نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

سید بادشاہ کا تھیسس

کالم کسی اور موضوع پر لکھنا تھا مگر خدا بھلا کرے سید بادشاہ کا کہ وہ اچانک ہی دفتر آ دھمکا ۔ سید بادشاہ ‘ سید تو ہے مگر بادشاہ اس کا حقیقی نام نہیں بلکہ اس کی شاہانہ طبیعت کی وجہ سے اسے عطا کیا گیا ہے۔ سید بادشاہ طبیعت کے اعتبار سے تو بادشاہ آدمی ہے ہی‘ تاہم وہ اپنی اس طبیعت کے زیر اثر کچھ بھی کر سکتا ہے اور کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ عموماً اس کا مزاج اپوزیشن والا ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن والا جسے کبھی کوئی کام پسند نہیں آتا۔ کسی بات سے اتفاق نہیں ہوتا۔وہ محض مخالفت برائے مخالفت پر یقین رکھتا ہے۔ اس کی ہر بات کا آغاز ہی ''نہیں‘‘ سے ہوتا ہے۔ اگر اس کے سامنے آپ کوئی بات رکھ کر اس کی رائے طلب کریں تو مجال ہے کہ وہ کوئی رائے دے جائے۔ ہاں آپ کسی بات پر اپنی رائے کا اظہار کریں وہ جھٹ سے آپ کی بات سے اختلاف شروع کر دے گا۔ اگر آپ کی ہاں میں ہاں ملانے والے دو چار اور لوگ بھی ہیں تو اس کے اختلاف میں شدت پیدا ہو جائے گی؛ تاہم ایک بات طے ہے کہ وہ کتنی فضول سی بات پر ہی اختلاف کیوں نہ کر رہا ہو‘ اس کے دلائل عمدہ ہوتے ہیں اور بات میں وزن ضرور ہو گا۔ وہ مخالفت کرتے ہوئے بھی عقل‘ دلیل اور شواہد سے ہٹ کر بات نہیں کرتا۔ دفتر آیا تو تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد کہنے لگا۔ ''بھائی جان!(یہ اس کا تکیہ کلام ہے۔ چھوٹے بڑے کی قید نہیں) یہ ایگزیکٹ والا کیا معاملہ ہے؟‘‘
میں نے کہا ''کیا معاملہ ہے؟ وہی ہے جو اخبارات میں آ رہا ہے۔ ساری سٹوری نیو یارک ٹائمز نے چھاپ دی ہے۔ ڈیکلن والش نے ثبوتوں کا طومار باندھ دیا ہے۔ جعلی ڈگریوں کا سکینڈل ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ زمانے میں ہماری بھداڑی ہے۔ پہلے ہم دہشت گردی کے فروغ کے سلسلے میں مطعون تھے‘ اب جعلی تعلیم کے فروغ کے لیے ذلیل ہو رہے ہیں۔ ہمارے برے دن خدا جانے کب ختم ہونگے؟ ساری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ لوگ تھو تھو کر رہے ہیں۔ جو رہی سہی کسر تھی وہ بھی نکل گئی ہے‘‘۔ سید بادشاہ کہنے لگا ۔'' تمہارا کیا خیال ہے‘ یہ جو گزشتہ تین چار دن سے ہو رہا ہے میرا مطلب ہے ٹی وی چینلز پر سوائے ایگزیکٹ کے کچھ نہیں آ رہا۔ اخبارات میں اور خصوصاً دو اخبارات میں گزشتہ تین دن سے ہیڈ لائن ہی ایگزیکٹ کی چل رہی ہے۔ کیا یہ اتنابڑا سکینڈل ہے؟ اس پر امریکہ اور برطانیہ میں کتنا شور مچا ہے؟ اگر ڈیکلن والش کی سٹوری کو فی الحال سو فیصد درست بھی سمجھ لیں تو بھی‘ کیا یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اسے اتنی ہی اہمیت دی جائے جتنی کہ دی جا رہی ہے؟ کیا یہ تین دن تک اخباروں کی پہلی خبر کے طور پر اچھالے جانے کے قابل تھا؟‘‘ میں نے کہا ''سید بادشاہ ! آپ بادشاہ ہیں۔ کسی کو بری کر سکتے ہیں اور کسی کو راندۂ درگاہ قرار دے سکتے ہیں۔ یہ خبر نیو یارک ٹائمز کی ہے کسی للو پنجو اخبار کی نہیں ہے۔ آپ اسے اتنا آسان کیوں لے رہے ہیں؟‘‘ سید بادشاہ کو جلال آ گیا۔ کہنے لگا ''نیو یارک ٹائمز میں اور بڑی سٹوریز چھپی ہیں۔ کسی اور کو چھوڑو۔ پاکستان کے بارے میں بے شمار سٹوریاں ہیں۔ باقی باتیں ایک طرف۔ اسی ڈیکلن والش نے پاکستان کے بہت سے معاملات پر بڑی سٹوریاں چلائی ہیں۔ کیا کسی ایسی سٹوری پر ایسا ری ایکشن دیکھنے میں کبھی آیا تھا؟ جعلی ڈگریاں بانٹنا بہت ہی قابل اعتراض بلکہ ناقابل معافی جرم سہی‘ مگر کیا یہ بات طے ہے کہ ڈگریاں جعلی ہیں؟ برطانیہ اور امریکہ میں ایسی ایسی ڈگریاں قانونی طور پر جائز ہیں جو اخلاقی طور پر غلط ہیں۔ مگر بات اخلاقیات کی ہو رہی ہے یا قانون کی؟ اخلاقیات بالکل ذاتی ذمہ داری کے زمرے میں آتی ہے اور قانون ریاست کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ اخلاقیات پر ضمیر کا تازیانہ ہی حرف آخر ہے جبکہ قانون میں سرکار کا ڈنڈا حرکت میں آتا ہے۔
امریکہ وغیرہ میں ایک ناولٹی ڈگری (Novelty Degree) کی قسم ہوتی ہے۔ یہ عجیب و غریب ڈگری ہے۔ یہ ڈگری دنیا بھر کی معروف اور شہرت یافتہ ڈگریوں کی نقل ہوتی ہے۔ آپ یہ ڈگری ایک سو اسی سے دو سو ڈالر تک میں خرید سکتے ہیں۔ یہ ڈگری آکسفورڈ ‘ ہارورڈ‘ کیمبرج ‘ سٹیفورڈ اور ایم آئی ٹی وغیرہ کی اصلی ڈگری جیسی ہوتی ہے۔ چھپائی کے معیار سے لے کر مونو گرام تک اور لکھائی کے فونٹ سے لے کر یونیورسٹی کے نام کے سپیلنگز تک‘ ہر چیز بالکل اصلی جیسی ۔ رتی برابر فرق کے بغیر۔ اب یہ ڈگری جعلی ہے۔ بلکہ سراسر جعلی اور اس
کا چھاپنا قابل دست اندازی پولیس ہے مگر مغرب میں یہ رائج ہے۔ قانون خاموش ہے اور خود یونیورسٹیاں اس پر معترض نہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ ایسی ڈگریوں کی پشت پر ایک سٹکر لگا ہوتا ہے کہ یہ نقل ہے۔ Replicaہے نہ کہ اصل۔ ساتھ ہی ایک ''Disclaimer‘‘ یعنی اعلان لاتعلقی بھی لگا ہوتا ہے۔ ایک وارننگ بھی ہوتی ہے کہ یہ سٹکر اتارنا جرم ہے اور اس سٹکر کے اتارنے پر قانونی کارروائی اور سزا ہو سکتی ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ آپ اس ڈگری کو فریم کروا کر گھر میں سجا لیں۔ اب یہ سٹکر فریم کے پیچھے چھپ گیا ۔ آپ جس پر مرضی رعب ڈالیں کہ آپ ہاورڈ کے فارغ التحصیل ہیں یا ایم آئی ٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لے چکے ہیں۔
لو اور سنو! اسی امریکہ میں جہاں کے اخبار میں یہ خبر چھپی ہے Work Experience Degreeیعنی عملی کام کی بنیاد پر دی گئی ڈگری جاری کرنے والے ادارے ہیں جو لوگ نوکری کرتے ہیں یا کسی عملی کام سے وابستہ ہیں وہ اپنے کام اور نوکری کے تجربے کی بنیاد پر یہ ڈگری لے لیتے ہیں۔ بے شمار ادارے ہیں جو یہ ڈگری جاری کرتے ہیں۔ سرکار کی طرف سے انہیں یہ ڈگری جاری کرنے کا اجازت نامہ ملا ہوا ہے۔ بعض ادارے اس ڈگری کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر اپنے ملازمین کو ترقی دیتے ہیں۔ اس ڈگری کی بنیاد پر تعلیم کی شرط کو پورا کر لیتے ہیں اور ترقی بھی پاتے ہیں اور نوکری بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسی ڈگری جاری کرنا قانونا ً جرم نہیں۔ ہاں!
اخلاقاً غلط ہے۔ یہ جھوٹ پر مبنی کاروبار ہے۔ صرف پیسے کے حصول کے لیے ٹھگی والا معاملہ ہے مگر امریکہ میں چل رہا ہے۔ اسی طرح کی ایک Life Experience Degreeہوتی ہے جو اسی طرح جاری کی جاتی ہے۔ جاری کرنے والے اداروں میں Accreditedتعلیمی ادارے بھی ہیں۔ یعنی باقاعدہ منظور شدہ اور ڈگری جاری کا قانونی اختیار رکھنے والے تعلیمی ادارے۔ جعلی ڈگری وہ ہوتی ہے جو ایگزیکٹ والے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کی ‘ پنجاب یونیورسٹی کی‘ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی‘ این ای ڈی یونیورسٹی کی ڈگری جاری کر دیں۔ ابھی تک ایسی تو کوئی بات نہیں ملی ۔ باقی چیزیں آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آ جائیں گی۔
میں ایگزیکٹ کی صفائی نہیں دے رہا۔ صرف صورتحال سے آگاہ کر رہا ہوں۔ ممکن ہے سارے الزامات درست ہوں مگر تب بھی اتنا ہائی فائی کیس نہیں بنتا کہ قومی اسمبلی سے لے کر سینیٹ تک لرز اٹھے۔ اسے ضمانتوں کی پڑی ہوئی ہے اور یہاں یہ عالم ہے کہ ابھی امریکہ میں خبر چھپی ہے اور ادھر طوفان مچ گیا ہے۔ دفتر سیل ہو رہے ہیں ۔ کمپیوٹر اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملازمین گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ گھنٹوں ٹیلی ویژن ٹرانسمیشن چل رہی ہیں۔ آن لائن ادائیگی پر ڈگریاں ساری دنیا میں بشمول امریکہ دھڑا دھڑ بک رہی ہیں۔ گریجوایشن سے لے کر پی ایچ ڈی تک ڈیڑھ سو ڈالر سے لے کر اڑھائی سو ڈالر تک کی ادائیگی میں۔ امریکہ والے اپنے ملک میں یہ ڈگریاں چلنے نہیں دیتے مگر جاری کرنے پر نہ وہ معترض ہیں اور نہ ہی ایسے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں۔
(باقی صفحہ 13پر)
بقیہ: خالد مسعود
وہاں کا قانون اس بارے میں خاموش ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کام کی کھلی چھٹی دیتا ہے۔ ہاں اگر ایسی ڈگری لینے والا عدالت میں جا کر کیس کر دے اور Compensationیعنی زر تلافی کا مقدمہ کر دے اور جیت جائے کہ اس ڈگری سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا تو امریکی عدالتیں ہرجانے کا دعویٰ منظور کر کے زر تلافی ادا کرواتی ہیں۔2011ء میں سلیم قریشی (Salem Qureshi)کے خلاف ہونے والا سات ملین ڈالر ہرجانے کا کیس جو امریکی قانون کے مطابق تین گنا جرمانے کی صورت میں اکیس ملین ڈالر کی ادائیگی سے متعلق تھا‘ ایک مثال ہے مگر مزے کی بات ہے کہ جن دو سکولوں کی وجہ سے یہ جرمانہ ہوا وہ ابھی تک آن لائن کام کر رہے ہیں۔ یہ کام اخلاقاً سو فیصد غلط ہے مگر آخری فیصلہ قانون کرتا ہے اور امریکہ میں قانون اسے جائز قرار دیتا ہے ۔ لکھ لعنت ہے ایسے قانون پر مگر مجبور ی ہے ۔ اخلاقیات کا تو جنازہ نکل چکا ہے لہٰذا صبر کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔
لیکن ایک دو اور چیزیں بھی قابل غور ہیں۔ پہلی چیز ٹائمنگ ہے ۔ ابھی تھوڑے دن بعد 'بول‘ کے نام سے میڈیا گروپ میدان میں آ رہا تھا۔ کئی سال سے موجود ایگزیکٹ کے خلاف پہلے کیوں کچھ نہیں ہوا؟ امریکہ نے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا میں جو سرمایہ کاری کی تھی اور جس طرح چیزوں کو کنٹرول کیا تھا اب وہ اس میں نیا حصے دار برداشت نہیں کر رہے۔ جو لوگ بول میں نہیں جا سکے ان کی مخالفت کی وجوہ دیگر ہیں۔ چند لوگ ہیں جو میرٹ پر بات کر رہے ہیں اور انہی معلومات کی بنیاد پر کسی ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ایگزیکٹ کو رگڑا لگا رہے ہیں مگر باقی سب خوفزدہ اور ردعمل کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔ بول کے بارے میں بڑی افواہیں ہیں۔ اس کے پیچھے بھائی لوگوں کی موجودگی کا شوشہ موجود ہے۔ کچھ اور بڑے نام ہیں ۔ ان ناموں اور سرپرستوں کو رگڑا لگانے کے لیے اوور ڈوئنگ کی جا سکتی ہے۔ مجھے حقیقت کا تو علم نہیں مگر ایگزیکٹ والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ بی سی سی آئی والا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ امریکیوں نے وہ بنک بھی اسی طرح برباد کیا تھا‘‘۔
میں نے کہا ''سید بادشاہ! آپ زیادہ فرنٹ فٹ پر نہیں کھیل رہے؟ کیا آپ کچھ زیادہ ہی رجائیت پرستی نہیں دکھا رہے؟‘‘ سید بادشاہ ہنسا اور کہنے لگا ''میری باتیں تمہیں نامناسب لگ رہی ہیں اور گزشتہ تین دن سے جو ہو رہا ہے وہ تمہیں زیادتی نہیں لگ رہا؟ تحقیقات کریں‘ معاملات چیک کریں‘ گہرائی تک جائیں مگر ان سب چیزوں سے پہلے فیصلے نہ سنائیں۔ یکطرفہ ٹریفک نہ چلائیں۔ ممکن ہے سارے الزامات درست ہوں مگر ثابت تو کریں۔ اگر ثابت ہو گئے تو اپنا سارا تھیسس واپس لے لوں گا‘‘۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں