔۔۔؟ کراچی میں ایم کیو ایم کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں تھی جتنی غلط اقدامات اور فیصلوں سے اُسے پلیٹ میں رکھ کر دی گئی۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے ایک رہنماء فیصل واڈا نے کیوں یہ اعلان کر رکھا تھا کہ اگلے سال سے کراچی ہمارے حوالے کردیا جائے گا؟ اس اعلان کے بعد میڈیا نے کراچی کی ایک سیاسی پارٹی کے خلاف زہر اگلناشروع کردیا۔۔۔۔۔۔چند ماہ قبل بھی کراچی میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں یلغار کردی گئی تھی لیکن نتیجہ ضمانت ضبط ہونے کی صورت میں نکلا تو پھر سرجری کا پروگرام بنا‘ آپریشن شروع ہوا۔۔۔۔۔۔ حلقہ بندیاںحسب ضرورت کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔۔۔پکڑ دھکڑ اور گرفتاریوں کا''تڑ کا‘‘ بھی لگایا گیا اور بقول فیض۔۔۔۔۔۔
صلیب اور سلاخوں کی محفل بھی سجائی گئی
پاکستان تحریک انصاف نے 2013ء کے الیکشن میں کراچی سے جوووٹ حاصل کئے‘وہ صرف ڈھائی سال میں ہی بدل گئے۔ووٹرز میں تبدیلی آگئی ‘جس وجہ سے تحریک انصاف کراچی کی پانچویں ''بڑی‘‘ جماعت بن گئی ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے جن کراچی والوں کوزندہ لاشیں کہا تھا انہی زندہ لاشوں نے مسلم لیگ ن کوکراچی میں تحریک انصاف سے زیادہ سیٹیں دلادیںاور یہاں بھی پنجاب کی طرح تحریک انصاف ن
لیگ سے پیچھے رہی ۔دھرنا سیاست ‘دھاندلی ‘ شور شرابے اور گالم گلوچ نے تحریک انصاف کی مقبولیت کو بہت نقصان پہنچایا۔ ''پاپولیرٹی ووٹ ‘‘عارضی ہوتا ہے دائمی نہیں ۔تمام گانے سدا بہار نہیں ہوسکتے ۔آئٹم سانگ اُس وقت تک چلتے ہیں جب تک فلم پرانی نہ ہوجائے جس کے بعد یہ بھی ڈبے میں بند ہوجاتے ہیں ۔
ایم کیو ایم مخالفین کہتے ہیں کہ کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم مظلوم ترین سیاسی جماعت بن کر ووٹ لینے میں کامیاب ہوئی۔بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرن آئوٹ 35فیصد رہا جس میں ایم کیو ایم کو 20سے 25فیصد ووٹ ملے‘لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جماعت اسلامی کا تجربہ اور تحریک انصاف کی مقبولیت کہاں گئی۔۔۔۔۔۔ ؟ان کے ووٹرز کو گھروں سے کون نکالے گا؟اگر یہ ووٹر 2018ء میں بھی باہر نہ نکلے تو تحریک انصاف کو''تبدیلی‘‘کا نعرہ ہی تبدیل کرنا پڑے گا۔
پیپلز پارٹی نے اپنے حصے کے ووٹرز کو مکمل طور پر دور ہونے سے بچالیا ۔۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی نے ضلع ملیر میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا لیکن یہ بھی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی بدولت ممکن ہوا کہ انہوں نے ہی ملیرضلع بنایا تھا ۔پیپلز پارٹی کو تو لیاری میں امیدوار بھی نہیں ملے ۔جیسے تیسے کرکے برائے نام چندنشستیںلے کر خود کو زندہ قرار دیا۔ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے بعد سے پیپلز پارٹی بھی اپنے وزیر اعلیٰ ‘کابینہ اور ارکان اسمبلی کی موجودگی کے باوجود خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرتی رہی۔اسی بنیاد پر ووٹ مانگا گیا۔آپریشن کا عذر پیش کیا گیا ۔۔۔۔۔۔اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کو روکنے کی قسمیں کھائی گئیں ‘وعدے کئے گئے ۔سندھ کو ایک بار پھر پیرس بنانے کی باتیں کی گئیں۔ پی پی کے ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ ''پوری انتخابی مہم میں کہیں آصف زرداری کا نام نہیں لیا گیا ۔۔۔۔۔۔اگر ان کا تذکرہ کرکے ووٹ مانگا جاتا تو پیپلزپارٹی کاسندھ میں بھی پنجاب جیسا حال ہوتا‘‘۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کراچی میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ ''کراچی کو استنبول بنائیں گے‘‘۔۔۔۔۔۔لیکن اُن کی جماعت کو اتنے ووٹ بھی نہ ملے کہ وہ کراچی کوکراچی ہی بنا سکیں ۔۔۔۔۔۔اُن کے'' امیر‘‘ بھی ہارگئے اور ''غریب‘‘ بھی ۔
کراچی کے شہری ایسا فیصلہ کرنے کیلئے اس قدر پرجوش نہیں تھے لیکن جب انہیں دیوار سے لگاکر دھمکانے کاسلسلہ شروع ہوا تو وہ پہلے چونکے اور پھر جاگ گئے۔سارے تجزیئے غلط ہوگئے۔ سارے اندازے دھرے رہ گئے۔کراچی کا پلٹا کھا جانا پاکستانی سیاست کا ایک درد ناک اور حیران کن باب ہے۔ آپریشن کے بعدیہ توقع ہو چلی تھی کہ کراچی میں امن قائم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔ اِس شہر میں دولت کی فروانی ہوگی۔۔۔۔۔۔وفاق یعنی اسلام آباد اور سندھ حکومت کراچی کے فنڈز ہڑپ نہیں کرے گی۔۔۔۔۔۔ لال پیلی بسوں اور میٹرو ٹرین کے منصوبوں میں کراچی کو بھی شامل کرکے پاکستان کا شہر تسلیم کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ڈومیسائل اور زبان کے جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔ہم پھر سے بھائی ‘بھائی بن جائیں گے لیکن جلد ہی اہلیانِ کراچی کے گلشن میں آنے والی روٹھی ہوئی بہارواپس چلی گئی۔۔۔۔۔۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص ذہنی دبائو اور پریشانی کا شکار تھا۔ بیمار شخص کی بیوی اُسے ایک اسپیشلسٹ کے پاس لے گئی۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے بھرپور معائنہ کرنے کے بعدکہاکہ''آپ کے شوہر کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ آپ اِن کے آرام کا خیال رکھیں‘ کھانا وقت پر دیں‘ اِن کے سامنے چیخنے سے گریز کریں اور اِن کی تفریح پر بھی توجہ دیں‘‘۔ باہر نکل کر بیچارے شوہر نے پوچھا
کہ''ڈاکٹر نے کیا کہا؟‘‘ جواباً بیوی بولی''ڈاکٹر نے جواب دے دیااور کہا ہے کہ اب صرف دعا کریں۔‘‘
کراچی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔۔کراچی میں ڈنڈا اٹھایا گیا۔۔۔۔۔۔جال پھینکے گئے۔۔۔۔۔۔عوام کو ڈرایا گیا۔۔۔۔۔۔ گھورتی آنکھوں اور قید تنہائی کی باتیں بھی کی گئیں لیکن نہ تو کراچی کیلئے کوئی معاشی پیکج دیا گیا اور نہ ہی مجرموں کو چھ ماہ میں کوئی سزا ہوسکی۔۔۔۔۔۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ ہیرو کی طرح سرپر بٹھائے گئے تھے ‘ان کے بارے میں رائے تبدیل ہونا شروع ہوگئی ۔۔۔۔۔۔وجہ صرف یہی تھی کہ کراچی کوفنڈ نہیں دیا گیا اورکراچی سے پکڑے جانے والوں کاحقیقی ٹرائل نہیں صرف میڈیا ٹرائل ہوا۔۔۔۔۔۔اورزبانی تسلیاں دی گئیں۔
الفاظ کے مرہم سے شفا دینے چلے ہیں
ان تازہ مسیحائوں کا اعزاز تو دیکھو
کراچی کے حصے کا فنڈ جب سندھ حکومت کو دیا جاتا ہے تو دانشورانِ کراچی چیخ اٹھتے ہیں کہ ''یہ فنڈ کراچی کونہیں ملے گااور یہ رقم دیہی بیوروکریسی شہری بنگلوں کی تعمیرات میں لگادے گی‘‘ ۔۔۔۔۔۔لیکن کوئی اثر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔کراچی میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن ہے ۔۔۔۔۔۔شہرکی ترقی کو فل اسٹاپ لگا ہواہے۔۔۔۔۔۔جو بھی سیاسی پارٹی اِن مسائل کو لے کر اُٹھے گی وہ کراچی میں ''کنگ پارٹی‘‘بن جائے گی ۔۔۔۔۔۔عوام کی توجہ خود بخود اس کی طرف مبذول ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔اور کراچی کے زخموں پر بھی معاشی مرہم رکھا جاسکے گا۔