اسلامی ریاست کیسی ہوتی ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے تو اسے سمجھنے کیلئے مدینۃ النبی کا خلفائے راشدین کے دور میں جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کسی کو اس دور میں مدینہ میں قائم ریاست کے مکمل اسلامی ہونے میں کسی قسم کا شک ہے تو اُسے اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔ ہمارے لیے مدینہ میں قائم ریاست اسلام کے ریاستی اصول وضع کرنے کیلئے راہِ تقلید بھی ہے اور مشعلِ راہ بھی۔
جنابِ عمر الخطابؓ مدینہ کی گلی سے گزر رہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں ایک بوڑھا‘ ناتواں اور نابینا یہودی فقیر دروازوں پر جا جا کر خیرات مانگ رہا ہے۔ وہ بہت کمزور اور ضعیف تھا۔ آپؓ اس کے قریب گئے اور پوچھا کہ تم خیرات کیوں مانگ رہے ہو؟ وہ بولا: مجھ میں جزیہ ادا کرنے کی طاقت ختم ہو گئی ہے اور اب کام کاج کے قابل بھی نہیں ہوں‘ اس لیے مجبوراً سوالی بن کر لوگوں کے در کھٹکھٹا رہا ہوں۔ ابوعبید قاسم بن سلام نے ''کتاب الاحوال‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ سُن کر حضرت عمرؓ جیسے مضبوط دل والے خلیفہ رنجیدہ ہو گئے اور فرمایا ''ہم نے جوانی میں تم سے جزیہ لیا اور بڑھاپے میں تمہیں ذلیل کر دیا؟ اللہ کی قسم! یہ انصاف نہیں‘‘۔ پھر فرمایا ''اہلِ کتاب میں سے جو بوڑھے ہو جائیں‘ کمزور پڑ جائیں یا معذور ہوں‘ ان پر جزیہ نہیں اور نہ انہیں بھیک مانگنے دیا جائے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال کے عامل کو حکم دیا کہ اس بوڑھے اور اس جیسے دوسرے لوگوں کا خرچہ بیت المال سے دیا جائے‘ یہ لوگ اہلِ ذمہ ہیں۔ ان کے بڑھاپے اور کمزوری میں ہم ان کے ذمہ دار ہیں‘‘۔ چنانچہ اس بوڑھے یہودی کا وظیفہ مقرر کر دیا گیا۔ فقہاء نے اسے حضرت عمرؓ کی مالیاتی پالیسی کے اہم اصولوں میں شمار کیا ہے۔
اس واقعے سے دو تین باتیں صاف صاف سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اسلامی ریاست غیر مسلموں کیلئے جائے امان ہے۔ غیر مسلم اسلامی ریاست میں جزیہ دے کر رہ سکتے ہیں۔ جزیہ کے بارے میں اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ غیر مسلم شہریوں پر کوئی اضافی ٹیکس ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے مسلمانوں پر زکوٰۃ‘ عشر اور خمس وغیرہ کی ادائیگی عائد ہے‘ ان تمام فرائض اور ٹیکسوں کی شرح اڑھائی سے بیس فیصد تک ہے جبکہ جزیہ کی شرح اس کے مقابلے میں انتہائی معمولی تھی۔ یہ غیر مسلم شخص کی مالی حیثیت کے مطابق 12درہم سالانہ سے لے کر 48 درہم سالانہ تک تھی۔ اس سے عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے‘ جسمانی طور پر معذور‘ راہب اور سرکاری ملازم مستثنیٰ تھے۔ اس جزیہ کے عوض ریاست انکی جان‘ مال‘ عزت وآبرو اور بڑھاپے میں مالی معاونت کی ذمہ دار تھی۔ قائداعظم کا پاکستان بھی ایسی ہی اسلامی ریاست کا تصور تھا جس میں مسلمانوں کیساتھ غیر مسلم بھی اتنی ہی عزت وآبرو اور تحفظ کیساتھ زندگی گزارنے کے حقدار تھے۔ لیکن غیر مسلموں کا کیا کہیں‘ ادھر تو خود مسلمانوں نے آپس میں کفر کے فتوے لگا کر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے شروع کر دیے اور غیر مسلموں کو کیا حقوق دینے تھے‘ خود ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے میں اوجِ کمال حاصل کر لیا۔ بھائیوں نے بہنوں کا حق مارنا اپنا حق سمجھ لیا اور والدین نے بیٹیوں کو انکا شرعی حق دینے میں ڈنڈی مارنا شروع کر دی۔ کس ریاست کا خواب دیکھا اور کس قسم کی تعبیر سے پالا پڑ گیا۔
آج شاید کسی کو معلوم نہیں کہ گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کی اولین کابینہ میں پاکستان کا پہلا وزیر قانون جوگندرا ناتھ منڈل ہندو دلت تھا۔ یعنی ہندوؤں کی ادنیٰ ترین (یہ ہندو ذات پات کی تقسیم کے مطابق لکھ رہا ہوں نہ کہ میں اس پر یقین رکھتا ہوں) شودر ذات سے تعلق رکھتا تھا۔ منڈل نے گریجوایشن اور قانون کی تعلیم کلکتہ میں حاصل کی اور اسی دوران اپنے سیاسی اور ذہنی میلان کی وجہ سے وہ سماجی انصاف‘ باہمی امن‘ بھائی چارہ اور پسماندہ طبقات کے سیاسی اور سماجی حقوق کی طرف بڑھا۔ اسی دوران چندر بوس اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر( جس نے بھارت کا آئین ڈرافٹ کیا اور اسے '' فادر آف انڈین کانسٹیٹویشن‘‘ کہا جاتا ہے) کی تحریروں اور جدوجہد سے متاثر ہو کر جوگندرا ناتھ منڈل نے بھی یہ جان لیا کہ ہندوستان میں پسماندہ طبقات کی سیاسی آزادی اور سماجی مرتبہ تعلیم اور معاشی طاقت کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا اور ذات پات کا خاتمہ بھی ان اہداف کو حاصل کیے بغیر ناممکن ہے۔ یہ خیالات منڈل کی پوری سیاست کی بنیاد تھے۔
جوگندرا ناتھ منڈل نے وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وکالت کو بطور پیشہ اختیار تو کر لیا لیکن اس کی زیادہ توجہ نچلی ذات کے ہندوؤں کیلئے برابری کے حقوق حاصل کرنے‘ پسماندہ طبقات کی معاشی وسماجی آزادی‘ ذات پات کے خلاف جدوجہد اور ہندو سماج کے اندرونی جبر کے خاتمے پر تھی۔ اس کیلئے وہ مسلمانوں کے تعاون سے نچلے طبقات کو سیاسی طاقت دلانا چاہتا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اپنے مقاصد کے حصول کی سوچ کے پیچھے بنیادی بات یہ تھی کہ بنگال میں تب نچلی ہندو ذاتوں یعنی شیڈولڈ کاسٹس کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی معاشی اور سماجی طور پر کمزور تھے اور اعلیٰ ذات کے امیر ہندو ان دونوں کا یکساں معاشی اور سماجی استحصال کر رہے تھے۔ اس لیے جوگندرا ناتھ یہ سمجھتا تھا کہ ان دونوں طبقات یعنی مسلمانوں اور دلت ہندوؤں کے باہمی اتفاق سے اپنے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسے اُس وقت کی مسلم سیاسی قیادت‘ جس کی سربراہی قائداعظم محمد علی جناح کر رہے تھے‘ پر اعتبار اور بھروسہ تھا۔
جوگندرا ناتھ کو علم تھا کہ کانگریس کی قیادت جو از خود اعلیٰ ذات کے ہندوؤں پر مشتمل ہے‘ دلت ہندوؤں کو برابری کے حقوق دلانے اور اس کی برادری کے ادنیٰ ذات کے پسماندہ ہندوؤں کو نہ تو کوئی حقیقی نمائندگی دے سکتی ہے اور نہ ہی وہ انہیں سیاسی یا سماجی طور پر برابری کا درجہ دیتے ہوئے ان کو حقوق ہی دیں گے۔ اسی دوران وہ اپنے اعلیٰ تعلیمی و قانونی پس منظراور پسماندہ طبقات کی مضبوط آواز ہونے کی وجہ سے اپنی ذات برادری کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات کے حقیقی نمائندے کے طور پر بھی سامنے آیا۔ وہ 1937ء میں بنگال کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں سَرل کمار دُتا کو ہرا کر رکن صوبائی اسمبلی بنا۔ سرل کمار دُتا تب انڈین نیشنل کانگریس کی ضلعی کمیٹی کا صدر تھا۔ بعد ازاں منڈل نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر کیساتھ مل کر بنگال میں شیدولڈ کاسٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔ 1946ء میں جب انڈیا میں عبوری حکومت تشکیل دی گئی تو اس میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کو نمائندگی دی گئی۔ یوں جوگندرا ناتھ نے دو ستمبر 1946ء کو ہندوستان کے عبوری وزیر محنت کے طور پر حلف اٹھایا۔ اسے کابینہ میں شامل کرنے کا مقصد بنگال میں دلت ووٹ اور نمائندگی کو یقینی بنانا تھا۔
اگرچہ جوگندرا ناتھ منڈل تقسیم ہند کا قائل نہ تھا اور وہ ہندوستان کے اندر ہی مسلمانوں اور دلتوں کے حقوق کے حصول اور برابری کا حامی تھا مگر تقسیم ہند کے موقع پر اس نے بھارت رہنے کے بجائے پاکستان آنے کو ترجیح دی۔ جوگندرا ناتھ منڈل کو قائداعظم نے پاکستان کا پہلا وزیر قانون وانصاف مقرر کیا۔ اسے پاکستان کے وزیر محنت اور امورِ کشمیر کی وزارت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ 15اگست 1947ء کو قائداعظمؒ کے مقرر کردہ وزیر قانون و انصاف جوگندرا ناتھ منڈل نے مورخہ 8 اکتوبر 1950ء کو ستائیس صفحات پر مشتمل استعفیٰ وزیراعظم لیاقت علی خان کو پکڑایا اور واپس بھارت چلا گیا۔ منڈل کے بارے میں جتنی مرضی سازشی تھیوریاں گھڑ لی جائیں اور اس کی نیت پر انگلیاں اٹھائی جائیں۔ یہ بات طے ہے کہ اس کے استعفے کے مندرجات آنے والے دنوں میں مملکت خداداد میں بڑھتی ہوئے عدم برداشت اور مذہبی انتہاپسندی بارے سچ ثابت ہوئے۔ یہ محض استعفیٰ نہیں تھا ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں ایک چارج شیٹ تھی جس کو لے کر ہم مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتے ہوئے معاشرے میں بہتری لا سکتے تھے مگر... افسوس! صد افسوس!