نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

حلقہ این اے 154 اور 122 تبدیلی کی لہر

11 مئی 2013ء کوہونے والے جنرل الیکشن کے دو سال تین ماہ اور چار دن بعد 26 اگست 2015 ء کو الیکشن ٹربیونل کی ایک سوبتیس پیشیوں اور دروغ بر گردن راوی مبلغ دو کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد جہانگیر خان ترین اپنے حلقہ این اے 154 کا فیصلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ اتناوقت اور زرکثیر صرف کرنے کے بعد ہماری عدالتی نظام کی جو تصویر اور بے وسیلہ شخص کی کسمپرسی کا جو منظر سامنے آتا ہے وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے ،لیکن اس طمانچے سے جو زور دار ''چٹاخ‘‘ کی آواز آئی ہے اس پر پھر کبھی سہی۔ فی الحال تو اس فیصلے کے سیاسی مضمرات اور پہلوئوں پر بات کرتے ہیںکہ اعلیٰ حضرت جہانگیر ترین کی ساری بھاگ دوڑ اور خرچے پر سپریم کورٹ کے حکم امتناعی نے پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔
حلقہ نمبر این اے 154 لودھراں۔ایک سے آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ کامیاب ہوئے تھے۔ حلقہ این اے 155لودھراں۔2 سے بھی آزاد امیدوار عبدالرحمن کانجو منتخب ہوئے اور اس سے اگلے حلقے یعنی این اے 156 خانیوال۔ ایک سے بھی آزاد امیدوار رضا حیات خان ہراج کامیاب ہوئے۔ بعدازاں تینوں آزاد امیدوار سرکار کوپیارے ہوگئے یعنی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی۔ لودھراں کا یہ حلقہ این اے 154 ان چار حلقوں میں سے ایک ہے جسے کھولنے کا عمران خان نے مطالبہ کیا تھا۔ مطالبہ تو دھاندلی کا تھا مگر صدیق خان بلوچ جعلی ڈگری کے کیس میں نااہل ہوئے۔ یہ نااہلی محض ایک ماہ تین دن بعد ہی بذریعہ حکم امتناعی دوبارہ اہلیت میں تبدیل ہو گئی۔ حکم امتناعی ہمارے نظام عدل کا سب سے دلچسپ کریکٹر ہے۔ اس بارے میں کہنے کو تو بہت کچھ ہے، لیکن احترام مانع ہے۔
ہمارے ہاں فیصلے قانونی بنیادوں سے زیادہ تعبیری بنیادوں پر ہو رہے ہیں۔ بالکل ویسے ،جیسے آپ اپنا خواب چار بندوں کو سنائیں تو وہ چاروں اس کی الگ الگ تعبیر بیان کریں گے۔ وحید ارائیں کو دو شناختی کارڈ رکھنے کے جرم میں وزارت اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے فارغ کردیا گیا۔ شریف آدمی کا تعلق پسماندہ جنوبی پنجاب سے تھا۔ ساری عدالتوں نے پھرتی دکھائی اور غریب کو کہیں سے سٹے آرڈر ملا اور نہ ریلیف۔ شتابی سے فارغ ہو کر گھرآ گیا۔ اس سیٹ پر الیکشن بھی ہوگیا۔ دوسری طرف عبدالرحمن کانجو کی دو شناختوں کا معاملہ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا اور گمان غالب ہے کہ بقیہ مدت بھی پیشیوں اور اگلی پیشیوں کی نذر ہو جائے گی۔ بورے والا سے نذیر جٹ کو جعلی ڈگری پر نہ صرف نااہل قرار دیا گیا بلکہ ساری عمر کے لئے الیکشن لڑنے کا نااہل قرار دے دیا گیا۔ اس سے کہیں زیادہ شفاف جعلی ڈگری ہولڈر، حضرت نوح ؑکی لکھی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر کے عالم و فاضل مولانا جمشید دستی سے برسرعدالت مستعفی ہونے یا فارغ کر دیئے جانے کی آپشن دے کر نہ صرف استعفیٰ لیا گیا بلکہ انہیں باقاعدہ جعلی ڈگری یافتہ قرار دیا گیا۔ موصوف اس کے بعد تین الیکشن لڑ چکے ہیں اور ابھی تک اسمبلی کے مزے اڑا اور سرکاری خزانے سے مسلسل تنخواہ بھی لے رہے ہیں۔ حلقہ این اے 148 ملتان ایک سے عبدالغفار ڈوگر کی ڈگری اتنی جعلی ہے کہ مثال کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے مگر اللہ کے فضل سے اب تک پانچ سالہ اسمبلی کی آدھی مدت مزے میں گزار چکے ہیں اور بقیہ آدھی بھی اسی طرح گزار لیں گے۔ درخواست گزار شاہ محمود قریشی کے تابعدار اوروہ خود بھی شاید اس کی نااہلی میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے کہ شاہ محمود قریشی بھی فی الحال اس حلقے میں نیا الیکشن کرانے سے کترا رہے ہیں کہ خود وہ پہلے ہی اس حلقے سے مزا چکھ چکے ہیں اوراپنے بیٹے زین قریشی کا سیاسی کیریئر وہ شروع ہونے سے قبل ہی ختم کرانے کا رسک نہیں لے سکتے۔ شاہ محمود قریشی کی فی الحال خواہش یہی ہے کہ معاملہ لٹکا اور عزت محفوظ رہے۔
حلقہ این اے 154 میں مسلم لیگ ن کو شروع میں خاصی دقت کا سامنا تھا۔ آزاد لڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہونے والے صدیق خان بلوچ کو تو الیکشن ٹربیونل نے ساری عمر کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا اس لئے وہ خود تو الیکشن لڑ نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا ان کے بیٹے عمیر بلوچ کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ 2013ء کے جنرل الیکشن میں اس حلقہ سے پیر رفیع الدین شاہ مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔جنہیں پینتالیس ہزار کے لگ بھگ ووٹ ملے تھے۔ صدیق بلوچ کے 86 ہزار 46اور جہانگیر ترین کے 75 ہزار 406 ووٹ تھے۔ جہانگیر ترین محض گیارہ ہزار ووٹ سے ہارے۔
مسلسل دو سال سے زیادہ عرصہ عدالتوں میں صرف کرنے، ایک سو بتیس پیشیاں بھگتنے اور مبلغ دو کروڑ لگانے کے بعد آخر کار جہانگیر ترین کو انصاف مل گیا جو محض ایک ماہ تین دن چل سکا۔ اس حساب سے جہانگیر ترین کو یہ انصاف گیارہ لاکھ چھہتر ہزار چار سو ستر روپے انسٹھ پیسے فی یوم پڑا ۔ دوسری طرف عدالتوں کے بجائے الیکشن کے ذریعے مقبولیت ثابت کرنے کے دعویدار بالآخر عدالتوں کے پیچھے پناہ لینے پر اتر آئے۔ حکومت نے یعنی مسلم لیگ ن اور اس کے فارغ شدہ چاروں امیدواروں نے فیصلے کے بعد بڑی شدومد کے ساتھ کہا کہ وہ کسی صورت عدالتوں کی چھتری تلے کھڑے ہو کر ریلیف نہیں لیں گے۔ بلکہ اپنی اور اپنی جماعت کی مقبولیت کو ووٹوں کے ذریعے ثابت کریں گے۔ لیکن ایک حکمت عملی کے تحت الیکشن سے محض بارہ روز قبل اپنے سارے دعووں کے برعکس عدالت کی چھتری تلے کھڑے ہوگئے۔ عدالتوں میں نہ جانے کا دعویٰ کرنے والے اپنی اس ڈھٹائی پر رتی بھر شرمندہ نہیں اور اسے اپنی اصولی فتح قرار دے رہے ہیں۔
ہم جو خود کہتے ہیںاس پر عمل نہیں کرتے۔ میرا اپنا یہی حال ہے۔ میں امریکہ میں ایک محفل کے دوران اس بات پر تائو کھا گیا کہ امریکہ میں بیٹھے ہوئے لوگ ہمیں پاکستان سے محبت کے طور طریقے بتاتے ہیں جن کے پاس پاکستان کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ نہیں۔ دوسری طرف یہ عالم ہے کہ میرے ہر کروڑ پتی دوست کے پاس دوہری شہریت ہے۔ یہ دوسری شہریت والے بلکہ اکہری غیر ملکی شہریت رکھنے والے ہمیں حب الوطنی کا درس دیتے ہیں اور امریکہ میں بیٹھے وہ لوگ جو چار چھ سال سے کبھی پاکستان نہیں گئے ہمیں پاکستان کے حالات بتاتے ہیں اور میرا اپنا یہ حال ہے کہ میں نے وطن سے غیر حاضری کے باوجودخود پاکستان کی سیاست بارے دعویٰ کردیا۔ شفیق نے جب پوچھا کہ جہانگیر ترین لودھراں سے الیکشن لڑے گا؟ تو میں نے جواباً کہا کہ مجھے یہ توپتہ نہیں کہ الیکشن ہوگا یا نہیں، تاہم اتنا ضرور پتہ ہے کہ جہانگیر ترین ہار رہا ہے۔ واپس پاکستان آیا تو پتہ چلا کہ حالات دنوں میںبدل سکتے ہیں۔ غیر حاضری میں دعوے نہیں کرنا چاہئیں۔ دعویٰ ویسے بھی بندے پر نہیں سجتا کجا کہ حالات سے تازہ آگہی بھی نہ ہو۔ صورتحال یہ ہے کہ جہانگیر ترین کی پوزیشن اگر زیادہ اچھی نہیں تو بھی سو میں سے اکیاون ضرور ہے۔ یہ آج کی صورتحال ہے کل کیا ہوگا، اس کے بارے میں تو کل ہی بتایا جاسکتا ہے، یہ صورتحال تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ مگر فی الوقت حلقہ این اے 154 میں مسلم لیگ ن کو مشکل صورتحال کا سامنا تھا۔ باوجود اس کے کہ باقاعدہ پری پول رگنگ کرتے ہوئے مسلم لیگ کے سابق امیدوار پیر رفیع الدین بخاری کو خادم اعلیٰ کا مشیر مقرر کرنے کا دائو بھی کھیلا گیا کہ موصوف دوسری صورت میں جہانگیر ترین کی حمایت پر آمادہ تھے۔ جہانگیر ترین اپنی دولت کے جھاڑو سے ازقسم انصاف، امیدوار اور ووٹر، سب کچھ اکٹھا کرسکتے ہیں۔ عمران خان بھی تبدیلی کے نعروں کے باوجود کم ازکم اس معاملے میں دیگر روایتی لیڈروں جیسے ہی ہیں کہ الیکشن غریب مگر مخلص کارکنوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے بندے کا امیر ہونا نہایت ضروری ہے۔ سو حلقہ این اے 154 میں جہانگیر ترین اور حلقہ این اے 122 میں علیم خان کو ملک میں ''تبدیلی‘‘ لانے کا فریضہ سونپا گیا ہے۔فی الوقت حلقہ این اے 154 کی تبدیلی تو حکم امتناعی کی نذر ہو گئی ہے۔ دیکھیں!این اے 122 میں کیا ہوتا ہے؟۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں