نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈٹیم کی واپسی پربھارتی میڈیا جشن منارہاہےیابیگم صفدراعوان،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- بیگم صفدراعوان کی والد کےنقش قدم پرچلنے کی روش برقرار ،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- ثابت ہو گیا شریف خاندان مودی کاسچا دوست ہے،فیاض الحسن چوہان
  • بریکنگ :- مودی سےمحبت ،وطن سے دشمنی ،شریف خاندان نے اپنے عمل سے ثابت کیا،فیاض الحسن
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

شارجہ کے کتاب میلے پر ایک اور کالم

کتاب میلہ یا بک فیئر‘ اسے آپ جو بھی کہہ لیں‘ مفہوم ایک ہی ہے۔ انگریزی اور اردو ہونے کے باوجود اب دونوں ہی عام فہم ہیں۔ شارجہ کتاب میلہ ''شارجہ ایکسپو سنٹر‘‘ میں تھا۔ شہر کے وسط میں ہی سمجھیں‘ تاہم بہت وسیع و عریض اور کھلاکھلا سا۔ پارکنگ البتہ اس حساب سے بہت کم میسر تھی‘ لیکن اس کا بھی شاندار حل نکالا گیا تھا۔ تھوڑی دور ایک بہت بڑے میدان میں گاڑیاں کھڑی کرنے کا انتظام تھا اور وہاں سے ایکسپو سنٹر تک ''شٹل سروس‘‘ کا اہتمام تھا۔ گاڑی پارکنگ میں کھڑی کریں اور شٹل سروس پر چڑھ کر ایکسپو سنٹر آ جائیں اور اسی طرح واپس بھی چلے جائیں۔ کل دو تین منٹ کا فاصلہ تھا‘ مگر لوگوں کو سہولت دینے کی غرض سے یہ بندوبست کیا گیا تھا کہ لوگ محض پارکنگ سے پیدل میلہ گاہ کی جانب آنے کی مشکل کے باعث کہیں میلے میں ہی نہ آئیں۔ عموماً لوگ اپنی فیملی کو ایکسپو سنٹر کے دروازے پر اتار کر گاڑی واپس جا کر پارکنگ میں کھڑی کر کے خود پیدل یا شٹل سروس پر واپس آ جا رہے تھے۔
درجنوں ممالک کے پبلشروں کے سٹال اور بلامبالغہ دنیا کی قریباً ہر زبان میں چھپی ہوئی کتابیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم لوگ مشرق وسطیٰ کے سب ممالک کو عموماً اور جزیرہ نمائے عرب میں بسنے والوں کو خصوصاً ''بدو‘‘ تصور کرتے تھے اور تب شاید یہ گمان درست بھی تھا‘ لیکن چند ہی عشروں میں ان ممالک کا سارا کلچر ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ کلچر‘ رہن سہن اور سارا منظر نامہ۔ اب متحدہ عرب امارات کو ہی لے لیں۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تو ہوٹلوں کے دروازے کے اندر لگا ہوا‘ ہدایت نامہ تین زبانوں میں تھا؛ عربی‘ اردو اور انگریزی۔ تب بازاروں میں اردو بولنے والے اکثریت میں ہوتے تھے۔ ایک دوست سے اس بات کا ذکر کیا تو وہ بتانے لگا کہ تیس پینتیس سال پہلے (ساٹھ کی دھائی میں) یہاں پاکستانی کرنسی چلتی تھی‘ پھر بھارتی آئے‘ بنگلہ دیشی آئے اور پھر تو ہر طرف سے یلغار ہو گئی۔ سری لنکا اور فلپائن سے کام کرنے والوں نے بھی اپنی جگہ بنا لی۔ ملٹی نیشنل اداروں نے اپنے علاقائی ہی نہیں‘ بلکہ پورے خطے میں اپنی برانچوں کا کنٹرول سنٹر دبئی میں قائم کر لیا۔ ترقی کی ایسی تیزی دکھائی دی کہ مثال ملنا مشکل ہے‘ پھر جب بھی دوبارہ دبئی جانا ہوا ہر بار اتنی زیادہ تبدیلی ا ور ترقی نظر آئی کہ حیرانی ہوتی تھی۔ اونچی عمارتیں کھمبیوں کی طرح اُگنا شروع ہو گئیں۔ بڑے بڑے شاپنگ سنٹر۔ اتنے بڑے اور جدید کہ یورپ کے صرف ہمسر ہی نہیں ‘اس سے کہیں آگے۔ امارات کی ایئر لائنز نے ایسی ترقی کی کہ بندہ ششدر رہ جائے۔ پی آئی اے والوں نے ''امارات‘‘ شروع کی اور اب وہ دنیا کی بہترین ایئر لائن ہے۔ ابوظہبی والوں نے ''اتحاد‘‘ کے نام سے اپنی ایئر لائن شروع کرلی۔ امارات ائیر لائن نے اپنی مدد کے لیے ایک سستی ایئر لائن شروع کرلی اور اس سستی ایئر لائن ''فلائی دوبئی‘‘ کا کام یہ ٹھہرا کہ اِدھر اُدھر سے مسافر اٹھا کر دبئی لائے اور پھر امارات والے اسے دنیا بھر میں لے جائیں۔ ملتان سے امارات ایئر لائن چلنا شروع ہوئی اور اب انہوں نے ملتان تا دبئی سیکٹر فلائی دبئی کے حوالے کر دیا ہے۔ ملتان سے دبئی جانے والے مسافر اس سستی ایئر لائن پر چڑھتے ہیں اور راستے میں چائے‘ کافی اور روٹی پلے سے خرید کر کھاتے ہیں؛ حتیٰ کہ پانی بھی مفت نہیں ملتا۔ ملتان سے اس ایئر لائن کی ہفتے میں دبئی کے لیے نو پروازیں ہیں۔ ہفتے میں پانچ روز ایک پرواز‘ روزانہ اور دو دن روزانہ دو پروازیں۔ دوسری طرف پی آئی اے کی ملتان سے دبئی کے لیے براہ راست ایک پرواز بھی نہیں۔ یہی حال دوسری جگہوں کا ہے۔ کراچی سے دبئی کے لیے امارات کی ہفتے میں تینتیس (33) پروازیں ہیں‘ یعنی اوسطاً پونے پانچ پروازیں روزانہ۔ ادھر پی آئی اے کی کراچی سے دبئی ہفتے میں کل پانچ پروازیں ہیں۔ سوموار اور منگل کو ایک فلائٹ بھی نہیں چلتی۔ امارات کی ٹیلی فون کمپنی ''اتصالات‘‘ کو پی ٹی سی ایل کے لوگوں نے بنایا‘ چلایا اور پاؤں پر کھڑا کیا پھر یہ ہوا کہ پی ٹی سی ایل بھی امارات والوں نے لے لیا اور چلا رہے ہیں۔
ہمارے حساب سے ''بدو‘‘ ریاست کو ایسے سلیقے سے چلا رہے ہیں کہ دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور حسرت بھی۔ وہاں کسی کے باپ کی جرأت نہیں کہ دھرنا دے یا عدلیہ کی توہین کرے۔ دبئی کی کل آبادی اٹھائیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس میں سے صرف پندرہ فیصد لوکل اماراتی ہیں پچاسی فیصد غیر ملکی کام کرنے والے ہیں۔ پندرہ فیصد اماراتی بقیہ پچاسی فیصد کو کنٹرول بھی کرتے ہیں اور کنٹرول بھی ایسا کہ دبئی دنیا کی محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ جرائم کی شرح حیرت انگیز حد تک کم۔ ان پچاس فیصد غیر ملکیوں میںقریباً پچانوے فیصد ایشین ہیں‘ اگر ایشین اقوام کو مزید منقسم کر کے دیکھیں تو ان میں نصف سے زیادہ تو صرف بھارتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر پاکستانی ہیں‘ جو محض سولہ فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ باقی بنگلہ دیشی‘ سری لنکن اور فلپائنی وغیرہ ہیں۔ سب لوگ تکلے کی طرح سیدھے ہیں اور صرف کام سے کام رکھتے ہیں۔ جمعہ کا خطبہ سرکار دیتی ہے اور مولوی لاؤڈ سپیکر پر بلند آواز سے پڑھ دیتا ہے۔ مولوی خوشحال ہے اور فتوے کی بجائے تنخواہ پر گزارا کرتا ہے۔ 
قارئین! معذرت خواہ ہوں کتاب میلے سے ہوتا ہوا‘ کہیں کا کہیں چلا گیا۔ اس کتاب میلے میں اردو مشاعرہ کیسے ہوا؟ اس کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ گزشتہ سال بزمِ اُردو والوں نے بڑی مشکل سے اپنی ٹانگ پھنسائی اور ایک چھوٹا سا ہال‘ میرا مطلب ہے چار پانچ سو لوگوں کے بیٹھنے کے قابل ہال اس شرط پر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ اس ہال کو بھر کر دکھا دیں گے۔ شارجہ میں کتاب سے متعلق سال میں دو فیسٹیول ہوتے ہیں۔ شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر اور شارجہ چلڈرن بک ریڈنگ فیسٹیول۔ یہ دوسرا فیسٹیول اس لیے ہوتا ہے کہ بچوں کو یعنی نئی نسل کو کتاب سے جوڑا جا سکے۔ اس کو کتاب سے محبت اور الفاظ سے آگاہی بخشی جا سکے۔ اس سال 18سے 28اپریل تک دس روزہ شارجہ چلڈرن بک ریڈنگ فیسٹیول تھا۔ اس فیسٹیول میں بزم اُردو والوں نے یہ ہال حاصل کیا اور یہاں امارات کی سات ریاستوں یعنی ابوظہبی‘ دبئی‘ شارجہ‘ راس الخیمہ‘ ام القوین‘ عجمان اور الفجیرہ میں موجود پاکستانی اور بھارتی سکولوں سے اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے والے طلبہ کے مابین ایک انٹر سکول مقابلہ بیت بازی کا اہتمام کیا۔ پاکستان سے وصی شاہ کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا۔ ہال کی گنجائش پانچ سو تھی ‘لیکن شرکاء کی تعداد سات آٹھ سو کے قریب تھی۔ سینکڑوں لوگ جگہ کی کمی کے باعث ہال میں داخل ہی نہ ہو سکے۔ یہ بزم اُردو کی پہلی کامیابی تھی۔
بزم اُردو امارات میں اردو بولنے والوں کی تنظیم ہے۔ رنگ‘ نسل اور قومیت سے ہٹ کر۔ بزم اردو کے بانی اور جنرل سیکرٹری ریحان خان کا تعلق لکھنؤ (بھارت) سے ہے اور یہ جوش ملیح آبادی کے عزیز ہیں۔ صدر شکیل خان بھی لکھنؤ سے ہیں۔ مشاعرے کے منتظمین میں سب سے متحرک اور فعال رکن سید تابش زیدی کا تعلق نوشہرہ پاکستان سے ہے۔ تابش زیدی ‘سید امتیاز علی تاج کے عزیز ہیں۔ عادل سرور کا تعلق نیپال سے ہے اور اسی طرح کئی ارکان بنگلہ دیش سے ہیں۔ ظہور الاسلام جاوید کراچی سے ہیں اور پاکستان سے آنے والے چاروں شاعروں سے وہی مسلسل رابطے میں تھے۔ خود بھی بہت عمدہ شاعر ہیں۔ اس بار بزم اُردو کو مشکل ٹارگٹ ملا۔ یہ ایکسپو سنٹر کے مین ''بال روم‘‘ کو بھر کر دکھانے کا تھا۔ بزم اردو والوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک شام مزاح کا بندوبست کر لیا۔ پہلے حصے میں ہمارے اور آپ کے ہر دل عزیز انور مقصود کی گفتگو تھی اور دوسرا حصہ مشاعرہ تھا۔ مشاعرے میں کل نو شاعر تھے۔ چار پاکستان سے‘ چار بھارت سے اور ایک امارات سے۔ پانچ چھ سو کے لگ بھگ لوگوں نے بیٹھ کر جبکہ دو سو سے زائد نے آخر وقت تک مشاعرہ کھڑے ہو کر سنا۔ اس مشاعرے کی صدارت دنیائے مزاح کے بے تاج بادشاہ انور مسعود نے کی۔
دنیاکی چوتھی بڑی زبان اُردو کی شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں نمائندگی ‘ہمارا قومی فخر ہوگا کہ ہم دنیا کی واحد ریاست ہیں‘ جس کی قومی زبان اُردو ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں