نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- جسٹن ٹروڈوکی لبرل پارٹی 100 نشستوں کےساتھ پہلےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- کنزرویٹوپارٹی 51 نشستوں کےساتھ دوسرےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ایک ناقابلِ یقین سچ

الحمد للہ میری سات پشتوں میں کوئی مخدوم نہیں گزرا ،اس لیے مجھے علم نہیں کہ بندہ مخدوم کیسے بنتا ہے۔ مخدومی کی تمام منزلوں سے مکمل لاعلمی کے باوجود کم ازکم مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کی ’’مخدومی‘‘ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شاہ محمود کو مخدوم ہونا ورثے میں ملا ہے اور یہ لقب یا ٹائٹل اس کے جد امجد شاہ محمود کو ،جو شیخ حسن شاہ کا بیٹا اور مخدومہ راجی بی بی کا لے پالک تھا ،کو انگریزوں نے اعلیٰ خدمات اور 1857ء کی جنگ آزادی میں مجاہدین (باغیوں) کے قتل عام کے عوض عطا کیا تھا اور اس کے بھائی شیخ پیر شاہ کے بیٹے شیخ ریاض حسین کو خان بہادر اور نواب کا ٹائٹل عطا کیا تھا۔ جب کہ جاوید ہاشمی مکمل طور پر سیلف میڈ مخدوم ہے اوراس نے یہ مخدومی اپنے ’’زور بازو‘‘ سے پیدا کی ہے۔ شاہ محمود قریشی کو سیاست بھی ورثے میں ملی ہے جبکہ جاوید ہاشمی اپنے خاندان کا پہلا شخص ہے جس نے خار زار سیاست میں قدم رکھا اور اپنا مقام بنایا۔ وزارتیں، عہدے، اقتدار اور حکومت شاہ محمود قریشی کے گھر کی لونڈی رہی ہے جبکہ جاوید ہاشمی ان سے مستفید ہونے والا اپنے خاندان کا پہلا شخص ہے۔ شاہ محمود قریشی کو نام نمود، شہرت اور دولت بنی بنائی ملی جبکہ جاوید ہاشمی نے یہ سب چیزیں اپنی ذاتی محنت اور کاوش سے حاصل کیں۔ شاہ محمود قریشی کو سیاست کا سجا سجایا عالی شان محل ترکے میں ملا جبکہ جاوید ہاشمی نے اپنی سیاست کا آشیانہ تنکا تنکا اکٹھا کرکے بڑی جدوجہد سے بنایا۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ ایک کا خمیر انگریزوں کے عطا کردہ خطابات اور جاگیروں سے اٹھا تھا جبکہ دوسرا خود روپودے کی مانند اٹھا اور سب کچھ ذاتی محنت کے بل بوتے پر حاصل کیا۔ دونوں کے سیاسی رویے میں بھی واضح فرق تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا مگر افسوس آج دونوں کا سیاسی رویہ ایک جیسا ہے۔ مجھے یہ افسوس دونوں پر نہیں، صرف جاوید ہاشمی پر ہے کہ اس میں اور شاہ محمود میں فرق برقرار رہنا چاہیے تھا۔ تحریکِ انصاف تبدیلی چاہتی ہے بلکہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ عمران تبدیلی چاہتا ہے۔ عمران خان پاکستان کی نوجوان نسل میں تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف تبدیلی کا سمبل بن چکی ہے لیکن پرانے پاپیوں نے اسے کھینچ کھانچ کر اور گھسیٹ گھساٹ کر انہی پرانی پارٹیوں کی صف میں کھڑا کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ انٹرا پارٹی انتخابات، ضلعی پارلیمانی بورڈ، ریجنل پارلیمانی کمیٹیاں اور صوبائی پارلیمانی بورڈز! سب حیران و پریشان ہیں کہ کیا ہورہا ہے؟ ضلعی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک کی سفارشات! سب ردی کی ٹوکری میں گئیں۔ پانچ سو گیارہ میں سے چار سو ترپن ووٹ حاصل کرکے سینئر نائب صدر منتخب ہونے والا ضلع ملتان کا سلیم بخاری ،جو پی ٹی آئی کا فائونڈر ممبر ،خوارو خستہ پھر رہا ہے۔ 1997ء میں اسے شجاع آباد سے ا ور 2002ء میں اسے ملتان کے صوبائی حلقہ 197 سے کھڑا کردیا گیا۔ آج جب پی ٹی آئی کے پاس ووٹ ہیں ،مخدوم اسے ٹکٹ کے لیے درخورِ اعتنا نہیں سمجھ رہے۔ حلقہ پی پی 195 جو کہ شاہ محمود قریشی کے حلقہ این اے 150 کے نیچے صوبائی سیٹ ہے وہاں سے ضلعی صدر اعجاز جنجوعہ امیدوار تھا۔ اعجاز جنجوعہ نے ملتان میں تحریک انصاف کے لیے گزشتہ ایک عشرے میں بے پناہ محنت کی ہے۔ کرسیاں اٹھائی ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے پوسٹر لگائے ہیں اور تب عمران خان کا ساتھ دیا ہے جب اس کے ساتھ گنتی کے لوگ تھے اور ایسے لوگوں پر سیاسی نابغے ہنسا کرتے تھے۔ آج اس صوبائی حلقہ پر ایک نووارد ٹکٹ ہولڈر ہے۔ اسی طرح اپنے نیچے پی پی 196سے شاہ محمود قریشی سابق ٹائون ناظم میاں جمیل کو ٹکٹ دلوانے کی تگ و دو کررہا ہے اور گمان غالب ہے کہ وہ کامیاب بھی ہوجائے گا۔ اس سابقہ ٹائون ناظم نے جنرل پرویز مشرف اور چودھریوں کے دور میں خوب مزے کیے ہیں اور سابق ضلعی ناظم فیصل مختیار کے کاروباری اور سیاسی فرنٹ مین کے طور پر بڑی کمائی کی ہے اب پی ٹی آئی کا امیدوار ہوگا۔ یاد رہے کہ میاں جمیل نے پی ٹی آئی میں شمولیت کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے بھی کئی دن بعد اختیار کی ہے۔ملتان میں مخدوم اپنے نیچے والی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر امیدواروں کا نہیں سپانسروں کا بندوست کرنے میں مصروف ہیں جو ان کی قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے انتخابی خرچے کا بھی بندوبست کرے۔ وہاڑی ضلع ا سحاق خاکوانی، لودھراں جہانگیر ترین اور ملتان جاوید ہاشمی اور شاہ محمود کے قبضہ قدرت میں ہیں، بلکہ یہ دونوں تو مظفر گڑھ تک مار کررہے ہیں۔ مظفر گڑھ میں حلقہ این اے 177 سے رانا محبوب اختر تحریکِ انصاف سے ٹکٹ کا امیدوار تھا۔ رانا محبوب اختر سے میری دوستی کا آغاز غالباً 1976ء میں ہوا۔ تب رانا محبوب گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر گڑھ کی طلبا یونین کا صدر تھا۔ ہماری پہلی ملاقات گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ غازی خان میں ہونے والی کل پاکستان بین الکلیاتی تقریبات میں ہوئی جو جلد دوستی میں بدل گئی۔ 1978ء میں محبوب اختر نے زکریا یونیورسٹی میں انگریزی زبان و ادب کے شعبہ میں داخلہ لے لیا۔ اگلے سال میرا داخلہ بھی بزنس ایڈمنسٹریشن میں ہوگیا۔ ہم دونوں سیاسی طور پر متحارب طلبا تنظیموں سے وابستہ تھے مگر ہماری دوستی بڑی مثالی تھی۔ انگریزی میں ماسٹرز کرنے کے بعد رانا محبوب ایمرسن کالج میں لیکچر رلگ گیا۔ پھر وہ زکریا یونیورسٹی میں استاد بن گیا اور بالآخر سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے بیورو کریٹ بن گیا مگر یہ ملازمت بہت عرصہ نہ چل سکی۔ سرکاری نوکری اس کا مزاج نہیں تھا۔ وہ کچھ کرنا چاہتا تھا۔ پہلے وہ چھٹی لے کر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں گیا اور بعد ازاں نوکری چھوڑ کر پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ ہوگیا۔ اسی دوران اس نے اپنے علاقے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک این جی او بنائی اور اس کے زیراہتمام مظفر گڑھ میں لگنے والے پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے درخت لگانے کا پراجیکٹ شروع کیا اوربنجر زمینوں کو سرسبز کردیا۔ گزشتہ انتخابات میں وہ پیپلزپارٹی کی طرف سے حلقہ پی پی 255 سے امیدوار تھا اور این اے 177 پر پی پی کی امیدوار حنا ربانی کھر کی پوری (اندر خانے) مخالفت کے باوجود لگ بھگ ڈیڑھ سو ووٹوں سے ہارا اور بقول شخصے وہ الیکشن پولنگ سٹیشنوں پر نہیں کچہری میں ہارا۔ اب این اے 177 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ ’’تھگڑی قریشی‘‘ کو میرا مطلب ہے کہ ذوالفقار قریشی کو مل گیا ہے۔ تھگڑی قریشی کی واحد قابلیت یہ ہے کہ وہ شاہ محمود قریشی کا قریبی اور جاوید ہاشمی کا دور سے عزیز ہے۔ تھگڑی قریشی کا بنیادی سپورٹر اس کا ماموں زاد بھائی معین ریاض قریشی ہے جو پی پی 194 ملتان سے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کا امیدوار ہے اور شاہ محمود کی بھانجی کا شوہر ہے۔ اس کے علاوہ بھی رشتے بنتے ہیں مگر قارئین کو رشتوں کے ہیر پھیر میں ڈال کر پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ یونیورسٹی میں میں اور رانا محبوب سیاسی طور پر دو مختلف کیمپوں میں تھے اور ہماری تمام تر دوستی کے باوجود ہم بہت سے حوالوں سے ایک دوسرے کے دوبدو ہوتے تھے مگر اس کی صلاحیتوں سے، قابلیت سے اور نیک نامی سے مجھے نہ پہلے کوئی اختلاف تھا اور نہ اب ہے۔ تبدیلی کے لیے جس قسم کے امیدواروں کی ضرورت ہے وہ ویسا ہی امیدوار ہے لیکن تبدیلی کے راستے میں دیوار بننے کو اس قسم کے امیدوار ’’وارے‘‘ نہیں کھا رہے۔ میں یہ بات یقین سے کہہ رہا ہوں کہ حلقہ این اے 177 کے لیے محبوب اختر سے بہتر امیدوار ملنا فی الوقت شاید ممکن نہیں۔ رانا محبوب کے ساتھ اقبال پتافی، رائے محسن بورانہ، احسان شانی کبرا، ملک سعید گسورا، مسعود سوہرانی، ملک سلیم، حاجی وسیم، اسلم بدھ،انعام خان، رانا اسلم، عامر خان، چودھری شریف اور منیر بھٹہ جو یونین کونسلز کے ناظمین اور نائب ناظمین ہیں جبکہ تھگڑی قریشی کے ساتھ محض شاہ محمود قریشی اور کسی حد تک جاوید ہاشمی بھی ہے کہ اس سلسلے میں اپنا وہ کردار سر انجام نہیں دے رہا جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔ جاوید ہاشمی سٹیٹس کو کے خلاف بغاوت کی علامت تھی مگر اب وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کا پشتیبان ہے۔ ماضی کی روشنی میں بظاہر یہ ایک ناقابلِ یقین بات لگتی ہے مگر صدمہ اسی بات کا ہے کہ یہ سچ ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں