نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شہبازشریف ،حمزہ اورسلمان شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کیس
  • بریکنگ :- لاہور: عدالت میں 6 بینکرزنےبیان قلمبند کرادیا
  • بریکنگ :- عدالت نے گواہوں کےبیانات قلمبند کرنے کی کارروائی ملتوی کردی
  • بریکنگ :- ایف آئی اے حکام کی بیان قلمبند کرانے کا عمل روکنے کی درخواست
  • بریکنگ :- زیادہ تر بینکرزدوسرے شہروں سے آئےہیں،درخواست
  • بریکنگ :- دور دراز علاقوں سے آنے والے گواہوں کونوٹس موصول نہیں ہوئے،درخواست
  • بریکنگ :- عدالت بیان قلمبند کرنے کی کوئی اور تاریخ دے، استدعا
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

صبح صبح آنے والی ایک فون کال

کمیونسٹ روس کے زمانے میں بڑے لطیفے سننے کو ملتے تھے۔ ترقی پسندوں کا خیال ہی نہیں بلکہ یقین تھا کہ یہ سارے لطیفے باقاعدہ منصوبے کے تحت بنائے اور پھیلائے جاتے ہیں اور اس کے لیے سی آئی اے باقاعدہ فنڈنگ کرتی ہے۔ حقیقت کیا تھی؟ یہ سی آئی اے جانے یا ترقی پسند جانیں تاہم ترقی پسندوں کے دعوے میں وزن لگتا تھا کہ یہ واقعی ایک منصوبے کے تحت پھیلائے جاتے تھے۔ اسی زمانے میں ایک لطیفہ بڑا مشہور ہوا۔
ایک روسی شہر کے بارونق بازار میں ایک دوکان کے تھڑے پر چڑھ گیا اور تقریر شروع کر دی۔ اس نے نام لئے بغیر حکومت پر تنقید شروع کر دی اور کہنے لگا کہ حکومت نااہل ہے‘ وزرا کرپٹ اور نالائق ہیں۔ کسی کو عوام کی رتی برابر فکر نہیں ہے۔ حکمران پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے۔ ملکی معیشت برباد ہو رہی ہے اور حکمرانوں کو محض اپنے بینک بھرنے سے غرض ہے۔ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس میں کسی بہتری کا امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔ تاریخ میں اس سے زیادہ نالائق‘ نااہل‘ بدعنوان اور نکمی حکومت کوئی نہیں آئی۔
ابھی اس نے صرف اتنی ہی تقریر کی تھی کہ بازار میں گھومنے والے سادہ لباس خفیہ ایجنٹوں نے اسے دبوچ لیا اور گھسیٹتے ہوئے قریبی تھانے میں لے گئے اور اسے پولیس کے حوالے کرتے ہوئے تھانے کے انچارج کو اس کے جرم کے بارے میں بتایا۔یہ انتہائی سنگین اور ناقابل معافی جرم تھا۔ تھانے کے انچارج نے ملزم سے سوالات شروع کئے اور پوچھا کہ اس کو اتنی مقبول اور عوام دوست حکومت اور چنیدہ قسم کے لائق فائق وزراکے خلاف اس قسم کی یا وہ گوئی کی جرأت کیسے ہوئی؟ یہ صرف عام نوعیت کا کیس نہیں بلکہ سنگین غداری کا کیس ہے اور اس میں تمہیں کم از کم عمر قید ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے سزائے موت ہی ہو جائے۔
مقرر کی سٹی گم ہو گئی۔ اسے اندازہ ہوا کہ معاملہ اس کی توقعات سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ وہ اپنی حرکت پر پچھتا رہا تھا۔ اس نے سارے معاملے کا رُخ پھیرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اس نے یہ ساری تقریر بورژوائی نظام حکمت کے خلاف کی ہے نہ کہ پرولتاری حکومت کے خلاف۔ اس کی تقریر کا مخاطب امریکی حکومت اور سرمایہ دارانہ نظام حکومت تھا نہ کہ روس کی عوام دوست حکومت۔ اس کا اشارہ امریکی کانگریس کی طرف تھا نہ کہ پولٹ بیورو کی جانب۔ اس نے امریکی حکومت اور وزرا کو نالائق‘ نااہل‘ بدعنوان اور نکما کہا تھا۔ تھانے کے انچارج کو یہ بہانہ سن کر تائو آ گیا۔ اس نے کرسی سے اٹھ کر ایک زوردار تھپڑ ملزم کے منہ پر مارا اور کہنے لگا ‘ہم سے چالاکی کرتے ہو۔ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ کونسی حکومت اور وزرا نالائق‘ نااہل‘ بدعنوان اور نکمے ہیں؟
یہ بھولا بسرا اور متروک قسم کا پرانا لطیفہ اس طرح یاد آیاکہ ایک دو دن سے ہمارے ہر دلعزیز صدر جناب ممنون حسین صاحب بھی اسی قسم کے ارشادات سے مستفید فرما رہے ہیں کہ بدعنوان عنقریب اللہ کی پکڑ میں آئیں گے۔ پاناما لیکس کا معاملہ قدرت کی طرف سے اٹھا۔ پتا نہیں کون کون سے معاملات پاناما لیکس سے اٹھیں گے ‘جو ابھی اطمینان سے بیٹھے ہیں وہ بھی دو دو ماہ‘ چار ماہ اور سال بعد لپیٹ میں آئیں گے ‘جو جتنا کرپٹ‘ چہرے پر اتنی ہی نحوست ہوتی ہے۔ اب بڑے بڑے کرپٹ لوگ پکڑے جائیں گے۔ حساب ہر ایک کا ہو گا۔ ملکی دولت لوٹنے والے پکڑے جائیں گے۔ پاکستان میں اب کرپشن نہیں چلے گی۔ یہ سارے بیانات اپنے صدر مملکت جناب ممنون حسین نے دیئے ہیں اور ایک ہی روز نہیں بلکہ دو دن لگاتار دیئے ہیں۔ ایک روز انہوں نے یہی باتیں کوٹری ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے اور دوسرے روز انہوں نے گورنر ہائوس کراچی میں فنی
تربیت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔
آج صبح ملک خالد کا فون آ گیا۔ چھوٹتے ہی کہنے لگا کہ صدر مملکت آج کل مسلسل کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا کچھ خاص نہیں کہہ رہے۔ وہ یہ باتیں اپوزیشن والوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں جن کے نام پاناما لیکس میں آ رہے ہیں۔ مثلاً عمران خان نیازی سروسز والی آف شور کمپنی۔ ملک ہنسا اور کہنے لگا، تحقیقات میں عمران خان تو صاف بچ جائے گا کہ اس کی آف شور کمپنی کے لیے پاکستان سے ایک دھیلہ بھی نہیں گیا تھا۔ اس نے کائونٹی کرکٹ سے کمائے گئے پیسے سے فلیٹ خریدنے کے لیے ایک آف شور کمپنی بنائی‘ بعد میں یہ فلیٹ بیچ کر پاکستان لے آیا۔ سب باتوں کا ثبوت موجود ہے۔ کاغذات حاضر ہیں لہٰذا وہ تو اس میں پھنستا نہیں۔ پھنسیں گے وہ جو یہاں سے پیسہ لے کر گئے ہیں اور سب کو پتا ہے کہ یہاں سے پیسے کون باہر لے کر گیا ہے۔ صدر صاحب کی ساری باتیں‘ ساری تقریریں جن کے خلاف جا رہی ہیں تمہیں بھی پتا ہے اور ہمیں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ صدر صاحب کس کے کہنے پر یہ باتیں کر رہے ہیں؟ کیا وہ اگلے سیٹ اپ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
میں نے کہا تمہیں دراصل اپنے صدر صاحب سے آگاہی نہیں ہے۔ وہ معصوم اور بھولے بھالے آدمی ہیں۔ جیسا کسی نے لکھ دیا‘ ویسا انہوں نے پڑھ دیا۔ پھر جب وہ ایک تقریر پر رواں ہوتے ہیں تو کئی دن وہی تقریر کرتے رہتے ہیں۔ انہیں دراصل اب زیادہ محنت طلب کاموں کی عادت نہیں رہی۔ کون روز روز نئی تقریر یاد کرتا پھرے۔ ویسے بھی انہیں کون سا ہرروز تقریر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کبھی کبھار موقع ملتا ہے کہ وہ تقریر فرمائیں ‘ لہٰذا وہ گزشتہ تقریر سے ہی کام چلانے کی کوشش کر تے ہیں‘ خاص طور پر جب اگلے ہی روز تقریر کرنا پڑ جائے۔ مجھے تو اس سلسلے میں بذات خود تجربہ ہے۔ بائیس اپریل کو انہوں نے پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر اسلام آباد میں کتاب میلے کے افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے جو تقریر فرمائی تھی بالکل وہی تقریر انہوں نے اگلے روز یعنی تیئس اپریل کو ''بک ایمبسیڈرز‘‘ کو ایوان صدر میں کھانے سے پہلے بھی حرف بہ حرف وہی تقریر سنائی جو ایک روز قبل کی تھی۔ یہ سارا قصور ان کا ہے جو ان کی تقریر لکھ رہے ہیں۔
ملک خالد ہنسنے لگ پڑا‘ کہنے لگا نہ صدر صاحب اتنے بھولے ہیں اور نہ ہی تم اتنے لاعلم ہو جتنا بننے کی کوشش کر رہے ہو۔ انہیں کہیں نہ کہیں سے کوئی لائن دے رہا ہے۔ لائن دینے والوں کی کوشش ہے کہ یہ صدر والا سیٹ اپ چلتا رہے‘ ورنہ نون لیگ والوں کو پتا ہے کہ بدعنوان اور کرپٹ کون ہے؟ انہیں بھی روسی تھانیدار کی طرح پتا ہے کہ کونسی حکومت بدعنوان‘ نااہل‘ نالائق اور نکمی ہے۔ تم کل اسلام آباد جا رہے ہو‘ وہاں پتا لگانے کی کوشش کرو کہ اندر کا معاملہ کیا ہے؟ صدر مملکت آخر روز روز ایک ہی بات کیوں کہہ رہے ہیں۔ بات بھی ایسی جس سے میاں صاحب کا بلڈ پریشر ہائی بھی ہو سکتا ہے اور Low بھی۔ تمہارا کیا خیال ہے ‘قوم بھی اتنی ہی بھولی ہے جتنے تم اور اپنے صدر صاحب؟ کیا لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کھچڑی پک رہی ہے؟
میں ہنسا اور کہا : ممکن ہے صدر صاحب یہ باتیں صرف اس لیے کر رہے ہوں کہ وہ قوم میں اپنا امپریشن بہتر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کٹھ پتلی صدر نہیں بلکہ بااختیار ہیں اور کم از کم اتنے تو ضرور ہیں کہ تقریر اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں۔ کل تم نے ایک پوسٹ پڑھی تھی جس میں کسی ستم ظریف نے ''بریکنگ نیوز‘‘ کا ٹائٹل دے کر لکھا ہوا تھا کہ ''حکومت کا صدر ممنون حسین کو مہینہ میں دو بار دھوپ لگوانے پر غور‘‘۔ اب بھلا آپ خود بتائو اگر یہ والا سوشل میڈیا کا پیغام صدر مملکت تک پہنچ جائے تو وہ تائو نہیں کھائیں گے؟ وہ اپنی خودمختاری اور آئینی حیثیت دکھانے کے لیے اس طرح کی تقریر نہیں کر سکتے؟
ملک خالد میری کسی بات کو ماننے پر تیار ہی نہیں تھا۔ کہنے لگا مذاق نہ کرو اصل بات پر آئو۔ آخر صدر مملکت یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ میں نے کہا تم نے میری ہر بات کو رد کر دیا ہے ‘اب میرے پاس صرف ایک وجہ ہی رہ جاتی ہے۔ ملک خالد کہنے لگا وہ کیا ہے؟ میں نے کہا جب ماریشس کی صدر امینہ پاکستان آئیں تھیں اور ہمارے صدر مملکت کے ساتھ سلامی کے چبوترے پر کھڑی تھیں تم نے وہ تصویر دیکھی ہے؟ ملک خالد کہنے لگا دیکھی تھی۔ صدر امینہ نے نیلی ساڑھی پہنی ہوئی تھی اور وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا تم نے صدر ممنون صاحب کو دیکھا تھا؟ ملک کہنے لگا سوری! میں نے ان پر غور نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا ملک ! اگر یہ بات بھابھی کو پتا چل جائے تو تمہاری اچھی خاصی طبیعت صاف ہو جائے۔ اللہ کے بندے ‘اس تصویر میں صدر ممنون حسین کی پینٹ کے سامنے اتنی شکنیں تھیں کہ خدا کی پناہ۔ ان کے درزی کو توپ کے سامنے رکھ کر اڑا دینا چاہیے تھا۔ اس تصویر نے بھی الحمدللہ سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچائی تھی اور مقبولیت حاصل کی تھی۔ میرا خیال ہے صدر ممنون حسین نے بھی وہ تصویر دیکھ لی ہو گی۔ ویسے اس تصویر کو دیکھنے کے بعد غصہ آنا بالکل قدرتی اور جینوئن تھا۔
ملک خالد نے فون بند کر دیا۔ میں نے دو بار کال بیک بھی کیا مگر ملک خالد نے فون ہی نہیں اٹھایا۔ پتا نہیں کس بات کو مائنڈ کر گیا ہے؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں