نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- طالبان نےاقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کےلیےنمائندگی مانگ لی،خبرایجنسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

علامت

ملک گزشتہ رات سے ایک صدمے کی کیفیت میں ہے۔ ویسے تو آزادی مارچ کا شو مجموعی طور پر ہی توقعات سے کہیں نچلے درجے پر تھا‘ اوپر سے ہر گزرتا دن اور خصوصاً اتوار اور پیر کی درمیانی شب تو بڑی مایوس کن تھی۔ آزادی مارچ صرف میری ہی نہیں، تحریک انصاف کے دوستوں کی حتیٰ کہ خود عمران خان کی توقع سے بھی کہیں کم شرکا کے ساتھ شروع ہوا۔ گمان تھا کہ ہر آنے والا دن اس میں اضافے کا باعث بنے گا مگر جان اللہ کو دینی ہے، یہ توقع بھی حسب خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مجمعے میں اضافہ ہوا مگر اس سے کہیں کم جس کی امید کی جا رہی تھی۔ اوپر سے جس تقریر کو عمران خان اپنی زندگی کی سب سے اہم تقریر قرار دے رہے تھے، میرے خیال میں سدا سے پُراعتماد اور رجائی عمران خان کی یہ تقریر ان کی زندگی کی سب سے منتشر تقریر تھی‘ لیکن تقریر سے پہلے ملک کی مایوسی اور صدمے کا ذکر ہو جائے۔
بقول ملک مجھے عمران کی مکمل ناکامی کے خیال سے ہی جھرجھری آجاتی ہے۔ عمران کی ناکامی کا خوف مجھے خوف اور اندیشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ تیسری طاقت کے ختم ہو جانے کا خوف۔ ملک میں ایک بار پھر ملی بھگت سے دو پارٹی سسٹم چلانے والے خود غرض، بے رحم اور بے ایمان سیاست دانوں کی کامیابی کا ڈر اور ایک کھرے، سچے اور بے خوف سیاستدان کی ناکامی کا خوف۔ ایک عرصے سے ملک میں باہمی گٹھ جوڑ سے چلنے والے عملی طور پر دو پارٹی سسٹم کو کسی نے چیلنج کیا تھا اور نہ صرف چیلنج کیا تھا بلکہ باقاعدہ نمایاں کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ یہ قوم کے لیے ایک نوید تھی، تحفہ تھا اور امید کی کرن تھی۔
عمران خان کی سیاست سے، سیاسی فیصلوں سے اور اس کے ارد گرد جمع طالع آزمائوں کے گروہ سے قطع نظر وہ ایک مخلص، بے لوث اور بے خوف سیاستدان ہے۔ ملک میں فی الوقت اخلاص سے عاری، ایمانداری سے محروم، عالمی طاقتوں سے خوفزدہ، ڈیل پر ہمہ وقت تیار اور محض ذات کی فلاح و بہبود کے لیے ملک کو برباد کرنے کے درپے سیاستدانوں کے ہجوم میں عمران جیسے شخص کی آمد ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہی نہیں مستقبل کے لیے ایک روشن امید تھی اور اب بھی ہے۔
ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی نیت سے نہیں۔ ان کے بعض اقدامات سے اختلاف ممکن ہے مگر خلوص سے نہیں، ان کے ساتھ جڑے بعض مفاد پرستوں سے بھی اختلاف جائز ہے مگر عمران کی سچائی سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن اتنا بڑا سیاسی قدم، بغیر تیاری کے اور بغیر ہوم ورک کے! اتنے بڑے کام کے لیے غلط آدمیوں پر بھروسہ اور نااہل ٹیم کا انتخاب!! عمران کی سیاست سے ہٹ کر ان کی انتظامی صلاحیتوںکی ایک بار پھر ناکامی!! پارٹی الیکشن میں ہونے والی بے ایمانیوں کے بعد ایک اور انتظامی ناکامی!!!
آزادی مارچ جیسا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اندازوں کی اتنی بڑی غلطیاں، دعوے کے برعکس اس کے محض چار پانچ فیصد افراد کا شو! چار پانچ فیصد بھی کھینچ تان کر کہہ رہا ہوں‘ وگرنہ اس سے بھی شاید کم۔ عمران کی سیاسی غلطیاں قابل معافی ہیں کہ پاکستانی سیاست میں سچائی، کھرا پن اور بہادری جیسے اوصاف خوبیاں نہیں خامیاں ہیں اور ان 'خامیوں‘ سے بھرپور شخص ہمارے سیاسی سیٹ اپ میں کامیاب قرار بھی نہیں پا سکتا‘ مگر کپتان کی یہی 'خامیاں‘ نوجوانوںکو پسند تھیں‘ جنہوں نے بالآخر ایک عرصے سے چلنے والے دو پارٹی سسٹم میں دراڑ ڈالی اور عمران خان مقبولیت اور ووٹوں کے اعتبار سے پاکستان کے دوسرے مقبول ترین رہنما بن کر سامنے آئے۔ محض دو عشروںکے اندر انہوں نے وہ مقبولیت اور کامیابی حاصل کی جس سے ہم مایوس ہو چکے تھے۔ عمران خان نے ثابت کر دکھایا کہ پرانے بت توڑے جا سکتے ہیں۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر آزادی مارچ ایک بڑا قدم تھا۔ پہلے یہ اندازہ کرنا چاہیے تھا کہ آیا پارٹی ورکر اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں؟ کیا موجودہ افراد پر مشتمل ٹیم اتنا بڑا کام کر سکتی ہے؟ کیا تنظیمی طور پر منتشر پارٹی عہدے دار اتنا بڑا کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ پیسے اور منفی حربوں سے پارٹی الیکشن کو مذاق بنانے والے عہدیداروں کی صلاحیت کو سامنے رکھا جائے تو تمام باتوں کا جواب ''نہیں‘‘ میں ملتا ہے مگر سدا سے پُراعتماد اور اپنی ذات پر بھروسہ کرنے والے عمران خان یہ نہ سمجھ سکے کہ اتنا بڑا شو محض اپنی ذات پر اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر کامیاب نہیں کرایا جا سکتا۔ اگر اس میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بھی اکٹھے کر لیے جاتے تو حالات مختلف ہوتے اور حکومت کا ردعمل بھی۔ اب لاف گزاف ٹیم کو ٹھٹھہ اڑانے کا موقع مل گیا ہے، ہر کس و ناکس اٹھ کر عورتوں کی طرح طعنے دے رہا ہے۔
عمران خان نے اپنی زندگی کی سب سے اہم تقریر میں سول نافرمانی کا اعلان کیا۔ یہ ایک مکمل Despirate قدم ہے۔ قوم اس 
کے لیے تیار ہے‘ نہ یہ اس بات کا مناسب وقت ہے۔ موجودہ حالات میں اس کی کامیابی اس لیے بھی ممکن نہیں کہ ملک عزیز میں جزوی طور پر سول نافرمانی تو عرصے سے جاری ہے اور جو اس کا حصہ نہیں وہ محض مجبور ہیں۔ خود عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت کے زیر انتظام خیبرپختونخوا میں بجلی اور گیس بلوں کی ادائیگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی حال وہاں کے تاجروں کا ہے۔ پورے صوبے میں سمگلنگ کا مال فروخت ہوتا ہے جس میں موجودہ حکومت کا کوئی قصور نہیں۔ یہ سلسلہ وہاں عشروں سے چل رہا ہے اور اب تقریباً قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پشاور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر حیات آباد مارکیٹ، باڑا اور ماضی میں لنڈی کوتل وغیرہ مشہور تھے۔ بلوں اور ٹیکسوں کے سلسلے میں خیبرپختونخوا عرصے سے سول نافرمانی کر رہا ہے، بلوچستان میں بھی یہی حال ہے۔۔۔۔ چمن سے آنے والی گاڑیاں، ایران سے آنے والا سمگل شدہ پٹرول اور شہر میں الیکٹرونکس سے لے کر برتنوں تک سمگلنگ کا مال۔ کوئٹے کے علاوہ کہیں سے بل وصول نہیں ہوتے، لہٰذا عملی طور پر وہاں بھی سول نافرمانی ہی چل رہی ہے۔ سندھ میں عمران خان کا حکم ماننے والے صرف کراچی میں ہیں مگر وہاں بھی تاجر ٹیکس مجبوری سے دیتا ہے، امپورٹ ایکسپورٹ کے لیے ڈیوٹی دینا مجبوری ہے۔ رہ گیا سیلز ٹیکس تو تاجر وہ بھی اس لیے دیتا ہے کہ ریفنڈ لے سکے۔ باقی رہ گیا پنجاب، یہاں کسان پچھلے ڈیڑھ سال سے بجلی کا بل نہیں دے رہے۔ عام آدمی بجلی اور گیس کا بل اس لیے دیتا ہے کہ میٹر نہ اتار لیا 
جائے۔ سمجھدار بجلی چوری کر رہے ہیں اور مل مالکان گیس کی ذاتی لائنیں ڈلوا کر گیس چوری کر رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کا بل وہ دے رہے ہیں جو چوری یا سینہ زوری کی ہمت نہیں رکھتے۔ رہ گئے تاجر تو اسی فیصد ٹیکس دے ہی نہیں رہے۔ تاجر پورا ٹیکس دیتے تو ملک کو قرضوں کی ضرورت نہ رہتی۔ جو تاجر ٹیکس دیتے ہیں وہ مجبوراً دیتے ہیں کہ ٹیکس چوری کرنے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ تو دکھانا پڑتا ہے۔ لے دے کے سرکاری اور خود مختار اداروں کے ملازمین رہ جاتے ہیں جن کا ٹیکس تنخواہ کی ادائیگی سے پہلے ہی منہا کر لیا جاتا ہے۔ اب بھلا ان حالات میں سول نافرمانی کی تحریک کون اور کیسے چلا سکتا ہے؟
میری دعا ہے کہ اب بھی کوئی درمیانی اور باعزت راستہ نکل آئے، حکومت کے لیے بھی اور عمران خان کے لیے بھی۔ قوم کو ابھی عمران خان کی بڑی ضرورت ہے، قوم کو بھی،پاکستان کو بھی اور پاکستان کی سیاست کو بھی۔ چوروں، ڈاکوئوں، لٹیروں، بے ایمانوں، خائنوں اور مفاد پرستوں کے ایک ہجوم میں وہی ایک امید کی کرن ہے اور مستقبل کی امید بھی۔ یہ بات درست ہے کہ وہ شاید اچھا سیاستدان نہیں مگر ایمانداری کی بات ہے کہ ہمیں فی الوقت کسی سیاستدان کی نہیں عمران جیسے شخص کی ضرورت ہے کہ اس ملک کو صرف آمروں نے ہی نہیں ،اچھے سیاستدانوں نے بھی جی بھر کر برباد کیا اور لوٹا ہے۔ اگر عمران خان ضائع ہو گئے تو یہ صرف میری امیدوں کا نہیں ،ان لاکھوں کروڑوں لوگوں اور نوجوانوں کی امیدوں کا بھی خون ہو گا جو اس گھسے پٹے، فرسودہ اور لوٹ مار کے باہمی تعاون کے اصولوں پر قائم سیاسی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عمران خان کسی شخص کا نہیں شاید ایک علامت کا نام ہے اور یہ علامت قائم رہنی چاہیے۔ یہ کہہ کر ملک خاموش ہوا اور خلا میں گھورنے لگا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں