نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- طالبان کی نشست کےلیےدرخواست 9رکنی کمیٹی کوبھیج دی گئی،ترجمان اقوام متحدہ
  • بریکنگ :- افغان عبوری حکومت کے وزیرخارجہ کا اجلاس سے خطاب میں ابہام ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- کمیٹی کےفیصلےتک گزشتہ حکومت کےنمائندےاسحاق زئی افغانستان کی نمائندگی کریں گے
  • بریکنگ :- سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو طالبان کی جانب سےخط موصول ہوا،ترجمان اقوام متحدہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

یہاں جھوٹ اور سچ میں حد فاضل ختم ہو چکی ہے

حال یہ ہو گیا کہ اب سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہو گیا ہے۔ انتہائی محیر العقول بات، جسے شروع شروع میں ہم جھوٹ سمجھتے ہیں سچ نکل آتی ہے اور جسے ہم سچ جانتے ہیں جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ بندہ کس بات پر یقین کرے اور کس پر نہ کرے؟ ایک عرصہ ہوا ای میل پر جناب آصف علی زرداری کی جائیداد کی تفصیل آئی۔ تفصیل اتنی لمبی تھی کہ ''نیل سے لے کر تابخاک کاشغر‘‘کے مصرعے کی تشریح دکھائی دیتی تھی۔ دل نے اس پر یقین نہ کیا کہ آخر صرف بمبینو سینما سے کوئی کتنی کمائی کر سکتا ہے؟ کار ڈیلر شپ سے کتنی آمدنی ہو سکتی ہے؟ اور درمیانے درجے کی ٹھیکیداری میں بندہ کتنا کما سکتا ہے؟ اوپر سے مسئلہ یہ آن پڑتا ہے کہ نہ تفصیل دینے والوں کے پاس ثبوت ہے اور نہ ہی صاحب جائیداد و دولت ہی کوئی تصدیق فرماتا ہے۔ اب معاملہ بھلا کس کروٹ بیٹھ سکتا ہے؟ لہٰذا مناسب یہی سمجھا جاتا ہے کہ ایسی تفصیلات پر پردہ ہی پڑا رہے تو بہتر ہے۔
درمیان میں جناب سید یوسف رضا گیلانی کے معاملات آئے تو ایک عدد مزید تفصیل پہلے سے موجود تفصیلات کا حصہ بن گئی ؛تاہم دیگر موجودہ تفصیلات کی مانند یہ بھی مکمل طور پر ''غیر مصدقہ‘‘ کے زمرے میں آتی تھی کہ کئی جائیدادیں ایسی تھیں کہ قابض کوئی اور تھا اور خریدار کے خانے میں کسی اور کا نام تھا۔ شجاع آباد کے قریب خریدی گئی زمین کا حقیقی مالک کوئی اور تھا اور کاغذات میں مالک کا نام کسی اور شریف آدمی کا تھا۔ مرحوم حامد رضا گیلانی کی فروخت شدہ کوٹھی میں رہائش پذیر کوئی اور تھا اور ملکیت کسی اور کے نام پر تھی۔ ان معاملات میں تھوڑی بہت آگاہی محض اس لئے تھی کہ شہر کا معاملہ تھا اور حقائق بیان کرنے والے یعنی راوی خاصے معتبر اور ثقہ قسم کے تھے‘ لہٰذا ان معقول ذرائع معلومات کے طفیل پنجابی کے ایک مخصوص لفظ ''گبیڑ‘‘ نکالنے سے کافی چیزیں واضح تھیں مگر اب بندہ وہاں کیا کرے جہاں نہ راوی کی معتبری واضح ہو اور نہ اس کی بیان کردہ روایت کی سچائی بارے ہی کوئی علم ہو؟
بات سچ اور جھوٹ کی ہو رہی تھی۔ بعض اوقات صورتحال الٹ ہو جاتی ہے اور کوئی جھوٹ بھی بولے تو سچ کا گمان ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص کے بارے میں سچ بولیں تو جھوٹ لگتا ہے اور جھوٹ بولیں تو سچ۔ حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے آخری ( 2008ء تا 2013ء) دور حکومت میں شاہرات پر کار کا ٹال ٹیکس بیس روپے سے بڑھا کرپچیس روپے کیا گیا تو یار دوستوں نے افواہ اڑا دی کہ یہ اوپر والے پانچ روپے جناب فلاں کو براہ راست پہنچا دیے جاتے ہیں۔ یار لوگوں نے اس پانچ روپے کا باقاعدہ نام بھی اس شخصیت کے نام پر رکھ دیا تھا۔ میں نے یہ بات سینکڑوں بار اپنے کانوں سے سنی اور درجنوں بار تو یہ بات کرنے والا کوئی نہ کوئی پڑھا لکھا اور معقول شخص ہوتا تھا۔ میں نے دوچار لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش بھی کہ ''صاحب‘‘ پانچ پانچ روپے جیسی معمولی رقم اکٹھا کرنے پر نہ تو یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی یہ ان کا مزاج ہے۔ صاحب شاہانہ مزاج سے سخی بادشاہ ہیں اور اس قسم کا چندہ اکٹھا کرنا کسر شان سمجھتے ہیں اور ویسے بھی اس قسم کا ٹیکس وغیرہ حساب کتاب میں آتا ہے‘ کسی نہ کسی مرحلے پر معاملات گرفت میں آ سکتے ہیں جبکہ صاحب نہایت ہی کائیاں اور محتاط ہیں‘ خاص طور پر ماضی کے تجربوں نے انہیں خاصا ہوشیار کر دیا ہے ‘مگر ان پڑھ لوگوں کی نسبت میرے پڑھے لکھے دوست زیادہ شدومد سے یہ بات کہتے تھے کہ ''آپ کو کیا خبر کہ اس ملک میں کیا ہوا ہے؟‘‘۔ کئی دوستوں نے تو باقاعدہ حساب بنا کر بتایا کہ صرف پنجاب میں اتنے ٹال ٹیکس پلازہ ہیں۔ ہر پلازہ سے اوسطاً اتنے ہزار گاڑی روزانہ گزرتی ہے اور اس حساب سے محض پانچ روپے فی گاڑی لگائیں تو روزانہ اتنے لاکھ روپے بنتے ہیں اور سالانہ رقم اتنے کروڑ بن جاتی ہے۔ پھر مزید فرمانے لگے کہ اوپر والی رقم ٹھیکیدار سے براہ راست وصول کر لی جاتی ہے اور کاغذات میں اس لئے نہیں آتی کہ سرکار نے ٹال پلازہ نیلام کر دیا اور اپنی رقم کھری کر لی۔ اب بھلا اوپر والے پانچ روپے کا شمار سرکار کے کاغذوں میں کب ہو گا؟ مجھے علم ہے کہ یہ بات محض افواہ تھی مگر اس پر یقین کرنے والوں کی تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں تھی کہ صاحب کی شخصیت کو مدنظر رکھ کر اس پر غور کریں تو خواہ مخواہ یقین کرنے کو دل کرتا تھا۔
میں مارچ میں برطانیہ گیا تو دوستوں سے گپ شپ معمول کی بات تھی۔ لندن میں فہد رہتا ہے‘ خاصا باعلم اور حالات حاضرہ سے آگاہ۔ ایک دن دوران گفتگو ایم کیو ایم کا معاملہ زیر بحث آ گیا۔ ایک دوست کہنے لگے: ایم کیو ایم کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس کے طفیل عام آدمی یعنی نچلے طبقے کا سفید پوش شخص بھی اسمبلی تک پہنچ سکا۔ اب جبکہ الیکشن بلاشبہ کروڑوں کی گیم بن چکا ہے‘ بھلا عام آدمی کا الیکشن لڑنا اور پھر جیتنا کس طرح ممکن ہے؟ میرا دوست بڑے زور و شور سے ایم کیو ایم کا یہ پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہاں موجود اکثر دوست اس بات سے کلی نہ سہی مگر جزوی اتفاق ضرور کر رہے تھے کہ ایم کیو ایم نے معاشرے کے نچلے طبقے سے، سفید پوش کٹیگری سے اور درمیانے درجے کی معاشی کلاس سے تعلق رکھنے والوں کو اسمبلیوں میں پہنچایااور ایک مختلف مثال سامنے آئی۔
فہد نے میری طرف دیکھ کر پوچھا ‘جی خالد صاحب؟ آپ نے لاس اینجلس میں کیا دیکھا تھا؟ اور کیا سنا تھا؟ میں نے کہا ‘ وہاں ڈاکٹر فاروق ستار کا گھر دیکھا تھا۔ اگرچہ کرائے پر تھا مگر اس کا کرایہ پانچ ہزار ڈالر ماہانہ ضرور ہو گا۔ یہ گھر تھا، فلیٹ نہیں تھا، پاکستان کے سابقہ قونصل خانے سے چند سو گز کے فاصلے پر۔ ویسٹ ووڈ کا علاقہ لاس اینجلس کا دل ہے۔ وہاں میرا ایک دوست فلیٹ میں رہتا تھا جس کا کرایہ ساڑھے چار ہزار ڈالر ماہانہ تھا مگر یہ کرایہ سرکار ادا کرتی تھی۔ میں نے اطمینان قلب کے لئے وہاں ایک پراپرٹی ایجنٹ سے کرایوں کا حال پوچھا تو پتہ چلا کہ پانچ ہزار ڈالر سے شروع ہو کر اوپر تک جاتا ہے جو مکان کے سائز پر منحصر ہے‘ تاہم پانچ ہزار ڈالر ''بیس پرائس‘‘ تھی‘ یعنی پانچ لاکھ روپے ماہانہ۔ ڈاکٹر صاحب کی فیملی تین لوگوں پر مشتمل تھی۔ دو بیٹیاں اور اہلیہ۔ بڑی بیٹی تب یو سی ایل اے میں پڑھتی تھی جو دنیا کی چند مہنگی ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ چھوٹی بیٹی سکول میں تھی جس کا خرچہ بہت زیادہ نہیں؛ تاہم سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کی اہلیہ ورکنگ وومن نہیں بلکہ ہاؤس وائف تھیں۔ اب یہ خرچہ کہاں سے پورا ہوتا تھا؟ اچھی غریب قیادت ہے‘ سات آٹھ لاکھ ماہانہ امریکہ بھجواتی ہے۔ شفیق نے بتایاکہ بابر غوری کے یہاں کئی پٹرول پمپ ہیں۔ امریکہ میں اچھا پٹرول پمپ جسے وہاں گیس سٹیشن کہتے ہیں آٹھ دس لاکھ ڈالر میں ملتا ہے‘ یعنی اسی نوے کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے۔ یہ سب کہاں سے آیا؟
فہد کہنے لگا ‘ایک منٹ صبر کریں‘ میںایک ای میل آپ کو بھجوا رہا ہوں، اسے ایک نظر دیکھ لیں۔ یہ دس صفحات پر مشتمل ایک دستاویز ہے جس کے صفحہ نمبر سات پر ایک لسٹ ہے۔ یہ ان گھروں کی لسٹ ہے جو لندن میں الطاف بھائی کی ملکیت ہیں اور یہ تفصیل ان کی سابقہ اہلیہ نے دی تھی۔
(A) -12 ایبے ویو، مل ہل، نارتھ ویسٹ لندن۔ مارگیج فری (یعنی بلاقرضہ / بلا بینک رہن، خاص ملکیت) مالیت دس لاکھ برطانوی پاؤنڈ (کم از کم)
(B) -1ہائی وے گارڈنز، ایجویئر (مارگیج فری) مالیت چھ لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تخمینہ)
(C) -3ہائی وے گارڈنز، ایجویئر (مارگیج فری) مالیت چھ لاکھ دس ہزار برطانوی پاؤنڈ (تخمینہ)
(D) -5ہائی وے گارڈنز، ایجویئر (مارگیج فری) مالیت چھ لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تخمینہ)
(E) -254ہائی روڈ، ایجویئر (مارگیج فری) ایم کیو ایم سیکرٹریٹ‘ ملکیت الطاف حسین۔ اس کے علاوہ کئی قیمتی گاڑیوں کا ذکر ہے جو الطاف بھائی کی ملکیت ہیں۔
اسی تفصیل میں ان کے بینک اکاؤنٹس میں ہونے والی ٹرانزیکشنز ہیں جو ہزاروں برطانوی پاؤنڈز سے لے کر لاکھوں تک ہیں۔ بعض ٹرانزیکشنز تو دس لاکھ برطانوی پاؤنڈز کی بھی ہیں یعنی 15کروڑ روپے سے زائد۔ دسمبر 2005ء میں نیشنل ویسٹ منسٹر بینک نے بعض مشکوک ٹرانزیکشنز کی بنا پر الطاف بھائی کا اکاؤنٹ بند کر دیا تھا۔ سابقہ اہلیہ کا تحریری بیان میرے پاس محفوظ ہے۔
یہ لوگ غریب ہوں گے مگر اب نہیں۔ صرف ''کے الیکٹرک‘‘ میں ان غرباء کے عزیز واقارب دیکھیں تو آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ تابش گوہر، شہباز بیگ، سید عابد علی، آصف حسین صدیقی اور ابرار حسین کا رشتہ نسرین جلیل خوش بخت شجاعت، سید سردار علی، عادل صدیقی سے جوڑا جا رہا ہے اور تنخواہیں یہ مبینہ طور پر لاکھوں میں وصول کر رہے ہیں۔ یہ غریب قیادت کی دیگ میں سے لئے گئے چند لقمے ہیں۔ اب ساری دیگ اسی قسم کی ہے ‘کس پر یقین کریں‘ کس بات پر نہ کریں۔ یہاں جھوٹ اور سچ کے درمیان حد فاصل ختم ہو چکی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں