نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- جسٹن ٹروڈوکی لبرل پارٹی 146 نشستوں کےساتھ پہلےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- کنزرویٹوپارٹی 107 نشستوں کےساتھ دوسرےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

قوم کا مورال حکمران بلند یا پست کرتے ہیں لیکن ذہنی غلام حکمرانوں سے قوم کا مورال بلند کرنے کی اُمید رکھنا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ غلامی اتنی بری چیز نہیں کہ یہ مجبوری کا معاملہ ہے البتہ غلامانہ ذہنیت ناقابل معافی ہے کہ یہ اختیاری معاملہ ہے۔ غلام اگر غلامانہ ذہنیت کا غلام نہیں تو اس کی آزادی کے دن جلد یا بدیر ختم ہو جاتے ہیں مگر غلامانہ ذہنیت کی شب تاریک کا سحر میں تبدیل ہونا ایک بالکل علیحدہ معاملہ ہے اور اس کا خاتمہ ذہنیت کی تبدیلی تک ممکن نہیں۔ ذہنیت کی تبدیلی شاید ایک نسل کا معاملہ نہیں۔ ہم اسی تاریک اور بدترین دور سے گزر رہے ہیں کہ ہمیں ذہنی غلام حکمران سے واسطہ پڑا ہے اور کم از کم حکمرانوں کی موجودہ قبیل سے کسی تبدیلی کی امید رکھنا عبث ہے۔
یہ معاملہ آج کا نہیں عشروں کا ہے اور صرف آج کے حکمرانوں سے متعلق نہیں ماضی کے حکمران بھی بدقسمتی سے ذہنی غلامی کی آخری سطح پر فائز تھے۔ اس میں سول اور فوجی آمروں میں کوئی خاص تحصیص نہیں۔ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں اس لیے کسی ایک پر انگلی اٹھانا زیادتی ہو گی تاہم دونوں طرز کے حکمرانوں سے گلہ علیحدہ علیحدہ ہے۔ جنہوں نے وردی پہن کر ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا انہوں نے بھی ملکی وقار اور عزت و آبرو کے معاملے میں بے حسی اور چشم پوشی کا مظاہرہ کیا اور جو عوام کی طاقت سے آنے کے دعویدار تھے انہوں نے بھی اپنی ذات سے آگے نکل کر نہ سوچا اور نہ ہی اس کا کوئی عملی مظاہرہ کیا۔ حکمران آمر تھے یا جمہوری‘ دونوں نے ملکی عزت و آبرو کے مسئلے پر کسی حمیت کا مظاہرہ نہ کیا۔ ایسے میں قوم کا مورال بھلا کس طرح بلند اور سر کیسے فخر سے اونچا ہو سکتا ہے۔
ریمنڈ ڈیوس کا قصہ ہمارے سامنے ہے۔ سرعام بھرے شہر میں دو قتل کئے اور سول اور فوجی گٹھ جوڑ سے قائم ہونے والی بے حمیتی کے طفیل جہاز پر بیٹھ کر ملک سے ''باعزت‘‘ روانہ ہو گیا۔ ایک طرف قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی ایک امریکی فوجی کو جان سے مارنے کی کوشش کے نام نہاد مقدمے میں چھیاسی سال کی قید بھگت رہی ہے اور فورٹ ورتھ ٹیکساس میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہے۔ اس پر امریکی فوجیوں پر جس حملے کا الزام ہے اس میں کسی کی موت واقع نہیں ہوئی۔ وہ اس جرم میں ایک صدی کے لگ بھگ سزائے قید کی مستوجب قرار پائی کہ وہ 2010ء میں اس سزا کے سنائے جانے سے سات سال قبل 2003ء میں اغوا کر لی گئی اور بگرام ایئربیس پر قیدی نمبر 650 اور گرے لیڈی آف بگرام کے نام سے شہرت پا چکی تھی۔ سات سال کی یہ قید اور چھیاسی سال کی سزائے قید مل کر ترانوے سال یعنی سات سال کم ایک صدی بنتی ہے۔ اس پر دہشت گردی کے الزامات پر زور ہی نہ دیا گیا کہ استغاثہ میں الزام اتنا مضحکہ خیز تھا کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ بقول استغاثہ اسے سترہ جولائی 2008ء کو غزنی (افغانستان) سے بم بنانے کی ترکیب پر مشتمل ہاتھ سے لکھے ہوئے کاغذات اور سوڈیم سائنائیڈ سمیت پکڑا گیا۔ یعنی دنیا کی بہترین سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی ایم آئی ٹی سے فارغ التحصیل عافیہ صدیقی بم بنانے کی ترکیب کا نسخہ تھیلے میں ڈال کر ساتھ لیے پھر رہی تھی۔ یہ ایک حماقت انگیز الزام تھا جسے بعدازاں عدالت میں زیر بحث ہی نہ لایا گیا اور امریکی فوجیوں پر ہلاکت خیز ہتھیار (M-4) رائفل سے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں چھیاسی سال قید سنائی اور قصہ تمام ہو گیا۔
ادھر لاہور جیسے پررونق شہر میں دن دیہاڑے سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانی نوجوانوں کو سرعام اپنے پستول سے نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ بھاگتے ہوئے رش کی وجہ سے پھنس گیا اور مع اسلحہ پکڑا گیا۔ اسے کس طرح آئی ایس آئی کے چیف جنرل پاشا نے سارا بندوبست کر کے چھڑوایا ‘ایک بے غیرتی سے بھرپور قصہ ہے جسے رئوف کلاسرا بڑی تفصیل سے لکھ چکا ہے، اب اس پر دوبارہ کیا لکھنا کہ رئوف نے کوئی بات تشنہ نہیں رہنے دی۔ ہم بحیثیت ملک کے اور ایک قوم کے ریمنڈ ڈیوس کا عافیہ سے تبادلے کا معاملہ اٹھا سکتے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں بے حال ہوئے جانے والی امریکی انتظامیہ سے سودے بازی ہو سکتی تھی مگر یہ تب ہوتا جب حکمرانوں کو اپنے کسی شہری کی‘ اپنی بیٹی کی اور اپنے ملک کی عزت و آبرو کی فکر ہوتی جو بظاہر ندارد ہے۔ لہٰذا جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ ریمنڈ ڈیوس امریکہ چلا گیا اور عافیہ صدیقی ابھی تک امریکی جیل میں ہے۔
یہ تو وہ ہے جو سب کو معلوم ہے لیکن بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جو بہت سے لوگوں کو معلوم۔ نہیں مثلاً میجر محمد اکرم (نشان حیدر) کا معاملہ ۔میں اپنے گزشتہ کالم میں غدار فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان کا قصہ لکھ چکا ہوں کہ بنگلہ دیشی حکومت نے کس طرح پاک فضائیہ کے طیارے کو اغواء کر کے ہندوستان لے جانے کی کوشش میں مارے جانے والے بنگالی افسر کی میت واپس منگوائی اور اسی حادثے میں شہید ہونے والے نوجوان پائلٹ راشد منہاس کو پاکستان کی طرف سے نشان حیدر ملنے کے جواب میں اسی حادثے میں مرنے والے بنگالی کو بنگلہ دیش کا بہادری کا سب سے بڑا ایوارڈ بیرسر یشتھو(Bir Sreshtho) سے نوازا۔ حالانکہ اس وقت بنگلہ دیش بنا بھی نہیں تھا اور وہ مرنے کے وقت بنگلہ دیش ائرفورس کا نہیں، پاکستان ائیرفورس کا باوردی ملازم تھا اور اس کا نمبر PAK/4367 تھا اور وہ سکوارڈن نمبر 2 میں فلائٹ لیفٹیننٹ تھا۔ بنگلہ دیشی حکومتوں نے مسلسل تیس سال تک تگ و دو جاری رکھی اور قطع نظر اس کے کہ بنگلہ دیش کا حکمران ضیاء الرحمان (1977-81) تھا یا حسین محمد ارشاد (1982-90) خالد ضیاء تھی یا حسینہ واجد‘ سب نے ایک ہی سوچ اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور 1976ء سے مسرور ایئربیس کے قبرستان میں دفن اپنے بنگالی غدار پائلٹ کی میت کی واپسی کی کوششوں میں لگے رہے اور بالآخر چوبیس جون 2006ء کو ان کی تیس سالہ کوششیں رنگ لائیں اور وہ اپنے ''شہید‘‘ کی لاش واپس لینے میں کامیاب ہو گئے۔ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے مطیع الرحمان کی لاش کی واپسی کی باضابطہ یا بے ضابطہ گفت و شنید کا آغاز 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا اور میت کی منتقلی کا مرحلہ ہمارے بہادر کمانڈوصدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں تکمیل پذیر ہوا۔
اس دوران کسی پاکستانی حکمران کو شاید یہ یاد ہی نہ رہا کہ ہمارا ایک نشان حیدر کا حامل سپوت میجر محمد اکرم شہید بنگلہ دیش میں دفن ہے۔ جہلم میں اس کی صرف یادگار تو موجود ہے مگر اس کی تربت اس کے آبائی گائوں نکہ کلاں سے ہزار میل سے بھی زیادہ دور بنگلہ دیش کے قصبہ بوگرہ میں اس طرح موجود ہے کہ خدا جانے وہاں کوئی اس کے لیے فاتحہ بھی پڑھتا ہے کہ نہیں۔
''ہلی کا ہیرو‘‘ بھارتی توپ خانے اور فضائیہ کے بے پناہ حملوں کے خلاف ہلی کے محاذ پر بہادری سے لڑتا ہوا اور ناقابل یقین مزاحمت کرتا ہوا پانچ دسمبر 1971ء کو شہید ہوا۔ شہادت کی تاریخ کے اعتبار سے میجر محمد اکرم شہید پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے والا پانچواں شہید سپوت تھا۔ میجر محمد اکرم کی شہادت میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر سے ایک دن قبل ہوئی۔ میجر محمد اکرم ضلع دیناج پور کے قریب ہلی کے محاذ پر شہید ہوا اور اسے حاکم پور (بنگلہ ہلی) کے قریبی گائوں بوالار میں دفن کر دیا۔ میجر اکرم ہماری بے حسی کے طفیل ابھی تک وہیں آسودہ خاک ہے۔ ہم اپنے ہیروز کو فراموش کر چکے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ہی دوسری ہیں۔ گزشتہ پینتالیس سال میں سے بیس سال تک دو فوجی حکمران برسر اقتدار رہے اور پچیس سال سول حکمرانوں نے اقتدار کے مزے لوٹے مگر شاید ان میں سے کسی کو بھی یہ یاد نہ رہا کہ ''ہیلی کا ہیرو‘‘ بنگلہ دیش میں دفن ہے اور اس کی روح مطیع الرحمان کی میت کی منتقلی پر کس قدر بے چین ہو گی۔
نہ ہم ریمنڈ ڈیوس کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی یا پاکستان منتقلی کا سودا کر سکے اور نہ ہی بنگلہ دیش کے جعلی ''بیرسرپشتھو‘‘ مطیع الرحمان کی میت کے بدلے اپنے نشان حیدر محمد اکرم شہید کی میت حاصل کر سکے۔ دراصل ملکی وقار اور عزت و حمیت ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں کہ وہ خود ان اعلیٰ صفات سے یکسر محروم ہیں۔ یہ بات الگ کہ جنت کے مکین کو اس بات سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اس کا جسد خاکی کہاں دفن ہے مگر قوموں کی عزت، آبرو اور حمیت کا تعلق بہر حال اسی دنیا سے ہے جہاں ہم سانس لیتے ہیں۔ بقول اقبال ع
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں