نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- جسٹن ٹروڈوکی لبرل پارٹی 100 نشستوں کےساتھ پہلےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
  • بریکنگ :- کنزرویٹوپارٹی 51 نشستوں کےساتھ دوسرےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اٹھارہ سو پندرہ سال قبل لکھا جانے والا استعفیٰ

سید قائم علی شاہ کے وزارت عظمیٰ سندھ سے استعفے کے ساتھ ہی بھلکڑ پن ‘ غیر حاضر دماغی ‘ طویل العمری اور ایک مقامی مشروب کی مشہوری کا خوشگوار باب بند ہو گیا۔ بطور وزیر اعلیٰ ان کے بارے میں آخری لطیفہ یہ تھا کہ ''ظالمو!میعاد تو رینجرز کی پوری ہوئی تھی‘‘۔ بطور وزیر اعلیٰ ان کا آخری بھلکڑ پن ان کے مستعفی ہونے سے چند سکینڈ پہلے وقوع پذیر ہو ا جب انہوں نے گورنر سندھ کو اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے میں تاریخ ڈالتے ہوئے 27-7-2016کی بجائے 27-7-201ڈال دی۔ ان کے اس بھلکڑ پن سے ان کی ذات کے ساتھ طویل العمری کے حوالے سے منسوب لطائف کو نئی زندگی عطا ہو گئی۔
شاہ جی سندھ کی سیاست کے ایک ناقابل فراموش کردار تھے۔ بلکہ تھے کیا؟ اب بھی ہیں۔ ایک بار ایک لطیفہ آیا کہ مصر کی حکومت نے اپنے تمام مخطوطات اور تاریخی دستاویزات دیکھنے کے بعد سرکاری طور پر وضاحت کی ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ سید قائم علی شاہ فرعون کے کلاس فیلو تھے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ جب فرعون پیدا ہوا قائم علی شاہ اس وقت میٹرک کر چکے تھے۔ ایک اور لطیفہ تھا کہ جب سکندر یونانی نے ہندوستان پر حملہ کیا تب سکندر اعظم کے ساتھ ملنے والی سید قائم علی شاہ کی تصویر اب تک دریافت ہونے والی دنیا کی پہلی''سیلفی‘‘ ہے۔
ایک اور طویل لطیفہ اس طرح ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد پنجاب کا رخ کیا تو دریائے سندھ سے فوراً پہلے آرام کی غرض سے وہ کسی سایہ دار جگہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اچانک اس کی نظر ایک بزرگ پر پڑی‘ جو ایک بڑے گھنے اور سایہ دار درخت کے نیچے کچھ گھوٹ رہے تھے۔ محمد بن قاسم حیران ہوااور سوچا کہ اس سنسان اورویران جگہ پر اس طرح اپنے کام میں مگن بزرگ ضرور کوئی بہت بڑی ہستی ہیں۔ چنانچہ اس نے بھی اس درخت کا رخ کیا کہ وہ اس بزرگ ہستی سے ملے بغیر آگے جانا فضول سمجھ رہا تھا۔ وہ بزرگ کے پاس آیا اور سلام کیا مگر جواب ندارد۔ ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیا تو بزرگ نے اپنا ہاتھ محمد بن قاسم کے سر پر رکھا اور بولے؛ بیٹا! کتنے دن سے نیند نہیں کی تم نے؟ محمد بن قاسم نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا حضور ایک ہفتے سے۔ بابا جی نے اپنے سامنے رکھے ہوئے مٹی کے کونڈی نما برتن میں پہلے سے موجود سبز رنگ کی پیسٹ نما چیز اپنے سامنے رکھے ہوئے سبز پتوں میں سے چند تازہ پتے اٹھائے اور انہیں اس برتن میں ڈال کر ایک بار پھر بڑے زور دار طریقے سے پیسا اسی دوران اس بزرگ نے اس میں چاروں مغز‘ خشخاش اور بادام وغیرہ بھی ڈالے اور بڑا زور دار گھوٹا لگانے کے بعد اس میں چار پانچ گلاس پانی ڈال کر اس مشروب کے دو گلاس محمد بن قاسم کو پلا دیے۔ محمد بن قاسم کو یہ شربت پیتے ہی سکون سا آ گیا اور اس نے یہ چیز اپنے لشکر کو بھی پلانے کی فرمائش کی۔ بزرگ نے سب کو پلایا۔ پینے کے بعد لشکرتین دن اور تین رات سویا رہا۔ جب محمد بن قاسم جاگا تو دیکھا کہ سارا لشکر اور بزرگ ابھی تک سو رہے ہیں۔ ابن قاسم نے بزرگ کو بڑی آہستگی اور احترام کے ساتھ جگایا اور بولا کہ اگر آپ مجھے اس مشروب کا نام اور اپنا نام بتائیں گے تو میں یہ سندھ دھرتی آپ کے حوالے کر جائوں گا۔ بزرگ لالچ میں پڑ گئے اور اس نے محمد بن قاسم کے کان میں اس مشروب کا نام بتا کر بلند آواز میں کہنے لگے۔ مشروب کا نام آپ راز میں رکھیں میرا نام سید قائم علی شاہ ہے۔ ستائیس جولائی کو دیا جانے والا قائم علی شاہ کا استعفیٰ محمد بن قاسم کی جانب سے عطا کی جانے والی سندھ حکومت کا باضابطہ اور سرکاری اختتام ہے۔
آج صبح چوہدری بھکن سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ شاہ جی کے استعفے سے سندھ کی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ چوہدری بھکن تھوڑے خوشگوار موڈ میں تھا کہنے لگا۔ ایک سید کے جانے اوردوسرے سید کے آنے سے کم ازکم آپ کے جملے پر تو کوئی فرق نہیں پڑا کہ شاہ جی گئے ہیں اور شاہ جی ہی آ گئے ہیں۔ چہرہ تبدیل ہوا ہے مگر باقی صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہ پہلے والے شاہ جی خود مختار تھے اوراب والا خود مختار ہو گا۔ پہلے اویس ٹپی‘ بڑی باجی اور زرداری صاحب معاملات چلاتے تھے اور اب اویس ٹپی کو نکال دیں اور بلاول کو داخل کر دیں۔ باقی سارا حساب ویسا ہی ہے۔ البتہ سید قائم علی شاہ سے منسوب جو لطیفے بنتے تھے‘ جو وہ تقریروں میں باتیں بھول جاتے تھے اوردوران اجلاس سو جاتے تھے وہ اب شاید آپ کو دیکھنے کو نہ ملیں مگر اس سے سندھ کی گڈ گورننس کا نہ پہلے ہی کوئی تعلق تھا اور ہی اب کوئی تعلق ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے نثار مورائی سید قائم علی شاہ کی یادداشت کی خرابی کی پیداوار ہے؟ کیا وہ بھتہ شاہ جی کے لیے اکٹھا کرتا تھا؟ کیا شرجیل میمن کو قائم علی شاہ کی آشیر باد حاصل تھی؟ کیا عزیر بلوچ قائم علی شاہ کا بندہ تھا؟ کیا لیاری گینگ وغیرہ کو سید قائم علی شاہ کی سرپرستی حاصل تھی؟ کیا عزیر بلوچ مخالفین کو شاہ جی کے حکم پر ''اوپر‘‘ کے ٹکٹ جاری کرتا تھا؟۔ کیا کلفٹن وغیرہ میں ایکڑوں پر مشتمل سرکاری زمین قائم علی شاہ نے اپنے خاندان کو الاٹ کی تھی۔ کیا ڈاکٹر عاصم ‘ سید قائم علی شاہ کے سہارے قائم تھا؟۔ اور کیا وہ مال پانی شاہ جی کے در دولت پر رکھ کر آتا تھا؟۔ کیا وہ شاہ جی کا فرنٹ مین تھا؟۔ شاہ جی کا سندھ کی کرپشن میں کوئی مہرہ سامنے آیا ہے؟۔ شاہ جی مسکین آدمی تھے۔ امجد صابری کے قتل پر تعزیتی بیان میں جنید جمشید کو مقتول قرار دینے کے علاوہ وہ بے چارے اپنی مرضی سے کیا کرتے تھے؟۔بے ضرر قسم کے لطیفوں کی سرپرستی اور ایک بالکل مقامی قسم کے مشروب کی پروموشن کے علاوہ وہ اور کیا کرتے تھے؟۔ دو چار عزیروں اور رشتہ داروں کو ٹھیکے دینے یا سرکاری ملازمتیں عطا کرنے کے علاوہ ان کے سفید دامن پر اور کیا داغ ہیں؟۔ وہ اس پیمانے کے کرپٹ ہرگز نہ تھے جس پیمانے کے ان کے کئی اور وزیر تھے۔ سندھ کابینہ کے کئی وزراء اور سندھ حکومت کے سرپرستوں کو سامنے رکھیں تو اپنے شاہ جی ولی اللہ لگتے تھے۔ ان پر بھلکڑ پن کا ملبہ تو ہر چوتھے دن گرتا تھا مگر کرپشن کے الزامات افواہوں کی حد تک بھی کم ہی تھے۔ سنا ہے اپنے آنے والے نئے سید بادشاہ کو نیب ایک دوبار بلا چکی ہے۔
میں نے کہا چوہدری تم نے تو بہت لمبی سٹوری سنا دی ہے۔ چوہدری کہنے لگا۔ یہ سٹوری کا خلاصہ ہے۔اصل سٹوری بڑی لمبی ہے۔ ممکن ہے شاہ جی کی رخصتی کا فیصلہ ان کے بھلکڑ پن کی وجہ سے کیا گیا ہو۔ کیا پتہ وہ کتنی ضروری ہدایت کے مطابق کام کرنا بھول گئے ہوں۔ کیا پتہ کتنی اہم شخصیت کی سفارش کرتے ہوئے اصل نام کی جگہ کسی اور نام کی سفارش کر دی ہو؟۔ کیا پتہ فون کرتے ہوئے اصل آدمی کے بجائے کسی اور سے بات کر لی ہو؟۔ کیا خبر ملزم کے بجائے مدعی کے حق میں رقعہ جاری فرما دیا ہو؟۔ کیا پتہ بڑی باجی کی جگہ جیجا جی کا نام لے دیا ہو؟۔ ممکن ہے بلاول کا حکم زرداری صاحب کے کھاتے میں اور زرداری صاحب کی فرمائش بلاول صاحب کے نام لگا دی ہو؟ شاہ جی سے ایسی خطائیں تو ممکن ہیں مگر یہ کہنا کہ شاہ جی کی گورننس خراب تھی ان پر بالکل بہتان ہے کہ ان کے ہاتھ میں تھا ہی کچھ نہیں۔ کبھی وہ لندن سے ریموٹ پر چلائے جاتے تھے اور کبھی بلاول ہائوس سے۔ آج کل کنٹرول روم دوبئی منتقل ہو چکا ہے تاہم جب سے انہوں نے بلاول کو بھی صاحبہ کہنا شروع کر دیا تھا تب سے ہی بلاول بھٹو زرداری کو شاہ جی کی طرف سے سرکاری راز افشا کرنے کی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے قومی معاملات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
میں نے پوچھا کہ چوہدری ! اب سندھ کی آئندہ صورتحال کیا ہو گی۔ چوہدری کہنے لگا ایسے ہی ہو گی جیسی ہے۔ رینجرز بندے پکڑ کر قانون کے حوالے کرے گی اور وہاں سے اکثر بندے چھوٹ کر واپس آ جائیں گے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کی مکمل اوور ہال کے بغیر سسٹم ٹھیک نہیں ہو سکتا اور یہ کام کم از کم موجودہ حکومتیں‘ خواہ وہ مرکزی ہوں یا صوبائی کرنے کے نہ تو موڈ میں ہیں اور نہ ہی یہ ان کو ذاتی طور پروارہ کھاتا ہے کہ ہر حکومت نے کام چلانا ہے اور سب کے پاس ایسے ہی کھوٹے سکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمران خود بھی سارے کے سارے کھوٹے سکے ہیں۔ جیسی روح ویسے فرشتے۔ جیسے حکمران ویسے ہی ان کے حامی اور حواری۔ ویسے ہی ان کے وزیر اور مشیر۔ سندھ میں زیادہ‘ پنجاب میں کم۔ مگر پاک کوئی نہیں۔ وہاں والے کچھ پکڑے گئے ہیں اور کچھ بھاگ گئے ہیں۔ رینجرز یہاں پنجاب میں آ جائے تو یہاں بھی کچھ پکڑے جائیں گے اور زیادہ بھاگ جائیں گے۔
شاہ جی تو بے چارے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ تھے جیسا حکم ہوا‘ سائیں نے ویسا کر دیا۔ درمیان میں کچھ بھول بھال گئے تو یاد دلانے پر ٹھیک کر دیا۔ ملبہ اس پر ڈالیں جو خود مختار ہو۔ جس کے پاس اختیارات ہوں ۔ جو اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اب بھلا شاہ کے پاس کیا اختیار تھا؟ اگر تھا بھی تو ان کو اپنی کمزور یادداشت اور ناقص حافظے کی وجہ سے یاد ہی نہیں تھا۔ سنا ہے وہ نوکری کے امیدواروں کی عمر کی حد میں رعایت کی درخواست پر دستخط کر کے یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے کراچی میں رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت میں اضافے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ اب بھلا ایسے معصوم آدمی کو اس طرح دوبئی بلا کر فارغ کرنا کوئی اچھی بات ہے؟ کم از کم اپنے سائیں کی وجہ سے صبح صبح واٹس ایپ پر کوئی لطیفہ آ جاتا تھا کوئی فوٹو آ جاتی تھی۔ بندے کی طبیعت پر کراچی وغیرہ کی خبریں پڑھ کر جو تکدر‘ افسوس اورملال طاری ہوتا تھا شاہ جی اسے اپنی بذلہ سنجی اور بے ضرر بیانات سے جو تھوڑا بہت کم کر دیتے تھے ہم اب اس سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
پھر چوہدری نہایت ہی راز داری سے کہنے لگا۔ سید قائم علی شاہ کو پتہ تھا کہ لوگ ان کے پیچھے ہیں اور وہ اوپر والوں کو بہلا پھسلا کر کسی نہ کسی دن ان سے استعفیٰ دلوا کر ہی دم لیں گے۔ اس لیے درویش صفت اور مرنجاں مرنج وزیر اعلیٰ نے احتیاطاً اپنا استعفیٰ آج سے اٹھارہ سو پندرہ سال پہلے ستائیس جولائی سن201 کو ہی لکھ کر رکھ لیا تھا تاہم اسے دینے کا موقع اب آیا تھا اور وہ اپنے بھلکڑ پن کی وجہ سے تاریخ ٹھیک کرنا بھول گئے تھے۔
سندھ کا وزیر اعلیٰ ہائوس ان کے جانے کے بعد بھی آباد رہے گا۔ قائم علی شاہ نہ سہی‘ مراد علی شاہ ہوں گے مگر فیس بک‘ واٹس ایپ ٹوئیٹر اور وائبر وغیرہ میں ان کی کمی سدا محسوس کی جائے گی ع
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں