بھارت میں'' کرنسی بحران‘‘کی خبریں ابھی تھمی نہیں تھیں کہ پاکستان میں بھی پانچ ہزار روپے کے نوٹ کا گلاگھونٹنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔سینیٹ میں قرارداد منظور ہوتے ہی امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی ''قلت ‘‘پیداہوگئی ہے۔ سرمایہ داروں کے ساتھ سا تھ عوامی سطح پر بھی شدید بے چینی نظر آرہی ہے ۔ کرنسی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ لوگوں نے امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر بڑی کرنسیوں کی دھڑا دھڑ خریداری شروع کردی ہے جس سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں روپے پر پہلے سے موجود دباؤ اور شدید ہوگیاہے ۔سینیٹ کی قرار داد میں اگرچہ 5ہزار روپے مالیت کے نوٹ 3 سے 5 سال میں متروک کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاہم عوامی سطح پر اس خبر کے فوری اثرات مرتب ہوئے ہیںاور سرمایہ داروں کے ساتھ عوام بھی اپنی رقوم غیرملکی کرنسی، بڑی مالیت کے بانڈز اور سونے کی شکل میں محفوظ بنانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں۔
ایک ایسا ملک جس کے کلچر اور تہذیب میں ''بلیک منی ‘‘شامل ہو گئی ہو اور لوگ تقریبات میں فخر سے بتاتے ہوں کہ میری تنخواہ 20ہزار روپے اور ''اوپر کی آمدنی‘‘ڈھائی لاکھ روپے ہے ‘رشوت کلچر اتنا عام ہو کہ سرکاری نوکری کیلئے بھی ایک سال کی تنخواہیں ملازمت دلوانے والے کو بطور''ایڈوانس‘‘دینا پڑتی ہیں ‘اپنی شناخت کا ثبوت ''شناختی کارڈ‘‘بنوانا ہو یا پھر ڈرائیونگ کا ''پروف‘‘ لائسنس درکار ہو‘ہر جگہ نوٹوںکی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا...ایسے ملک میں پانچ ہزار کا نوٹ کیونکر بند ہوسکتا ہے ۔یہ وہ نوٹ ہے جو ہر کرپٹ افسر اور لیڈر کے دکھ کا مداوا کرتا ہے ۔آسانی سے کہیں بھی چھپ جاتا ہے ...اُن کی جان بچاتا ہے...پکڑائی کے راستے بند کرواتا ہے ۔آج سے تیس سال قبل جب پانچ ہزار کے نوٹ کا وجود بھی نہیں تھا ان دنوں ایک شاعر نے بڑھتی ہوئی رشوت کے بارے میں کہا تھا : ؎
لے کے رشوت پھنس گیا ہے
دے کے رشوت چھوٹ جا
پانچ ہزار کے نوٹ کا اجرا سابق صدر پرویز مشرف نے کیا تھا۔وہ بیس ہزار روپے کا نوٹ بھی نکالنا چاہتے تھے اوراُس کا اخباری اعلان بھی ہوچکا تھا ‘لیکن انہیں موقع نہیں ملا اور وہ پہلے گھر اور پھر دیارِ غیر چلے گئے۔
پانچ ہزار کا نوٹ بند کرنے کی قرارداد سینیٹ میں ان ارکان نے منظور کر ڈالی جو اکثریت میں ضرور ہیں لیکن حکومت میں نہیں۔چونکہ وزیراعظم ارکانِ قومی اسمبلی کی اکثریت سے بنتا ہے اس لئے اپوزیشن کی جانب سے منظور کردہ اس قرارداد کو آگے بہت ''مسائل ‘‘کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔پانچ ہزار روپے کے نوٹ کی ''نظر بندی‘‘کی تجویز پر وزیر قانون نے سچ کہا کہ ''یہ ایک مشکل کام ہے اس سے افراتفری پھیل جائے گی‘‘... اور ایسا ہوا بھی۔ قرارداد کی منظوری کے اگلے روز ہی ملکی معیشت ہلنے لگی ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چند ماہ قبل جب دھرنے کے ذریعے موجودہ حکومت کا گھیرائو کیا جارہا تھا تو بھارت نے ورکنگ بائونڈری پر اپنی فوج کو الرٹ کرکے پاکستانیوں کی توجہ تقسیم کردی تھی ۔اب مودی سرکار ''کرنسی بحران‘‘کا شکار ہے۔ بھارت میں سارا کالادھن سفید ہو چکا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جتنا ٹیکس پہلے ملتا تھااب اس سے بھی کم ہونے کا اندیشہ ہو رہا ہے ۔مودی سرکار اپنی آنکھیں رگڑ رہی ہے‘ بال نوچ رہی ہے...تو ایسی صورتحال میں پاکستانی حکمران بھارت کا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں ۔جیسے ہی یہ خبر بھارت پہنچی کہ پاکستان میں پانچ ہزار کے نوٹ کو ''بری نظروں‘‘سے دیکھا جارہاہے تو بھارتی عوام کو بھی تسلی ہوگئی کہ اب ہم اس آگ میں اکیلے نہیں جل رہے بلکہ پورا برصغیر ان شعلوں کی لپیٹ میں آئے گا ۔پاکستان میں پانچ ہزار کا نوٹ بند ہوتا ہے یا نہیں لیکن بھارت کی حکمران لابی کو یہ موقع ضرور مل گیا کہ وہ اپنی احمقانہ غلطی کو پاکستان کی سینیٹ کی قرارداد کی آڑ میں چھپالے ۔
پاکستان کے سب سے بڑے مالیاتی حب اور عالم اسلام کے سب سے بڑے شہرکراچی میں پانچ ہزار کے نوٹ کے ''قتل‘‘کی سازش کو یکسرمسترد کردیا گیا ہے ...اس خبر کو انتہائی دکھ کے ساتھ سنا اور برداشت کیا گیا ...تاجر برادری اور صنعت کاروں نے اسے امریکی ڈالرکیلئے فائدہ مند قرار دیا ...اسے غیر ملکی کرنسی کو مضبوط کرنے کا منصوبہ بھی کہا گیا...معاشی ماہرین نے اس اقدام کے نتیجے میں سونامہنگا ہونے کی بری خبر بھی سنادی ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کو چاہیے کہ فوری طور پر عوام کو اعتماد میں لیں اور پانچ ہزار کے نوٹ کی بندش کی تردید کریں تاکہ افراتفری کا خاتمہ ہوسکے ورنہ بڑے نوٹ مارکیٹ میں اتنی بڑی تعداد میں آئیں گے کہ صورتحال سنگین ہوسکتی ہے اور بڑا معاشی دھچکا بھی لگ سکتا ہے ۔دولت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پرندے کی طرح ہوتی ہے جو ذراسی آہٹ کی آواز کے ساتھ ہی اُڑکر دوسرے درخت پر چلی جاتی ہے ۔کراچی میں آج تک یہ طے نہ ہوسکا کہ یہاں ''وائٹ دولت‘‘زیادہ ہے یا ''بلیک منی ‘‘یہاں کی معاشی رگوںمیں گردش کررہی ہے ‘لیکن ایک بات طے ہے کہ دونوں اقسام کی دولت کراچی کی معیشت کو چلاتی ہیں۔ اس سے پورے ملک میں دولت کی گردش خون کی طرح ہوتی ہے ‘اور اگر اس میں کسی طرح کی بھی رکاوٹ ڈالی گئی تو معیشت کو''ہائی بلڈپریشر‘‘اور ''ہارٹ اٹیک‘‘جیسی بیماریاں بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔کرپشن ختم کرنے کا طریقہ ''نوٹ بندی‘‘کسی صور ت نہیں ہو سکتا ...جب پانچ ہزار کا نوٹ نہیں تھا کرپشن تب بھی تھی... اور جولوگ کک بیکس اور کمیشن لیتے ہیں ان کو پانچ ہزار کا نوٹ نہیں غیر ملکی کرنسی درکارہوتی ہے ۔ان کیلئے ڈالر اور پائونڈ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔موجودہ غیر یقینی صورتحال میں غیرملکی کرنسی کوفائدہ ضرور ہوگا۔حکومت کی اب تک خاموشی کو ''نیم رضامندی ‘‘قرار دیا جارہا ہے۔ کھل کر سامنے آنا چاہیے ۔پانچ ہزار کے نوٹ کی بندش کا سب سے زیادہ نقصان حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور ان کے ساجھے داروں کو ہوگا کیونکہ بڑے نوٹوں کی بڑی تعداد اُن کے پاس ہی موجود ہے ۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کنویں میں سے پانی کی بالٹیاں تو بھر بھر کر نکال لی جائیں لیکن کتا نکالنے کی ہمت کسی میں نہ ہو ۔