نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کیادنیاافغانستان اورخطےکوچھوڑنےکی غلطی دہرائے گی؟معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان نےہمیشہ افغان مذاکرات اورسیاسی تصفیے کی حمایت کی،معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 80 ہزارسےزائدجانی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 150 بلین ڈالر سےزائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ بنایا، معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نےافغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئےاستعمال کیا،معید یوسف
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےبچاناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اتفاق رائے کےساتھ آگےبڑھناچاہیئے،معید یوسف
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

چودھری بھکن…ایک عظیم منصوبہ ساز

پندرہ اگست کو اسلام آباد میں ہونے والے ٹوپی ڈرامے کا انجام تو خیر سے اس طرح ہوا کہ وزیر داخلہ کی گولی نہ چلانے کی ہدایت کے باوجود گولی بھی چلی۔بچوں کے سامنے سکندر کو صرف گولی نہیں گولیاں ماری گئیں۔زخمی اور زمین پر گرے ہوئے سکندر کو پچھلے ساڑھے چھ گھنٹے سے خوار ہونے والے پولیس اہلکاروں نے پوری دنیا کے سامنے ٹھڈے اور مکے مارکر اپنی ذلت ، نااہلی ، نالائقی اور واحد خوبی کا مظاہرہ بھی کیا، لیکن اس ساری خراب بلکہ مایوس کن صورت حال میں واحد روشنی کی کرن پولیس کا وہ منصوبہ تھا جو عزیزم زمرد خان کی بے وقت ، بلا اجازت اور اچانک مداخلت کے باعث پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ یہ ایک نہایت اعلیٰ ، کارگر اور مثالی منصوبہ تھا اور اگر اس پر عمل ہوجاتا تو پاکستان بھر کے سارے دہشت گردوں کو کان ہوجاتے اور وہ آئندہ کبھی ایسی حرکت کا خیال بھی ذہن میں نہ لاتے۔ جو سننے میں آیا ہے کہ وزارت داخلہ اور پولیس کا منصوبہ تھا کہ ’’تھوڑی دیر بعد ‘‘ (یعنی واقعہ شروع ہونے کے چھ گھنٹے بعد) محض دو رائفلوں کے زور پر پورے اسلام آباد کو ، اس کی پولیس کو اور پوری حکومت کو یرغمال بنانے والے مسلح شخص کو باقاعدہ مذاکرات کے بہانے ایک مکان میں لے جایا جائے گا۔ وہاں اس سے مذاکرات کا ڈرامہ کیاجائے گا اور پھر اچانک اس پر ہلہ بول کر اسے غیر مسلح کیاجائے گا اور اس طرح یہ عظیم مسئلہ بالآخر اختتام پر پہنچے گا۔ چودھری بھکن نے جب سارا ’’فول پروف ‘‘ منصوبہ سنا تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا۔ میں نے ہنسنے کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگا کہ یہ منصوبہ سن کر بچپن سے بگلا پکڑنے والی حکایت نہایت احمقانہ محسوس ہونے لگی ہے اور سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو کا واقعہ بھی ماند پڑگیا ہے اور آج باون سال کی عمر میں ایسا نادر روزگار اور محیر العقول منصوبہ سنا ہے کہ عقل دنگ رہ گئی ہے۔ میں نے کہا چودھری ! منصوبے پر تو بعد میں بات ہوگی پہلے مجھے دو تین باتیں بتائو۔ پہلی بات تو یہ کہ تم نے یہ نادر روزگار اور محیر العقول جیسے مشکل الفاظ بالکل درست موقع محل پر بغیر کسی غلطی کے استعمال کیسے کرلیے ہیں ۔دوسری بات یہ کہ تم نے، میرا مطلب ہے تمہارے والدین نے تمہاری عمر سکول میں داخلے کے وقت بھی تین چار سال کم بتائی اور لکھوائی تھی۔ تم اس تاریخ پیدائش کے مطابق بھی جو پہلے سے ہی کم تھی ستاون سال کے بنتے ہو تو تم باون سال کے کیسے بن گئے ہو ؟ اور تیسری بات یہ کہ سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو والا کیا قصہ ہے ؟ چودھری مسکرایا اور کہنے لگا۔ تم اعتراض کرتے ہوئے کامن سینس بالکل استعمال نہیں کرتے۔ میں نے یہ جو لفظ باون سال استعمال کیا ہے یہ اپنی اس عمر کا ذکر کیا ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے۔ بندہ خدا ! میں اپنی ہوش سنبھالنے سے پہلے والی عمر کا حوالہ کیسے دے سکتا ہوں ؟ بگلے والا قصہ تو بڑا مشہور ہے کہ دریا میں ایک ٹانگ پر بیٹھے ہوئے بگلے کو پکڑنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ سب لوگوں نے اپنی اپنی تجویز دی۔ ایک عقلمندوں کا آئی جی کہنے لگا کہ ایسا کریں کہ ایک موم بتی جلاکر نہایت آہستگی سے بگلے کے قریب جاکر اس کے سر پر رکھ دیں۔ تھوڑی دیر بعد موم پگھل کر بگلے کی آنکھوں میں چلی جائے گی ۔بگلہ اندھا ہوجائے گا، لہٰذا اسے جاکر پکڑ لیں گے۔ کسی نے کہا جب بگلے کے سر پر موم بتی رکھنے جائیں تبھی کیوں نہ پکڑ لیں ؟ عقلمند کہنے لگا، جب سیانے منصوبہ بنائیں تو بیوقوفوں کو اپنی چونچ بند رکھنی چاہیے۔ چودھری کہنے لگا اپنے سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو نے بھی اسی قسم کا عبرت انگیز منصوبہ بنایا تھا۔ رات سردار بلدیو سنگھ اپنے گھر کے صحن میں سویا ہوا تھا کہ اچانک اٹھ بیٹھا۔ اٹھ کر اپنا پیٹ کھجلایا۔ پھر بڑی احتیاط سے اپنی بنیان اتار کر چارپائی پر پھیلائی۔ ماچس جلاکر روشنی کی اور بنیان کا بغور جائزہ لیا۔پھر اسی طرح نہایت احتیاط سے بنیان الٹائی اور پہن کر لیٹ گیا۔تھوڑی دیر بعد پیٹ اور چھاتی کھجلائی اور بنیان اتاری اسے الٹا کیا اور پہن کر لیٹ گیا ۔یہ واقعہ کم از کم چار پانچ مرتبہ دہرایا گیا۔اس اٹھنے بیٹھنے ، بنیان اتارنے ، اٹھانے اور پہننے کے مسلسل عمل سے ساتھ والی چارپائی پر سوئی ہوئی سردار بلدیو سنگھ کی بیوی پریت کور کی نیند بھی خراب ہورہی تھی ۔وہ اٹھی اور کہنے لگی۔ بلدیو سنگھ ! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ سردار بلدیو سنگھ کہنے لگا۔ پریتو! اک جوں میری بنیان وچ وڑ گئی اے۔(ایک جوں میری بنیان میں گھس گئی ہے) ۔پریت کور کہنے لگی تو اس کو پکڑ کر مار دو یا نیچے زمین پر پھینک دو۔ سردار بلدیو سنگھ ہنسا اور کہنے لگا۔ لو جی گل سنو ۔اتنی آسانی سے ماردوں ۔ اس نے مجھے آدھی رات کو تنگ کیا ہے اور میں اسے مار دوں یا زمین پر پھینک دوں ؟ یہ جب بنیان کی اندر والی سائڈ تک پہنچتی ہے میں بنیان الٹا کر پہن لیتا ہوں ۔ یہ پھر چلتی چلتی اندر والی طرف پہنچتی ہے تو میں پھر بنیان الٹا لیتا ہوں۔میں اس کمبخت کو ساری رات چلا چلا کر ماروں گا۔ چودھری یہ واقعہ سناکر زور سے ہنسا اور کہنے لگا اپنی وزارت داخلہ اور پولیس نے بھی سردار بلدیو سنگھ کی طرح سکندر کو تھکا تھکا کر مارنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ اسے ایف سکس کے مکان میں لے جاتے، وہاں اسے مذاکرات کرنے والوں کی ٹیم کے حوالے کردیاجاتا۔یہ ٹیم اس سے اڑتالیس یا اس سے بھی زیادہ گھنٹے مسلسل مذاکرات کرتی۔ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔ سکندر جونہی سوتا وہ اسے دبوچ لیتے۔ پھر اس کو آرام سے دو ایک گولیاں مارتے اور اللہ اللہ خیر صلّا۔ چودھری کہنے لگا، میرے پاس بھی تین چار اور منصوبے تھے جو اس سے بہتر تھے ۔ مثلاً یہ کہ وہ سکندر کو کسی مکان میں لے جاتے اور وہاں اسے چاروں مغز ، بادام اور خشخاش میں اچھی طرح گھوٹی ہوئی بھنگ برف ڈال کر پلاتے جاتے، حتیٰ کہ وہ ’’آپھَر‘‘ جاتا۔بھنگ پی کر بندہ بزدل ہوجاتا ہے۔ اول تو وہ خود ہی اپنی بندوقوں سے ڈر جاتا اور انہیں دور پھینک دیتا۔ ورنہ تھوڑی دیر بعد اسے پیشاب آجاتا۔ باتھ روم میں جاکر وہ دروازہ اندر سے بند کرتا ۔ بندوقیں ایک طرف رکھتا۔ میں نے پوچھا بندوقیں کیوں رکھتا ؟ چودھری کہنے لگا ، اوئے احمق شخص ، کوئی بندہ ہاتھ فارغ کیے بغیر اپنا آزاربند کیسے کھول سکتا ہے ؟ اسی دوران چھت سے چپکائے ہوئے مقناطیس کے ذریعے اس کی بندوقیں اوپر کھینچ لی جاتیں اور قصہ ختم ہوجاتا ۔ دوسرا منصوبہ یہ تھا کہ دبئی سے اس کی پہلی بیوی کو بلایا جاتا اور اس دوسری والی کے ساتھ اکٹھے اسے ایک کمرے میں بٹھایا جاتا اور اسے غچہ دے کر دروازہ باہر سے لاک کردیا جاتا۔ دونوں سوکنیں آپس میں لڑتیں ، جوتم پیزار کرتیں آٹھ دس گھنٹوں میں سکندر اندر سے چلّا چلّا کر دروازہ کھولنے کی درخواست کرتا اور ہتھیار پھینک دیتا۔ ایک اور منصوبہ یہ تھا کہ وہ اسے مذاکرات کے دوران نشہ آور ’’ ریڈ بل ‘‘ پلاتے اور جب وہ بے ہوش ہوجاتا تو اس کی بندوقیں غائب کردیتے ،پھر اس کے منہ پر چھینٹے مار کر اسے ہوش دلاتے اور اسے بتاتے کہ وہ پکڑا گیا ہے۔ یہ سن کر وہ وہاں سے بھاگ جاتا اور سارا قصہ بہ حسن و خوبی حل ہوجاتا ۔چودھری کہنے لگا، اور بھی دو چار منصوبے ہیں کہو تو سنائوں ؟ میں نے کہا چودھری ! تو ایک جینئس آدمی ہے ۔ تیری جگہ ملتان جیسے چھوٹے شہر میں نہیں، اسلام آباد میں ہے۔تجھے چاہیے کہ تو پہلی فرصت میں اسلام آباد چلاجا اور وہاں وزارت داخلہ کو چاہیے کہ تجھے انسداد دہشت گردی وغیرہ کے معاملات کو ہینڈل کرنے کی ذمہ داری سونپ دے۔ تو وہاں اس طرح کے منصوبے بنائے گا تو لوگوں کو تیری اصل قدر و قیمت کا پتہ چلے گا۔ تیرے جیسے عظیم منصوبہ ساز کا اصل مقام اسلام آباد ہے ملتان نہیں ۔وہاں تیرے بھائی بند بڑی بڑی پوسٹوں پر ہیں اور تو یہاں خوار ہورہا ہے ۔تو ایک انتہائی جینئس شخص ہے مگر زمانے کی روایت کے مطابق ناقدری کا شکار ہے۔اللہ تجھے قدر شناسوں میں پہنچائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں