نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی سےامریکی نمائندہ خصوصی زلمےخلیل زادکی ملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں افغانستان کی بدلتی صورتحال پرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کاافغانستان میں امن کیلئےسیاسی تصفیےکی ضرورت پرزور
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ کی افغانستان میں قیام امن کیلئےزلمےخلیل زادکی کاوشوں کی تعریف
  • بریکنگ :- پاکستان نےشروع سےکہاافغان مسئلےکاکوئی فوجی حل نہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ کاافغانستان میں وسیع البنیادحکومت کیلئےپاکستانی معاونت کااعادہ
  • بریکنگ :- افغانستان میں ممکنہ انسانی بحران پرگہری تشویش ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں عدم استحکام خطےمیں نقص امن کاباعث بن سکتاہے،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ایک ہمدم دیرینہ سے ملاقات

’’ہم دو دنیائوں کے باسی ہیں۔ ہم رہتے امریکہ میں ہیں مگر ہمارا دل پاکستان میں اٹکا ہوا ہے۔ یہاں امریکہ میں ہوتے ہیں تو پاکستان کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں کوئی بری خبر آئے تو دل جیسے مٹھی میں آجاتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں کوئی تھوڑی سی بھی منفی بات کردے تو خون کھول اٹھتا ہے۔دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ اب پاکستان واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اب ہمارا مرنا جینا یہیں ہے۔ امریکہ اپنی حکومتی پالیسیوں سے قطع نظر ایک نہایت معتدل معاشرہ ہے۔ عام لوگ بڑے ہمدرد، وسیع القلب، روادار اور متحمل مزاج ہیں۔ جب یہاں کسی دہشت گردی کے واقعے کی خبر ملتی ہے ہمارے دل سے دعا نکلتی ہے خدا کرے یہ کسی مسلمان نے نہ کیا ہو۔ جب وہ مسلمان نکلتا ہے تو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے کہ خدا کرے کہ یہ پاکستانی نہ ہو اور جب وہ پاکستانی نکلتا ہے تو دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ ہم نے امریکہ میں رہنا ہے۔ ہمارے بچوں نے اپنی زندگی یہیں گزارنی ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ امریکہ میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہو تو کم از کم اس کے پیچھے کسی پاکستانی کا ہاتھ نہ ہو۔ ہر ایسے واقعے کے بعد ہماری شرمندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ ہمارے مسائل سوا ہوجاتے ہیں اور ہم خود کو مجرم سا محسوس کرتے ہیں۔ ہماری کسی ایک ملک سے وفاداری کا انتخاب اب مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ ہمارا ملک ہے تو پاکستان ہماری محبت۔ امریکہ ہمارا جسم ہے تو پاکستان ہماری روح۔ ہم کہاں جائیں؟ کیا کریں؟ کچھ سمجھ نہیں آتی‘‘۔ عارف لگا تار اور بے تکان بول رہا تھا۔ عارف میرا کالج فیلو ہے۔ اس کا تعلق ملتان سے ہے۔ ہم ایمرسن کالج میں اکٹھے پڑھتے تھے اور پھر یونیورسٹی میں بھی ساتھ ساتھ تھے۔ نّوے کی دہائی کے شروع میں وہ یوایس ایڈ کے وظیفے پر امریکہ آیا۔ تعلیم مکمل کرکے پاکستان چلا آیا۔ تاہم دو سال بعد دوبارہ امریکہ آگیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ زکریا یونیورسٹی سے اس نے ایم اے اکنامکس کیا تھا اور امریکہ کی میسیسپی (Mississippi) سٹیٹ یونیورسٹی سے ایگریکلچرل اکنامکس میں ماسٹرز کیا۔ اب وہ ایک بڑے امریکی بینک میں کام کرتا ہے اور ریجنل آفس میں ایک شعبے کا انچارج ہے۔ میرا اس سے گزشتہ کئی سال سے فون پر رابطہ ہے مگر میں اس سے پچھلے بائیس سال سے نہیں ملا۔ اس کا اصرار ہوتا ہے کہ میں جب امریکہ آئوں اس سے ملوں مگر ہوتا یوں تھا کہ میں اس سے دور دور سے ہی نکل جاتا تھا۔ تاہم میرا اس سے وعدہ تھا کہ جب بھی واشنگٹن کی طرف آیا اس سے لازمی ملوں گا۔ ایک بار ایک مشاعرہ بالٹی مور کے نزدیکی قصبے منٹگمری ٹائون میں تھا۔ میں نے عارف کو بتایا کہ میں پٹس برگ سے بذریعہ جہاز بالٹی مور آرہا ہوں اور وہاں سے منٹگمری ٹائون آئوں گا تو اس سے ملاقات ہوگی۔ عارف کہنے لگا بالٹی مور کا ہوائی اڈہ میرے گھر سے صرف پچاس میل (اسی کلومیٹر) دور ہے۔ آپ اپنے مشاعرے والوں کو کہہ دیں کہ وہ آپ کو لینے کے لیے ائیرپورٹ پر نہ آئیں۔ میں آپ کو وہاں سے لے لوں گا۔ جب میں بالٹی مور ائیرپورٹ سے باہر نکلا تو عارف میرا منتظر تھا۔ وہ تقریباً ویسے کا ویسا تھا۔ صرف بالوں میں تھوڑی سی چاندی آگئی تھی۔ اس کے مقابلے میں میرا سارا سر سفید اور وزن بھی تقریباً دو گنا ہوچکا تھا لیکن ٹی وی اور یوٹیوب کے حوالے سے وہ میرے موجودہ حلیہ سے آگاہ تھا۔ ہمیں ایک دوسرے کو پہچاننے میں معمولی سی مشکل بھی پیش نہ آئی۔ گاڑی سے باہر نکل کر وہ لپک کر میری طرف آیا اور بھینچ کر گلے سے لگا لیا۔ دور کھڑا ٹریفک کا سپاہی اس منظر کو دیکھ کر مسکرانے لگ گیا۔ عارف پچاس میل کے سفر میں گزشتہ بائیس سال سمونے کی کوشش کررہا تھا۔ ملتان کے دوستوں کی باتیں، امریکہ آنے کا حال، گزشتہ دو عشروں سے زیادہ کا گزرا ہوا ماضی اور پاکستان کے موجودہ حالات۔ گفتگو کسی ایک موضوع پر ٹک ہی نہیں رہی تھی مگر بالآخر وہ اس موضوع پر آگیا کہ وہ دو دنیائوں کا باسی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ حقیقت میں کس ملک کا شہری ہے اور اس کی وفاداری کس کے ساتھ ہے۔ وہ بیک وقت دو کشتیوں کا سوار ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ صرف اس کا مسئلہ ہے۔ اس کی اہلیہ یا بچوں کے ساتھ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی اہلیہ امریکہ میں پیدا ہوئی ہے اور ان کی پاکستان سے الفت بس اتنی سی ہے کہ ان کا باپ پاکستانی امریکن ہے۔ انہوں نے اپنے دادا دادی کو نہیں دیکھا کہ وہ ان کی پیدائش سے قبل وفات پا چکے تھے۔ ان کے چچا تایا ایک دو سال بعد ان سے مل لیتے ہیں اوربس۔ پاکستان دوچار بار آئے ہیں اور چند روز گزار کر واپس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کبھی پاکستان کی روح کو اس طرح محسوس نہیں کیا جس طرح ان کا والد عارف محسوس کرتا ہے۔ بس اس گھر میں وہی اکیلا پاکستان سے جڑا ہوا ہے اور اسی کی فکر میں مبتلا ہے۔ مجھے کہنے لگا خالد! یہاں کا معاملہ بھی پاکستان جیسا ہے۔ عوامی مزاج اور حکومتی پالیسیاں ایک سو اسی ڈگری پر ہیں۔ عوام کو پاکستان کا علم نائن الیون کے بعد ہوا ہے۔ میڈیا نہ ہوتا تو لوگوں کو شاید ہمارے بارے میں غور کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ امریکہ میں اتنی قومیتیں آباد ہیں کہ کسی کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ نائن الیون کے فوراً بعد اگلے جمعے میں جب دفتر سے جمعہ کی نماز پڑھنے نکلا تو میرا ایک گورا رفیق کار میرے ساتھ چل پڑا کہ وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ جائے۔ وہاں مسجد کے باہر سینکڑوں لوگ موجود تھے جن میں عیسائی اور یہودی کثرت سے تھے۔ یہ سب لوگ میرے قصبے فریڈرک کے رہائشی تھے اور ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے تھے۔ وہ محض یہ بتانے آئے تھے کہ اس فعل کے آپ لوگ ذمہ دار نہیں اور ہم آپ کو اس سلسلے میں بے قصور سمجھتے ہیں۔ اس روز وہاں مسجد کے باہر امریکی میڈیا بھی موجود تھا۔ اس سارے رش کے باعث ہمیں مسجد سے نکلنے میں دیر ہوگئی۔ میں معمول سے تقریباً پون گھنٹہ لیٹ دفتر پہنچا۔ دفتر میں میری میز کے ساتھ والی میز پر بیٹھنے والی گوری پریشانی کے مارے رو رہی تھی۔ دفتر کے باقی ساتھی پریشان تھے۔ میں واپس پہنچا تو سارا دفتر اکٹھا ہوگیا۔ مجھے اس روز شدت سے احساس ہوا کہ عام امریکی ہمارے بارے میں ویسے نہیں سوچتا جیسے امریکی حکومتی پالیسیاں ہیں۔ پھر وہ کہنے لگا: خالد! یہاں مسجدوں میں ہم سنی، وہابی، دیوبندی اور شیعہ اکٹھے نمازپڑھتے ہیں۔ ہر شخص نے ہاتھ مختلف طریقے سے باندھے ہوتے ہیں۔ کوئی رفع الیدین کرتا ہے کوئی نہیں کرتا۔ کوئی آمین بلند آواز سے کہتا ہے اور کوئی خاموش رہتا ہے۔ یہاں مذہب اور فرقہ ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ کوئی تکفیر کا فتویٰ نہیں لگاتا اور کسی کو واجب القتل قرار نہیں دیتا۔ یہاں دنیا آپ کے معاملات کو دیکھتی ہے مذہب کو نہیں۔ میرے دفتر میں ڈیڑھ ہزار لوگ کام کرتے ہیں۔ جب سالانہ ڈنر یا کسی فنکشن پر کھانا ہوتا ہے تو کھانے کا انچارج مجھے بتاتا کہ کونسی چیز میں کھا سکتا ہوں اور کونسی نہیں۔ وہ میرے حلال حرام کا احترام کرتے ہیں۔ ہمارا ایم ڈی اور صفائی والا جسے ہم پاکستان میں جمعدار کہتے ہیں‘ ایک ہی قطار میں لگ کر کھانا لیتے ہیں اور بعض اوقات صفائی والا آگے ہوتا ہے اور ایم ڈی پیچھے۔ میرے آقا محمد مصطفیؐ نے فرمایا کہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں۔ کیا ہم اس پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم اس اعتدال پر عمل کرتے ہیں جو میرے آقاؐ نے فرمایا۔ کیا ہم اس رواداری پر یقین رکھتے ہیں جس کا سبق میرے آقاؐ نے دیا؟ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہمیں وہ مذہبی آزادی حاصل ہے جو یہاں ’’کافروں‘‘ کے ملک نے ہمیں دی ہوئی ہے۔ یہ زیارت میں کیا ہوا ہے؟ کوئٹہ میں کیا ہو رہا ہے؟ کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ کون کر رہا ہے؟ کلمہ گو کلمہ گو کو قتل کر رہا ہے۔ قتل! جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ مذہب اور سیاست کے نام پر روز درجنوں قتل! یا اللہ ہمیں معاف کردے۔ یہ کہہ کر عارف خاموش ہو گیا۔ جبکہ میرے پاس کہنے کے لیے ویسے ہی کچھ نہیں تھا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں