نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

بالآخر گھوڑے نے پہل کر دی ہے

سمجھدار کہتے ہیں کہ اگر گھوڑے کو دوائی کھلانا مقصود ہو تو نلکی میں ڈال کر گھوڑے کے منہ میں رکھ کر فوراً پھونک مار دینی چاہئے۔ اس سلسلے میں دیر کرنا نری حماقت ہے۔ تاخیر کی صورت میں گھوڑا پھونک مار سکتا ہے۔ میاں شہبازشریف انتخابات سے قبل بڑے زوروشور سے ڈائس پر مکے مار مار کر کہا کرتے تھے کہ وہ آصف زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے‘ انہیں کرپشن پر پکڑیں گے اور انہیں الٹا کرکے سارا مال نکلوائیں گے۔ الیکشن ہوئے‘ مک مکا کی سیاست کا ایک بار پھر آغاز ہوا۔ میاں نوازشریف نے تو گزشتہ تمام عرصہ کسی چیز کا رتی برابر اثر نہیں لیا‘ کسی بات سے سیکھا نہیں اور کسی غلطی سے سبق حاصل نہیں کیا مگر انہوں نے اپنے سیاسی پیرومرشد (وہ چاہے مانیں یا نہ مانیں مگر حقیقت یہی ہے) جناب آصف علی زرداری سے ایک بات ضرور سیکھی کہ فائدہ مفاہمت میں ہے... خواہ یہ اقتدار ہو‘ احتساب ہو یا انتخاب۔ لہٰذا انہوں نے الیکشن کے دوران بھی ایسی کوئی بڑھک نہ ماری۔ اقتدار میں آ کر بھی گرمی یا تائو نہ دکھایا‘ اور گزشتہ کھائے پیئے کا حساب مانگنے میں بھی رتی برابر دلچسپی نہ دکھائی۔ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے میثاق جمہوریت کو اور ان کے پرامن اقتدار کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ ممکن ہے سب کچھ اسی طرح انجمن بقائے باہمی کے زریں اصولوں کے مطابق چلتا رہتا‘ لیکن برا ہو درمیان میں بلاوجہ کود پڑنے والے احتساب کا اور حساب کتاب کا۔ اس نامعقول چیز کا میاں نوازشریف کے دور حکومت حکومت میں دور دور تک کوئی نام و نشان تھا۔ نہ امکان‘ لیکن لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔
سب کچھ بالکل ٹھیک جا رہا تھا۔ درمیان میں دھرنا آگیا۔ دھرنا بھی الحمدللہ دھرنے والوں کی حماقت سے میاں نوازشریف کے گلے کی مصیبت بنتے بنتے خود دھرنے والوں کے گلے میں اٹک گیا اور انہوں نے خاصا بے عزت ہو کر بمشکل اس سے جان چھڑوائی۔ مطلب یہ ہے کہ راوی میاں صاحب کے اقتدار بلکہ پر امن اقتدار کے بارے میں مکمل چین لکھتا تھا۔ سندھ میں لوٹ مار جاری
تھی‘ میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ لیاری گینگ نے ات مچائی ہوئی تھی‘ میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ کراچی میں بھتہ زوروں پر تھا‘ میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ پوری آب و تاب سے چل رہی تھی۔ میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ چائنا کٹنگ جیسی نئی اختراعات نموپار رہی تھیں۔ میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ طالبان نے انت اٹھایا ہوا تھا‘ میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات پر مذاکرات کرنے کا زور تھا اور ہر چیز بے نتیجہ ثابت ہو رہی تھی مگر میاں صاحب حسب معمول ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ پورے ملک میں انتخابی دھاندلی کا ڈھنڈورا پٹ رہا تھا اور میاں صاحب ٹھنڈ کروا کر بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ اور بے شمار معاملات تھے جن پر کچھ ایکشن ہونا چاہیے تھا مگر میاں صاحب مکمل ٹھنڈ پروگرام پر عمل پیرا تھے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سندھ حکومت فشرمین سوسائٹی کی لوٹ مار پر‘ زمینوں پر قبضوں پر‘ سمندر سے نکلنے والے سینکڑوں ایکڑ کی خوردبرد پر‘ اویس مظفر ٹپی کی غیراعلانیہ وزارت عُلیا پر‘ محترمہ فریال تالپور کی زورآوری پر اور اعلیٰ حضرت قائم علی شاہ کے صعف دماغ پر ٹھنڈ کروا کر بیٹھی تھی۔ اچانک ملک عزیز میں ضرب عضب سے ایک نئی شروعات کا آغاز ہوا۔ ممکن ہے اردو قواعد کے حساب سے شروعات اور آغاز کا ایک جملے میں استعمال ہونا جائز نہ ہو مگر جو صورتحال تھی اس کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں اور سب کچھ چل رہا تھا میرا ذاتی خیال ہے یہ جملہ بھی ٹھیک ہے۔ خصوصی حالات میں اردو زبان کے قواعد و ضوابط میں اتنی اونچ نیچ چل جاتی ہے۔
خیربات ہو رہی تھی ضرب عضب کی اور چلی گئی اردو زبان کے قواعد و ضوابط کی طرف۔ ضرب عضب کی بتدریج کامیابی اور عوام کی طرف سے پذیرائی نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ اس آپریشن کا دائرہ کار عمومی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ملک پر مسلط مالی دہشت گردی پر بھی لاگو کیا جائے۔ یہاں سے بہتری اور خرابی کا ایک ساتھ آغاز ہوا۔ بہتری کا اس لحاظ سے کہ ملک میں ایک بار پھر یہ مثبت احساس پروان چڑھا کہ لوٹ مار کرنے والوں کو بھی کوئی پوچھنے والا ہے۔اگرچہ روایتی نظام اپنے فرسودہ پن کی بنا پر ایسا کرنے میں مکمل ناکام رہا مگر اللہ کارساز ہے‘ وہ کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی انتظام کروا دیتا ہے۔ خرابی کا آغاز بھی اسی کے ساتھ ہوا۔ خرابی یہ ہوئی کہ اچھے بھلے بھائی چارے اور انجمن امداد باہمی کے چلتے ہوئے نظام میں گڑبڑ ہو گئی۔ مفاہمت کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ میثاق جمہوریت کا آبگینہ مجروح ہوا۔ لندن میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی موٹی گردن پر دبائو بڑھا۔ سیدھے سبھائو چلتی ہوئی کنواری کنیا جیسی جمہوریت کے ساتھ سرعام چھیڑچھاڑ ہوئی‘ اور سارا آئیڈیل ماحول دیکھتے ہی دیکھتے تبدیل ہوگیا؛ اتنا کہ انتظامی معاملات سے یکسر لاپروا‘ مست الست اور تارک الدنیا قسم کے وزیراعلیٰ سندھ جناب قائم علی شاہ کو بھی میدان میں کودنا پڑا۔ یہ اور بات ہے کہ ہر بار کودنے کے محض دو منٹ بعد ہی ان کا دم پھول گیا لیکن ان کا یہ دو منٹ کے لیے کودنا بھی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے کی چیز ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے ایسی بدعات سے کوسوں دور‘ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی مختلف اشیاء کو گھوٹنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھے۔ مجھے ذاتی طور پر ان کے ڈسٹرب ہونے کا قلق ہے۔
سدھار کا معاملہ وزیرستان سے شروع ہوا تھا اور آہستہ آہستہ کراچی پہنچ گیا۔ وزیرستان والے دہشت گردوں کے بارے میں اس عاجز کو یہ پتا تو نہیں ہے کہ کتنے مارے گئے اور کتنے بھاگ کر افغانستان چلے گئے ‘ تاہم یہ ضرور پتا ہے کہ دوچار کو چھوڑ کر کراچی والے سارے ہی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ بھاگنے والوں میں سب سے بڑی شخصیت اپنے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہے۔ اویس مظفر ٹپی اپنے بھائی کی وفات پر برطانیہ گئے تھے‘ چالیسواں بھی ہو چکا ہے مگر موصوف کی واپسی کا ان کے بھائی کی برسی کے بعد تک واپسی کا کوئی پروگرام نہیں۔ بی بی فریال تالپور بھی بیرون ملک ہیں۔ زرداری صاحب کی دوسری ہمشیرہ عذرا فضل پیچوہو مع اپنے شوہر ملک سے باہر ہیں۔ ان کے شوہر سرکاری ملازم ہیں اور سندھ میں بڑے اہم عہدے پر متمکن تھے۔ وہ باقاعدہ چھٹی پر بیرون ملک ہیں۔ شرجیل میمن باہر ہیں‘ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیئرمین منظور قادر کینیڈا میں ہیں۔ سندھ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین نثار نورائی باہر بھاگ گئے ہیں۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو بھی غائب ہو جانے والوں میں شامل ہیں۔ بھاگ جانے والوں کی ایک طویل فہرست ہے‘ جن میں سرکاری افسران بھی شامل ہیں اور سیاستدان بھی۔ پی پی پی والے بھی ایم کیو ایم والے بھی۔ بابر غوری بھی اور واسع جلیل بھی۔
اس ساری صورتحال میں حال یہ ہے کہ پہلے تمام متاثرین نے اس سارے آپریشن کے پیچھے اصل طاقت کے بارے میں دھواں دھار بیانات دیے۔ لندن والے کے بیانات کی وجہ سے جب حالات زیادہ خراب ہوئے تو مقامی قیادت نے ہاتھ کھڑے کرنے شروع کر دیے۔ کچھ لوگ بھاگ گئے اور بقیہ دفاعی انداز میں انڈر گرائونڈ ہونا شروع ہوگئے۔ اوپر سے میڈیا والوں کو بڑے عرصے بعد خوف و ہراس سے نکلنے کا موقع ملا تو ادھر سے بھی زوردار حملہ ہوا۔ خیر سے لندن سے بھی بھائی نے بھائی لوگوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرلی اور کافی ہزیمت اٹھانے کے بعد زرداری صاحب نے بھی اس سلسلے میں اپنے رویے سے رجوع کیا اور توبہ تائب ہو کر اپنی ساری بندوقوں کا رخ میاں صاحبان کی طرف موڑتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا۔ پیپلزپارٹی کی سیاسی تباہی اور کرپشن کے خلاف حالیہ آپریشن کے بعد شاید ان کے پاس سیاسی طور پر زندہ رہنے کا اور کوئی راستہ بھی نہیں بچا تھا۔ اب وہ بیرون ملک سے اور بلاول اندرون ملک میاں صاحبان کے بخیے ادھیڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جو پھونک میاں شہبازشریف نے مارنی تھی وہ اب زرداری صاحب نے مار دی ہے۔ آصف علی زرداری‘ راجہ پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف کرپشن کیسز کو تادیر دبائے رکھنے کا انجام یہ ہوا ہے کہ اب یہ حضرات جو بذات خود اس معاملے میں عالمی شہرت یافتہ تھے‘ الٹا میاں صاحبان کی کرپشن کے قصے بیان کرنے پر آگئے ہیں۔ نندی پور وغیرہ کے معاملات نے ان کے بیانات میں خاصا زور بھی پیدا کردیا ہے۔
اگر بڑے میاں صاحب آتے ہی اپنے معاملات سیدھے کر لیتے اور دوسروں کے سیدھے کروا دیتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی مگر یہ دونوں کام ایک سے بڑھ کر ایک مشکل تھے۔ اب تو میاں صاحبان کے بچوں نے بھی سرکاری چھتری تلے کاروبار میں اضافے کے گر سیکھ لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میاں شہبازشریف گھوڑے کے منہ میں نلکی رکھ کر پھونک نہ مار سکے۔
اگر تادیر گھوڑے کے منہ میں دوائی والی نلکی رکھ کر پھونک نہ ماری جائے تو اکثر اوقات یہ پھونک گھوڑا مار دیتا ہے۔ الحمدللہ! گھوڑے نے پھونک مار دی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں