نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ای وی ایم کیخلاف اپوزیشن بےبنیادپروپیگنڈاکررہی ہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- کون سی مشین سلیکٹ کرنی ہےیہ الیکشن کمیشن کاکام ہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- ووٹنگ مشین توکوئی بھی ہوسکتی ہے،وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی
  • بریکنگ :- پرانےطریقہ کارکےبجائےٹیکنالوجی کواستعمال کرناچاہیے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- قانون سازی پارلیمنٹ اورمشین کافیصلہ الیکشن کمیشن نےکرناہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- اپوزیشن ای وی ایم دیکھےبغیرتنقیدکررہی ہے،شبلی فراز
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اقربا پروری کا ریکارڈ

گزشتہ روز کے کالم میں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے رشتہ داروں کو بانٹی جانے والی ٹکٹوں کا ذکر تھا۔ کے پی کے میں بھی یہی حال ہے۔ میرے علم کے مطابق صرف ایک بنوں والی قومی اسمبلی کی وہ نشست جو عمران خان نے میانوالی کی سیٹ برقرار رکھ کر خالی کی ہے‘ واحد سیٹ ہے جہاں سے سیٹ خالی کرنے والے کا کوئی قریبی عزیز یا رشتہ دار الیکشن نہیں لڑ رہا اور اس کی وجہ صرف اور صرف وہی ایک ہے جو میں گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ تحریک انصاف میں رشتہ داری کی بنیاد پر ٹکٹ نہ ملنے کی واحد مثال شاید خود عمران خان ہیں اور بہنوئی کی واحد سیٹ پر اسی وجہ سے کسی نئے آدمی کا نام سننے کو ملا ہے جو اب وہاں سے امیدوار ہیں۔ یہ امیدوار نسیم علی شاہ ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی خالی کردہ دو نشستوں میں سے ایک پر ان کا صاحبزادہ ابراہیم خٹک اور دوسری پر ان کا برادر عزیز یعنی بھائی لیاقت خٹک امیدوار ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صوبائی اسمبلی کی خالی کردہ نشست پر ان کا بھائی عاقب اللہ خان امیدوار ہے۔ علی امین گنڈاپور کی خالی کردہ صوبائی نشست پر بھی ان کے بھائی فیصل امین گنڈاپور کو ٹکٹ عطا ہوا ہے۔ ڈاکٹر حیدر علی کی خالی کردہ نشست پر ان کا بھتیجا ساجد علی ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوا ہے۔ دوسری طرف محمد اکرم درانی کا بیٹا زاہد خان درانی بھی بنوں والی عمران خان کی خالی کردہ نشست پر نسیم علی شاہ کے مقابل اپوزیشن کا امیدوار ہے۔
ادھر ملتان کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 222ملتان 12پر مرحوم غلام عباس کھاکھی کی بیوہ آزاد امیدوار ہے۔ اس کے مقابلے پر پی ٹی آئی نے رانا سہیل احمد نون کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ رانا سہیل نون جنرل الیکشن میں ساتھ والے حلقہ پی پی 221 سے اپنے کزن رانا اعجاز نون سے الیکشن ہارنے کے بعد اب اس والی سیٹ سے قسمت آزمائی کرا رہے ہیں۔جیسا کہ میں گزشتہ ماہ مرحوم غلام عباس کھاکھی پر لکھے ہوئے کالم میں اپنے اس مرحوم دوست کی سیاسی جدوجہد اور ثابت قدمی پر لکھ چکا ہوں۔ ملک غلام عباس کھاکھی نے الیکشن لڑنے کا آغاز آج سے 35برس قبل ضلع کونسل کے الیکشن میں ممبر ضلع کونسل بن کر کیا۔ بعد ازاں وہ قومی سیاست میں آ گئے اور اس سلسلے میں پہلا الیکشن 1993ء میں قومی اسمبلی کا لڑا اور ہار گئے۔ اس کے بعد انہوں نے 1997ئ،2001ئ2008ء اور 2013ء کا الیکشن بھی لڑا اور شجاع آباد میں بڑے بڑے ناموں کے ساتھ اپنے سینگ پھنسائے رکھے۔ وہ درج بالا پانچوں انتخابات میں ناکام رہے۔ پھر 2016ء میں جلالپور پیروالہ سے ہی ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ قومی اسمبلی کی یہ نشست دیوان عاشق بخاری کے نااہل ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ اس سیٹ پر ان کا مقابلہ آج کل این اے 159ملتان چھ سے منتخب ہونے والے رانا قاسم نون سے تھا۔ تب رانا قاسم نون پی ٹی آئی سے سارے معاملات طے ہونے کے بعد آخری دن فرار ہو کر مسلم لیگ ن کے کیمپ میں چلے گئے۔ تب غلام عباس کھاکھی پی ٹی آئی کی طرف سے قومی اسمبلی کا یہ الیکشن بھی ہار گئے۔ پر ان کی پاکستان کی قومی سیاست میں لگاتار چھٹی شکست تھی۔ بالآخر غلام عباس کھاکھی 2018ء کے جنرل الیکشن میں پی پی 222پر الیکشن جیت گئے۔ ان کے مقابل مسلم لیگ ن کا امیدوار مہدی عباس لنگاہ تھا۔ بدقسمتی سے ملک غلام عباس کھاکھی کو ا پنی یہ پہلی جیت بھی انجوائے کرنے کا موقع نہ مل سکا اور وہ حلف اٹھانے سے قبل ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔
ملک غلام عباس کھاکھی کی ہی طرح راجن پور سے صوبائی اسمبلی کے پی ٹی آئی کے جیتنے والے امیدوار طارق خان دریشک بھی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ پر ان کے بھائی اویس دریشک کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا‘ لیکن عباس کھاکھی کے سلسلے میں اس کے بالکل الٹ ہوا اور ان کی تعلیم یافتہ بیوہ کو ٹکٹ دینے کے بجائے ساتھ والی سیٹ سے جنرل الیکشن کے شکست خوردہ امیدوار رانا سہیل ا حمد نون کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ رانا سہیل نون میرا پرانا کلاس فیلو اور دوست ہے۔ ہم دونوں ایمرسن کالج میں بھی ساتھ تھے اور بعد ازاں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں بھی اکٹھے زیر تعلیم رہے۔ تب میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں اور رانا سہیل نون سیاسیات میں ماسٹرز کر رہے تھے۔ رانا سہیل تب بھی طلبہ سیاست میں بڑے سرگرم تھے اور کالج و یونیورسٹی میں طلبہ یونین میں مختلف عہدوں پر متمکن رہے۔ لیکن بات دوستی سے زیادہ سیاسی روایات کی ہے۔ اس حوالے سے حالانکہ میرا تعلق رانا سہیل نون سے عباس کھاکھی کی نسبت بہت پرانا بھی ہے اور پختہ بھی۔ رانا سہیل سے میری دوستی 1974ء سے ہے جبکہ عباس کھاکھی سے دوستی کا تعلق 1993ء سے ہے۔ یعنی چوالیس سال بمقابلہ پچیس سال والا معاملہ ہے۔
غلام عباس کھاکھی سیلف میڈ آدمی تھے۔ ان کی دو خوبیاں تھیں ملنساری اور اخلاص۔ وہ انہی دو خوبیوں کے باعث جلالپور پیروالہ میں ناکام ہوتے رہے۔ وہ اپنے علاقے میں سیاسی حوالے سے اپنا ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ دو اڑھائی مربع آبائی اراضی کے حامل عباس کھاکھی کا اپنا ذاتی ووٹ بینک تھا۔ وہ ہر حال میں بارہ پندرہ ہزار ووٹ لے لیتے تھے۔ اس چیز سے بالکل قطع نظر کہ وہ کس پارٹی سے الیکشن لڑتے۔ اس بار وہ پہلی بار جیتے اور اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ اب ان کی خالی ہونے والی نشست پر ان کا بھتیجا احمد کھاکھی اور ان کی بیوہ دونوں پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ خاندانی طور پر ایک بار یہ بھی طے ہو گیا کہ اگر ان کے بھتیجے احمد کھاکھی کو ٹکٹ مل گیا تو ان کی بیوہ بھی اس کی حمایت میں دستبردار ہو جائے گی‘ لیکن ہوا یہ کہ دونوں کی چھٹی ہو گئی اور رانا قاسم ایم این اے نے اس سیٹ پر اپنے بڑے بھائی رانا سہیل کے لیے ٹکٹ حاصل کر لیا۔
ملک غلام عباس کھاکھی کی وفات سے یاد آیا مجھے لاہور سے ایک روز کسی ریاض احمد کا فون آیا اور بتانے لگا کہ اس نے کسی ٹی وی پروگرام پر سنا ہے کہ عباس کھاکھی کو جہانگیر ترین نے وزیراعلیٰ پنجاب بنوانے کا وعدہ کیا تھا اور عباس کھاکھی اس خوشی کو برداشت نہ کر سکے اور ان کو خوشی کی زیادتی سے دل کا دورہ پڑ گیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ میں ذاتی طورپر جانتا ہوں کہ غلام عباس کھاکھی کو صوبائی اسمبلی کا یہ ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ اس سیٹ پر رانا قاسم نون اپنے ساتھ لال خان جوئیہ کو پیکج ڈیل کے تحت ساتھ لے کر آئے تھے اور پی پی 222پر وہ عباس کھاکھی کی جگہ پر پی ٹی آئی کا امیدوار بنانے کے لیے بضد تھے ‘تاہم علاقے کی صورتحال اور عباس کھاکھی کی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ان کی پی ٹی آئی سے وابستگی کی بنیاد پر بڑی مشکل سے ٹکٹ ملا تھا۔ جیتنے کے بعد میری غلام عباس سے دوستوں کی ایک محدود سی محفل میں بڑی گپ شپ رہی اور وہ اس کے فوراً ہی بعد اسلام آباد میں دل کے دورے کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے اور اسی دوران چند روز بعد انتقال کر گئے۔ اس دوران ایسی کوئی بات سننے کو نہ ملی۔ نہ خود عباس کھاکھی کی جانب سے اور نہ ہی بعد از وفات ان کے خاندان والوں کی طرف سے ایسی کوئی بات سننے کو ملی۔ ایک دو مشترکہ دوستوں کا ان کے خاندان سے بڑا قریبی تعلق تھا اور وہ اس سلسلے میں ان کے خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے‘ انہوں نے بھی کبھی کوئی ایسی بات نہ کی۔ ملک خالد ان دوستوں میں سے ہیں جن سے عباس کھاکھی مرحوم اپنے دل کی ہر بات کر لیتے تھے۔ اتنی بڑی بات ہوتی تو کم از کم ملک خالد احمد کھوکھر کو ہر حال میں اس کا علم ہوتا۔ یہ بات ساری کی ساری خلاف از واقعہ ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ شجاع آباد اور جلالپور پیروالہ کی چھ (دو قومی اور چار صوبائی) نشستوں میں سے دو پر پہلے ہی نون براجمان ہیں اور تیسرے نون کا اضافہ ہونے جا رہا ہے‘ تاہم اس ساری صورتحال سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ ضمنی الیکشن میں جاری ٹکٹوں کے حوالے پی ٹی آئی نے جتنی اقربا پروری کی تھی۔ اس کی مثال کم از کم اس ضمنی الیکشن میں کسی اور پارٹی کے ہاں ملنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں