نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا76 واں سربراہی اجلاس آج سےشروع ہوگا
  • بریکنگ :- نیویارک:امریکی صدرجوبائیڈن آج جنرل اسمبلی اجلاس سےخطاب کریں گے
  • بریکنگ :- جوبائیڈن خطاب میں بتائیں گےوہ نئی سردجنگ پریقین نہیں رکھتے،امریکی عہدیدار
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان 24ستمبرکوجنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- 83 سربراہان مملکت، 43وزرائےاعظم، 3نائب وزیراعظم اجلاس سےان پرسن خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- بھارتی وزیراعظم کا25ستمبرکوخطاب،کشمیری اقوام متحدہ کےباہراحتجاج کریں گے
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اللہ سب کو شر پسندوں سے محفوظ رکھے

آج تک ایسا نہیں ہوا کہ چوہدری بھکن محفل میں موجود ہو اور وہ نامعقول سوالات کرنے سے باز آ جائے۔ اگر زیادہ دن بعد ملے تو یہ نامعقولیت بھی اسی حساب سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ آج بہت دن بعد اچانک ہی وارد ہو گیا۔ میں چولستان جیپ ریلی سے واپس آیا ہی تھا کہ یہ حادثہ ہو گیا۔ چھوٹتے ہی کہنے لگا تم سندھ کے نئے گورنر زبیر عمر کو جانتے ہو؟ میں نے کہا میری معلومات ان کے بارے میں خاصی ناقص ہیں۔ بس اتنا تعارف ہے کہ موصوف گورنر بننے سے قبل مختلف ٹی وی چینلز پر میاں نواز شریف کے غیر سرکاری وکیل صفائی کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے اور اپنی انہی خوبیوں بلکہ اپنی اسی اکلوتی خوبی کے طفیل گورنر بن گئے ہیں؛ حالانکہ اچھے خاصے صحت مند تھے اور اچانک کسی بیماری کے حملے کا بھی دور دور تک نام و نشان نہیں تھا مگر پھر بھی میاں نواز شریف صاحب نے انہیں سندھ کا گورنر لگا دیا ہے۔ چوہدری بڑے ''کھچرے‘‘ انداز میں مسکرایا اور کہنے لگا اور کوئی خوبی؟ میں نے کہا ممکن ہے میاں نواز شریف نے عمران خان کو زچ کرنے کے لیے ان کے لیے وہی خدمات سرانجام دینے والے زبیر عمر کے برادر حقیقی اسد عمر ایم این اے کے بھائی کو گورنر لگا دیا ہو۔ چوہدری کہنے لگا تمہاری بات میں وزن ہے بھی اور نہیں بھی۔ ویسے یہ پاکستان کی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
ایک بھائی کسی اور جماعت میں ہے اور دوسرا کسی اور میں۔ باپ ایک جماعت ہے بیٹا دوسری میں۔ باپ مسلم لیگ ن کی طرف سے ایم این اے کا امیدوار ہے، بیٹی پیپلز پارٹی کی طرف سے منسٹر ہے اور بیٹا پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جھنگ سے قومی اسمبلی کا امیدوار ہے۔ گھر کا ایک فرد حکومت میں ہے اور دوسرا اپوزیشن میں۔ اگلے الیکشن میں اپوزیشن والا حکومت میں ہے اور حکومت والا اپوزیشن میں۔ اقتدار بہرحال گھر میں ہی جگر لگا لگا کر پھاوا ہوا جاتا ہے۔
چوہدری پوچھنے لگا کیا تمہیں اندازہ ہے نئے گورنر نے پہلا گورنری فرمان کیا جاری کیا ہو گا؟ میں نے کہا چوہدری مجھے کیا پتا؟ مجھے بھلا کس نے بتانا ہے؟ چوہدری کہنے لگا اس میں بھلا کسی کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ بندے میں کامن سینس ہو تو پتا خود بخود چل جاتا ہے کہ پہلا آرڈر کیا ہونا چاہیے؟ میں نے کہا اچھا پھر تم بتائو۔ کہنے لگا پہلے ایک تاریخی واقعہ سنو۔ میں نے کہا چوہدری خدا را تاریخ پر رحم کرو۔ تمہارے ہتھے جو شے بھی چڑھ جائے اس کا تم دھڑن تختہ کر دیتے ہو، کم از کم تاریخ پر ہی تھوڑا رحم کر دو۔ چوہدری کہنے لگا میں نے یہ تاریخی واقعہ بھی عرصہ ہوا تمہی سے سنا تھا، اگر غلط بیانی یا ناانصافی کروں گا تو تم فوراً پکڑ لو گے۔ تم نے بتایا تھا کہ انگلینڈ کے کسی بادشاہ کا انتقال ہوا تو اس کے تخت کی وارث بیٹی کی عمر شاید سولہ سترہ سال تھی۔ جونہی وہ ملکہ بنی اس نے پہلا شاہی حکم یہ جاری کیا کہ اس کا بیڈ اس کی والدہ کے کمرے سے اٹھا کر کسی علیحدہ کمرے میں لگایا جائے۔ وہ اب مزید اپنی والدہ کے کمرے میں رات گزارنے کے بجائے اپنے ذاتی کمرے میں آزادی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ میں نے کہا چوہدری یہ واقعہ تم نے واقعی درست سنایا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ واقعہ میں نے ضرور سنایا تھا تاہم یہ یاد نہیں کہ ملکہ کس ملک کی تھی یا اس کا نام کیا تھا۔ یورپ ہی کے کسی ملک کی شہزادی کا واقعہ ہے۔
چوہدری کہنے لگا نئے گورنر سندھ جناب زبیر عمر صاحب نے سب سے پہلا حکم یہ دیا ہو گا کہ گورنر ہائوس میں قائم آئی سی یو بند کر دیا جائے۔ اسے دیکھ کر خوف آتا ہے اور جناب مرحوم جسٹس سعید الزمان صدیقی کا ہیولا آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ چوہدری کہنے لگا تمہیں پتا ہے کہ اپنے مرحوم گورنر سندھ جناب سعید الزمان صدیقی صاحب جاتے جاتے قوم پر یہ راز کھول گئے ہیں کہ گورنر کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ چوہدری کہنے لگا گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد 9 نومبر2016ء کو فارغ ہوئے۔ اپنے جسٹس صاحب گیارہ نومبر 2016ء کو گورنر سندھ لگائے گئے اور وہ گورنر ہائوس جانے کے بجائے ہسپتال چلے گئے۔ پھر وہ یا ہسپتال میں رہے یا گورنر ہائوس میں بنائے گئے عارضی ہسپتال میں رہے۔ وہ پورے دو ماہ گورنر سندھ رہے اور اس دوران الحمدللہ نہ انہوں نے کوئی سمری ملاحظہ کی‘ نہ کوئی آرڈر پاس کیا‘ نہ کسی حکمنامے پر دستخط کئے‘ نہ کوئی دورہ کیا‘ نہ کسی وفد سے ملاقات کی‘ نہ کسی تقریب میں شرکت کی‘ حتیٰ کہ پچیس دسمبر کو مزار قائد پر حاضری تک نہ دی۔ سرکاری طور پر تو گورنر ہائوس ان کی بطور گورنر11نومبر2016ء کو تقرری سے لے کر11جنوری 2017ء کو وفات تک گورنر ہائوس عملی طور پر فارغ رہا۔ پھر ان کی وفات کے بعد بھی سندھ کا گورنر ہائوس 2 فروری تک نئے گورنر کا منتظر رہا۔ اب آپ خود بتائو جس صوبے میں گورنر کا عہدہ دو ماہ تیس دن تک خالی یا بیمار پڑا رہے اور صوبے میں نہ کوئی کام رکے اور نہ ہی گورنر کی کمی محسوس ہو تو کیا صدیقی صاحب جاتے جاتے یہ راز افشا نہیں کر گئے کہ گورنر کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے؟ آئینی ضرورت سے قطع نظر کیا وہ یہ بات ثابت نہیں کر گئے کہ گورنر ایک کارِ بے کار کے علاوہ اور کچھ نہیں؟ 
پھر چوہدری مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا تمہیں ''شادیٔـ مرگ‘‘ کا مفہوم معلوم ہے؟ میں نے کہا چوہدری! یہ بات درست کہ میری اردو بہت اچھی نہیں مگر تمہاری موجودگی میں تو میں اردو کے سلسلے میں خود کو علامہ سمجھنے لگ جاتا ہوں۔ خیرت ہے کہ تمہیں اتنے مشکل لفظ کے معانی سے واسطہ آن پڑا ہے؟ چوہدری کہنے لگا دراصل اپنے صدیقی صاحب کو شادی مرگ ہو گیا تھا۔ انہیں جیسے ہی ایک دم سے گورنر بننے کی خبر ملی، خوشی سے ان کا دم پھول گیا‘ سانس رک گیا اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔ اگر انہیں یہ خبر مرحلہ وار سنائی جاتی تو خیریت رہتی۔ اس عمر میں اور صحت کی اس حالت میں خوشی یا غمی کی خبر بم کی طرح نہیں چھوڑنی چاہیے۔ بندے کی حرکت قلب بھی بند ہو سکتی ہے۔ پہلے یہ بتایا جائے کہ حضور آپ کو پٹواریوں کا ہیڈ لگایا جا رہا ہے۔ پھر بتانا چاہیے کہ آپ کو تحصیلدار پرموٹ کر دیا گیا ہے۔ پھر سول جج درجہ سوم کی خوشخبری دی جائے اور اسی طرح دو تین مزید ترقیوں کی خبر سنا کر گورنری وغیرہ کا بتایا جائے۔ شکر کریں اپنے ممنون حسین صاحب کے ساتھ ایسا کوئی نامعقول واقعہ نہیں ہوا؛ حالانکہ ان کے لیے بھی یہ خبر خطرناک ہو سکتی تھی۔ میں نے کہا چوہدری! در اصل تب کافی دن سوچ بچار ہوا تھا اور اس دوران افواہوں کی وجہ سے ممنون حسین صاحب کو آہستہ آہستہ خبریں ملتی رہیں اور وہ اس کیفیت سے بچ گئے جس کا سعید الزمان صاحب شکار ہوئے۔
چوہدری پوچھنے لگا یہ اپنے پاکستان کا سیاسی نظام اسی طرح چلتا رہے گا کہ ایک بھائی مسلم لیگ ن کی طرف سے گورنر سندھ ہو‘ دوسرا بھائی اسلام آباد سے پی ٹی آئی کی طرف سے ایم این اے ہو اور تیسرا بھائی زرداری صاحب کادوست اور ان کے دور میں فوائد حاصل کرنے والا۔ میں نے کہا چوہدری! یہ ہونہار لوگ ہیں۔ ایسے لوگ ہر گھر میں پیدا نہیں ہوتے۔ چوہدری کہنے لگا کیا تم نے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ اور جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی کتاب پڑھی ہے؟ مجھے اندازہ ہو گیا کہ چودھری اب فساد فی الارض پر اتر آیا ہے۔ جواباً میں نے اقرار یا انکارکرنے کے بجائے الٹا سوال داغ دیا۔ میں نے کہا چوہدری تم حلفیہ بیان دو کہ کیا تم نے یہ دونوں چیزیں خود پڑھی ہیں؟ چوہدری کھسیانہ سا ہو کر کہنے لگا، دراصل۔۔۔ وہ لیکن۔۔۔ میں نے بات ٹوک کر کہا چودھری ! یہ لیکن ویکن نہیں چلے گا۔ میری بات کا جواب دو کہ کیا تم نے یہ رپورٹ یا کتاب پڑھی ہے؟ اگر پڑھی ہے تو بات کرو نہیں پڑھی تو چھٹی کرو۔ چوہدری نے دو تین ناقابل تحریر قسم کے القابات سے مجھے نوازا اور اٹھ کر چل دیا۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اس کے مزید شر سے محفوظ رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ایسے شرپسندوں سے محفوظ رکھے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں