نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت خواتین کوتعلیم اورملازمتیں دےگی،نائب ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- امریکاکےساتھ مثبت تعلقات قائم کرناچاہتےہیں،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- امریکاسےغیرجانبداری معاشی تعلقات چاہتےہیں،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- کابل:نائب ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی خبرایجنسی سےگفتگو
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

باغی‘ داغی اور نعرہ بازوں کی تاریخ

کراچی میں تحریک انصاف کے شاندار جلسے میں ''مخدوم‘‘ شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف چھوڑ جانے والے اپنے صدر''مخدوم‘‘ جاوید ہاشمی کے خلاف ''داغی داغی‘‘ کے نعرے لگوائے۔ ''داغی‘‘ کا نعرہ بروزن''باغی‘‘ لگوایا گیا۔ جاوید ہاشمی نے دوران اسیری ایک کتاب لکھی جس کا نام ''ہاں میں باغی ہوں‘‘ تھا۔ جیل میں اور کتابیں بھی لکھیں مگر بغاوت کے نام نہاد مقدمے میں گرفتار جاوید ہاشمی نے الزام کو قبول کرتے ہوئے یہ کتاب لکھی۔ تب سے جاوید ہاشمی کا تخلص باغی پڑ گیا تھا۔ اسے باغی کا نام مسلم لیگ ن کے زمانے میں ملا جب کہ داغی کا نام اسے تحریک انصاف میں نصیب ہوا۔ جب جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوا تب یہ نام پہلی بار جاوید ہاشمی کے لیے استعمال ہوا اور یہ نام تحریک انصاف کے لوگوں نے ہی اس کے لیے استعمال کیا۔ 
جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ ن پچیس دسمبر 2011ء کو چھوڑی اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ جاوید ہاشمی کے مسلم لیگ چھوڑنے اور تحریک انصاف جوائن کرنے سے پہلے 2002ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ق کی طرف سے حلقہ 149میں قومی اسمبلی کا امیدوار خالد خاکوانی جو بعدازاں مسلم لیگ ن میں شامل ہو گیا تھا‘ مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گیا۔ خالد خاکوانی حلقہ این اے 149ملتانIIسے اپنے تئیں قومی اسمبلی کی اس سیٹ پر تحریک انصاف کا امیدوار ہی نہیں بلکہ بزعم خود ممبر قومی اسمبلی تھا۔ جب جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں شامل ہوا تو اب خالد خاکوانی کو ایک محاورے کے مطابق ''سُسری پڑ گئی‘‘۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن سے اسی حلقے سے منتخب ہوا تھا۔ جب مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہوا تو اس نے یہ سیٹ چھوڑ دی۔ اب وہ اسی حلقے سے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا امیدوار تھا۔ خالد خاکوانی کا حال وہی تھا کہ ''نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے‘‘ اگر جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن پہلے چھوڑ دیتا تو خالد خاکوانی اسی حلقے سے مسلم لیگ ن کا امیدوار بن سکتا تھا مگر اس نے مسلم لیگ پہلے چھوڑی اور جاوید ہاشمی نے بعد میں۔ خالد خاکوانی سے مسلم لیگ ن کی امیدواری بھی ہاتھ سے نکل گئی اور اب تحریک انصاف میں شامل ہو کر جاوید ہاشمی نے پھر این اے 149کی سیٹ ہتھیا لی۔ تب جاوید ہاشمی کے خلاف خالد خاکوانی اور اس کے حواریوں نے ایک ایس ایم ایس کی مہم شروع کر دی۔ اس مہم میں جاوید ہاشمی کے لیے پہلی بار داغی کا لفظ استعمال کیا گیا۔ یہ جاوید ہاشمی کی خوش قسمتی یا بدقسمتی سمجھ لیں کہ اسے تحریک انصاف چھوڑنے پر بھی تحریک انصاف کے لیڈروں نے ہی داغی قرار دیا۔ تاہم مزے کی بات یہ ہے کہ اس بار اس کے خلاف نعرہ زن خالد خاکوانی ٹائپ لیڈر نہیں بلکہ ''باغیوں‘‘ کے خلاف مورچہ زنی کی ایک سو ستاون سالہ تاریخ رکھنے والا شاہ محمود قریشی ہے۔ 
مجھے باغی یا داغی سے کچھ لینا دینا نہیں۔مجھے کسی باغی یا داغی کی صفائی، یا سچائی بیان نہیں کرنا۔ یہ باغی جانے اور داغی۔ میرا کسی سے کوئی واسطہ نہیں... ہاں مجھے اس سے ضرور واسطہ ہے کہ باغیوں کے خلاف صف آرا''باغی شکن‘‘ خود کیا ہے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ باغیوں کی سرکوبی اور صفایا کرنے کے لیے جتنا تجربہ شاہ محمود قریشی کو ہے اتنا کم ازکم خطہ ملتان میں تو اور کسی کے پاس نہیں ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جناب شاہ محمود قریشی اپنے اجداد، خاص طور پر اپنے ہم نام جد امجد مخدوم شاہ محمود قریشی کی قائم کردہ روایت کو زندہ رکھتے ہوئے باغیوں کی سرکوبی کے لیے مورچہ زن ہو گئے ہیں۔ تاریخی حوالوں کو مدنظر رکھیں تو یہ انہیں کا حق ہے کسی کو ان سے زیادہ باغیوں کی سرکوبی کا نہ تو تجربہ ہے اور نہ ہی استحقاق۔
اصل میں تو یہ دو مخدوموں کا جھگڑا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ وہ اصلی اور نسلی مخدوم ہیں جبکہ جاوید ہاشمی جعلی مخدوم ہے۔ میں ایک کم علم شخص ہوں اور مجھے تو ابھی تک یہ بھی علم نہیں ہو سکا کہ مخدوم ہوتا کون ہے؟ تاہم ملتان میں مخدوموں کا باہمی جھگڑا کافی پرانا ہے۔ ملتان میں مخدوموں کا پہلا جھگڑا قریب دو سو سال قبل ہوا جب حضرت بہائوالدین زکریارحمۃ اللہ علیہ کی گدی پر مخدوم شاہ محمود قریشی سکائی لیب کی طرح گرے۔ یہ بات درست ہے کہ جاوید ہاشمی شاہ محمود کی نسبت کافی جو نیئر مخدوم ہے۔ کیونکہ وہ خود ساختہ یعنی سیلف میڈ مخدوم ہے اس لیے اس کی مخدومی قابل بھروسہ اور قابل اعتبار نہیں۔ جبکہ شاہ محمود قریشی کی مخدومی پر تاج برطانیہ کی تصدیقی مہر ثبت ہے اس لیے ان کی مخدومی کافی پکی اور مصدقہ ہے۔ مزید برآں ان کی مخدومی بذریعہ عدالت قانونی طور پر بھی سرکار انگلشیہ کی مرہون احسان بھی ہے۔ 
حضرت بہائوالدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کا شجرہ نسب کافی بڑا ہے اور محض ایک کالم میں نہیں سما سکتا۔ بہرحال ہوا یوں کہ جب 
پنجاب میں اور خصوصاً ملتان میں سکھوں کی شورش بہت بڑھ گئی اور بدنظمی و طوائف الملوکی اپنے عروج پر پہنچ گئی تب دربار حضرت بہائوالدین زکریا سے وابستہ درویش صفت مخدوم صدرالدین اور ان کے بڑے بھائی مخدوم غلام بہائوالدین جو بڑے مرنجاں مرنج اور خلوت پسند بزرگ تھے‘ دربار چھوڑ کر بہاولپور ریاست میں چلے گئے۔ وہاں نواب بہاولپور نے ان کی بڑی خدمت کی اور انہیں جاگیر عطا کی۔ مخدوم محمد غوث، حضرت بہائوالدین زکریا کے دربار کا انتظام و انصرام چلاتے تھے ان کا ایک بیٹا بہائوالدین الملقب بہ بھاون شاہ اور تین صاحبزادیاں مخدومہ بی بی مانو، مخدومہ بی بی راجی اور مخدومہ بی بی رانی تھیں۔ بھاون شاہ لاولد وفات پا گئے۔ تو مخدومہ بی بی مانو سجادہ نشین ہو گئیں۔ بی بی مانو بڑی عابدہ، زاہدہ اور پارسا تھیں۔ بھائی کی وفات کے بعد سجادہ نشین تو ہو گئیں مگر پردہ کی پابند ہونے کے باعث آپ سلسلہ درس و تدریس اور تبلیغ و ہدایت کی انجام دہی سے معذور تھیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بادشاہ افغانستان زمان شاہ نے کابل سے آپ کے عم زاد حاجی مخدوم شیخ محمد کو سجادہ نشین مقرر کر دیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ، حکمنامہ شاہی دستخط کے ساتھ مہر لگا کر جاری کیا اور مخدوم شیخ محمد کے حوالے کیا۔ حسب فرمان شاہی مخدوم حاجی شیخ محمد سجادہ نشین قرار پائے مگر اس پر غالباً عمل ہی نہ ہو سکا۔ اس کے بعد مخدومہ بی بی راج یا بی بی راجی متولی ہو گئیں۔ بی بی راج ناکتخدا تھیں۔ انہوں نے ایک لڑکی پالی ہوئی تھی اور اسے اپنا متبنیٰ بنایا ہوا تھا۔ بی بی راج نے اس متبنیٰ لڑکی کی شادی حسن شاہ نامی شخص سے کر دی۔ حسن شاہ کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں مگر یہ 
پتہ چلتا ہے کہ وہ وہاں شاید گھریلو ملازم تھے تاہم ان کے پاس بھی ایک شجرہ تھا جس میں ان کا سلسلہ نسب حضرت بہائوالدین سے ملتا ہے۔ درگاہ کی سجادہ نشینی مخدومہ بی بی راج کے پاس تھی مگر انہیں خاتون ہونے کے ناتے اس بات کا مسلسل احساس تھا کہ قریشی رشتہ دار اور ایک جدی ہونے کی وجہ سے مخدوم غلام بہائوالدین اور مخدوم صدرالدین جائز وارثِ سجادگی ٔ دربار ہیں۔ اسی لیے مخدومہ بی بی نے انہیں بہاولپور کئی بار پیغام بھجوائے کہ وہ واپس آ کر بار سجادگی اٹھائیں مگر ہر دو برادران واپس نہ آئے اور بہاولپور ہی مقیم رہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دربار کے خاص ملازمین نے یہ پیغامات ہی ان دونوں برادران تک نہ پہنچنے دیے (ان خاص ملازمین میں حسن شاہ بھی تھا) کیونکہ یہ قرین قیاس نہیں کہ انہیں سجادگی ٔ دربار کے سلسلے میں پیغامات ملتے اور وہ اس کی تعمیل میں عذر کرتے۔ اسی دوران مخدومہ بی بی راج کا انتقال ہو گیا۔ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت مخدوم غلام بہائولدین اور مخدوم صدرالدین دونوں بھائی سفر مارواڑ پر تھے جہاں دوران سفر مخدوم غلام بہائوالدین کا انتقال ہو گیا۔ جب مخدوم صدرالدین واپس بہاولپور آئے اور انہیں اس امر کی اطلاع ملی تب تک اس واقعہ کو برسوں گزر چکے تھے۔ مخدومہ بی بی راج کی وفات کے بعد سجادگی کا کلاہ ان کی لے پالک لڑکی کے بطن سے پیدا ہونے والے شاہ محمود کے سر پر سج چکا تھا۔ جب مخدوم صدرالدین اپنے حقوق کی بازیافت کے لیے ملتان آئے اور دعویٰ سجادگی کیا تو معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ زائدالمیعاد ہو گیا ہے اور قابل شنوائی نہیں ہے۔ درآں حالیکہ مانو بی بی صاحبہ کے وصیت نامے کے بموجب حق سجادگی مخدوم صدرالدین کو پہنچتا تھا مگر تب تک حقوق سجادگی مخدومہ بی بی راج کے گھریلو ملازم حسن شاہ اور لے پالک لڑکی کے بیٹے شاہ محمود کو منتقل ہو چکے تھے۔ (جاری) 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں