نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان نےہمیشہ افغان مذاکرات اورسیاسی تصفیے کی حمایت کی،معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 80 ہزارسےزائدجانی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 150 بلین ڈالر سےزائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ بنایا، معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نےافغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئےاستعمال کیا،معید یوسف
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےبچاناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اتفاق رائے کےساتھ آگےبڑھناچاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- کیادنیاافغانستان اورخطےکوچھوڑنےکی غلطی دہرائے گی؟معید یوسف
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

سترہ گھنٹے ہوتے ہی کتنے ہیں؟

سائوتھمپٹن میں کسی نے پوچھا سفر کیسا رہا؟ میں نے کہا اردو کا سفر خواہ کتنا بھی آرام دہ اور آسان ہی کیوں نہ ہو انگریزی کے ''سفر‘‘ (Suffer)جیسا ہی ہوتا ہے۔ جس کا مطلب ہی تکلیف دہ یا ناگوار ہونا ہوتا ہے۔ سائوتھمپٹن میں فیصل جاوید کی کتاب کی تقریب رونمائی تھی۔ اس تقریب کا اہتمام ایک مقامی تنظیم نے کیا تھا جس کے روح ورواں زیارت حسین تھے۔ حسن عسکری اور فیصل جاوید اس تقریب کے حوالے سے بڑے متحرک تھے۔ پارک ہوٹل میں ہونے والی یہ تقریب بڑی بھرپور تھی۔ سائوتھمپٹن برطانیہ کی مشہور بندرگاہ ہے اور اس حوالے سے خاص شہرت رکھتی ہے کہ مشہور زمانہ بحری جہاز '' ٹائی ٹینک ‘‘ اپنے پہلے اور آخری سفر پر یہیں سے روانہ ہوا تھا۔ اس روز یہاں دنیا کا ساتواں بڑا موجودہ مسافر بردار بحری جہاز '' کوئین میری II‘‘ لنگر انداز تھا۔ یہ جہاز بھی کونارڈ (Cunard)کمپنی نے بنایا ہے جس نے ٹائی ٹینک بنایا تھا۔
بات سفر کی ہورہی تھی اور کہاں سے کہاں چلی گئی۔ سفر کا آغاز ہی گڑبڑ سے ہوا۔ ملتان سے جہاز کی روانگی سہ پہر چار بج کر پچپن منٹ پرتھی۔ میں پرواز سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ایئرپورٹ پر پہنچا تو پتہ چلا کہ پرواز کی روانگی میں تاخیر ہے۔ پوچھا ،کتنی دیر لگے گی؟ جواب ملا ،ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے۔ جہاز ابھی اسلام آباد ایئرپورٹ پر کھڑا ہے۔ وہاں سے وہ لاہور آئے گا۔ وہاں کچھ دیر ٹھہرے گا پھر ملتان روانہ ہوگا اور یہاں پہنچنے کے بعد وہ پھر دوبارہ لاہور کے لیے روانہ ہوگا۔ میں نے کہا یہ سارا کام تقریباً سوا دو گھنٹے کا ہے ،اگر سب کچھ ٹھیک طرح سے چلتا رہے مگر یہ بتائیں کہ اسلام آباد سے جہاز کب روانہ ہوگا ؟جواب ملا ،جہاز ٹیکنیکل ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب آسان زبان میں یہ ہے کہ جہاز خراب ہوچکا ہے۔ پوچھا ،کب تک درستی کا امکان ہے ؟جواب ملا ،ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے۔ آپ اپنا فون نمبر ہمیں دے جائیں ہم آپ کو اطلاع کردیں گے۔ اس ساری گفتگو کے بعد میں نے ایئرپورٹ چھوڑ کر جانے والی اپنی بیٹی کو فون کیا کہ وہ واپس آئے اور مجھے گھر لے جائے۔ تقریباً ساڑھے چار بجے میں واپس گھر آگیا۔
سات بجے کے قریب فون کیا اور ایئرپورٹ انکوائری سے جہاز کا تازہ ترین سٹیٹس معلوم کیا ،جواب ملا ،تھوڑی دیر بعد فون کریں۔ ساڑھے سات بجے فون کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ جہاز لاہور سے ملتان کے لیے روانہ ہونے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جہاز اگلے ایک گھنٹے میں ملتان آجائے گا اور پھر آدھ گھنٹے بعد واپس لاہور روانہ ہوجائے گا۔ وقت کے حساب سے یہ سارا معاملہ نو بجے نمٹتا نظر آرہا تھا۔ اس دوران میں جس کام کے لیے گھر سے نکلا تھا ، اسے موخر کیا اور تھوڑی دیر بعد دوبارہ ایئرپورٹ روانہ ہوگیا۔ میں تقریباً ساڑھے آٹھ سے تھوڑی دیر قبل ایئرپورٹ پہنچ گیا۔ میری بیٹی نے کہا کہ وہ باہر پارکنگ میں میرا انتظار کرتی ہے۔ میں نے کہا ،اب جبکہ جہاز ملتان پہنچنے والا ہے انتظار کی کوئی توجیہہ نظر نہیں آتی ،وہ واپس گھر چلی جائے ۔ اندر پہنچا تو کائونٹر پر وہی خاتون بیٹھی تھی۔ پوچھا کہ جہاز لینڈ کرگیاہے یا نہیں اور اگر نہیں اترا تو کب تک آمد کی توقع ہے۔ خاتون کہنے لگی کہ جہاز ابھی اسلام
آباد ایئرپورٹ پر کھڑا ہے اور تھوڑی دیر میں ملتان روانہ ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ مجھے فلائٹ انکوائری والوں نے بتایا تھا کہ جہاز لاہور سے روانہ ہورہا ہے۔ خاتون کہنے لگی ،انہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ جہاز اسلام آباد سے پرواز کے لیے روانہ ہوا تھا مگر انجینئرنگ والوں نے کلیئرنس دینے سے انکار کردیا تھا لہٰذا اسے دوبارہ روک دیاگیا ہے ۔اب اس کی ایک بار پھر انسپکشن ہورہی ہے جو نہی کلیئرنس ملتی ہے ۔اسے روانہ کردیا جائے گا۔ بہرحال ابھی کم از کم تین ساڑھے تین گھنٹے لگ جائیں گے۔ میری برطانیہ کی فلائٹ صبح ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ تھی اور میرے پاس ابھی کافی وقت تھا لہٰذا میں تسلی سے ایئرپورٹ پر بیٹھ گیا اور اگلے سوا چار گھنٹے ایئرپورٹ پر بیٹھا رہا۔
اس دوران میں نے فون پر رات ایک بجے والی ڈائیوو پر اپنی سیٹ بک کروالی اور طے کیا کہ اگر جہاز بارہ بجے تک نہ آیا تو ایئرپورٹ سے سامان اٹھا کر سیدھا بس کے اڈے پر جائوں گا اور لاہور روانہ ہوجائوں گا۔ لیکن اس دوران کئی مرتبہ حساب کیا کہ اگر ایئرلائن والے بروقت فون کرکے اطلاع کردیتے کہ جہاز کا یہ معاملہ ہے تو میں اسی وقت یہ فیصلہ کرلیتا اور اب تک بذریعہ سڑک لاہور پہنچ چکا ہوتا مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ میں ایئرپورٹ پر کھڑے جہاز کی ٹیکنیکل خرابی پر خیر خوش تو کبھی نہیں ہوتا مگر بہرحال خدا کا شکر ضرور ادا کرتا ہوں کہ جہاز زمین پر خراب ہوا ہے ،فضا میں خراب نہیں ہوا کہ وہاں ہونے والی خرابی کو درست کرنے کے لیے بعض اوقات جہاز ہی میسر نہیں ہوتا اور بلیک باکس سے پتہ چلانا پڑتا ہے کہ وہ خرابی تھی کیا۔
سفرکو ہم اپنی حد تک تو کم تکلیف دہ بناسکتے ہیں اور اس کا پہلا کلیہ یہ ہے کہ جہاز کی تاخیر پر ٹینشن نہ لی جائے یا کم از کم ٹینشن لی جائے ۔ میں ایسے موقع پر ٹینشن لینے کے بجائے سو جاتا ہوں مگر ملتان ایئرپورٹ پررکھی ہوئی کرسیاں کیا ہیں ،نیند اڑانے کے بہترین آلات ہیں۔ میں نماز پڑھ کر مسجد میں سو گیا۔ دو گھنٹے بعد اٹھ کر حالات معلوم کیے تو پتہ چلا کہ جہاز خدا خدا کرکے اسلام آباد سے روانہ ہوچکا ہے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں ملتان پہنچ جائے گا۔ لائونج میں تھوڑی رونق ہوچکی تھی۔ ایک دو شناسا چہرے بھی موجود تھے ۔ اگلے دو گھنٹے گپ شپ میں گزر گئے۔ لاہور جب میں ہوٹل پہنچا تو رات کے دو بج چکے تھے۔ تین ساڑھے تین بجے سونا نصیب ہوا اور صبح سات بجے اٹھ کر تیاری شروع کردی۔ بین الاقوامی فلائٹس کے لیے ایئرلائن والے تین گھنٹے قبل ایئرپورٹ آنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
لاہور سے لندن تک کا سفر آٹھ گھنٹے پر مشتمل تھا اور فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم کسی سیٹ پر کام کررہا تھا اور کسی پر نہیں۔ میری سیٹ دوسری قسم کی سیٹوں میں سے ایک تھی۔ خوشگوار سفر کی آخری امید کھانے سے وابستہ تھی۔ اب رزق کے بارے میں بندہ کیا کہے ؟ اس سے بہتر معیار کا کھانا چاچا خوشیا چوک شہیداں میں اپنے تنور پرفراہم کرتا تھا۔ کیا عمدہ دال ہوتی تھی۔ ایک اور دوست نے پوچھا دوران سفر ایئر لائن کی کارکردگی کیسی تھی ؟ میں نے کہا پہلے ایک لطیفہ سنو۔ ایک نوجوان کا کسی لڑکی پر دل آگیا۔ اس نے اپنے والد کو کہا کہ وہ فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔باپ نے ادھر ادھر سے پتہ کیا تو ملنے والی اطلاعات خاصی مشکوک بلکہ پریشان کن تھیں۔ باپ نے لڑکے کو بلایا اور کہا کہ لڑکی کاکردار کچھ مناسب نہیں۔ اس کی گائوں کے کئی لڑکوں سے '' سلام دعا ‘‘ ہے۔ لڑکے کے سر پر عشق کا بھوت سوار تھا۔ کہنے لگا۔ ابا ! ایک تو تم بات کو ہمیشہ ہی بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہو۔ بھلا تم خود بتائو اس چھوٹے سے گائوں میں لڑکے ہی کتنے ہیں؟
میں نے سوال کرنے والے دوست سے کہا کہ نو گھنٹے پر مشتمل یہ ٹوٹل سفر جو پھیل کر سترہ گھنٹوں کا ہوگیا تھا کوئی آپ کو ان سترہ گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ کتنا ذلیل کرسکتا ہے ؟ سترہ گھنٹے ہوتے ہی کتنے ہیں؟ہم لوگ گزشتہ سڑسٹھ سال سے مسلسل ذلیل ہورہے ہیں۔ پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ ایک عشرے سے بجلی کے ہاتھوں ذلیل ہورہے ہیں۔ اب گیس نہیں آرہی۔ مہنگائی نے الگ رسوا کیا ہوا ہے۔ دہشت گردی نے اعصاب برباد کردیے ہیں۔ سی این جی کی قطار نے عزت نفس کی تباہی مچا دی ہے۔ آپ ان سترہ گھنٹوں کی بات کررہے ہیں۔ بھلا سترہ گھنٹے ہوتے ہی کتنے ہیں؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں