نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بجلی صارفین کے لئے ازسرنو سبسڈی سے متعلق فیصلہ جاری
  • بریکنگ :- نیپرانےوزارت توانائی کی درخواست پرپہلےمرحلےکی منظوری دےدی
  • بریکنگ :- صارفین پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالا گیا، نیپرا
  • بریکنگ :- 300سے700کے سلیب کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا رہا ہے،نیپرا
  • بریکنگ :- وزارت توانائی کوفیز2اور3کےمالی اثرات کی تفصیلات شیئرکرنےکی ہدایت، نیپرا
  • بریکنگ :- اتھارٹی میرٹ پرفیز 2 اور فیز 3 کے معاملات کی جانچ پڑتال کرے گی، نیپرا
  • بریکنگ :- لائف لائن صارفین کی کیٹیگری 50سے100یونٹ کردی گئی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ایک شاعر جس کا دریافت ہونا ابھی باقی ہے

بعض لوگوں کا مقدر ہی ایسا ہوتا ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں وہ مقام و مرتبہ نہیں مل سکتا جس کے وہ حقیقی حقدار ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں میں مزید کم نصیب وہ ہوتے ہیں جو مرنے کے بعد وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں اور مکمل گمنامی کی زندگی کے بعد بے نامی کے اندھیروں میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ اردو ادب کے بے شمار ستارے ایسے تھے جو نہ تو اپنی زندگی میں جگمگا سکے اور نہ ہی ان کے گزر جانے پر کسی نے ان کی یاد میں کوئی دیا روشن کیا۔ چند لوگ ایسے بھی ہوئے کہ زندگی بھر تو ان کی پذیرائی نہ ہو سکی اور وہ قریب قریب گمنامی کی زندگی گزار کر اس جہان فانی سے چلے گئے مگر جانے کے بعد کسی جوہر شناس نے انہیں دنیا کے سامنے نئے سرے سے متعارف کروایا اور وہ گوشہ گمنامی سے نکل کر ایک بار پھر اردو زبان و ادب کی کہکشاں کا حصہ بن گئے۔ تنگی‘ عسرت‘ مشکلات اور گمنامی کی زندگی گزار کر رخصت ہونے اور بعدازاں اس گمنامی کے اندھیرے سے نکل کر مثل آفتاب چمکنے والوں میں ایک نام مجید امجد کا ہے۔ مجید امجد کو دوبارہ سے متعارف کروانے اور گوشہ گمنامی سے نکال کر شائقین ادب کے ہاتھوں تک پہنچانے کا سہرا ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے سر جاتا ہے۔ 
آج مجید امجد کی چالیسویں برسی ہے۔ جب یہ کالم آپ تک پہنچے گا اس برسی کو ایک دن گزر چکا ہوگا۔ مجھے یہ کالم ایک دن قبل لکھنا چاہیے تھا مگر زندگی بھر بے نامی اور گمنامی کا شکار مجید امجد ابھی تک وہ مقام اور مرتبہ حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ حقدار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عاجز بھی اسے اس طرح یاد نہ رکھ سکا جو اس کا حق تھا۔ یہ سال یعنی 2014ء اس کی سو سالہ پیدائش کا سال بھی ہے۔ مجید امجد انتیس جون 1914ء کو جھنگ مگھیانہ میں پیدا ہوا اور گیارہ مئی 1974ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔ مجید امجد جھنگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہے۔ 
مجید امجد نے بچپن سے دم آخر تک مشکلیں‘ تنگی‘ مصائب‘ بے سکونی اور تنہائی کاٹی۔ مجید امجد کی عمر ابھی دو برس ہی تھی کہ اس کے والدین میں علیحدگی ہو گئی۔ اس کی والدہ اسے لے کر اپنے میکے آ گئی جہاں مجید امجد نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا مولوی نور محمد سے حاصل کی۔ نو سال کی عمر میں مجید امجد مولوی غلام قاسم کے مدرسے چلے گیا جہاں اسے فلسفہ‘ علم جفر‘ علم طلب‘ عربی اور فارسی پڑھی۔ انٹر تک تعلیم جھنگ میں حاصل کی اور گریجوایشن اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے کی۔ اکیس سال کی عمر میں ملازمت شروع کی اور کلرک سے لے کر اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تک کے عہدے پر ترقی پا کر 1973ء میں ریٹائر ہوا۔ ریٹائرمنٹ کے ایک سال بعد مجید امجد کا انتقال ہو گیا۔ 
اردو ادب میں جب شاعری کی بات چلتی ہے تو وہ غزل سے شروع ہو کر نظم پر ختم ہو جاتی ہے۔ ثلاثی‘ ہائیکو‘ قصیدہ‘ رباعی‘ قطعہ‘ مخمس اور مسدس وغیرہ درمیان میں کہیں آتے ہیں۔ غزل اردو شاعری کے ماتھے کا جھومر ہے اور میرا ذاتی خیال ہے کہ دنیا بھر کی کسی زبان میں غزل سے بڑھ کر تو کجا غزل کی متبادل بھی کوئی صنف موجود نہیں۔ اردو زبان میں غزل فارسی سے آئی ہے اور وہاں سے ہی اس کی ساری رنگینی اردو میں منتقل ہوئی ہے۔ غزل کی صناعی اور خوبصورتی سے ہٹ کر بات کہنے کا جو میدان اور سلیقہ نظم میں ہے غزل بسا اوقات تنگی دامان کا منظر پیش کرتی ہے۔ غالب کے بقول ؎ 
بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل 
کچھ اور چاہیے وسعت‘ مرے بیاں کے لیے 
مجید امجد کی نظم غالب کے اسی وسعت بیان کی عملی تصویر ہے۔ مجید امجد نے اردو نظم کو جو نیا رنگ‘ اسلوب‘ خوبصورتی اور وسعت دی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ جدید اردو نظم مجید امجد کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انتظار حسین نے مجید امجد کے بارے میں چار سطروں میں جو لکھا ہے وہ شاید مجید امجد کا سب سے مختصر اور جامع ترین تعارف ہے۔ انتظار حسین لکھتے ہیں کہ ''اس شاعر کو‘ جس کا زندگی کرنے کا طور اور شعر کہنے کا ڈھنگ کتنا نرالا تھا۔ شہر سے دور شہر بار سے دور ایک خاموش بستی میں ڈیرا تھا۔ درویشانہ زندگی بسر کی۔ جینے کا جو طور تھا وہی شاعری میں اپنایا۔ ادبی تحریکوں سے‘ ان کے دھوم دھڑکوں سے بے نیاز۔ نہ نام و نمود کا شوق‘ نہ صلہ کی پروا۔ دھیمے افسردہ لہجہ میں شاعری کی جوت جگائی اور جہاں سے سرسری گزر گئے۔ زندگی کرنے اور شاعری کرنے کا یہ طور تقاضا کرتا ہے کہ اسے اس سلیقے سے یاد کیا جائے کہ اس کی یاد ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جائے‘‘۔ کل مجید امجد کو اسی سلیقے سے یاد کرنے کا دن تو گزر گیا۔ چلیں اسے آج ہی یاد کر لیں۔ ایک دن کی تاخیر سہی۔ اسے تو اردو ادب نے بھی اس کے چلے جانے کے کئی برس بعد یاد کیا تھا؛ تاہم بے شک دیر سے ہی سہی‘ مگر اسے یاد تو کیا گیا۔ بہت سے کم نصیب تو ایسے بھی ہیں کہ جنہیں کسی نے پھر بھول کر بھی یاد نہ کیا۔ جھنگ کا رام ریاض تو صرف ایک نام ہے۔ 
مجید امجد کی اپنی عائلی زندگی بھی اس کے والدین جیسی ہی تھی۔ اپنی خالہ زاد سے شادی ہوئی مگر مزاج مختلف تھے سو یہ رشتہ سدا سرد مہری کا شکار رہا۔ مجید امجد نے اپنی ازدواجی زندگی کا بیشتر حصہ اکیلے ہی گزارا۔ چند دوستوں کے علاوہ کسی سے زیادہ راہ و رسم نہ تھا۔ بسلسلہ ملازمت لائل پور‘ گوجرہ‘ سمندری‘ تاندلیانوالہ‘ جڑانوالہ‘ چیچہ وطنی‘ مظفر گڑھ‘ لیہ‘ پاکپتن‘ عارف والہ‘ راولپنڈی اور شاہدرہ مقیم رہا۔ 1951ء میں مستقل ساہیوال رہائش پزیر ہو گئے اور 1973ء کو یہیں ریٹائر ہوئے۔ حلقہ احباب محدود تھا اور جو تھا اس سے بھی کبھی اپنی ذات کے بارے میں گفتگو نہ کی۔ حقیقی معنوں میں ان کا کوئی دوست نہ تھا۔ جھنگ اور ساہیوال میں قیام کے دوران گنتی کے لوگوں سے تعلق رہا جو سب شاعر و ادیب تھے۔ ان میں شیر افضل جعفری‘ جعفر طاہر‘ صفدر سلیم سیال‘ جعفر شیرازی‘ خواجہ زکریا اور منیر نیازی شامل تھے۔ ساری عمر تنہا گزاری۔ 11 مئی 1974ء کو انتقال کے وقت‘ لاولد مجید امجد اپنے فرید ٹائون ساہیوال والے کوارٹر میں یک و تنہا تھے۔ ایک عمر مہاجرت کی زندگی بسر کرنے والے مجید امجد کو اس کے آبائی ضلع جھنگ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مجید امجد کی قبر کے کتبے پر اسی کا شعر کندہ ہے ؎ 
کئی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجدؔ 
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول 
مجید امجدؔ کی زندگی میں صرف ایک مجموعہ کلام ''شب رفتہ‘‘ شائع ہوا۔ بعدازاں ''میرے خدا میرے دل‘ شب رفتہ کے بعد‘ ان گنت سورج‘ چراغ طاق جہاں‘ طاق ابد‘ مرگِ صدا‘ اے دل تو ہی بتا‘ لوح دل اور انتخاب و کلیات مجید امجدؔ‘‘ شائع ہوئیں۔ میری لائبریری کی تیسری الماری کے تیسرے خانے میں ''کلبات مجید امجد‘‘ سجی ہوئی ہے۔ اس کتاب سے میری لائبریری میں شعر و سخن کا حصہ معتبر ہوا ہے۔ مصیبت پھر وہی کہ لکھنے کے لیے بہت کچھ اور جگہ محض ایک کالم۔ مجید امجد کے چند شعر‘ ایک آدھ نامکمل نظم اور باقی اس کی کلیات اور ہم۔ 
''ہڑپے کا کتبہ‘‘ 
بہتی راوی! تیرے تٹ پر‘ کھیت اور پھول اور پھل 
تین ہزار برس بوڑھی تہذیبوں کی چھل بل! 
دو بیلوں کی جیوٹ جوڑی‘ اک ہالی‘ اک ہل! 
سینۂ سنگ میں بسنے والے‘ خدائوں کا فرمان 
مٹی کاٹے‘ مٹی چاٹے‘ ہل کی اَنی کا مان 
آگ میں جلتا پنجر ہالی کاہے کو انسان 
کون مٹائے اس کے ماتھے سے یہ دکھوں کی ریکھ 
ہل کو کھینچنے والے جنوروں جیسے اس کے لیکھ 
تپتی دھوپ میں تین بیل ہیں‘ تین بیل ہیں‘ دیکھ! 
......... 
دل نے ایک ایک دکھ سہا‘ تنہا 
انجمن انجمن رہا‘ تنہا 
آٹو گراف 
(نامکمل۔ پہلا اور آخری بند) 
کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے 
کتابچے لیے ہوئے 
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں! 
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں! 
......... 
میں اجنبی‘ میں بے نشاں 
میں پابہ گل 
نہ رفعت مقام ہے‘ نہ شہرت دوام ہے 
یہ لوح دل! یہ لوح دل! 
نہ اس پہ کوئی نقش ہے‘ نہ اس پہ کوئی نام ہے! 
......... 
اور آخر میں ؎ 
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے؟ 
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا؟ 
سچ تو یہ ہے کہ مجید امجدؔ اس دور کا بہت بڑا شاعر تھا۔ بڑے شاعر غالبؔ اور اقبالؔ کے مضمون میں۔ ابھی حقیقی معنوں میں اس کا بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ مجید امجدؔ آج بھی نیم دریافت شدہ شاعر ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں