نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ابتدائی نتائج،اٹلانٹک صوبوں میں لبرل پارٹی کو5نشستوں پربرتری
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- کوروناکی وجہ سےہزاروں ووٹرزنےایڈوانس پول اورپوسٹل بیلٹ استعمال کیا
  • بریکنگ :- لبرل پارٹی،اپوزیشن کنزرویٹوپارٹی اورنیوڈیموکریٹک پارٹی میں کانٹےکامقابلہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ثواب کمانے کا نادر موقعہ

منیر نیازی کی ایک پنجابی نظم :
اج دا دن وی اینویں لنگھیا، کوئی وی کم نہ ہویا
پورب ولوں چڑھیا سورج پچھم آن کھلویا
ناں میں ملیا خلقت نوں نہ یاد خدا نوں کیتا
ناں میں پڑھی نماز تے ناں میں جام شراب دا پیتا
خوشی ناں غم کجھ حاصل ہویا، نہ ہسیا نہ رویا
اج دا دن وی اینویں ای لنگھیا کوئی وی کم نہ ہویا
ترجمہ: آج کا دن بھی ایسے ہی گزر گیا اور کوئی کام بھی نہ ہو سکا۔ مشرق سے سورج چڑھا اور مغرب میں آ کھڑا ہوا۔ میں نے سارا دن نہ مخلوق سے راہ ورسم رکھی اور نہ ہی خالق کو یاد کیا۔ نہ میں نے نماز پڑھی اور نہ ہی شراب کا جام لنڈھایا۔ نہ خوشی ملی اور نہ ہی غم سے آشنا ہوا‘ نہ میں ہنسا اور نہ ہی رویا۔ آج کا دن بھی ایسے ہی گزر گیا اور کوئی بھی کام نہ ہو سکا۔
ملک عزیز میں بھی روز ایسا ہی دن چڑھتا اور غروب ہو جاتا ہے۔ یہ شغل بیکار ہمارا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے۔ اب تو حکمرانوں پر غصہ آنا بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ شبہ ہے کہ وہ دراصل اس بات سے آگاہ ہی نہیں کہ حکمرانوں کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟ گمان گزرتا ہے کہ وہ واقعتاً یہ نہیں جانتے کہ وہ حکمرانی پر کس کام کے لیے فائز کیے گئے ہیں؟ ان کی ڈیوٹی کیا ہے، ان کے فرائض منصبی کیا ہیں؟ ممکن ہے انہیں حکمرانوں کے فرائض کے بارے میں پتہ ہی نہ ہو کہ انہیں کیا کرنا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ انہیں واقعتاً وہی پتہ ہو جو وہ کر رہے ہیں۔ موج میلہ، مستقبل کی معاشی خوشحالی کا بندوبست، بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق روزانہ کی بنیادوں پر جاری ہونے والا ''این آر او‘‘۔ جمہوریت کی سرفرازی کے لیے مک مکا کی علمبرداری، اپنی حکومت کے دوام کے لیے ''بھائی بندی‘‘ کا سنہرا اصول اور دیگر معاملات پر کان لپیٹ کر زندگی گزارنے کا طریقہ۔ اللہ کی وسیع زمین پر سیر سپاٹا، موٹروے اور میٹرو بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی اگلی نسل کو ایسی ہی حکمرانی کے لیے تیار کرنے کی فکر۔ اس کے علاوہ حکمرانوں کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہے۔
کراچی میں رینجرز کی توسیع کا معاملہ بھی بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ اسلام آباد والوں کو اپنی حکمرانی کی فکر ہے۔ 2018ء تک بلا شرکت غیرے معاہدہ بقائے باہمی کے زریں اصولوں کے تحت خادم اعلیٰ کو بالکل یاد نہیں کہ انہوں نے زرداری صاحب کو لاڑکانہ، اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا؛ حتیٰ کہ انہیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو انہوں نے اپنا نام تبدیل کرنا تھا۔ میاں شہباز شریف کو عدیم الفرصتی کے باعث اگر نام تبدیل کرنے کا وقت نہیں مل رہا تو یہ عاجز ان کی اس کار خیر میں مدد کرنے کے لیے دامے، درمے، سخنے اپنے پلے سے اخبار میں اشتہار برائے تبدیلی ٔنام دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہے۔
سندھ حکومت نے معاملہ ہفتہ ڈیڑھ لٹکانے کے بعد بالآخر اپنی شرائط پر یعنی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو سہولت فراہم کرنے، سرکاری دفتروں کو رینجرز کے دائرۂ اختیار سے آزادی دلا کر اور مجرموں کو قبل از وقت اطلاع کا اختیار حاصل کر کے رینجرز کی کراچی میں توسیع کا معاملہ حل کر دیا ہے۔ چار دن پہلے لگتا تھا کہ اس معاملے پر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کچھ کھینچا تانی ہو گی مگر اقتدار کی محبت بری چیز ہے۔ عدالتیں، تفتیشی عملہ اور قانونی کارروائی یعنی پراسیکیوشن میں موجود نقائص اور مشکلات کے سبب پہلے ہی اس سلسلے میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔ اب تو اس معاملے میں کسی نتیجہ خیزی کا رہا سہا امکان بھی ختم ہو گیا ہے کہ اختیارات میں کٹوتی کا سارا فائدہ براہِ راست انہیں ہوا ہے جن کے خلاف کارروائی کا تھوڑا بہت امکان بھی موجود تھا۔ اب راوی چین لکھتا ہے۔
چار دن پہلے چوہدری نثار علی خان نے فرمایا کہ ''ہم ڈاکٹر عاصم کی وڈیو چلا دیں گے‘‘۔ جواباً خورشید شاہ بھی برسے اور چانڈیو صاحب نے بھی کافی ''چاند ماری‘‘ کی۔ انہوں نے پنجاب کے بہت سے ''ڈاکٹروں‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی لگائی کہ وہ بھی پنجاب کی بہت سی شخصیتوں کے بارے بتائیں گے۔ پھر دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔ نہ اب چانڈیو نے پنجاب کے ڈاکٹروں کے راز سے پردہ اٹھایا ہے اور نہ ہی چوہدری نثار علی خان نے ڈاکٹر عاصم کی ویڈیو چلائی ہے۔ یہ ہمارے ملک میں بڑے عرصے سے ڈرامہ چل رہا ہے۔ ذاتی معاملات آتے ہیں تو ایک دوسرے کے کپڑے سربازار اتارے جاتے ہیں، جونہی صلح ہوتی ہے، سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات لگتے ہیں اور پھر چاردن بعد سب کچھ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کوئی مائی کا لال یہ نہیں پوچھتا کہ الزامات کا کیا بنا؟۔ کوئی سوال نہیں اٹھاتا کہ اگر آپ کے معاملات آپس میں ٹھیک ہو گئے ہیں تو قومی جرائم کا کیا بنا؟۔ ڈاکٹر عاصم کی اگر کوئی ویڈیو ہے تو وہ چوہدری نثار علی خان کی ذاتی ملکیت نہیں کہ جب چاہیں چلانے کی بات کریں اور جب چاہیں دبا کر بیٹھ جائیں۔ اسی طرح پنجاب کے ''ڈاکٹروں‘‘ کی کوئی سٹوری ہے تو وہ سامنے آنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے اپنی توپیں ٹھنڈی کر لیں تو چانڈیو صاحب بھی ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے۔ اگر جرائم ہوئے ہیں اور لوگ مجرم ہیں تو حقیقت حال سامنے آنی چاہیے۔ ادھر نہایت ہی اعلیٰ پائے کے قانون دان اور بزعم خود اصول پسند سیاستدان چوہدری اعتزاز احسن جو قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں‘ اپنی لیڈر شپ کے جرائم پر پردہ ڈالنے میں سب کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور بجائے اس کے کہ کہیں اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے ‘تا ہم یہ ضرور ہو کہ قانون کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے خوف نہیں ہونا چاہیے اور اگر کوئی مجرم ہے تو اسے معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔ چوہدری اعتزاز احسن کو اب یاد آیا ہے کہ انہوں نے کرپٹ حکومت کی 2014ء میں مدد کر کے بڑا ظلم کیا تھا۔ اللہ کی شان ہے کہ ایک اعلیٰ درجے کے قانون دان کو اب یاد آیا ہے کہ انہوں نے سال پہلے ایک کرپٹ حکومت کو بچا کر غلطی کی تھی۔ چوہدری اعتزاز احسن اب اس وقت کرپٹ حکومت کو بچانے کے احسان کا بدلہ یہ چاہتے ہیں کہ اب ان کے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالاجائے۔ ویسے انصاف کی بات تو یہی ہے کہ ''احسان کا بدلہ احسان سے اتارا جائے‘‘۔
یہ سب جمہوریت کا حسن ہے کہ کرپشن پر بھی بولنا منع ہے‘ لوٹ مار پر انگلی اٹھانا بھی جرم ہے۔ سرکاری افسران کو بے ضابطگیوں پر گرفتار کرنا زیادتی ہے‘ باہر بھاگے ہوئے لٹیروں بارے بات کرنا میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی ہے۔ آٹھ ہزار سے زائد مجرموں کو قومی مصالحتی آرڈی ننس کے تحت دی جانے والی معافی بارے سوال کرنا اخلاقی تقاضوں کے منافی ہے۔ رانا مشہود کی ویڈیو بارے گفتگو ممنوع ہے۔ زعیم قادری کے بہائو الدین زکریا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس بارے مشکوک کردار پر روشنی ڈالنا شرافت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر عاصم پر گرفت کرنا جمہوریت کی بساط کو لپیٹنے کی کوشش ہے اور رینجرز کو کراچی میں توسیع دینا بھائی چارے کی فضا کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔ ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''چور اور کتیا آپس میں ملے ہوئے ہیں‘‘۔
نہ پیپلز پارٹی چور ہے اور نہ ہی مسلم لیگ والے لٹیرے ہیں‘ میرا سوال یہ ہے کہ اس ملک میں کرپشن، لوٹ مار اور پیسے کی ماردھاڑ کون کر رہا ہے؟۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے تو یہی دو پارٹیاں اقتدار میں ہیں اور مزے لوٹ رہی ہیں۔ اگر یہ دونوں پارٹیاں نیک، پارسا اور ایماندار ہیں تو بے ایمان کون ہے؟ کرپشن کون کر رہا ہے؟‘ لوٹ مار میں کون مصروف ہے؟‘کشتیوں میں اربوں روپے کون لے جا رہا ہے؟ کس کے گھر کے تہہ خانے سے اربوں روپے کا کیش برآمد ہوتا ہے؟۔ دوبئی میں محلات کس کے ہیں؟۔ لندن میں کس کے بیٹے نے پانچ سو ملین برطانوی پائونڈ سے زیادہ رقم کی پراپرٹی کا کاروبار چلا رکھا ہے؟۔ کس نے جدے میں سٹیل ملز کے لیے منی لانڈرنگ کی ہے؟۔ کس نے دو سو ملین ڈالر کے یوروبانڈ کو فرنٹ مینوں کے ذریعے خریدا ہے؟۔ کون ہے جو چوروں کو تحفظ دے رہا ہے؟ کون ہے جو چوروں کی دم پر پائوں آنے سے شور شرابا کر رہا ہے؟
حکمران معصوم اور بے گناہ ہیں، پیپلز پارٹی پاک صاف ہے، مسلم لیگ ن بے گناہ ہے تو یہ سب کچھ کون کر رہا ہے؟ اگر کسی کو پتہ چلے کہ مذکورہ بالا سارے کام کون نا معلوم لوگ کر رہے ہیں تو براہ کرم مجھے بتا کر ثواب دارین حاصل کریں۔ ثواب کمانے کا یہ نادر موقع ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں