نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 81 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 327 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 46 ہزار 231 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1897 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.10 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

چودھری شجاعت کا یوٹرن اور مستقبل کی کیلکولیشن

گزشتہ رات شفیق سے تقریباً دو تین ہفتوں کے بعد بات ہوئی۔ عموماً ہماری گفتگومیںاتنالمبا عرصہ نہیں پڑتا۔ لاس اینجلس میں رہائش پذیر شفیق اعلیٰ پائے کا سست الوجود ہے۔وہ ایمرسن کالج ملتان اور بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں میرا جونیئر تھا۔ پڑھاکو اور ذہین شفیق، سٹوڈنٹس پالیٹکس میں گھسیٹ کر لانے کا اعزاز میرے سر ڈالتا ہے۔ وہ ایمرسن کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری رہا۔ یونیورسٹی میں وہ خود بھی سیاست سے دور رہنا چاہتا تھا اور ہماری بھی یہی خواہش تھی کہ وہ اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھے۔ لیکن یہ چھٹی صرف الیکشن لڑنے کی حد تک تھی الیکشن لڑوانے کے سلسلے میں اسے معافی حاصل تھی۔ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھر پور شرکت کے باوجود اس کا تعلیمی معاملہ بڑا قابل فخر تھا۔ اس نے ایم پی اے میں ٹاپ کیا بلکہ پوری یونیورسٹی میں سب سے زیادہ نمبر اور شرح فیصد لے کر قائد اعظم سکالر شپ حاصل کیا۔ پھر امریکہ چلا گیا اور وہیں کا ہوکر رہ گیا۔
سستی اور کاہلی امریکہ میں بھی اس کے ساتھ ہے۔ بتاتا ہے کہ اس نے بڑی محنت کی ہے مگر میں جب سے اس کے پاس امریکہ جانا شروع ہوا ہوں، اسے بالکل اسی طرح پایا جس طرح ملتان میں تھا۔ وہ امریکہ میں جیسی پرسکون اور ٹینشن فری زندگی گزار رہا ہے ویسی زندگی شاید لوگ پاکستان میں بھی نہیں گزارتے(میں یہ بات امن و امان‘ لاء اینڈ آرڈر اور دہشت گردی کے تناظر سے ہٹ کر کہہ رہا ہوں۔) وہ تقریباً پانچ چھ دن بعد شیو کرتا ہے۔ ملتان کے رہائشی اور پیدائشی ہونے کے ناتے اسے سردی بہت لگتی ہے، اس لیے امریکہ میں ملتان جیسے موسم کی حامل کیلیفورنیا سٹیٹ میں بڑا خوش ہے۔ سارے گھر میں اے سی چلتا ہے کہ گھر سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ ہے مگر اس کا کمرہ اس سسٹم کا حصہ نہیں، اس کے کمرے میں سارے گھر سے علیحدہ درجہ حرارت ہوتا ہے، اس میں جا کر احساس ہوتا ہے کہ یہ ملتان کا حصہ ہے اور لوڈشیڈنگ کا شکار ہے۔
وہ علی الصبح اٹھتا ہے اور پاکستانی چینلز لگا کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس دوران چائے بناتا ہے اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر مزے لیتا ہے۔ ہُدیٰ‘ رجاء اور حمزہ یونیورسٹی اور سکول چلے جاتے ہیں۔ ثمینہ بزنس کے معاملات سنبھالنے چلی جاتی ہے، شفیق اپنا ناشتہ بناتا ہے اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ جب امریکہ میں صبح ہوتی ہے تو ہمارے یہاں رات ہوتی ہے۔ لاس اینجلس اور پاکستان میں گرمیوں میں پورے بارہ گھنٹے کا فرق ہوتا ہے اور سردیوں میں تیرہ گھنٹے کا ۔ جب یہاں رات کے آٹھ یا نو بجے ہوتے ہیں تو آج کل لاس اینجلس میں صبح کے سات یا آٹھ بجے ہوتے ہیں۔ وہ صبح سارے ٹاک شوزاورخبریں سنتا ہے۔ جب سارے پاکستانی چینلز اپنی لائیو میڈیا ریسلنگ بند کر دیتے ہیں تو وہ اپنے کام پر نکل جاتا ہے اور کام بھی کیا ہے؟ سارا کام ثمینہ چلا رہی ہے، شفیق گاڑی لے کر نکلتا ہے، پچاس ساٹھ میل کے دائرے میں پھیلے ہوئے اپنے چھ سات جی این سٹورز میں دو تین کا چکر لگاتا ہے، دس پندرہ منٹ حال چال پوچھتا ہے،کبھی دل کرے تو کیش اٹھا کر بنک میں جمع کروا دیتا ہے،ڈیمانڈ کا کاغذ پکڑتا ہے اور گھر لا کر ثمینہ کو دے دیتا ہے۔ واپسی پر حمزہ کو سکول سے لے آتا ہے۔ باقی راوی چین لکھتا ہے کیونکہ پھر وہ اگلی صبح تک کا سارا وقت سونے یا ٹی وی دیکھنے میں گزار دیتا ہے ، اللہ اللہ خیرسلا۔
فون پراس کی میری گفتگو بچوں کی خیر خیریت سے شروع ہو کر پاکستانی سیاست پر پہنچ جاتی ہے، تازہ حالات پر تبادلہ خیالات ہوتا ہے،کئی معاملات پر اختلافی بحث ہوتی ہے، پندرہ بیس منٹ کی گفتگو بالآخر برابرپر چھوٹتی ہے۔ ایک دوسرے کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار ہوتا ہے اور بس۔ گزشتہ رات فون پر بات ہوئی تو موضوع آرٹیکل چھ‘ مشرف پر مقدمہ‘متحدہ کا واویلا‘ چودھری شجاعت کی زبردستی ملزم بننے کی جدوجہد اور سابق آمروں کے حوالے سے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے مطالبے تھے۔شفیق بتانے لگا کہ گزشتہ روز اس کی دوستوں کے حلقے میں اسی موضوع پر بحث ہوتی رہی ۔مشرف کے حامی پاکستان میں ہوں نہ ہوں امریکہ‘ برطانیہ‘ کینیڈا اور یورپ وغیرہ میں ضرور ہیں اور اس کی وجوہ دیار غیر میں رہائش پذیر ہونے والے پاکستانیوں کے لوکل مسائل اور معاملات ہیں۔ شفیق کہنے لگا کہ دوستوں کے اس حلقے میں پرویز مشرف کے کچھ حامی بھی تھے جو کہہ رہے تھے کہ جب تک پچھلے آمروں پر آئین توڑنے کا کیس نہیں بنتا اکیلے مشرف پر آئین شکنی کا کیس چلانا ناانصافی ہے۔ان کا موقف تھا کہ پہلے بارہ اکتوبر والا معاملہ ٹرائل کیا جائے اور پھر بعد میں تین نومبر کا کیس چلایا جائے۔ بارہ اکتوبرکو مشرف کے ہمراہیوں اور سہولیات فراہم کرنے والوں کوبھی کٹہرے میں لایا جائے ، اس کے بغیر سارا کیس ناجائز ہے، اکیلے مشرف کا ٹرائل انصاف کا قتل ہے۔
شفیق کہنے لگا کہ اگر ایک شخص انسپکٹر جنرل پولیس کا قتل کر دے اور بچ نکلے اور بعدازاں کسی کانسٹیبل کے قتل میں دھر لیا جائے اور ثبوت بھی پورے ہوں تو کیا اس کے خلاف کانسٹیبل کے قتل کا مقدمہ صرف اس بنیاد پر خارج کیا جا سکتا ہے کہ پہلے آئی جی والے قتل کا فیصلہ کیا جائے تب کانسٹیبل کے قتل کا مقدمہ درج ہو گا؟ پھر شفیق بتانے لگا کہ وہ ایک دن فری وے (موٹر وے) پر جا رہا تھا۔ صرف ایک لین چل رہی تھی اور باقی دو لین کسی وجہ سے بند تھیں۔ رش کافی تھا اور ایک لین کی وجہ سے سب تیز رفتاری دکھا رہے تھے۔ ساری لین اوور سپیڈ تھی۔ ٹریفک سارجنٹ نے شفیق کو اوور سپیڈ پر روکا اور چالان کر دیا۔ شفیق اس چالان کے خلاف عدالت چلا گیا۔ عدالت میں چالان کرنے والے آفیسر کا پیش ہونا ضروری ہوتاہے وگرنہ عدالت یکطرفہ فیصلہ کر دیتی ہے۔ شفیق کے نام کے ساتھ ''محمد‘‘ کا لاحقہ ہے لہٰذا آفیسر خصوصی طور پر پیش ہوا۔
سارجنٹ نے عدالت کو بتایا کہ صرف ایک لین چل رہی تھی اور یہ شخص اس لین میں باقیوں کی طرح اوور سپیڈ کر رہا تھا اوراتفاقی چیکنگ (Random) میں پکڑا گیا۔ جج نے شفیق سے پوچھا کہ کیا یہ سارجنٹ ٹھیک بتا رہا ہے؟ شفیق نے جج کو بتایا کہ یہ بات بالکل درست ہے اور میری بے گناہی کے لیے یہی کافی ہے جو سارجنٹ نے کہا ہے۔ میں اس ایک لین میں تھا جو چل رہی تھی، رش کافی تھا، سبھی تیز جا رہے تھے، میں سپیڈ زیادہ رکھنے پر مجبور تھا کہ میرے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا، اسی رفتار سے چلنے پر مجبور تھا جس پر باقی گاڑیاں جا رہی تھیں۔ جج نے کہا یہ بات تسلیم کر کے تم نے سارجنٹ کے کیے ہوئے چالان کو درست مان لیا ہے، تم اوور سپیڈ تھے۔ باقی لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پکڑے نہیں گئے، یہ تمہاری بدقسمتی ہے کہ اس چیکنگ میں تم پکڑے گئے ہو، باقیوں کا جرم اور نہ پکڑے جانے کا معاملہ اس بات سے بالکل علیحدہ ہے، دیگر لوگوں کے نہ پکڑے جانے سے تم نہ تو بری ہوتے ہو اور نہ ہی تمہارا جرم ختم ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ تم نے عدالت کا وقت بھی ضائع کیا ہے۔ لہٰذا تمہیں اڑھائی سوڈالر تیز رفتاری پر اور ایک سو ڈالر عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ شفیق نے جرمانہ ادا کیا اورگھرآ گیا۔
جب تک پرویز مشرف کی گاڑی چک شہزاد سے نیشنل لائبریری اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت کی جانب رواں تھی تب تک سارے دیگر ''بہادر‘‘ بھی خاموش تھے اور دبکے پڑے تھے۔ جونہی پرویز مشرف کی گاڑی راول چوک سے گھوم کر اے ایف آئی سی گئی یہ لوگ نعرے لگانے لگے کہ ''وہ ڈرتے ورتے کسی سے نہیں‘‘ چودھری شجاعت کی پوری بات تو سمجھ نہیں آتی مگر جتنی بات پلے پڑی اس سے یہی سمجھ آیا ہے کہ اللہ نادان دوستوں اور بے وقت کے بہادروں سے محفوظ رکھے۔ عظیم دانشور چودھری بھکن کا خیال ہے کہ پرویز مشرف کی گاڑی نے اسلام آباد کلب کے پاس سے جو یو ٹرین لیا یہ سارا اس کا کمال ہے کہ چودھری شجاعت بھی آمادہ بہ شجاعت ہو گئے ہیں لیکن اگر پرویز مشرف ہسپتال سے دوبارہ خصوصی عدالت پہنچے تو چودھری صاحب دوسرا یوٹرن لینے میں ایک لمحہ نہیں لگائیں گے؛ تاہم اس یوٹرن کا امکان بڑا موہوم ہے کہ چودھری شجاعت نے یہ بیان پوری Calculationکے بعد دیا ہے اور چودھریوں کو اور کچھ آئے یا نہ آئے اس قسم کا حساب کتاب پورا آتا ہے، سوائے دس بارہ باروردی میں صدر منتخب کروانے والے اعلان کے‘ ان کے اندازے کم ہی غلط نکلے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں