نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- کوروناکی وجہ سےہزاروں ووٹرزنےایڈوانس پول اورپوسٹل بیلٹ استعمال کیا
  • بریکنگ :- لبرل پارٹی،اپوزیشن کنزرویٹوپارٹی اورنیوڈیموکریٹک پارٹی میں کانٹےکامقابلہ
  • بریکنگ :- ابتدائی نتائج،اٹلانٹک صوبوں میں لبرل پارٹی کو5نشستوں پربرتری
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ایک ٹھنڈا ٹھار کالم

شہبازشریف جب کچھ کرنے کا سوچ لیں تو پھر انہیں روکنا بلکہ سمجھانا مشکل ہی نہیں بہت ہی مشکل ہے۔ قائداعظمؒ سولر پارک بھی اسی طرح وجود میں آیا۔ گزشتہ روز (منگل کو) پاکستان کے پہلے سولر پاور پلانٹ کا افتتاح تھا۔ سو میگاواٹ کی پیداواری استعداد کا یہ پلانٹ بہاولپور شہر سے تقریباً پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر صحرائے چولستان کے آخری سرے پر بنایا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے زیر نگرانی بننے والا یہ پاور پراجیکٹ کئی خصوصیات کا حامل ہے۔
یہ پلانٹ ڈیڑھ پونے دو سال میں ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے لگے گا۔ قائداعظم سولر پارک سو میگاواٹ کا یہ پہلا مرحلہ بھی اپنی نوعیت کا دنیا کا انوکھا اور منفرد منصوبہ ہے۔ اس سے قبل ایک ہی فیز میں ایک سو میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ کہیں نہیں لگا۔ دس‘ بیس یا تیس میگاواٹ سے شروع ہونے والے پلانٹ بعد میں بتدریج زیادہ پیداواری صلاحیت تک پہنچائے گئے مگر ابتدا میں اتنی بڑی پیداواری استعداد کے ساتھ اس طرح کے کسی پلانٹ کی مثال نہیں ملتی۔
جب میاں شہبازشریف کے ذہن میں ملک میں جاری بجلی کے بحران کے حل کے مختلف منصوبوں میں سے سب سے جلد پیداواری حل کی طرف گیا تو جواب سولر پاور پراجیکٹ تھا۔ دیگر منصوبے صبر آزما اور لمبے عرصے پر محیط ہوتے ہیں۔ ہائیڈل پراجیکٹ کے لیے پانچ سے دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔ گیس کا بحران پہلے سے ہی شدید ہے اور گیس سے چلنے والے کئی پاور پلانٹ بند پڑے ہیں لہٰذا گیس پر فوری پیش رفت ممکن نہیں تھی۔ ڈیزل اور فرنس آئل پر بجلی مہنگی بنتی تھی اور پہلے سے موجود پاور پلانٹ سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے پوری استعداد کے ساتھ نہیں چل رہے۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر‘ ایک حل تھا لیکن اس کی تکمیل میں بھی دو سے تین سال لگ جاتے ہیں۔ میاں شہبازشریف کو ہر کام کی جلدی ہوتی ہے اور ان کی پھرتیوں کا ساتھ صرف اور صرف سولر پلانٹ ہی دے سکتا تھا‘ جس کی تکمیل ایک سال میں ہو جاتی ہے۔ لہٰذا میاں شہبازشریف کے دماغ میں سولر پاور پلانٹ پھنس گیا۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں جب ان کے ذہن میں کوئی چیز بیٹھ جائے تو اسے اٹھا کر باہر نکالنا ناممکنات میں سے ہے۔ سو یہ منصوبہ ہمارے سامنے ہے۔
اس منصوبے میں پچیس فیصد حکومت پنجاب کی ایکویٹی (Equity) ہے اور بقیہ پچھتر فیصد حکومت پنجاب کی ملکیتی بینک نے لگائے ہیں۔ میاں صاحب کی پھرتیوں کا یہ عالم تھا کہ اتنے بڑے منصوبے کے لیے بینکوں سے قرض لینے کے پرانے اور طے شدہ اصولوں سے صریحاً انحراف کیا گیا اور بجائے اس کے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے لیے حسب روایت بینکوں کا کنسورشیئم بنایا جاتا‘ ایک ہی بینک سے قرض لے کر سرمایہ کاری کر دی گئی۔ عجلت کا دبائو اتنا تھا کہ سارے قواعد کو پس پشت ڈال کر یہ رقم منظور کروائی گئی اور پلانٹ گیارہ ماہ کے ریکارڈ عرصے میں مکمل کروا لیا۔ اس منصوبے کے ا ور بھی کئی پہلو ایسے ہیں جو اس منصوبے کو کئی حوالوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ سولر پاور پلانٹ کا ابتدائی خرچہ بہت زیادہ ہے اس لیے پرائیویٹ سیکٹر اس منصوبے میں ہاتھ ڈالنے پر تیار نہیں تھا لہٰذا میاں شہبازشریف نے اس مہنگے منصوبے کو سرکاری خرچ پر بنانے کی ٹھانی اور اس کے لیے ایک کمپنی بنا دی۔ مختلف افراد پر مشتمل اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تین چار صنعتکار‘ ایک ایم پی اے‘ ایک سابق وزیر‘ ایک پروفیسر اور چار حاضر سروس بیوروکریٹ شامل تھے۔ اس کمپنی کو بنانے کے بعد میاں شہبازشریف نے اسے مکمل خودمختاری دے دی اور کسی بھی مرحلے پر دخل اندازی کرنے کے بجائے ان کو اپنا کام کرنے دیا۔ اس دوران وہ مسلسل پراگریس کے بارے میں جانتے بھی رہے اور نگرانی بھی کرتے رہے؛ تاہم کمپنی کے انتظامی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی۔ یہ ایک بہت مشکل کام تھا مگر حقیقت یہی ہے جو میں بتا رہا ہوں یا کم از کم میرے بہترین علم کے مطابق ہے۔
کمپنی نے خودمختاری ملتے ہی ایک چیف ایگزیکٹو کا تقرر کیا۔ یہ کام کمپنی کے بورڈ نے مکمل آزادی کے ساتھ کیا اور اس سلسلے میں خلاف معمول اوپر سے کوئی سکائی لیب نہ گرا۔ نندی پور پراجیکٹ کی بربادی کا ایک بنیادی سبب شاید یہ بھی تھا کہ اس پلانٹ پر منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کسی ٹیکنیکل شخص کو لگانے کے بجائے ایک بیوروکریٹ کو لگا دیا گیا جس کو بجلی کے بارے میں صرف اتنا علم تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس سے ایئرکنڈیشنڈ‘ فریج اور استری چلائی جا سکتی ہے۔ اس کا ہر ماہ بل آتا ہے جو سرکاری رہائش گاہ میں لگے ہوئے میٹر کے طفیل سرکاری خزانے سے ادا کیا جاتا ہے اور اس کے نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس سے کام چلایا جاتا ہے۔ موصوف کی تقرری میں تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی گئیں اور اُنیس گریڈ کے اس افسر کو ایسی ایسی سہولتوں اور آسائشوں سے نوازا گیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ موصوف کے لیے تمغہ امتیازی کا اعلان کیا گیا۔ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسر کو طے شدہ سرکاری قواعد کے مطابق صرف چھ ہزار روپے بطور ڈیپوٹیشن یا پراجیکٹ الائونس مل سکتا تھا مگر سیکرٹری فنانس کی سمری پر دستخط کرتے ہوئے جناب اسحاق ڈار نے موصوف کے لیے ایک لاکھ ماہانہ ڈیپوٹیشن الائونس منظور فرمایا۔ شنید ہے بعدازاں متعلقہ وزارت کے دو افسروں نے اس پر اختلافی نوٹ لکھ کر معاملہ درست کرنے کی کوشش کی۔ راوی اس سے آگے بتانے سے قاصر ہے۔ خیر فی الحال بات قائداعظم سولر پارک کی ہو رہی ہے۔
کمپنی نے اپنا چیف ایگزیکٹو رکھا۔ پراجیکٹ کا منصوبہ بنایا اور اس سلسلے میں بین الاقوامی فرموں کو اس پلانٹ کی تکمیل کے لیے متوجہ کیا۔ پچیس چھبیس پارٹیوں نے اظہار دلچسپی کیا۔ کمپنی نے اس سلسلے میں دبئی میں ایک تعارفی تقریب کا اہتمام کیا اور ان کمپنیوں کو وہاں بلا کر اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ سولر سے متعلق دنیا کی بہترین کنسلٹنٹ کمپنیوں میں سے ایک جرمن کمپنی کا انتخاب کیا۔ ایک عمدہ قانونی مشیر کا تقرر کیا اور پاکستان کی بہترین آڈٹ کمپنیوں میں سے ایک کو اس معاملے کی نگرانی کے لیے منتخب کیا۔ ان تینوں کے اشتراک سے ایک (Bid Document) تیار ہوئی ، جسے مشتہر کردیا گیا۔ چھ سات کمپنیوں نے اس ٹینڈر میں سنجیدگی سے حصہ لیا۔ سنجیدگی سے حصہ لینے سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی آفر بمعہ مکمل اور درست بینک گارنٹی جمع کروا دی۔ ان جمع کروائی گئی پیشکشوں میں دو بولیاں نہایت مناسب تھیں۔ سب سے کم بولی ایک سو پچاس ملین ڈالر کی تھی یعنی تقریباً پندرہ ارب روپے جبکہ دوسری کم ترین بولی ایک سو تریپن ملین ڈالر کی تھی۔ یہ دونوں بولیاں بذات خود بہت مناسب تھیں اور اس طرح کے پراجیکٹ کے لیے دنیا میں دیگر پراجیکٹس کی نسبت سے پہلے ہی کم تھی مگر (PPRA) پیپرا رولز کے خلاف جاتے ہوئے میاں شہبازشریف نے اس معاملے میں پاکستان میں متعین چینی سفیر سے مدد کی استدعا کی اور کم ترین بولی والی کمپنی سے بیس ملین ڈالر کی مزید چھوٹ لے کر یہ پراجیکٹ 133 ملین ڈالر تک لے آئے۔ بقول شخصے یہ میاں شہباز شریف کی اس پراجیکٹ کے معاملے میں پہلی اور آخری مداخلت تھی۔
اس پراجیکٹ کے لیے لال سوہانرا نیشنل پارک سے ساڑھے چھ ہزار ایکڑ اراضی لی گئی۔ اگر یہ بات درست ہے تو عاجز یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ نیشنل پارک کی مختص اراضی کس طرح اور کس قانون کے تحت حاصل کی گئی‘ کیونکہ نیشنل پارکس کی زمین کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور اسے حاصل کرنا کم از کم کسی سیدھے طریقے سے تو ممکن نہیں۔ اگر یہ نیشنل پارک سے متصل کسی اور سٹیٹس کی حامل زمین تھی تو پھر بات اور ہے۔ 9 مئی 2014ء کو شروع ہونے والا یہ پراجیکٹ گزشتہ ماہ مکمل ہو گیا تھا۔ میپکو نے اس کے لیے ایک خصوصی گرڈ سٹیشن بنا کر اس پلانٹ پر بننے والی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کر دیا تھا۔ یہ پراجیکٹ تقریباً گیارہ ماہ میں مکمل ہو گیا تھا اور اس کا افتتاح گزشتہ روز یعنی پانچ مئی 2015ء کو وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے کیا۔
قارئین! آج میرا موڈ غیر معمولی طور پر خوشگوار ہے۔ ایسا موڈ سال میں دو چار دن کے لیے ہی طاری ہوتا ہے اور ایسے موڈ کے دوران مجھے چاروں طرف ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ کوئی خرابی نظر نہیں آتی خواہ وہ کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو۔ لہٰذا آج کا کالم اس غیر معمولی خوشگوار موڑ کے زیر اثر لکھا گیا ہے۔ اگر آپ اسے چاپلوسانہ کالم سمجھتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ بھلا اس سلسلے میں یہ عاجز کیا کر سکتا ہے؟ اس کالم کا دوسرا حصہ انشاء اللہ کل لکھوں گا۔ امید ہے کل تک طبیعت میں افاقہ اور موڈ میں ''بہتری‘‘ آ جائے گی۔ اگر نہ آئی تو پھر پرسوں تک انتظار کروں گا تاکہ دوسری قسط مناسب طریقے سے لکھ سکوں۔ دعا کیجیے کہ طبیعت میں افاقہ اور موڈ میں بہتری پیدا ہو کہ تاکہ اس معاملے کا دوسرا رُخ بھی آپ کے سامنے پوری سچائی سے پیش کر سکوں۔
آج کے ٹھنڈے ٹھار کالم کا ایک سبب یہ ہے کہ مجھے کل کافی غصہ آیا ہوا تھا اور معاملہ تھوڑا ذاتی قسم کا تھا اس لیے کالم کل لکھنے کے بجائے انتظار کیا کہ اشتعال میں بندہ درست تجزیہ کرنے کے بجائے الطاف حسین بن جاتا ہے اور بعدازاں معافیاں مانگنی پڑتی ہیں۔ امید ہے کل تک حالات نارمل ہو جائیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں