نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:سچل پولیس کاعلاقےمیں کومبنگ آپریشن
  • بریکنگ :- آپریشن غازی گوٹھ،سریناگوٹھ،صفوراکےاطراف میں کیاجارہاہے،ذرائع
  • بریکنگ :- علاقے کےداخلی وخارجی راستےسیل،مشتبہ گھروں کی تلاشی،ذرائع
Coronavirus Updates
"JDC" (space) message & send to 7575

وزیرِ اعظم کا دورۂ ازبکستان

وزیرِ اعظم عمران خان ازبکستان کے آفیشل دورے سے واپس آ گئے ہیں۔ عمران خان اور پہلے دو حکمرانوں میں بڑا فرق یہ ہے کہ وہ خواہ مخواہ کے سرکاری دورے بناتے تھے جبکہ خان صاحب اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس لیول کے دورے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ سب سے ہائی لیول دورہ سٹیٹ وزٹ (State visit) کہلاتا ہے۔ ایسے دورے کے لیے میزبان کی دعوت لازمی ہوتی ہے۔ تاریخیں باہمی مشورے سے طے ہوتی ہیں۔ سربراہ ریاست یا حکومت مہمانِ اعلیٰ ہوتا ہے اور میزبان بھی اسی لیول کا ہوتا ہے۔ دورے کے دوران ہونے والے معاہدے اور مکمل پروگرام پہلے سے طے ہوتا ہے۔ ایئر پورٹ پر میزبان خود مہمان کا استقبال کرتا ہے اور گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے۔ میزبان کی طرف سے بڑے پیمانے پر ایک اعلیٰ ضیافت کا اہتمام ہوتا ہے۔ کون کس کرسی پر بیٹھے گا اس بات کا تعین چیف آف پروٹوکول کرتا ہے۔ میزبان حکومت کے ساتھ تمام امور پہلے سے طے کرنا سفارت خانے کا کام ہوتا ہے۔
میرا مشاہدہ ہے کہ کئی مرتبہ یہ دورے سفیروں اور سفارت کاروں کو خاصے مہنگے پڑتے ہیں۔ غالباً 1990 کی بات ہے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو فرانس کے سرکاری دورے پر گئیں۔ الیزے پیلس (Elysee palace) سرکاری ملاقات اور دو طرفہ مذاکرات کے لیے جانا تھا۔ ہوٹل کے باہر سرکاری گاڑیاں قطار بنا کر انتظار میں تھیں۔ ایسے دوروں میں یہ بھی طے ہوتا ہے کہ کون کس گاڑی میں بیٹھے گا اور کاروں پر نمبر لگا دئیے جاتے ہیں۔ زرداری صاحب نے کار نمبر ون میں محترمہ کے ساتھ بیٹھنا تھا۔ اگلی سیٹ پر فرنچ سکیورٹی کا افسر براجمان تھا۔ جب محترمہ کار میں بیٹھیں تو فرانسیسی چیف آف پروٹوکول لپک کر ساتھ بیٹھ گیا۔ زرداری صاحب نے پچھلی گاڑی کی طرف دیکھا تو وہاں دو وزیر پہلے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ مرد اول کو با دل نخواستہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ اب سارا نزلہ سفیرِ پاکستان پر گرا اور انہیں افریقہ کے کسی ملک میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔
آپ کو یاد ہو گا کہ میاں نواز شریف کو گزشتہ ادوارِ حکومت میں وزارت عظمیٰ کے دنوں میں لندن کے بہت دورے کرنے پڑتے تھے۔ ایک سرکاری دورے میں وزیر اعظم جان میجر نے ٹین ڈائوننگ سٹریٹ میں میاں صاحب اور وفد کے چند ممبران کے لیے آفیشل ضیافت کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ یہ پہلے سے طے تھا کہ بینکوئٹ (Banquet) کے بعد تقریریں نہیں ہوں گی‘ لیکن جان میجر اختتامی لمحات میں کھڑے ہو گئے اور خوش آمدید کہنے کیلئے باقاعدہ مختصر سی تقریر کر دی۔ انگریزی میں تقریر کرنا میاں صاحب کیلئے ہمیشہ جوئے شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔ بہت پریشان نظر آئے تو پاس ہی بیٹھے ہوئے سفیرِ پاکستان نے چند جوابی جملے مینو کارڈ پر ہی لکھ دیئے۔ ڈاکٹر ہمایوں خان کا خط میاں صاحب بڑی مشکل سے پڑھ پائے۔ انہیں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہائی کمشنر ڈاکٹر ہمایوں خان کو یہ دورہ خاصا مہنگا پڑا۔
معاف کیجیے بات موضوع سے ہٹ گئی‘ سنٹرل ایشیا کی ریاستوں کو آزاد ہوئے تقریباً تیس سال ہو چکے ہیں۔ جب یہ ریاستیں سوویت یونین سے علیحدہ ہوئیں تو پاکستان میں بڑا جوش و خروش تھا۔ ایک تو یہ خیال تھا کہ یہ چھ ریاستیں پھر سے اسلامی مین سٹریم میں داخل ہوں گی۔ دوسرا یہ کہا گیا کہ آذربائیجان کے علاوہ چونکہ یہ تمام ممالک لینڈ لاکڈ (Land locked) ہیں یعنی کوئی بندرگاہ نہیں رکھتے‘ لہٰذا پاکستان گیٹ وے ٹو سینٹرل ایشیا بنے گا۔ اس سے تمام خطے میں صنعت اور تجارت کو فروغ ملے گا‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری بہت سی امیدیں اور جوش و خروش‘ دونوں حقیقت پسندانہ نہ تھے۔ سینٹرل ایشیا میں سوویت زمانے کے لوکل حکمران ہی اقتدار میں رہے۔ تاجکستان اور ازبکستان میں اسلامی تحریکیں اٹھیں تو انہیں آہنی ہاتھوں سے دبا دیا گیا۔
افغانستان میں بد امنی کی وجہ سے نہ تاجکستان سے بجلی آ سکی اور نہ ہی ترکمانستان سے گیس، یہ تمام ممالک علاقائی تنظیم برائے اقتصادی تعاون یعنی (ECO) کے ممبر ضرور بنے لیکن بوجوہ وہ تنظیم بھی کوئی نمایاں کام نہ کر سکی۔ ازبکستان کا رقبہ پاکستان سے آدھا ہے اور آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے۔ سینٹرل ایشیا کے وسط میں واقع یہ ملک کپاس کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ سمرقند اور بخارا جیسے تاریخی شہر یہاں واقع ہیں۔ امیر تیمور اور امام بخاریؒ یہاں مدفون ہیں۔ ظہیرالدین بابر کی پیدائش وادیٔ فرغانہ میں ہوئی۔ یہ ملک پاکستان سے زیادہ دور نہیں۔ افغان شہر مزار شریف سے کچھ فاصلے پر ترمذ کا شہر واقع ہے جو جغرافیائی اور روحانی‘ دونوں حوالوں سے مشہور ہے۔
ازبکستان کی اسی فیصد آبادی حنفی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جب سوویت یونین سے آزادی ملی تو نئی مساجد بننے لگیں۔ سابق صدر اسلام کریموف کا خیال تھا کہ ابھرتی ہوئی اسلامی قوتیں ان کے اقتدار کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں، افغانستان اور تاجکستان میں اسلام پسند جماعتوں کا کردار ان کے سامنے تھا۔ کریموف صاف کہتے تھے کہ سیاسی اسلام ان کے لیے قابل قبول نہیں۔ سینٹرل ایشیا کی سوچ عمومی طور پر اور وہاں کے حکمرانوں کی سوچ خاص طور پر سیکولر ہے‘ انہیں اس بات کا بھی ادراک عرصے سے ہے کہ پاکستان کو انتہا پسندوں نے بڑا نقصان پہنچایا ہے۔
وزٹ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ازبک صدر شوکت مرزایف سے ڈھائی گھنٹے تک علیحدگی میں بات چیت کی۔ مجھے یقین ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال اس گفتگو کا محور تھی۔ دونوں ممالک اپنے مشترکہ ہمسایہ ملک میں ممکنہ انارکی سے خائف ہیں۔ دونوں چاہتے ہیں کہ افغانستان میں خانہ جنگی ختم ہو‘ مکمل امن آئے تا کہ سینٹرل ایشیا اور جنوبی ایشیا میں تجارت شروع ہو۔ ٹورازم کو فروغ ملے۔ سڑکوں اور ریلوے لنک کے ذریعے دونوں خطوں کو ملا دیا جائے۔
وزیرِ اعظم کے دورے میں چھ دو طرفہ معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اس امر کا بھی اظہار ہوا کہ دونوں ممالک کے تعاون کو سٹریٹیجک لیول پر لایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تجارت کے فروغ کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا۔ میرے خیال میں پاک ازبک تعلقات کو فی الحال سٹریٹیجک قرار نہیں جا سکتا۔ اس وقت پاکستان کے سٹریٹیجک لیول کے تعلقات صرف چین کے ساتھ ہیں۔پاک ازبک تجارت یقینا بڑھائی جا سکتی ہے‘ لیکن جب تک افغانستان میں مکمل امن نہیں آ جاتا یہ خواب نا مکمل اور تشنہ تعبیر ہی رہے گا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ افغان امن کے حوالے سے امریکی حکومت نے ایک مختصر گروپ تشکیل دیا ہے‘ جس میں امریکہ اور افغانستان کے علاوہ پاکستان اور ازبکستان بھی شامل ہیں۔
میں جب دوشنبے میں سفیر تھا تو مجھے یقین تھا کہ سنٹرل ایشیا کے حکمرانوں کی منزل مقصود سیکولر ازم ہے۔ ظہیر الدین بابر کی زندگی پر مشترکہ فلم بنانا ایک اچھا قدم ہو گا‘ اس سے دونوں ممالک کے عوام میں مفاہمت فروغ پائے گی۔
ازبکستان سینٹرل ایشیا کی کنجی ہے، تاشقند یونیورسٹی میں شعبۂ اردو عرصے سے قائم ہے، پچھلے سال پاکستان نے ازبک کاٹن خاصی بڑی مقدار میں امپورٹ کی۔ اب دونوں ملکوں کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ افغانستان انارکی کے بجائے امن کی جانب آئے۔ جس طرح پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبالؒ ہیں، ازبک قومی شاعر علی شیر نوائی ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ تاشقند کو ہر سال یوم اقبالؒ کا اہتمام کرنا چاہیے۔ دوشنبے میں ہمارے سفارت خانے نے کلیات اقبالؒ فارسی کو روسی رسم الخط میں چھپوایا تھا۔ سمرقند اور بخارا میں اب بھی فارسی بولی جاتی ہے۔ یہ ادب دوست لوگوں کے لیے بہت اچھا تحفہ ہو گا۔ اس دورے سے سود مند تعلقات کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں