نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی ناروےکی ہم منصب سےملاقات
  • بریکنگ :- دوطرفہ تعلقات،علاقائی سلامتی اورباہمی دلچسپی کےامورپربات چیت
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پیر ہووے تاں فیض کرے

عمران خان کی یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ نہ اس نے بینک لوٹا ہے‘ نہ منی لانڈرنگ کی ہے اور نہ ہی کوئی جُرم کیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہر بار کوئی اخبار نویس ہی اس کی شادی کی خبر قوم تک کیوں پہنچاتا ہے؟ شادی یقینا جُرم نہیں مگر عمران خان خود یہ خبر قوم کو کیوں نہیں دیتا؟ وہ یہ خوشخبری اپنے منہ سے قبل از شادی کیوں نہیں دیتا؟ اللہ تعالی نے شادی کو اعلان سے مشروط کیا ہے آخر عمران خان یہ اعلان خود کیوں نہیں کرتا۔ کبھی یہ خبر کسی اخبار نویس کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے اور کبھی عمر چیمہ یہ خبر بریک کرتا ہے۔ اگر یہ بینک ڈکیتی نہیں ہے اور یہ یقیناً نہیں ہے تو عمران خان اسے کسی بینک ڈکیتی منصوبے کی طرح خفیہ کیوں رکھتا ہے؟ وہ اپنے نکاح کے بارے میں ہر بار مولوی سعید کو کیوں مصیبت میں ڈالتا ہے کہ سچ بولے تو مصیبت اور جھوٹ بولے تو عذاب!
کل شاہ محمود کے بیٹے زین قریشی کا ولیمہ ہے۔ شنید ہے چودہ ہزار مہمان اس میں مدعو ہیں۔ یہ عمران پارٹی کے نائب صدر کے بیٹے کا ولیمہ ہے اور دھوم دھڑکا اپنے عروج پر ہے۔ دوسری طرف پارٹی چیئرمین کا یہ عالم ہے کہ چپکے سے شادی کھڑکا لیتا ہے اور سارا ولیمہ نعیم الحق کی صفائیوں کے درمیان برباد ہو جاتا ہے۔ کیا عمران خان کی پارٹی کا میڈیا سیل عمران خان سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آخر شادی جیسا مقدس کام وہ اتنی راز داری سے کیوں کرتا ہے اور ہر بار انہیں مصیبت میں کیوں ڈالتا ہے؟ ان کے لیے مشکل کیوں کھڑی کرتا ہے؟
کل کراچی سے رستم لغاری کا فون آیا اور مجھے اکسانے لگا کہ آخر میں دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتا۔ جواز کے طور پر وہ کپتان کی مثال دینے لگ گیا کہ پینسٹھ سال کا ہے اور ماشاء اللہ سے تیسری شادی کر چکا ہے۔ میں نے اعتراض جڑ دیا کہ ابھی شادی کی نہیں‘ ہاں! البتہ رشتہ ضرور بھیجا ہے۔ رستم لغاری غالباً بحث کے موڈ میں نہیں تھا، کہنے لگا: چلیں آپ کی بات مان لیتے ہیں حالانکہ ماننے والی بات نہیں ہے اور مولوی سعید بھی ریحام خان والے معاملے کی طرح ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے اور گول مول جواب دے رہا ہے۔ بالکل اسی طرح وہ ریحام خان والے معاملے میں بھی نہ ہاں کر رہا تھا اور نہ ناں کر رہا تھا اور پتا چلا کہ شادی ہو چکی تھی۔ اسی طرح اب بھی ایسا ہی معاملہ ہے اور نکاح نامہ چیک کریں گے تو پتہ چلے گا کہ نکاح جنوری میں ہی ہوا تھا مگر فی الوقت اس بحث کو چھوڑیں۔ آپ کی بات مان لی کہ ابھی رشتہ بھیجا ہے اور بشریٰ بی بی کی طرف سے جواب کا انتظار ہے تو آپ مجھے یہ بتائیں بی بی نے طلاق کیوں لی ہے؟ اگر انکار ہی کرنا ہے تو اپنے خاوند مانیکا صاحب میں کیا خرابی تھی؟ تیس سال ساتھ گزارنے کے بعد یکایک کیا معاملہ آن پڑا کہ طلاق کی نوبت آ گئی اور طلاق بھی ایسی کہ سابقہ میاں اپنی مطلقہ بیوی کا رطب اللسان ہے اور اس کے ہونے والے شوہر کا بھی۔ بہرحال بات کہیں اور جا رہی ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ آپ ایسا کیوں نہیں سوچتے؟ میں نے کہا: میں کیسے سوچ سکتا ہوں؟ میرا نہ کوئی پیر ہے اور نہ پیرنی۔ بھلا میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں؟ پرانی بات ہے۔ تب ٹی وی بلیک اینڈ وائٹ ہوا کرتا تھا تب ٹی وی پر ایک سندھی گلوکار سید سلیمان شاہ کبھی کبھار آ جاتا تھا۔ اس کا ایک گانا مجھے یاد ہے۔
''اساں کو عشق مریندا‘ دھولن ول ول قتل کریندا‘‘
اسی گانے کے دوران وہ کہتا تھا کہ ''پیر ہووے تاں فیض کرے‘ ناں تاں فیض بناوں پیر کیا؟‘‘ (پیر ہو تو فیض کرے وگرنہ فیض کے بغیر پیر کیسا؟) رستم لغاری زور سے ہنسا اور بات مذاق میں ہی ختم ہو گئی۔
اگر عمران خان یہی شادی یا شادی کا پروپوزل (جو بھی حقیقی صورتحال ہے) اخبارات میں خبر آنے سے پہلے خود بیان کر دیتا تو کیا حرج تھا؟ ساری بات اسی قاعدہ میں رہتی جس میں لوگوں کی شادی کی بات رہتی ہے۔ نہ خبر اخباروں میں اڑتی اور نہ ہی عمران یا مانیکا فیملی کے لیے پریشانی کا باعث بنتی۔ ریحام خان والا معاملہ بھی اسی لیے شادی کے باوجود سکینڈل نما بن گیا کہ نکاح پرانی تاریخوں میں ہوا تھا اور اقرار بعد میں۔ اب سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں ایسی ایسی پھلجھڑیاں چھوڑی جار رہی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ ستم ظریفوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنے گیا تو جمائما سے شادی کر لی۔ انٹرویو دیا تو انٹرویو والی سے شادی کر لی اور تعویذ لینے گیا تو پیرنی سے شادی رچالی‘‘ صرف اور صرف طریقہ کار اور مروجہ روایات سے دائیں بائیں ہونے کے طفیل ساری بھد اڑ رہی ہے وگرنہ نہ شادی پر کسی کو اعتراض ہوتا اور نہ ہی یہ بات اخبارات اور سوشل میڈیا میں اس طرح سے اڑتی جیسی اب اڑ رہی ہے۔
میری بات سن کر شوکت گجر کہنے لگا دراصل عمران خان کی شادی بارے ہمارا میڈیا دو عملی کا شکار ہے۔ عمران خان اگر بعد میں شادی ڈیکلیئر کرتا ہے تو اس پر میڈیا بھی شور مچاتا ہے اور آپ بھی۔ لیکن کسی نے یہ لکھا ہے کہ میاں شہبازشریف بھی اسی قسم کی شادی کرتے ہیں بلکہ وہ تو بعد میں بھی نہیں بتاتے۔ اوپر سے معاملات کو سنبھالنے کا سلیقہ دیکھیں کہ ان کی کسی نئی شادی بارے نہ تو کوئی اخبار نویس انکشاف فرماتا ہے اور نہ چیمہ صاحب کوئی سٹوری فائل کرتے ہیں۔ اب اللہ جانے یہ عمران خان کی شادی کی پاپولیریٹی کے باعث ایسا ہوتا ہے یا میاں شہبازشریف کی میڈیا مینجمنٹ کے باعث ایسا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ سارے میڈیا کو صرف عمران خان کی شادی کی تاریخ جاننے کی فکر لگی ہوتی ہے اور کسی دوسرے بارے نہ کوئی فکر ہے اور نہ ہی خبر دینے کی جلدی۔
اللہ جانے میڈیا میں میاں صاحبان کے خاندان کی شادیوں بارے اتنا ٹھنڈ پروگرام کیوں چل رہا ہے کسی نے یہ نہیں لکھا کہ میاں صاحب کے کون سے بیٹے نے اپنے بچوں کی لبنانی استانی سے کب شادی فرمائی اور نہ ہی کسی نے... خیر چھوڑیں۔ خواتین بارے تو ویسے بھی نہیں لکھنا چاہیے کہ یہ ہماری مشرقی روایات کے خلاف ہے ورنہ پورے پاکستان کے سیاستدانوں بارے ایسا ایسا کچھ لکھنے کو موجود ہے کہ لکھا جائے تو چھوٹی موٹی قیامت ہی آ جائے۔ ہمارا ایک دوست کبھی بیٹھتا ہے تو پرانے پرانے سیاستدانوں سے لیکر نئے نویلے سیاستدان تک کے ایسے ایسے قصے بیان کرتا ہے کہ کانوں کو ہاتھ لگانے کو دل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرا دل کرتا ہے کہ ان سارے قصوں پر ایک کتاب لکھوں اور پھر ایک چارٹر جہاز کروا کر اس کتاب کو چترال سے گوادر تک جہاز سے ویسے ہی پھینکوائوں جیسے کسی زمانے میں عید پر چھوٹے سینسا جہاز سے پرچیاں گرائی جاتی تھیں۔ پھر یہ ساری کتاب پورے پاکستان میں پھینکوانے کے بعد جہاز کا رُخ امریکہ یا برطانیہ کی طرف کر لوں اور پھر کبھی واپس نہ آئوں کہ اگر واپس آ گیا تو میرا گوشت چیل کوئوں کو ڈلوا دیا جائے گا۔
میرے چند دوستوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میڈیا سب کی شادیوں بارے لکھے کہ ان کے خیال میں جب آپ عوامی نمائندگی کے میدان میں آ گئے ہیں تو پھر کچھ بھی پرائیویٹ یا پرسنل نہیں رہتا لیکن پھر سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے کسی کو اس بارے استثنا نہیں ملنا چاہیے۔ لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس سلسلے میں سب کو ہی استثنا مل جانا چاہیے چاہے وہ عمران خان ہو یا اس کے مخالفین۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک شادیوں کو چھپانے کا معاملہ بھی درست نہیں کہ اس بارے اللہ کا حکم ہے کہ شادی علانیہ کی جائے۔ یہی اعلان ہے جو حلال اور حرام میں تفریق پیدا کرتا ہے تاہم فی الحال پیر اور اس کا فیضان جاری رہنا چاہیے۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں