نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:شاہ محمودقریشی کی پاکستان ہاؤس آمد،نادراڈیسک کاافتتاح کردیا
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ایک اصول پرست سیاستدان کی کہانی

سید فخرامام کا شمار پاکستان کے سیاستدانوں کے اس گروہ میں کیا جاتا ہے جو صاف ستھرے‘ ایماندار اور اصول پسند سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام بڑے سادہ لوح ہیں۔ وہ کسی شخص کی ایک بات یاد رکھ کر اس کی باقی ساری حرکتوں سے درگزر کرتے رہتے ہیں۔ سید فخرامام مرکزی وزیر بلدیات تھے۔ جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور موصوف ملتان ضلع کونسل کے چیئرمین کا الیکشن سید یوسف رضا گیلانی سے ہار گئے۔ الیکشن ہارنے کے بعدفخرامام صاحب نے وزارتِ بلدیات سے استعفیٰ دے دیا۔ اس بات پر ان کی بڑی بلے بلے ہوئی اور انہیں اصول پسند سیاستدانوں کے گروہ میں شامل کرلیا گیا۔ بس وہ دن گیا اور آج کا دن آیا۔ انہیں اصول پسندی کا جوتمغہ عطا ہوا تھا وہ ان کی شخصیت کے ساتھ ’’ویلڈنگ ‘‘ کرکے اس مضبوطی سے جوڑا گیا کہ اب اُترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ پڑھے لکھے‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ سید فخرامام کی سیاست میں انٹری دیگر بہت سے لوگوں کی مانند جنرل ضیاء الحق کے ذریعے ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں فخر امام ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس سے پہلے انہیں جنرل ضیا ء الحق نے مجلس شوریٰ کا ممبر بنایا۔ ان کے ساتھ ملتان سے جاوید ہاشمی ، شیخ رشید اور سید یوسف رضا وغیرہ بھی مجلس شوریٰ میں نامز د کیے گئے۔ جب بلدیاتی انتخابات کا موقع آیا تو سید فخر امام ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین کے الیکشن کے لیے کھڑے ہوگئے، ان کے مقابلے پر ہیوی ویٹ مخدوم حامد رضا گیلانی تھے۔ ووٹ پڑے تو دونوں کے چھبیس چھبیس ووٹ نکلے۔ معاملہ ٹاس پر آگیا۔ ٹاس میں فیصلہ مخدوم حامد رضا گیلانی کے حق میں ہوگیا۔ اس طرح سید فخر امام ’’اصولی طورپر‘‘ الیکشن ہار گئے مگر انہیں بعدازاں پتہ چلا کہ مخدوم حامد رضا گیلانی کے تجویز کنندہ ملک اللہ یار مہے کے خلاف ملک اسحاق بُچہ نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے کہ وہ ان کی اپیل کے فیصلے تک ضلع کونسل میں ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ فخرامام ، جاوید ہاشمی، ملک اسحاق بُچہ، سید ناظم شاہ وغیرہ راتوں رات لاہور پہنچے اور اگلے دن عدالت سے حامد رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ لے آئے۔ اس طرح سید فخر امام ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب تو نہ ہوئے مگر بن ضرور گئے۔ جب ضیاء الحق نے کابینہ بنائی تو بطور چیئرمین ضلع کونسل ملتان انہیں بلدیات کی مرکزی وزارت کے لیے منتخب کرلیا۔ اس طرح سید فخر امام وزیربلدیات بن گئے۔ 1984ء میں (غالباً) وہ دوبارہ ضلع کونسل ملتان کی چیئرمینی کے امیدوار تھے۔ اب ان کا مقابلہ حامد رضا گیلانی کے بھتیجے نوجوان سید یوسف رضا گیلانی سے تھا۔ یہ الیکشن اپنی نوعیت کے بڑے عجیب الیکشن تھے جن میں ملتان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ قریشی اور گیلانی اکٹھے ہوگئے اور سید فخر امام کو شکست ہوئی۔ اس شکست پر فخر امام نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے اس اقدام کو بڑا سراہا گیا۔ ان کا شمار اصول پسند سیاستدانوں میں شامل کردیا گیا اور تب سے ان کا نام وہیں موجود ہے۔ غالباً 1984ء میں انہوں نے استعفیٰ دیا ۔ پھر وہ جنرل ضیاء الحق کی غیرجماعتی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔ انہوں نے خواجہ صفدر کو شکست دی تاہم بعدازاں جنرل ضیاء الحق نے انہیں اپنی ’’گڈ بُک‘‘ سے نکال دیا۔ ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوئی اور کامیاب بھی ہوگئی۔ حامد ناصر چٹھہ قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے۔ سید فخر امام نے اس غیرجماعتی قومی اسمبلی میں بہتر ارکان پر مشتمل آزاد گروپ قائم کرلیا۔ اس گروپ میں جاوید ہاشمی، شیخ رشید وغیرہ شامل تھے۔ سب سے پہلے حاجی سیف اللہ وزارت لے کر گروپ سے رخصت ہوئے ۔ پھر شیخ رشید بھی داغ مفارقت دے گئے۔ آہستہ آہستہ اس گروپ میں کل اکتیس بتیس ارکان بچے۔ یہ سید فخر امام کی اصولی سیاست کا دور تھا جو اصولی معنوں میں تو ختم ہوگیا مگر لوگوں کے ذہن میں اس کا بنا ہوا نقش نہ مٹ سکا۔ جنرل ضیاء الحق کی رخصتی کے بعد فخر امام نے 1988ء کا الیکشن آزاد حیثیت سے لڑا اور ناکام رہے۔ 90ء کا الیکشن آئی جے آئی کے پلیٹ فارم پر لڑا اور تب سے لے کر میاں صاحبان کی حکومت کا تختہ الٹنے تک مسلم لیگ ن میں رہے۔ جب جنرل مشرف نے میاں نواز شریف کا تختہ الٹا تب فخر امام فیملی شاید خاندان کے طورپر پاکستان میں سب سے زیادہ فوائد حاصل کرنے والوں میں سے ایک تھی۔ سید فخر امام خود کانسٹی ٹیوشنل کمیٹی کے سربراہ تھے اور ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر تھا۔ ان کی بیگم عابدہ حسین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور تعلیم کی وزیر تھیں۔ ان کی بیٹی صغریٰ امام ضلع کونسل جھنگ کی چیئرپرسن تھی اور ان کا چھوٹا بھائی سید فیصل امام ایک باہمی معاہدے کے تحت ضلع کونسل خانیوال کی بقیہ آدھی مدت کے لیے چیئرمین (منتظر ) تھا کہ میاں صاحب کی حکومت ختم ہوگئی۔ ق لیگ بنانے والوں میں میاں اظہر کے ساتھ جو دوتین لوگ سرگرم تھے فخر امام ان میں شامل تھے۔ 2002ء میں فخر امام فیملی نے ق لیگ سے الیکشن لڑا۔ فخرامام ، عابدہ حسین اور فیصل امام کو شکست ہوئی البتہ ان کی بیٹی ایم پی اے منتخب ہوئی مگر ان کی فیملی کی ق لیگ سے ناراضگی ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہروایا گیا ہے۔ چودھری ان کے گھر گئے ۔ کئی گھنٹے تک بیگم عابدہ حسین کی سخت سست سننے کے بعد ان کی بیٹی کو سوشل ویلفیئر کی صوبائی وزارت دے کر ناراضگی ختم کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ اڑھائی تین سال وزارت کے مزے لوٹنے کے بعد فخرامام فیملی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئی۔ 2008ء کے الیکشن میں پوری فیملی بری طرح سے الیکشن ہار گئی۔ چار افراد الیکشن لڑے اور چاروں بری طرح ہارے۔ بعدازاں پیپلزپارٹی کی قیادت نے ان کی تشفیِ قلب کی خاطر ایک ’’سینیٹری ‘‘ ان کی نذر کی۔ میاں بیوی نے خود سینیٹر بننے کے بجائے بیٹی کو سینیٹر بنوادیا۔ صغریٰ امام کو رخسانہ بنگش کے ہمراہ ایوان صدر کے امور میں دخیل بنادیا گیا۔ بعدازاں ایوانِ صدر میں بیشتر معاملات کا چارج براہ راست صغریٰ امام کے ہاتھ آگیا۔ صوبوں کی تشکیلِ نوکے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی سفارشات کو یکجا کرنے اور اس کے لیے کی جانے والی ریسرچ کی انچارج صغریٰ امام تھیں۔ کل سید فخر امام نے دوبارہ مسلم لیگ ن جوائن کرلی ہے۔ وہ ایک اصول پسند سیاستدان ہیں اور گمان غالب ہے کہ اس میں بھی کوئی اصولی نکتہ ہوگا جو اس عاجز کی سمجھ سے اونچی چیز ہے‘ لہٰذا پلے نہیں پڑ رہا۔ عابدہ حسین غالباً سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گی ۔ صغریٰ امام ابھی پیپلزپارٹی کی سینیٹر ہیں اور ایوان صدر میں موجود ہیں۔ فخر امام کا مسئلہ دراصل رضا حیات ہراج ہے جو انہیں مسلسل شکست سے دوچار کررہا ہے اور اب بھی ان کے آبائی حلقے میں انہیں ہرانے کے لیے موجود ہے۔ فخر امام اب شاید مسلم لیگ ن کی جانب سے حلقہ این اے 149سے امیدوار ہوں گے مگر ان کے ساتھ وہاں بھی وہی ہوگا جو ان کے ساتھ حلقہ این اے 156میں ہوتا رہا ہے۔ رہ گئی بات ان کے صاف ستھرے ،ایماندار اور پاک صاف ہونے کی تو اس سلسلے میں ملک عطاء اللہ بوسن کی دُہائیاں ہی کافی ہیں جن کی کوٹھی جناب فخر امام نے اونے پونے زبردستی ہتھیالی ۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اور اس پر پھر کبھی سہی۔ فی الحال ان کی اصول پسندی کی مختصر سی تاریخ عرض کرنی تھی۔ ایک کالم میں بمشکل اتنا کچھ ہی آسکتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں