نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈٹیم کی واپسی پربھارتی میڈیا جشن منارہاہےیابیگم صفدراعوان،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- بیگم صفدراعوان کی والد کےنقش قدم پرچلنے کی روش برقرار ،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- ثابت ہو گیا شریف خاندان مودی کاسچا دوست ہے،فیاض الحسن چوہان
  • بریکنگ :- مودی سےمحبت ،وطن سے دشمنی ،شریف خاندان نے اپنے عمل سے ثابت کیا،فیاض الحسن
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

شکست خوردہ بے روزگار‘علم منطق اور انڈے کی ماہیت

شاہ جی کا گلہ ہے کہ عمران خان نے حکومت سنبھالنے سے پہلے ہی اپنے وعدوں کے برعکس کام شروع کر دیئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ تو کہنے لگے کہ عمران نے کہا ہے کہ وہ حکومت سنبھالتے ہی لوگوں کو روزگار مہیا کرے گا۔ ادھر یہ عالم ہے کہ اس نے پچیس جولائی کو ایکدم بہت سے لوگ بے روزگار کر دیئے ہیں۔ اسفند یار ولی‘ مولانا فضل الرحمان‘ محمود خان اچکزئی اوردوسرے بہت سے لوگ‘ مثلاً: محمود اچکزئی کے برادرِ عزیز گورنر بلوچستان‘ اپنے زبیر احمد گورنر سندھ اور ان لوگوں سے منسلک دیگر بہت سے لوگ۔ سب بے روزگار ہوگئے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم حلف نہیں اٹھائیں گے۔ بھلا یہ لوگ حلف اٹھا بھی کیسے سکتے ہیں؟ ان میں سے کوئی جیتا ہی نہیں‘ تو حلف اٹھانے کا سوال بھلا کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ آپ مشترکہ اعلامیہ والی تصویر اٹھائیں۔ سارے بے روزگار ہیں اور سارے ہی شکست خوردہ۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک سارے کے سارے اسمبلیوں سے فارغ شدہ۔ سراج الحق‘ مولانا فضل الرحمان‘ اسفند یار ولی‘ محمود اچکزئی اور ساتھ کھڑے ہوئے بینڈ ویگن کے دیگر سارے سوار۔
اللہ جانے کل کلاں کیا صورتحال بنتی ہے‘ لیکن فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ ان شکست خوردگان کے ساتھ نہ شہباز شریف ہے اور نہ زرداری۔ اور وہ بھلا کیوں ہوں؟ وہ تو اسمبلی میں ہیں۔ شہباز شریف بھلے کے پی کے اور ڈیرہ غازی خان سے ہار گئے ہوں‘ مگر لاہور سے ایک سیٹ پر جیت کر اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں۔ اسمبلی میں جانے کے لئے ایک سیٹ ہی درکار ہوتی ہے‘ باقی سے تو بہرحال مستعفی ہونا پڑتا ہے اور ایک سیٹ ان کے پاس موجود ہے۔ یہی حال بلاول بھٹو کا ہے۔ وہ بھلے لیاری اور مالاکنڈ کی سیٹ سے ہار گیا ہے‘ لیکن لاڑکانہ سے جیت کر اسمبلی میں پہنچ گیا ہے۔ اپنے زرداری صاحب بھی نواب شاہ سے جیت کر اسمبلی میں داخلے کا پروانہ حاصل کر چکے ہیں۔ اس لئے وہ اس بائیکاٹ کے‘ حلف نہ اٹھانے کے یا سڑکوں پر آنے کے خلاف ہیں۔ شہباز شریف‘ بلاول اور زرداری کے پاس اسمبلی کی رکنیت کی ''مرغی‘‘ ہے‘ اس لئے وہ اس میں نہ کسی کی شراکت قبول کر رہے ہیں اور نہ ہی دستبرداری۔
آپ پوچھیں گے کہ بھلا یہ مرغی والا کیا قصہ ہے؟ پرانا لطیفہ ہے اور سوشلسٹ روس سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک گائوں میں کمیونسٹ پارٹی کا ایک وفد گیا ‘تا کہ لوگوں کو کمیونزم کے فوائد سے آگاہ کیا جائے اور لوگوں کو کمیونزم کی روح سے روشناس کروایا جائے‘ اسی دوران ایک کسان سے کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن نے پوچھا کہ کامریڈ! اگر تمہارے پاس دو گائیں ہوں تو تم کیا کرو گے؟ کامریڈ نے جواب دیا کہ وہ ان دو گائیں سے ایک گائے ‘اپنے کسی ایسے کامریڈ ساتھی کو دے دے گا‘ جس کے پاس گائے نہیں ہے۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ کامریڈا ‘اگر تمہارے پاس رہنے کے لئے دو گھر ہوں‘ تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا کہ وہ ایک گھر اپنے کسی کامریڈ بھائی کو دے دے گا۔ اس نے تیسرا سوال کیا کہ اگر اس کے پاس زمین کے دو قطعات ہوں تو وہ کیا کرے گا۔ کامریڈ نے کہا کہ وہ ایک قطعہ اراضی اپنے کسی بے زمین کامریڈ بھائی کو دے دے گا۔ اس پارٹی کے رکن نے اس سے ایک اور سوال کیا کہ کامریڈ! اگر تمہارے پاس دو مرغیاں ہوں تو تم کیا کرو گے؟ کامریڈ کہنے لگا :جناب! میں دونوں مرغیاں اپنے پاس رکھوں گا اور کسی کامریڈ کو ان میں حصہ دار نہیں بنائوں گا۔ کمیونسٹ پارٹی کے رکن نے حیرانی سے پوچھا: کامریڈ! تم ان دو مرغیوں میں سے ایک مرغی اپنے کسی ایسے کامریڈ بھائی کو دینے سے کیوں انکار کر رہے ہو‘ جس کے پاس ایک مرغی بھی نہیں؟ کامریڈ بولا: جناب عالیٰ دراصل میرے پاس دو مرغیاں موجود ہیں۔
کامریڈ وہ چیزیں بڑی خوشی سے اپنے ان کامریڈ بھائیوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کر رہا تھا‘ جو دراصل اس کے پاس تھیں ہی نہیں اور جو چیز اس کے پاس تھی‘ وہ اسے کسی ایسے کامریڈ بھائی میں بانٹنے کے لئے قطعاً تیار نہیں تھا‘ جس کے پاس وہ موجود نہیں تھی۔ یہی حال اپنے سیاسی لیڈروں کا ہے‘ وہ سارے لوگ اسمبلی کا بائیکاٹ کرنے‘ حلف نہ اٹھانے اور سڑکوں پر آنے کا کہہ رہے ہیں‘ جو اسمبلی کے دروازے کے اندر بطورِ رکن اسمبلی پہنچنے سے محروم ہیں‘ یعنی شکست کھا کر اسمبلی کی رکنیت سے ہی فارغ ہو چکے ہیں اور جو اس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ‘وہ حلف بھی اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور بائیکاٹ کے بھی خلاف ہیں۔
اسفند یار ولی سب سے زیادہ Desperate ‘یعنی منتشر الخیال اور مایوس ہیں۔ وہ بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں اور ہوائیاں چھوڑ رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں پشاور اور کراچی بند کر دوں گا اور میاں شہباز شریف اسلام آباد اور لاہور بند کردیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اگر آپ کے پاس پشاور بند کرنے کے لئے ہزاروں لوگ موجود ہیں تو یہ والے مخلص کارکن پشاور بند کرنے کی بجائے‘ اگر آپ کو ووٹ ڈالنے کے لئے نکل پڑتے‘ تو آپ کو یہ بیان جاری کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ آپ ان لوگوں کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچ جاتے۔ دوسری بات یہ کہ آخر میاں شہباز شریف لاہور کیوں بند کرے گا؟ اسے بہر حال چودہ میں سے دس سیٹیں مل گئی ہیں‘ اور بھلا وہ لاہور بند کر کے اور لاہور کے تاجروں اور کاروباری پیشہ لوگوں کو دھرنے اور لاک ڈائون سے تنگ و پریشان کر کے اپنا مینڈیٹ کو مزید برباد کیوں کریں گے؟
آپ یقین کریں ‘مجھے تو خود پریشانی ہے کہ آخر مولانا فضل الرحمان‘ اب کیا کریں گے؟ وہ گزشتہ کئی عشروں سے اقتدار کی راہداریوں اور غلام گردشوں میں مزے سے گھومتے تھے۔ عین آخری دو تین دنوں میں کوئی نہ کوئی پخ نکال کر پہلی پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں پہنچ جاتے تھے۔ کبھی پیپلزپارٹی کے ساجھے دار اور کبھی مسلم لیگ ن کی حکومت کے حصے دار۔ کشمیر کمیٹی ‘ان کے نام اس طرح لگی ہوئی تھی‘ گویا انہوں نے باقاعدہ رجسٹری کروائی ہو۔ وزارت کے برابر مراعات اور موج میلا۔ اوپر سے ہر نئی مشکل میں نیا مطالبہ اور نیا معاہدہ۔ مستقل ملازمت بھی چل رہی تھی اور وقتاً فوقتاً نیا ٹھیکہ بھی حاصل کر لیتے تھے۔ ان کی موج تھی‘ ان کا سوچ کر میں اتنا پریشان ہوں ‘تو بھلا ان کی خود سے کیا حالت ہوگی؟ چلیں ایک سیٹ سے شکست دے کر دل ٹھنڈا کر لیتے۔ دونوں سیٹوں سے فارغ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
صرف ایک غلام احمد بلور ہیں ‘جنہوں نے شکست کے بعد بہادری دکھاتے ہوئے ‘اسے تسلیم کیا ‘وگرنہ اس وقت تک پاکستان میں اور کسی ہارنے والے نے اپنی شکست اس وجہ سے بالکل تسلیم نہیں کی کہ اسے ووٹ کم پڑے ہیں‘ بلکہ سب دھاندلی کا اسی طرح رونا رو رہے ہیں‘ جس طرح پاکستان کے ہر الیکشن میں ہرہارنے والا دھاندلی کا شور مچاتا ہے۔ اس سے پہلے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے‘ صرف عابدہ حسین نے اپنی ہار پر سوال کرنے والے کو اپنی ہارنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ''میں اس لئے ہاری ہوں کہ بیلٹ بکس میں سے میرے ووٹ کم نکلے تھے‘‘۔ وگرنہ یہاں وہ لوگ بھی دھاندلی کا رونا روتے دیکھے گئے ہیں ‘جنہیں گھر سے بھی ووٹ نہیں ملتے۔دیکھتے ہیں ‘آگے کیا ہوتا ہے۔ ایک دو دن تک‘ ملک بھر کے فارم 45 بھی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر لوڈ کر دیئے جائیں گے۔ پھر دیکھتے ہیں‘ مولانا فضل الرحمان 1973ء کے آئین کے تناظر میں کیا نئی پخ نکالتے ہیں۔ وہ علم منطق کے بڑے ماہر ہیں‘ مگر مصیبت یہ ہے کہ ان کا سارا علم منطق‘ بیلٹ بکس میں ایک ووٹ کا بھی اضافہ نہیں کرسکتا اور انہیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے یکساں مفادات حاصل کرنے کے بعد پی ٹی آئی سے وہی فوائد لے کر دینے سے محروم ہے۔ ان کے ساتھ اس بار وہی ہوئی ہے ‘جو ایک منطق پڑھ کر آنے والے سے ہوئی تھی۔
ایک نوجوان ولایت سے پڑھ کر اپنے گائوں واپس آیا۔ صبح ناشتے کی میز پر اس کے دیہاتی والد نے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ کر آیا ہے؟ اس نے کہا Logic۔ باپ کو سمجھ نہ آئی تو بیٹے نے ترجمہ کیا کہ وہ منطق پڑھ کر آیا ہے۔ باپ پہلے سے بھی زیادہ پریشان ہوا کہ یہ کیا ہے؟ بیٹے نے باپ کی پریشانی دیکھ کر کہا : میں آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں۔ یہ میرے سامنے ایک انڈہ پڑا ہے۔ آپ کے نزدیک یہ ایک انڈہ ہے‘ لیکن محض ایک انڈہ نہیں۔ ایک یہ انڈہ ہے اور ایک اس کی ماہیت ہے۔ باپ نے انڈہ اٹھا کر منہ میں ڈالا اورکہا :برخوردار تو اپنا سلائس اس کی ماہیت سے لگا کر کھالے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں