نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

زور آور کا دھکا اور پاکستان

مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میں ایک کاہل اور سست الوجود شخص ہوں۔ ویسے میں حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ آج کا کام آج ہی کرلوں اور کل پر نہ ڈالوں لیکن اگر ایسا نہ کرپائوں تو پھر آج کا کام کل پر نہیں بلکہ پرسوں ، ترسوں اور اس سے بھی آگے والے دنوں پرڈال دیتا ہوں کہ اگر تاخیر ہو ہی گئی ہے تو پھر دنوں کا زیادہ حساب کیا رکھنا۔ میں جب اپنی اس بری عادت پر خود کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اچانک میرے ذہن میں میرے آٹھ دس دوست آجاتے ہیں جو آج کا کام ہر حال میں کل پر اور پھر علیٰ ہٰذ القیاس ہفتوں ، مہینوں اور سالوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ایسے دوستوں کا خیال آتے ہی میں خود کو مطمئن کرلیتا ہوں کہ '' ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں‘‘۔ میرے ان دوستوں میں لاس اینجلس والے شفیق کا مقام اس معاملے میں خاصا بلند ہے۔ وہ آج کا ایسے نہیں ہے بلکہ سدا سے ہی ایسا ہے۔ حتیٰ کہ جب اس نے زکریا یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا وہ تب بھی اتنا ہی سست تھا۔ پوری یونیورسٹی میں ٹاپ کرکے قائداعظم سکالر شپ پر امریکہ گیا اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ یہ ایک المیہ ہے اور اس پر کبھی علیحدہ سے بات ہوگی۔ اس وقت پاکستان شاید دنیا بھر میں '' برین ڈرین‘‘ کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے اور ہر پڑھا لکھا ، ہونہار اور قابل نوجوان پاکستان سے باہر جانے پر تلا بھی ہوا ہے اور جابھی رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ چند سال بعد اس سرزمین پر صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جنہیں کہیں کوئی قبول کرنے پر تیار نہیں ۔ مغرب کو کسی نکمے ، نالائق یا بھوکے ننگے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے ممالک میں امیگریشن ، شہریت یا گرین کارڈ غیرہ دینے کے لیے ایک خاص معیار اور طریقہ کار بنادیا ہے اور جن لوگوں کی انہیں ضرورت ہے انہیں وہ سمیٹ کر لے جاتے ہیں۔ اگر حالات یہی رہے تو چند سال بعد یہاں '' چھان بورا‘‘ باقی رہ جائے گا۔
بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ بات میری اور پھر میرے دوستوں کی سستی کی ہورہی تھی۔ درمیان میں ذکر شفیق کا آگیا۔ مجھے میرے دوستوں میں موجود کاہلوں کی تنظیم کا امام قرار دیاجاسکتا ہے۔ میں نے 26نومبر کو ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا '' فرق حکمرانوں کی نیت میں ہے‘‘ اس کالم میں،میں نے تحریر کیا تھا کہ امریکی حکمران ساری دنیا کے لیے باعث آزاد و تکلیف ہیں مگر وہ اپنے شہریوں کے لیے یعنی امریکیوں کے لیے باعث رحمت ہیں اور ساری دنیا کو تباہ کرکے بھی امریکیوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں باقی دنیا کی تکلیف یا مشکلات سے کوئی غرض نہیں۔ وہ تو بس اپنے شہریوں کو ہر قسم کی آفات و مشکلات سے بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور ان کی حفاظت کے پیش نظرمحض شبے کی بنیاد پر بھی مخلوق خدا کو مارنے پر نہ صرف تیار ہیں بلکہ مسلسل اس کام میں مصروف بھی ہیں۔ ادھرے ہمارے ہاں بالکل الٹ ہے۔ ہم امریکیوں کو محفوظ کرنے کے چکر میں خود غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔ ہمارے اور امریکی حکمرانوں کی نیت میں فرق ہے۔ امریکی حکمران اپنے ملک و قوم کے ساتھ جبکہ ہمارے حکمران اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہیں۔
اسی کالم سے چند دن قبل میں نے دو قسطوں پر مبنی کالم '' شاہراہ گریہ‘‘ لکھا تھا جس میں امریکی گوروں کی ظلم وبربریت کی داستان لکھی تھی جو انہوں نے اصل امریکی باشندوں یعنی ریڈ انڈینز پر کیے تھے۔ شفیق کو کئی دن بعد اچانک خیال آیا کہ ایک طرف میں امریکہ کے اصل باشندوں کی نسل کشی اور ان کے قتل و غارت پر مبنی داستان لکھ رہا ہوں جو ان'' اصل امریکیوں‘‘ پر امریکی حکمرانوں نے روا رکھی اور امریکی صدور، امریکی پارلیمنٹ اور امریکی دانشور ، سبھی اس نسل کشی کے حامی تھے اور اپنی اپنی جگہ پر اس سارے خون خرابے اور قتل و غارت کے سہولت کار بنے رہے اور دوسری طرف امریکی حکمرانوں کو امریکی شہریوں سے انتہائی مخلص اور ان کا محافظ قرار دے رہا ہوں۔ شفیق نے ان دونوں کالموں کے کئی دن بعد فون کیا اور چھوٹتے ہی کہنے لگا۔ خالد بھائی! آپ دو مختلف باتیں ایک ساتھ لکھ رہے ہیں۔ آپ ایک طرف کہتے ہیں کہ امریکیوں نے ریڈانڈینز کے ساتھ بے پناہ ظلم و بربریت کی ہے دوسری طرف آپ لکھتے ہیں کہ امریکی حکمران اپنے امریکی شہریوں کے لیے ساری دنیا برباد کرنے پر تیار ہیں اور ایک امریکی کے لیے ساری دنیا کو قتل کرنے پر تیار ہیں۔ آپ نے ہی لکھا کہ بقول امریکی مصنف ہرمن میلول '' امریکی خون کا ایک قطرہ بھی اس وقت تک نہیں بہایا جاسکتا جب تک ساری دنیا کا خون نہ بہہ جائے کیونکہ ہم ایک قوم نہیں، ایک دنیا ہیں۔‘‘کیا یہ دو باتیں ایک دوسرے کی ضد نہیں؟ آپ کا ایک تھیسس دوسرے تھیسس کو رد نہیں کرتا؟
میں ہنسا، اور کہا۔ شفیق! تم صرف شغل لگا رہے ہو۔ تمہیں خود بخوبی پتہ ہے کہ امریکی شہری کون ہیں ؟ امریکی سے مراد امریکی گورے ہیں۔ کالے دوسرے درجے اور باقی لوگ تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ ریڈ انڈینز تو آخری درجے کے لوگ ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے فلسطینی اسرائیل میں رہتے ضرور ہیں مگر اسرائیل کی سرکار کی نظر میں وہ اچھوت ہیں۔ قابل گردن زدنی ہیں۔ واجب القتل ہیں۔ انسان نہیں کوئی ادنیٰ مخلوق ہیں اور یہودی ؟ وہ انسان ہیں اعلیٰ درجے کے شہری ہیں اور ان کی جان کی قیمت ؟ ایک یہودی کے بدلے اگر سو فلسطینی بھی مار دیے جائیں تو حساب برابر نہیں ہوتا۔ تمہارے امریکہ میں آج کل ایک کالے کے قتل پر ہنگامے ہورہے ہیں۔ اسے پولیس نے مار دیا ہے۔ انصاف نہیں مل رہا اور ایک بار پھر رنگدار شہری اپنے خون کے حساب کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ امریکی شہریوں سے مراد گورے ہیں۔ ریڈانڈینز نہیں۔ ریڈ ایڈینز کے بارے میں امریکی صدور خود کیا نظریات رکھتے تھے تمہیں تو مجھ سے کہیں علم ہے کہ تم تو امریکی تاریخ کے پرانے طالب علم ہو اور میں نے خود تم سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ صدر اینڈریوجانسن نے کہا کہ '' اگر غیر مہذب (ریڈانڈینز) مدافعت کریں تو تہذیب ایک ہاتھ میں بائبل کے دس احکامات اور دوسرے میں تلوار کے ساتھ ان کے فوری قتل کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘ صدر مارٹن وان بیورن نے
1837ء میں کہا کہ '' کوئی ریاست اس وقت تک مناسب ثقافت ، تہذیب اور تمدنی ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ ''ریڈ انڈینز کو زندہ رہنے کی اجازت ہے ‘‘ حتیٰ کہ بابائے امریکہ جارج واشنگٹن نے کہا '' ریڈ انڈینز میں سوائے صورت کے کچھ اور انسانی نہیں ہے۔‘‘ جارج واشنگٹن نے جنرل جان سلیون کو حکم جاری کرتے ہوئے لکھا کہ '' ریڈ انڈین قبائل پر محض غلبے کی بجائے انہیں مکمل نیست و نابود کردیاجائے۔‘‘ آج یہی احکامات ہر اس غیر امریکی کے لیے ہیں جس سے امریکہ رتی برابر بھی خطرہ محسوس کرتا ہو۔ برادرم :امریکی شہری سے مراد گورا امریکی ہے۔
بات ختم ہوگئی او رفون بند ہوگیا۔ میں فون بند ہوجانے کے بعد سوچنے لگ گیا کہ امریکہ میں کالے گورے کے درمیان فرق ہے۔ گورے اور ریڈ انڈین کے درمیان فرق ہے۔ اسرائیل میں یہودی اور فلسطینی کے درمیان فرق ہے ہمارے ہاں مراعات یافتہ طبقے اور عام آدمی میں فرق ہے۔ عام آدمی پی کر غل غپاڑہ کرتے پکڑا جائے تو قانون حرکت میں آتا ہے۔ اسلام آباد میں چار ایم این اے پی کر غل غپاڑہ کرتے اور پولیس والوں پر تشدد کرتے پکڑے جائیں تو وزیر داخلہ حرکت میں آتا ہے، نہ کوئی سووموٹو ہوتا ہے اور نہ انسانی حقوق کے علمبردار بولتے ہیں۔ عام آدمی کو قانون رگڑتا ہے اور ممبر پارلیمنٹ کو تحریک استحقاق آسرا فراہم کرتی ہے۔ یہ سب کچھ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہورہا ہے جس کا آئین تمام شہریوں کو یکساں حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور دین کا فیصلہ یہ ہے کہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ تاہم پاکستان میں نہ تو اسلام پوری طرح نافذ ہے اور نہ ہی آئین۔زور آور کا دھکا چل رہا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں