نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوروناکی وجہ سےہزاروں ووٹرزنےایڈوانس پول اورپوسٹل بیلٹ استعمال کیا
  • بریکنگ :- لبرل پارٹی،اپوزیشن کنزرویٹوپارٹی اورنیوڈیموکریٹک پارٹی میں کانٹےکامقابلہ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- ابتدائی نتائج،اٹلانٹک صوبوں میں لبرل پارٹی کو5نشستوں پربرتری
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

موجودہ صورتحال اور مستقبل کا سیاسی منظر نامہ

پنجاب میں پیپلز پارٹی مزید فراغت کی جانب رواں دواں ہے۔ میرے ذاتی علم کے مطابق پنجاب میں آخری دو مرد معقول صمصام بخاری اور اشرف سوہنا تھے جو پیپلز پارٹی میں شرافت کی علامت تھے۔ اب باقی خالص جیالا کلچر بچ گیا اور یہ بھی پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے تقریباً تیار ہے، بس انتظار ہو رہا ہے کہ پہلی شمولیتوں کی گرد بیٹھے تو دوسرا رائونڈ شروع کیا جائے۔ شوکت اسلام نے شوکت گجر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی میں کسی ایک ولی کی نشاندہی کر کے دکھا دے۔ ساتھ ہی شرط لگائی کہ اس ''ولی‘‘ سے مراد یہ نہیں کہ وہ کسی ولی محمد نامی جیالے کو پیش کر دے۔ شوکت گجر جو دل کی گہرائیوں سے جیالا ہے اور آج کل صرف اور صرف میاں صاحبان کی مخاصمت میں پی ٹی آئی کا پرزور حامی بھی ہے، اس چیلنج پر جواب تو نہ دے سکا البتہ اپنی کرسی پر غصے میں پہلو ضرور بدلتا رہا۔
میں نے شوکت سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر جانے والے آج کل سیدھے پی ٹی آئی میں جا رہے ہیں تو شوکت کہنے لگا کہ ان کے پاس اور کوئی چوائس نہیں ہے، جس طرح جماعت اسلامی والوں کی پیپلز پارٹی سے صلح نہیں ہو سکتی، ضیاء الحق اور ان کی پیداوار سے جیالے کی صلح ممکن نہیں ہے۔ میں نے پوچھا اور جو لوگ پہلے پیپلز پارٹی چھوڑ کر ن لیگ میں گئے ہیں ان کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ شوکت کہنے لگا وہ پہلے بھی موقع پرست تھے اور بعد میں بھی۔ وہ نہ پہلے کبھی جیالے تھے اور نہ بعد میں۔ لہٰذا ان کا جانا اس زمرے میں نہیں آتا جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اب بھلا آپ منظور وٹو کو جیالا کہہ سکتے ہیں؟ منظور وٹو ایک سرتاپا سیاستدان ضرور ہے مگر موقع پرستی اس پر ختم ہے۔ ٹائمنگ اور چھلانگ لگانا اس پر ختم ہے۔ پارٹی بدلنے کے بارے میں اس کے اندازوں کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا مگر ان تمام ''خوبیوں‘‘ کے باوجود وہ جیالا ہرگز نہیں ہے۔ اب اگر وہ پھر کسی مناسب OPPORTUNITY کے ملنے پر پی پی پی سے بھاگ گیا تو یہ بھلا کسی جیالے کا فرار کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ سرے سے جیالا ہے ہی نہیں، محض موقع پرست اور مفاد پرست ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ سب لوگ جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں سب 
غیر جیالے ہیں؟ وہ کہنے لگا، نہیں ایسی بات نہیں ہے اب جیالے بھی جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا، وجہ؟ کہنے لگا، گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں کرپشن اور میاں صاحبان سے مک مکا۔ جس طرح مچھلی پانی میں زندہ رہتی ہے، جیالا گھمسان کی جنگ میں خوش رہتا ہے۔ حالت جنگ میں ہو تو آرام محسوس کرتا ہے۔ انقلاب کے نعرے لگ رہے ہوں تو سکون میں نظر آتا ہے، اب یہاں سارا مک مکا تھا۔ میاں صاحبان سے محبت کی پینگیں تھیں۔ اتنی دھنیا تو پیپلز پارٹی کبھی اقتدار میں نہیں ہوتی جتنی اب کی بار اپوزیشن میں تھی۔ رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ 2013ء کے انتخابات میں سندھ کے علاوہ باقی جگہوں پر صفایا ہو گیا۔ جیالا اس شکست سے بھی اتنا مایوس اور دلبرداشتہ نہیں تھا جتنا وہ بطور اپوزیشن پیپلز پارٹی کے ن لیگ والوں کے ساتھ غیر مشروط تعاون پر مایوس اور ملول تھا۔ جیالا تو نام تھا اس شخص کا جو بھٹو ازم کے لیے ہمہ وقت حالت جنگ میں ہو۔ آمادۂ پیکار ہو۔ احتجاج کے لیے تیار ہو اور لڑنے مرنے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھرتا ہو۔ بی بی کے جانے کے بعد سارے چُوری کھانے والے مجنوں باقی بچ گئے تھے۔ ہر کام پیسے سے ہو رہا تھا۔ حتیٰ کہ جیالوں سے بھی رعایت نہیں کی جا رہی تھی۔ سندھ سارا ''ادی‘‘ کے حوالے تھا۔ کراچی ٹپی کے پاس تھا۔ گلیوں محلوں کا بھتہ لندن جا رہا تھا اور سرکاری زور والی ساری آمدنی ستر کلفٹن جا رہی تھی۔ پنجاب، کے پی کے وغیرہ کو قیادت نے لاوارث چھوڑ دیا تھا۔ پھنڈر بھینس کی طرح۔ یہاں سے اب کوئی آمدنی کی توقع نہیں تھی۔ یہاں کا دودھ دوہنے والے بھلا کسی اور کو دخل اندازی کہاں کرنے دیتے ہیں۔ یہاں کے حاکموں کے اپنے بچے بڑے تیز اور جذبے والے ہیں۔ بھلا وہ اپنے علاقے سے کسی کو حصہ کیوں دیں گے؟ اور جہاں کوئی آمدنی کا امکان نہ ہو وہاں ہمارے لیڈروں کا کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے؟ لہٰذا پنجاب سارا لاوارث تھا، اوپر سے وٹو جیسا صوبائی صدر۔ یہ کچھ تو ہونا تھا، اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ 
میں نے کہا یہ بات تو سمجھ میں آ گئی کہ یہ سب کیسے ہوا ہے۔ شوکت کہنے لگا، بات اتنی آسان نہیں ہے جتنی نظر آ رہی ہے، بے شمار وجوہات ہیں جو مل کر عفریت بنی ہیں۔ پنجاب میں بھی کم نہیں ہو رہا مگر جیالے نے اپنی زندگی میں خود کو اتنا لاوارث کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ساری لیڈر شپ صرف اور صرف مال بنانے میں لگی ہوئی تھی۔ قصہ سنانے والے اب کروڑوں کی بات کرنا توہین سمجھتے ہیں، بات اب اربوں سے شروع ہوتی تھی، لوگوں کے تہہ خانے بھرے ہوئے ہیں نوٹوں سے۔ لانچیں پکڑی جا رہی ہیں، اربوں روپے سے لدی ہوئی۔ جیالا سچا اور کھرا ورکر ہے، نہ منافق ہے اور نہ منافقت برداشت کرتا ہے۔ وہ تو مایوس بھی ہوتا ہے اور ردعمل بھی دکھاتا ہے، متوالا کیا کرتا ہے؟ نہ احتجاج کرتا ہے اور نہ ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ لندن میں پراپرٹی کے بے پناہ کام پر شرمندہ ہونے کے بجائے اسے بزنس قرار دیتا ہے۔ منی لانڈرنگ کو سرمایہ کاری قرار دیتا ہے۔ جدے کے کاروبار کو ملکی مفاد قرار دیتا ہے۔ نئی نسل کے مفادات کا محافظ بن جاتا ہے بھلا وہ جیالے جیسا کب ہو سکتا ہے؟ اس کی لیڈر شپ نے قربانی دی ہے۔ سارا بھٹو خاندان اسی جدوجہد میں رزقِ خاک ہوا۔ گڑھی خدا بخش کا قبرستان انہی خاک نشینوں سے شادو آباد ہے۔ بھلا بھٹو خاندان کی قربانیوں کا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟ جیسی لیڈر شپ ویسے کارکن، جیسا بھٹو خاندان ویسے ہی اس کے چاہنے والے۔ مارشل لا پر بھاگ جانے والوں اور پھانسی پر جھولنے والوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتاہے۔ جان دینے والوں میں اور مال بنانے والوں میں بھلا کیا موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ جیسی روح ویسے فرشتے، جیسی قیادت ویسے پیروکار، جیسے لیڈر ویسے ہی ورکر، اب بھلا کیا باقی بچا ہے؟ ادی، ٹپی، دائر بورڈ، بلڈنگ اتھارٹی اور فشرمین سوسائٹی، باقی میرے جیسے محبت کرنے والوں کی آخری جنریشن۔
میں نے کہا، صرف تم نہیں اور بھی بہت سے باقی ہیں۔ بہاولپور میں رائو اعجاز ہے، منڈی بہائوالدین میں گوندل ہیں۔ لاہور میں گُھرکی ہیں، اپنی بیلم حسنین ہیں، ادھر ملتان میں بے شمار لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ باقی باتیں چھوڑیں، اپنے سید یوسف رضا گیلانی ہیں۔ شوکت کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ ملک بول پڑا اور کہنے لگا آپ نے سید یوسف رضا گیلانی کی خوب کہی۔ گیلانی صاحب پیپلز پارٹی سے جان چھڑوانا چاہتے تو ہیں مگر سلیقے سے۔ آہستہ آہستہ، قسط وار۔ پہلے رضاکارانہ استعفیٰ، پھر غیر فعالیت، پھر مکمل خاموشی، پھر مکمل لاتعلقی، پھر گلے شکوے اور آخر میں ''بحالت مجبوری‘‘ راہیں جدا کرنے کا فیصلہ۔ آپ میری بات لکھ لیں۔ سید یوسف رضا گیلانی پرانے مسلم لیگی ہیں، بلکہ خاندانی مسلم لیگی ہیں، وہ مسلم لیگ کے پرچم میں دفن ہوں گے۔
میں نے پوچھا، یہ کب تک ہو جائے گا۔ ملک کہنے لگا یوسف رضا گیلانی کو شاہ محمود کی طرح جلدی نہیں ہے۔ ان میں قریشی صاحب کی مانند ''اتاو لاپن‘‘ نہیں ہے۔ ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں اور سیاست کے امور سے آگاہ ہیں۔ بس ہار جیسے معاملے میں غلطی کر جاتے ہیں اور اس میں ان کا قصور بھی نہیں ہے۔ صدیوں سے نذرانوں پر گزارا کرنے والوں کا مائنڈ سیٹ ہی ایسا ہوتا ہے۔ جو بھی ملے انکار نہیں کرتے اور پھر واپس بھی نہیں کرتے۔ انکار کو مرید کی دل آزاری تصور کرتے ہیں اور قبولیت کو دلجوئی سمجھتے ہیں۔ نذرانے کو مرید کا فرض اور قبولیت کو اپنا حق گردانتے ہیں۔ ترک خاتون اول نے ہار نذر کیا۔ آپ نے قبول فرمایا۔ خاتون اول کی نیت بے شک کچھ اور تھی اور مقصد بھی بلاشبہ کچھ اور تھا مگر مرشد پاک نے اسے اپنا ذاتی نذرانہ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ترکی کی خاتون اول نے بھی اپنے حساب سے ٹھیک سمجھا اور گیلانی صاحب نے بھی اپنی طرف سے بالکل ٹھیک سمجھا۔ اگر آپ کو نذرانہ اور قبولیت کے مکتب فکر یعنی ''سکول آف تھاٹ‘‘ کو سمجھنا ہے تو اس کی سب سے مناسب جگہ بھی فی الوقت حضرت موسیٰ پاک کا اندرون پاک گیٹ والا دربار ہے۔ اس دربار کے ارد گرد پہلے تو بڑی تنگی تھی اب کافی فراخی ہے۔ گیلانی صاحب نے اپنے دور حکومت میں سرکاری خرچ پر ارد گرد کی جائیدادیں خرید کر کافی کھلا صحن سا بنا دیا ہے۔ النگ کے نیچے سے سیدھی سڑک نکلوائی ہے جو عین دربار کے دروازے پر جاتی ہے۔ دربار کے سامنے ایک میدان ہے۔ نکر پرٹھومی تباخی سری پائے لگا کر بیٹھا ہے۔ اس سرکاری خرچ پر بنائے گئے صحن کے ہر کونے پر کسی نہ کسی مخدوم کا برآمدہ ہے۔ کسی میں صوفہ پڑا ہے تو کسی میں موڑھا، کئی ایک میں تو رنگے پلنگ پڑے ہوئے ہیں۔ ہر پر مخدوم کا خلیفہ ہے جو سائلوں کو، ضعیف الاعتقادوں کو گھیر گھار کر ''اپنے مخدوم‘‘ کے پاس لاتا ہے، وہاں تعویذ لکھنے اور دم کرنے کا معقول اور مناسب بندوبست موجود ہے۔ نذرانے کی قبولیت صرف رواج نہیں فرض ہے۔ خیر میں کہاں سے کہاں چلا گیا۔ بات ہو رہی تھی سید یوسف رضا گیلانی کے سیاسی مستقبل کی اور چلی گئی ہار اور نذرانے کی طرف۔ اللہ مجھے معاف کرے اور بدگمانی سے بچائے۔ گیلانی صاحب اندر خانے میاں صاحبان سے سو فیصد سیٹ ہیں اور یہ دوستی اگلی نسل میں تو اور بھی مضبوط ہے۔ ابھی TDAP والے معاملے میں ہونے والی پیشرفت اور گیلانی صاحب کے شہرہ آفاق فرنٹ مین زبیر کی ضمانت پر رہائی اسی گاڑھی چھننے کا نتیجہ ہے۔ ابھی اور بہت کچھ پردۂ غائب میں ہے جس کا ظہور آہستہ آہستہ ہو گا۔ یہاں ملتان میں بھی شیرازہ بکھرنے کو ہے۔ یہاں اگلی صف بندی پھر قریشیوں اور گیلانیوں کے مابین متوقع ہے۔ یہاں بھی پیپلز پارٹی کا مستقبل صرف مخدوش نہیں باقاعدہ برباد نظر آ رہا ہے اور ہر دو فریق تاریخی طور پر چڑھتے سورج کے پجاری رہے ہیں۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں