نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی ناروےکی ہم منصب سےملاقات
  • بریکنگ :- دوطرفہ تعلقات،علاقائی سلامتی اورباہمی دلچسپی کےامورپربات چیت
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

بقیہ چار سوالات کا حشر نشر

میرا بیٹا کہنے لگا، ملائشیا کے ہوائی جہاز کا گم ہو جانا حیران کن واقعہ ہے۔اتنی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ لیس پورے جہاز کا غائب ہو جانا ان لوگوں کے لیے خاص طور پر چشم کشا ہے جو کہتے ہیں کہ امریکہ کو زمین پر پڑی ہوئی سوئی تک کے بارے میں مکمل علم ہوتا ہے۔ادھر یہ عالم ہے کہ پورا جہاز بمعہ 239مسافروں کے غائب ہو گیا ۔انتالیس دن سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے ابھی تک اس کا معمولی سا سراغ بھی نہیں ملا،حتیٰ کہ یہ پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کس طرف گیا ہے۔پہلے خبر ملی کہ وہ پاکستان میں ہے۔دنیا میں ہونے والی ہر خرابی کی طرح یہ بھی پاکستان کے سر تھوپ دی گئی۔پھر کہا گیا کہ یہ جہاز بحرالکاہل میں کہیں گر گیا ہے۔ آخر میں یہ خبر آئی کہ یہ جہاز قندہار کے قریب ایک متروک ہوائی اڈے پر کھڑا ہے۔اگر یہ جہاز سمندر میں گر کر تباہ ہوا ہے تو جہاز میں بے شمار ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو پانی پر تیرنے والی ہیں۔ مثلاً جہاز کی کرسیوں کے کشن‘مسافروں کا سامان ،پلاسٹک کی ساری اندرونی دیواریں‘ سامان رکھنے کے خانے اور لائف جیکٹس وغیرہ سمندر پر تیرتیں۔اگر جہاز سالم ہے تو اس کے مسافروں کے موبائل فونز کے سگنل‘جہاز کے اپنے نظام میں موجود ٹریکنگ آلات اور نشاندہی کرنے والا خودکار نظام کہاں ہے؟غرض جہاز کو تلاش کرنا حکیم اللہ محسود کو تلاش کرنے سے کہیں سہل تھا مگر سب کو بری طرح ناکامی ہوئی۔ کم از کم اب تک تو کسی کو کچھ پتہ نہیں ۔میری عمر تو ابھی صرف چودہ سال ہے اور میں او لیول کے سال اول میں ہوں۔امریکہ، برطانیہ اور چین سمیت کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ دراصل یہ سارا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان بعض مقامات پر کتنا مجبور ہے۔جو لوگ ٹی وی وغیرہ پر بیٹھ کر ہمیں ہر وقت ڈراتے اور خوفزدہ کرتے ہیں کہ امریکہ کو سب پتہ ہے کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔امریکہ ہماری ایک ایک بات اور حرکت جانتا ہے۔امریکہ سے کوئی بات چھپانا ناممکن ہے،یہ واقعہ ان کے منہ پر طمانچہ ہے۔
عین اسی وقت اندر آتے ہوئے صوفی نے اسد کی آخری بات سن کر تالی بجائی اور کہنے لگا، یہ بات ایک بچے کو پتہ چل گئی ہے مگر ہمارے امریکی طاقت سے مرعوب دانشوروں کو معلوم نہیں۔اسی دوران کھوکھر آ گیا۔ میرے بیٹے نے یہ صورتحال دیکھی تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اب یہاں کیا ہو گا لہٰذا وہ خاموشی سے اندر کھسک گیا۔میں نے پوچھا شاہ جی!یہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا کیا قصہ ہے؟شاہ جی کہنے لگے کہ یہ بحرین نے دیے ہیں اور وہ پاکستان سے فوجی بھرتی کرنے کا قصد رکھتا ہے۔ جنہیں وہ اپنے کسی مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔صوفی کہنے لگا شاہ جی آپ کی سوئی ایک ہی جگہ پر پھنسی ہوئی ہے۔ یہ پیسہ سعودی عرب نے دیا ہے۔ آپ ہر بات کو مخصوص نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔دراصل یہ سارا معاملہ شام والی لڑائی کا ہے۔ امریکہ نے عین آخری موقع پر سعودی عرب کو جھنڈی کروا دی اور شام پر حملے کا معاملہ گول کر دیا۔سعودی عرب، شام میں ہونے والی خانہ جنگی سے خود نبٹنا چاہتا ہے۔آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ پرائی جنگیں لڑنے کا جتنا تجربہ ہمیں ہے روئے ارض پر کسی کو نہیں ہے۔صورتحال یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں دور دراز کے غیر روایتی ہوائی اڈوں سے Unscheduled فلائٹس یعنی چارٹر فلائٹس گئی ہیں۔ کہاں گئی ہیں معلوم نہیں۔ ان میں کون تھا، صرف اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔پچھلے دنوں شام کے سرکاری ٹی وی نے خانہ جنگی میں ہلاک ہونے والوں درجنوں غیر ملکیوں کی لاشیں دکھائی ہیں۔ ان مرنے والے غیر ملکیوں کے سینے پر ان کے پاسپورٹ رکھے ہوئے تھے۔ ان مرنے والوں میں کئی ایسے تھے جن کے سینے پر سبز پاسپورٹ دھرے ہوئے تھے۔ امریکی ڈالروں سے لڑنے والے نام نہاد طالبان اب سعودی ریالوں کے عوض لڑ رہے ہیں۔ یہ ڈیڑھ ارب ڈالر اس جنگ کا عوضانہ ہے جو ہمارے لوگ وہاں لڑ رہے ہیں اور ابھی باقاعدہ وردی پوشوں کا جانا طے پا رہا ہے۔ 
بھٹی مسکرا رہا تھا۔ کہنے لگا، آپ سب لوگ غلط اندازے لگا رہے ہیں۔ڈیڑھ ارب وہاں سے آیا ہے۔ جہاں آپ کی نظر
نہیں جا رہی۔ یہ چین سے آئے ہیں۔کا شغر سے گوادر تک راہداری کے عوض۔گوادر کے انتظام و انصرام کے عوض۔ بلوچستان میں نکلنے والی معدنیات کے متوقع استعمال کے عوض۔ دونوں بھائی ہر چوتھے بیکار میں چین نہیں جا رہے۔ ابھی چین کے تعاون سے موٹر وے بنے گی۔ایکسپریس ویز بنیں گی۔ بجلی گھر لگ رہے ہیں۔ ہمارے لیے دنیا بھر میں صرف دو ملک رہ گئے ہیں چین اور ترکی ۔ جو کچھ ہو رہا ہے صرف انہی دونوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔بڑے بڑے منصوبے چین کے پاس ہیں اور ٹرانسپورٹ صفائی وغیرہ ترکی کے حصے میں آئے ہیں۔ریکوڈک کا معاملہ بھی اندر ہی اندر صاف ہو جائے گا۔اسحاق ڈار فرماتے ہیں کہ جون تک چھ ارب ڈالر آ جائیں گے۔ کہاں سے آئیں گے؟ملیں بند ہو رہی ہیں ۔بجلی مہنگی ہو رہی ہے، گیس مل نہیں رہی۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ گر رہی ہے۔ آخر یہ چھ ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟کیا ہمارے ہاں تیل نکل آیا ہے؟سونے کی کان مل گئی ہے؟میں نے شاہ جی‘صوفی اور کھوکھر سے کہا کہ آپ میں سے کوئی اپنے نقطہ نظر سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہے؟تینوں نے صاف انکار کر دیا۔
میں نے پوچھا طالبان سے مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟صوفی کہنے لگا آخر کار آپریشن ہو گا۔ جو آپریشن کروانا چاہتے ہیں ان کا منشا یہی ہے ۔طالبان میں جو گھس بیٹھے ہیں وہ بھی مذاکرات نہیں چاہتے۔طالبان کے روپ میں پوشیدہ اغوا کار اپنے اس آسان اور کمائی والے پیشے سے کیوں دستبردار ہوں گے اور امریکہ اور بھارت سے پیسے لے کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے اپنے آقائے ولی نعمت سے سے کس طرح کنارہ کشی اختیار کریں گے۔ کیا امریکہ ‘بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں اپنے پے رول پر موجود دہشت گردوں کو جو افواج پاکستان‘ایف سی‘پولیس اور بے گناہوں پر خودکش حملوں کے لیے مالی‘تکنیکی اور اسلحہ کی فراہمی جیسے معاملات میں بھر پور مدد کر رہے ہیں، بھلا کیوں چاہیں گے کہ معاملات ختم ہو جائیں اور ملک میں امن قائم ہو جائے۔ بہرحال بات چیت اور مذاکرات سے یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب طالبان دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔مذاکرات والے اور دہشت گردی ہر حال میں جاری رکھنے والے۔ ان مذاکرات سے پوری نہ سہی ‘جزوی کامیابی ضرور ملے گی۔ انہی مذاکرات کے طفیل اب عمران خان بھی کھل کر یہ کہہ رہا ہے کہ مذاکرات اگر ناکام ہو گئے تو پھر واحد حل آپریشن ہی ہے۔ انہی مذاکرات کا فیض ہے کہ طالبان کا ترجمان بھی سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکوں پر جانوں کے نقصان پر یہ کہہ رہا ہے کہ بے گناہوں پر حملے حرام ہیں۔ شاہ جی کا خیال تھا کہ مذاکرات ہی واحد حل ہے اور یہ کامیاب ہو جائیں گے۔کھوکھر سارا زور اس بات پر لگا رہا تھا کہ اس مسئلے کا حل صرف اور صرف آپریشن ہے۔ مذاکرات سے صرف وقت ضائع ہو رہا ہے۔ ( بقیہ صفحہ 13پر)
میں نے پھر تینوں دوستوں سے پوچھا کہ ان میں سے کوئی اپنے نقطہ نظر سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہے۔ تینوں نے پھر صاف انکار کر دیا۔پھر میں نے پوچھا کہ خواجگان ن لیگ کیا چاہتے ہیں۔صوفی کہنے لگا کہ خواجگان کو اندر خانے بڑے میاں صاحب کی پوری آشیر باد اور حمایت حاصل ہے۔انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے نہ صرف یہ کہ سو فیصد درست کہا ہے بلکہ میاں صاحب کی مرضی سے کہا ہے۔ خواجگان کی ساری باتیں درست ہیں اور کچھ غلط نہیں کیا۔کھوکھر کہنے لگا آپ کو اندازہ نہیں کہ اس حرکت سے کیا نتائج نکلیں گے۔ آپ نے اس دن بڑے خواجہ کی ٹی وی پر تقریر سنی تھی؟صوفی کہنے لگا وہ آج کی تازہ تقریر نہیں تھی۔2006ء کی تھی ۔ تب کی صورتحال کے مطابق اور تب بھی درست تھی۔آپ جرنیلوں کی طالع آزمائی کو‘ فوج سے میرا مطلب ہے پوری فوج یعنی ادارے سے‘ کیوں جوڑ دیتے ہیں۔ ان کی حرکت پورے ادارے کی نمائندگی نہیں کرتی ایسے جنرل کے خلاف کارروائی بھی پورے ادارے کے خلاف تصور نہیں ہونی چاہیے۔ کھوکھرکہنے لگا آپ جیسے لوگوں نے پہلے بھی جمہور یت میں غیر حقیقی ہوا بھر کر ان کا غبارہ پھاڑا تھا اور اب بھی وہی کچھ کر کے دوبارہ جمہوریت کی بساط لپٹوانے کے چکر میں ہیں۔اگر پرویز مشرف سے مزید چھیڑ چھاڑ جاری رہی تو پھر میاں صاحب بھگتیں گے۔ صوفی کہنے لگا اس بار کچھ نہیں ہو گا۔ سب کچھ طے ہے۔ کشمیری بھائی چارے کا مظاہرہ ہو گا۔ مشرف کو سزا ہو گی اور معافی مل جائے گی۔ بہادر کمانڈو ایسا بھاگے گا کہ کبھی پلٹ کر واپس نہیں آئے گا۔ شاہ جی کہنے لگے وہ (پرویز مشرف) سزا سے پہلے ہی کسی دن پُھر سے اڑ جائے گا آپ سب لوگ منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ کھوکھر کہنے لگا۔ اسلم بیگ کا بیان‘مشرف کے وکلاء کا فرمانا اور آرمی چیف کی تقریر۔سب کچھ واضح کر رہا ہے مگر آپ لوگوں کی عقل گھاس چرنے جا چکی ہے۔صوفی کہنے لگا، خواجگان ن لیگ میاں صاحب کی زبان بو ل رہے ہیں۔ کھوکھر کہنے لگا خواجگان ن لیگ میاں صاحب کو مروائیں گے۔شاہ جی کہنے لگے، معاملہ درمیان میں پھنسے گا۔میں نے پھر تینوں سے پوچھا کہ آپ تینوں میں سے کوئی اپنے نقطہ نظر سے رجوع کر نے کے لیے تیار ہے۔تینوں نے صاف انکار کر دیا۔میرے چاروں سوالات ابھی تک تشنہ ہیں اور جوابات سے محروم ہیں۔
خالد مسعود خان

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں