"KMK" (space) message & send to 7575

یرقان زدہ سڑکیں اور مستقبل

مرحوم و مغفور سابق صدر غلام اسحاق خان نے میاں نوازشریف کی پہلی حکومت کو جب آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے معروف زمانہ اٹھاون ٹو بی کے ذریعے رخصت کیا تو میڈیا میں اپنے اس اقدام کی وجوہ بھی بیان کیں۔ ایک وجہ بڑے شستہ پیرائے میں بیان کی گئی۔ کہا کہ میاں نوازشریف نے سڑکوں کو ''یرقان زدہ ‘‘ کردیا ہے۔ چودھری بھکن نے اس پر بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ غلام اسحاق خان شاید سٹھیاگئے ہیں جو سڑکوں کو یرقان زدہ کہہ رہے ہیں۔ پھر اس نے حیرانی سے ڈاکٹر پھجے کو دیکھا اور کہنے لگا:'' ڈاکٹر تو ویسے تو بندے مار ڈاکٹر ہے مگر یہ مشورہ لینا اور اس بات کا مفہوم پوچھنے سے چونکہ ہماری یا کسی کی جان کو خطرہ نہیں اس لیے تم سے پوچھ لیتے ہیں کہ یہ سڑکوں کو یرقان کس طرح ہوتا ہے؟ ‘‘ڈاکٹر پھجے کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ایک دوبار اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اس کی آواز ہی نہ نکلی۔ پھر اس نے ہاتھوں سے ہی حیرت کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ ذرا سانس میں سانس آئی تو کہنے لگا:'' خالد مسعود ! وہ جو تم ہندوستان پر نادر شاہ کے حملے کے بارے میں کرنل شفیق الرحمن کی کتاب '' مزید حماقتیں ‘‘ کے مضمون ''تزک نادری‘‘ میں نادر شاہ کے ہندوستان پر حملے کی دو چار نامعقول اور فضول سی وجوہ بتاتے ہو یہ اسی قسم کا الزام ہے جو غلام اسحاق خان نے افراتفری میں میاں نوازشریف پر لگادیا ہے۔ بھلا سڑکوں کو یرقان کیسے ہوسکتا ہے؟ ‘‘تب چھوٹے شاہ صاحب حیات تھے ۔ کہنے لگے :''او اللہ کے بندو 
سمجھا کرو۔ صدر غلام اسحاق خان نے یہ جملہ تلمیح کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب یہ تلمیح کیا ہوتی ہے ،اسے چھوڑو۔ یہ سمجھو کہ صدر غلام اسحاق خان نے یہ بات کس تناظر میں کی ہے؟ صدر غلام اسحاق خان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میاں نوازشریف کی پیلی ٹیکسی سکیم بھی ان کی حکومت کی برطرفی کی وجوہ میں شامل ہے۔ ایک ایک پیسہ کفایت شعاری بلکہ کنجوسی سے استعمال کرنے والے صدر غلام اسحاق خان قومی بینکوں کے اربوں روپے برباد ہونے پر بڑے ملول تھے اور انہوں نے یہ معاملہ بھی اپنی چارج شیٹ میں بیان کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر پھجے نے مزید حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا : ''شاہ جی ! بھلا ٹیکسیوں سے سڑکوں کو یرقان کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ اب چودھری بھکن فارم میں آچکا تھا۔ کہنے لگا ،اوئے برصغیر کے عظیم نالائق ڈاکٹر ! یرقان میں جیسے انسان کی آنکھیں پیلی ہوجاتی ہیں اور اردو میں یرقان کو ''پیلیا‘‘ بھی کہتے ہیں، اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے صدر غلام اسحاق خان نے کہا تھا کہ ان ٹیکسیوں کے پیلے رنگ کی وجہ سے سڑکیں پیلی پیلی یعنی یرقان زدہ نظر آرہی ہیں۔ ڈاکٹر پھجا کہنے لگا ،بات تو سمجھ میں آگئی ہے مگر بات کو آخر اتنا گھما پھرا کر بیان کرنے کا کیا فائدہ ؟ سیدھی طرح کہہ دیتے کہ پیلی ٹیکسیوں کا معاملہ بھی ایک وجہ ہے۔ شاہ جی کہنے لگے ، ڈاکٹر صاحب ! یہ بات جہاں چارج شیٹ کا حصہ ہے وہیں ادب لطیف کا بھی حصہ ہے۔ بات کو اس طرح کہنے میں جو لطف ہے اور اس میٹھے میٹھے طنز میں جو چھپی ہوئی کاٹ ہے وہ اپنا مزہ رکھتی ہے۔ اب صرف آپ کی آسانی کے لیے مضمون کا بیڑہ غرق تو نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر پھجا حجت بازی پر اتر آیا اور کہنے لگا، آخر اس پیلی ٹیکسی سکیم میں کیا برائی تھی ؟ اچھا بھلا لوگوں کو روزگار مل گیاتھا۔ یہ ایک سیلف ایمپلائمنٹ سکیم تھی جس سے عام آدمی مستفید ہوا تھا۔ بھلا یہ جرم کیسے ہوگیا؟
شاہ جی کہنے لگے، تمہاری بات بظاہر ٹھیک لگتی ہے مگر جہاں قوم کے پیسے لگے ہوں اور سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ اربوں میں لگے ہوں وہاں معاملات کو اتنی سادگی سے نہیں دیکھتے جس طرح تم کہہ رہے ہو۔ نہ پیسے دیتے وقت کوئی قاعدہ ضابطہ بنایاگیا اور نہ دینے کے بعد کوئی چیکنگ کا میکنزم رکھا گیا۔ ملتان میں لوگوں کو ملنے والی سینکڑوں ٹیکسیاں کہاں گئیں ؟ لاہور کی ہزاروں ٹیکسیاں کدھر ہیں؟ تمہیں ملتان میں کہیں کوئی ٹیکسی بطور ٹیکسی چلتے نظر آرہی ہے؟ ایسی ہی ایک بڑی ٹیکسی تمہارے ایک زمیندار دوست کے پاس تھی۔ پہلے دن اس کا جنگلا اترا۔ چار چھ ماہ کے بعد اس کارنگ تبدیل ہوگیا اور اب وہ اس کی اپنی ذاتی گاڑی بن چکی ہے۔ اسی طرح ایک بڑی گاڑی اپنے اس یار کے ایک سرکاری افسر یار کے پاس ہے (یہ کہہ کر شاہ جی نے میری طرف اشارہ کیا) اس کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ ملتان میں ملنے والی ننانوے فیصد کاروں اور دیگر گاڑیوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا ۔ پورے شہر میں تمہیں ایک بھی ٹیکسی مسافر اٹھاتے نظر نہیں آئے گی۔ سب کہاں گئیں ؟ جب ٹیکسی بطور ٹیکسی ہی نہیں چل رہی تو روزگار کا ذریعہ کیسے بن سکتی ہے؟ سیلف ایمپلائمنٹ کے بجائے یہ سکیم سیلف بینیفٹ بن گئی تھی۔ ذاتی فائدے کی سکیم۔ ذاتی کار بنانے کی سستی سکیم۔ بینکوں کے اربوں روپے اس میں ڈوب گئے۔
گزشتہ دور حکومت میں میاں شہبازشریف نے پھر پیلی ٹیکسی سکیم شروع کردی۔ اسی سوراخ سے دوبارہ ڈنگ کھانے کی غرض سے اسی پہلی غلطی کا اعادہ کیاگیا۔ پہلی بار والی غلطی قابل معافی ہے کہ اس میں شک کا فائدہ دیا جاسکتا ہے۔ علم غیب سے محرومی کو جواز بنایا جاسکتا ہے مگر دوسری بار پہلی غلطی کو دہرانا غلطی نہیں جرم ہے۔ میاں شہبازشریف نے اپنے پچھلے دور میں یہ جرم کیا۔ گزشتہ غلطی کے بعد دوسری غلطی۔ لیکن اصل جرم یہ ہے کہ گزشتہ ناکام تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ان ٹیکسیوں کو ٹیکسیوں کے طور پر ہی چلانے کے لیے اول تو کوئی قانون ہی نہیں بنایاگیا اور اگر بنایا ہے تو اس پررتی برابر کہیں عمل نہیں ہورہا ۔ لوگوں نے اپنی ٹیکسی کے طور پر لی گئی گاڑی کی چھت پر لگے سامان رکھنے والے جنگلے اتاردیے ہیں۔ گاڑی کی چھت پر سامنے جلنے والی پیلی لائٹ جس پر لفظ TAXIلکھا ہوا تھا ،وہ بھی اتار دی ہے۔ کئی لوگوں نے پیلی چھت کالی کروالی ہے۔ پورے ملتان میں ایک بھی گاڑی بطور ٹیکسی نہیں چل رہی۔ ایکسائز کے ڈائریکٹر جنرل اپنے ملتان والے مشہور و معروف سابق ڈی سی او نسیم صادق ایک دو ٹوکن نہ بھرنے والے ٹریکٹروں کے ٹائر اتروا رہے ہیں۔ گاڑیاں بند کروا رہے ہیں۔ رجسٹریشن نہ کروانے والی گاڑیوں کو پکڑ رہے ہیں۔ کاغذات پورے نہ ہونے والی گاڑیوں کو تھانے میں بند کروا رہے ہیں مگر کسی مائی کے لعل کو سرکار کے کروڑوں اربوں روپے کی بربادی کا ، ایک سرکاری سکیم کو مکمل طور پر غلط استعمال کرنے کا نہ تو کوئی احساس ہے اور نہ ہی اس پیسے کی بربادی کا کوئی غم۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بڑے میاں صاحب کے دماغ میں اب بھی یہی پیلی ٹیکسی سکیم پھنسی ہوئی ہے۔ ممکن ہے وہ ایک بار پھر سڑکوں کو یرقان زدہ کردیں۔ ان کے ذہن میں جو بات ایک بار پھنس جائے مشکل ہی نکلتی ہے۔ اب تو خیر سے نہ صدر غلام اسحاق خان ہیں اور نہ اٹھاون ٹو بی۔ ویسے بھی تاریخ عالم میں دہی بھلوں کا پیلی ٹیکسیوں سے کبھی تصادم نہ پہلے ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی امکان ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں