نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- جسٹن ٹروڈوکی لبرل پارٹی 100 نشستوں کےساتھ پہلےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- کنزرویٹوپارٹی 51 نشستوں کےساتھ دوسرےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پرانے سوال کا جواب اور نئے سوال کا امکان

شاہ جی کی دلی خواہش پوری ہوئی اور ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں میاں نواز شریف کو دس سال قید کی سزا اور اتنا بھاری جرمانہ ہوا کہ میں نے اتنی رقم کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی۔ شاہ جی کافی دنوں سے اس سزا کے منتظر تھے۔ میں نے ان کی اس بے چینی کی وجہ دریافت کی‘ تو شاہ جی نے آگے سے بڑا ہی عجیب جواب عطا فرمایا۔ کہنے لگے: اس کیس میں ‘اگر ان کو سزا ہوگئی تو قوم کو ایک بہت بڑی ''پھسوڑی‘‘ سے نجات مل جائے گی ۔میں نے پوچھا :وہ کیا؟ کہنے لگے ‘پھر وہ جلسوں جلوسیوں میں کم از کم یہ سوال نہیں کریں گے کہ ''مجھے کیوں نکالا‘‘۔ اگر وہ بری ہوگئے ‘تو وہ یہ سوال کر کر کے قوم کا بھیجا پلپلا کر دیں گے کہ ''مجھے کیوں نکالا‘ مجھے کیوں نکالا‘‘۔ اب قوم کو اس کئی ماہ سے جاری منحوس سوال سے نجات مل جائے گی‘ وگرنہ تو جان عذاب کو آجاتی۔
گزشتہ دو دن سے میاں صاحب کی سزا اور اس پر ہر قسم کے تبصرے سے جان چھوٹی ہوئی تھی ۔میں ادھر آسٹریلیا میں ہوں اور ابھی تک اپنی منجھلی بیٹی اور داماد کے سوا کسی تیسرے پاکستانی سے ملاقات نہیں ہوئی۔ دو چار دن بعد سڈنی جائوں گا‘ وہاں پرانے دوستوں سے ملاقات ہوگی‘ تو سب سے پاپولر گفتگو اسی موضوع پر ہوگی۔ ویسے بھی سیاست ہم پاکستانیوں کا پسندیدہ ترین موضوع گفتگو ہے اور ہر اچھے برے حالات میں سیاسی گفتگو ہمارا آخری سہارا ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے شاہ جی کا فون آگیا۔ کہنے لگے: میری امید بر آئی اور آخر کار ہمیں اس سوال سے نجات مل گئی ‘جسے سن سن کر پچھلے کئی ماہ سے میرے کان پک گئے تھے۔ میں نے پوچھا :شاہ جی وہ کیسے؟۔ کہنے لگے: میاں صاحب کو سزا ہوگئی ہے۔ اب انہیں بذات خود اس سوال کا بڑا ''ٹھکواں‘‘ جواب مل گیا ہے ۔اب وہ کسی سے یہ سوال دوبارہ نہیں کریں گے۔ میں نے کہا: شاہ جی! یہ آپ کی خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے ‘اب وہ یہی سوال کسی دوسرے طریقے سے بھی کرسکتے ہیں کہ ''مجھے کیوں اندر ڈالا‘‘ یا اسی قسم کا کوئی اور سوال۔ اور وہ اس نئے سوال سے بھی قوم کی ''مت‘‘ مار سکتے ہیں۔
شاہ جی کہنے لگے: وہ اس قسم کا سوال ہرگز نہیں کریں گے۔ ان کے خلاف جج محمد بشیر صاحب نے بڑا تفصیلی فیصلہ لکھا ہے اور ڈیڑھ سو صفحات پر تو انہوں نے محض یہی جواب لکھا ہے کہ میاں صاحب کو کیوں نکالا۔ باقی بیس پچیس صفحات میں دیگر باتیں لکھی ہیں‘ جو زیادہ ضروری نہیں ہیں۔ میں نے کہا :یہ غیر ضروری باتیں کیا ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے :یہ باتیں دراصل سزا اور قانونی موشگافیوں پر مشتمل تھیں۔ اس لئے اس کو چھوڑیں۔ میں نے کہا: شاہ جی دراصل آپ کو میاں صاحب کی اس عادت بارے بالکل نہیں پتا کہ وہ پڑھنے لکھنے والی چیزوں کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک سو چوہتر صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے۔ میاں صاحب ‘اگر اس فیصلے کو پڑھیں گے‘ تو انہیں اس بات کا جواب ملے گا کہ ''مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ میاں صاحب کے بارے میں‘ میں نے نہایت ہی معتبر شخص سے سنا ہے کہ پڑھنے کے بارے میں میاں صاحب کا ہاتھ بہت ہی تنگ ہے اور وہ خود سے ایک صفحہ نہیں پڑھ سکتے‘ کجا کہ ایک سو چوہتر صفحات۔
میاں صاحب نے تو آج تک پوری فائل کبھی نہیں پڑھی۔ یہ فواد حسن فواد جیسے اعتباری لوگ تھے‘ جو اُن کو بتاتے تھے کہ فائل میں کیا ہے اور انہوں نے اس پر کیا لکھنا ہے‘ بلکہ ایک ستم ظریف نے تو یہاں تک کہا کہ ان کا سیکرٹری کاغذ پر انگلی رکھ کر بتاتا تھا کہ سرجی! یہاں سائن کرنا ہے۔ ان کو بڑا صفحہ دیکھ کر تو ویسے ہی غش پڑ جاتا ہے۔ اسی لئے تو وہ بارک اوباما کو بھی چھوٹی چھوٹی چٹوں پر لکھا ہوا پڑھ کر سناتے تھے۔ ایک سو چوہتر صفحات تو دیکھ کر ہی وہ بے ہوش ہو جائیں گے۔ اب ان کو کسی نے جو پڑھ کر سنا دیا‘ وہ اسی پر یقین کر لیںگے۔ اگر کسی نے ان کو جج محمد بشیر والا فیصلہ کچھ اور کر کے سنا دیا‘ تو وہ اس پر یقین کر لیں گے۔ وہ سدا سے صرف سنی سنائی پر ہی یقین کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔
چند دن ہوتے ہیں‘ ملتان میں ضیاء شاہد صاحب سے ملاقات رہی۔ ان کی ماشاء اللہ یادداشت بھی بہت خوب ہے اور وہ واقعہ سنانے کا فن بھی جانتے ہیں۔ جب وہ قصہ سنا رہے ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ ساری منظر کشی پوری جزئیات کے ساتھ کر رہے ہیں۔ بتانے لگے کہ میاں صاحب کبھی ایک صفحہ بھی نہیں پڑھتے ‘کسی نے پوچھا: انہیں کسی چیز میں مہارت بھی تھی؟ ہنس کر کہنے لگے: انہیں کھانے پینے کے بارے میں مہارت بھی تھی اور انہیں اس معاملے میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ وہ بتانے لگے کہ ایک بار وہ ان کے ساتھ جہاز پر سفر کر رہے تھے۔ چھوٹا سا جہاز تھا اور اس کی پرواز والٹن سے تھی۔ مقصد بہاولپور جیل میں قید شیخ رشید سے ملاقات تھی۔ جہاز والٹن سے اڑا ‘تو میاں صاحب نے پائلٹ سے کہا کہ ذرا نئے ایئر پورٹ کا چکر لگا کر بہاولپور کی طرف جانا۔ تب لاہور کا نیا (موجودہ) ایئر پورٹ بن رہا تھا۔ جہاز نے زیر تعمیر لاہور ایئر پورٹ کا چکر لگایا اور بہاولپور کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس سارے کام میں کتنا وقت لگا ہوگا؟ دس پندرہ یا حد بیس منٹ۔ جونہی جہاز بہاولپور کی طرف مڑا ‘میاں صاحب پلٹے اور پیچھے بیٹھے ہوئے اپنے ایک مصاحب کو آواز دے کر پوچھا: شکیل! کجھ کھان نوں ہے؟ (کچھ کھانے کے لئے ہے) اس نے کہا جی! ہے۔ یہ کہہ کر اس نے ہاٹ پاٹ آگے بھجوا دیا۔ اس میں کوئلے پر بھنے چکن پیس تھے ‘جن پر کافی سارا دھنیا تھا۔ میاں صاحب نے ایک پیس خود لیا اور باقی ہماری طرف بڑھا دیئے۔ ہم نے کہا کہ ابھی ناشتہ بھی نیچے نہیں ہوا ‘بھلا یہ پیس کیسے کھائے جاسکتے ہیں؟ لیکن میاں صاحب نے اصرار کر کے کھلا دیئے۔ ابھی پیس ختم ہوئے ہی تھے کہ انہوں نے پھر آواز لگائی: شکیل! کچھ پین نوں ہے؟ (کچھ پینے کے لئے موجود ہے) اس نے کہا: جی ! کشمیری چائے ہے‘ پھر تھرماس سے کشمیری چائے ڈال کر اس پر پستہ بادام ڈالا اور آگے بھجوا دی۔ چائے ختم کر کے میاں صاحب نے پھر آواز دی: شکیل! کجھ مٹھا ہے؟ (کچھ میٹھا ہے) اس نے کہا جی! گجریلا ہے۔ وہ کھایا تھا کہ بہاولپور آگیا۔
جیل میں پہنچے‘ تو صحن میں دری بچھی ہوئی تھی۔ ساتھ چولہے پر ایک چھوٹی دیگ تھی۔ بتایا گیا کہ اس میں سری پائے پک رہے ہیں۔ ساتھ ہی چھوٹا سا تنور لگا ہوا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ بہاولپور کا سب سے ماہر نانبائی ہے اور کلچے لگانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ابھی صرف بارہ بجے تھے۔ ضیاء شاہد صاحب بتانے لگے کہ میں نے شیخ رشید سے پوچھا کہ یہ کیا؟ تم تو کہتے ہو کہ تمہیں جیل میں بڑی تکلیفیں دی جاتی ہیں اور تمہاری بیرک کے سامنے والے کمرے میں پاگلوں کو رکھا گیا ہے‘ جو ہمہ وقت شور مچاتے رہتے ہیں۔ شیخ رشید نے آہستہ سے کہا: ضیاء صاحب! یہ لوکل اریج منٹ ہے۔ 
جیل سے فارغ ہوئے ‘تو نواب بہاولپور نے کھانے پر بلالیا۔ ابھی دو بجے تھے۔ کھانے پر بکرے کی سجی تھی اور نواب صاحب کا اصرار تھا کہ ضرور کھائی جائے۔ یہ سجی بنانے والا کہیں سے بلایا گیا ہے اور اس جیسی سجی یہاں اور کوئی نہیں بنا سکتا۔ میاں صاحب نے نواب صاحب کا دل بھی نہ توڑا اور سجی پر بھی ہاتھ صاف کیا۔
پھر ضیاء صاحب نے میاں صاحب کی گورنمنٹ کالج ‘لاہور سے گریجویشن بارے بھی کچھ فرمایا‘ تاہم میں محض اس لئے نہیں لکھ رہا کہ کیا خبر لکھنا مناسب ہے یا نہیں۔ اب بھلا ان سے ایک سو چوہتر صفحات پر مشتمل فیصلہ کو پڑھنے کے بارے میں خوش فہمی رکھنا حماقت کے علاوہ اور کیا ہے؟ممکن ہے اب وہ کوئی اور سوال داغ دیں۔ قوم کو اب کسی اور سوال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اللہ جانے اس نئے سوال کا جواب کون اور کب دے گا؟

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں