"ISC" (space) message & send to 7575

دوسری شکست!!

8 ستمبر 2016ء کو کراچی کے حلقے پی ایس 127 پر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کا جھنڈا ہٹا کر اپنا پرچم لہرا دیا... اس حلقے کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مرتضیٰ بلوچ 21 ہزار 187 ووٹ لے کر نشست جیت گئے... جب کہ ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم احمد 15 ہزار 553 ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور تحریک انصاف کے ندیم میمن 5 ہزار 580 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
9 جولائی کو بھی کراچی میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جب پی ایس 114 سے ایم کیو ایم ہار گئی اور پیپلز پارٹی کا جیتا ہوا سینیٹر ایک بار پھر جیت گیا... سعید غنی نے23 ہزار 840 جبکہ ایم کیو ایم کے کامران ٹیسوری نے 18 ہزار 106 ووٹ حاصل کئے... ن لیگ کے امیدوار علی اکبر گجر 5 ہزار 353 ووٹ لے کر تیسرے اور تحریک انصاف کے نجیب ہارون 5 ہزار 98 ووٹ حاصل کرکے چوتھے نمبر پر رہے۔ ہر بار تیسری یا چوتھی پوزیشن پر رہنے والی جماعت اسلامی اب کراچی میں پانچویں نمبر پر چلی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے تاریخ میں پہلی بار پی ایس 114 کی نشست جیتی ہے... لیکن اس فتح کی قیمت پی پی کو اس طرح ادا کرنا پڑے گی کہ ایک سینیٹر کی سیٹ چلی جائے گی گو کہ سندھ اسمبلی میں اس کی اتنی طاقت ہے کہ یہ سیٹ دوبارہ حاصل کر لے۔
ایم کیو ایم کا پی ایس 114 میں کامیاب نہ ہونا‘ شہر میں موضوعِ بحث رہا... ایسے تبصرے بھی آئے کہ سعید غنی نہیں جیتے بلکہ ایم کیو ایم ہاری ہے۔ یہ نشست ایک بار ایم کیو ایم نے عرفان اللہ مروت صاحب کے لئے خالی چھوڑی تھی۔ شنید ہے کہ اُس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان نے ایم کیو ایم کے ''سب سے بڑے‘‘ کو ٹیلی فون کر کے کہا تھا کہ ''میرے داماد کی جھولی میں کامیابی ڈال دو‘‘... جس کے بعد ایم کیو ایم نے اس نشست پر مقابلہ ہی نہیں کیا اور کامیابی عرفان اللہ مروت سے لپٹ گئی۔ اس قسم کی باتوں کی تصدیق یا تردید مشکل ہوتی ہے‘ لیکن سینہ گزٹ سینے پر ہاتھ مار کر ایسی اطلاعات کے سچی ہونے کی تصدیق کرتا رہتا ہے۔ اب یہ سیٹ نہ تو عرفان اللہ مروت کی رہی اور نہ ہی ایم کیو ایم کی... بلکہ ان کو مل گئی جو کبھی اس حلقے میں شریک سفر ہی نہ تھے۔
کراچی کمالات کا شہر ہے۔ یہاں اتنے کمال ہوتے ہیں کہ کبھی کمال اظفر کی قسمت جاگتی ہے تو کبھی مصطفی کمال کا مقدر جگمگاتا ہے... اس بار جس طرح سعید غنی جیتے ہیں‘ اس سے کراچی کے لوگوں کو حیرت بھی ہوئی ہے اور خوشی بھی۔ سعید غنی پیپلز پارٹی کے اندر بتدریج نشوونما پاتی ہوئی پڑھی لکھی لیڈرشپ ہے... سب سے مثبت بات یہ ہے کہ ان کا تعلق اسی حلقے سے ہے۔اگر وہ پارٹی کے ہاتھوں مجبور نہ ہوئے تو کراچی کی بہت خدمت کر سکتے ہیں... لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان کو موقع کتنا ملتا ہے؟ اور وہ کراچی والوں اور اپنے ''اوپر والوں‘‘ میں سے کس کو زیادہ خوش کرتے ہیں۔ بہرکیف پیپلز پارٹی کو دس سے بارہ مہینوں کے لئے ایک ''چانس‘‘ ملا ہے۔ اب پیپلز پارٹی اس چانس کو ''انجوائے‘‘ کرتی ہے‘ ''مستقل چانس‘‘ بنانے کے لئے کوئی کوشش کرتی ہے یا پھر اس کامیابی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ یہ فیصلہ سعید غنی اور پیپلز پارٹی کو مل کر کرنا ہے۔
پی ایس 114 پر ایم کیو ایم کی ناکامی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ لندن گروپ کی کامیابی ہے اور وہاں سے کہا گیا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے... لندن گروپ کے حامی بھی نواز شریف کے حامیوں کی طرح لڈو اور مٹھائیاں کھا رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ 18 ہزار سے زائد ووٹ ملنا کون سا بائیکاٹ کہلائے گا۔ کیا بائیکاٹ ایسا ہوتا ہے۔ یہ تو جزوی بائیکاٹ بھی نہیں۔ اس میں بھی اتنے ووٹ نہیں پڑتے۔ ایم کیو ایم کے ماضی کے بائیکاٹ سب کو یاد ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا امیدوار علاقے میں اتنا مشہور نہیں تھا کہ لوگ آنکھیں بند کرکے ووٹ ڈالتے... لیکن ماضی میں ایم کیو ایم بیشتر نئے چہروں کے ساتھ میدان میں اترتی اور کامیاب ہوتی رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے امیدواروں کو تو محلے کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے۔ ان کی ''فیس ویلیو‘‘ نہیں ہوتی ووٹر تو بس جہاں پتنگ دیکھتا مہر لگا دیتا ہے... شکست کی وجوہات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں... البتہ الیکشن لڑنے میں ایم کیو ایم نے وہ ''پھرتی‘‘ اور ''تنظیمی چستی‘‘ نہیں دکھائی جو ماضی میں اس کا طرہ امتیاز رہا ہے... اس بار ایم کیو ایم اپنے ''تجربہ کار کارکنوں‘‘ کے بغیر میدان میں تھی... اور ابتدا سے ہی کامیابی کے امکانات محکمہ موسمیات کی بارش سے متعلق پیش گوئی کی طرح تھے... پی ایس 114 پر بادل تو چھائے ہوئے تھے‘ کالی گھٹائیں بھی تھیں لیکن بارش نہیں ہوئی۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ دو بار اس حلقے سے منتخب ہونے والے عرفان اللہ مروت کے ووٹ کہاں گئے... انہوں نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کی تو اسے 5 ہزار ووٹ ہی مل سکے ... مسلم لیگ ن کو بھی 5 ہزار ووٹوں پر گزارا کرنا پڑا تو 36 ہزار سے زائد ووٹ لینے والے عرفان اللہ مروت کے ووٹوں نے کس بیلٹ بکس میں جا کر طاقت کا توازن تبدیل کیا؟ پیپلز پارٹی کو اتنے ووٹ ملنے کی وجہ تو خود پی پی کارکن بھی تلاش کر رہے ہیں... اقتدار‘ سرکاری وسائل‘ پولیس یا سعید غنی کی عوامی شخصیت نے پیپلز پارٹی کے لئے بیلٹ بکس بھر دیے... مسلم لیگ ن کا اپنا گورنر ہے لیکن وہ اپنے امیدوار کی اتنی مدد بھی نہ کر سکا کہ اس کے ووٹ ڈبل کرا دیتا۔ یہ تک بھی کہا گیا کہ سندھ پولیس کا رینجرز سے مقابلہ تھا... پولیس پی پی امیدوار کے ساتھ جبکہ رینجرز ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے کے دعوے بھی کئے گئے۔
سعید غنی لوگوں سے ملنے کا مخصوص سٹائل رکھتے ہیں... وہ عوامی آدمی ہیں گو کہ ان کے پاس بھی دیگر امیدواروں کی طرح قیمتی گاڑی ہے لیکن وہ اچھا ''سیاسی میک اپ‘‘ کر لیتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے کامران ٹیسوری کو الیکشن لڑایا... کامران ٹیسوری میں کارکنوں اور عوام سے گھل مل جانے کی صلاحیت تھوڑی کم تھی اسی لئے وہ اجنبی اجنبی سے نظر آئے... ضمنی الیکشن کراچی کا مہنگا ترین الیکشن بھی ثابت ہوا‘ حالانکہ یہ حلقہ غریب ترین آبادی پر مشتمل ہے۔
ضمنی انتخاب آئندہ الیکشن پر اثراندازضرور ہوں گے... دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے اس الیکشن سے کیا سیکھا؟ دس ماہ قبل پی ایس 127 ملیر کے بعد ایم کیو ایم کی یہ دوسری شکست تھی۔ اُس وقت کہا گیا تھا کہ آفاق احمد نے ''گند‘‘ ڈال دی تھی... ''لڑکے‘‘ ووٹ ڈالنے میں مشکلات ڈال رہے تھے... جگہ جگہ مختلف اقسام کی ''رکاوٹیں‘‘ تھیں لیکن اس بار تو آفاق احمد‘ فاروق ستار کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے‘ پھر کامیابی کیوں نہیں ملی؟

کراچی کمالات کا شہر ہے۔ یہاں اتنے کمال ہوتے ہیں کہ کبھی کمال اظفر کی قسمت جاگتی ہے تو کبھی مصطفی کمال کا مقدر جگمگاتا ہے... اس بار جس طرح سعید غنی جیتے ہیں‘ اس سے کراچی کے لوگوں کو حیرت بھی ہوئی ہے اور خوشی بھی۔ سعید غنی پیپلز پارٹی کے اندر بتدریج نشوونما پاتی ہوئی پڑھی لکھی لیڈرشپ ہے... سب سے مثبت بات یہ ہے کہ ان کا تعلق اسی حلقے سے ہے۔اگر وہ پارٹی کے ہاتھوں مجبور نہ ہوئے تو کراچی کی بہت خدمت کر سکتے ہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں