نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1780 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 38 ہزار 668 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 50 ہزار 690 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 42 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 566 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3090 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 60 ہزار 412 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 712 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 91 لاکھ 91 ہزار 787 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 4199 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.98 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 28 ہزار 394،سندھ میں 4 لاکھ 55 ہزار 65 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 73 ہزار 23،بلوچستان میں 32 ہزار 849 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 5 ہزار 21،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 296 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 34 ہزار 20 ہوگئی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ڈاکٹر طارق، بانو آپا اور اردو ادب

میں اس سے قبل اپنی سازی زندگی میں اس عمر کے اتنے زیادہ اور زندہ دل لوگوں سے ایک جگہ پر کبھی نہیں ملا تھا۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ میں ان کی عمر کو کس لفظ سے واضح کروں۔ بزرگ کہوں، عمر رسیدہ کہوں یا بوڑھا لکھوں؟ ایمانداری کی بات ہے کہ سب لوگ ان میں سے کسی بھی لفظ کی تشریح پر عملی طور پر پورے نہیں اترتے تھے۔ ان پچاس کے لگ بھگ افراد کی اوسط عمر میرے خیال کے مطابق بہتّر سال سے کیا کم ہو گی؟ یہ سب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے 1969ء کے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹر تھے۔ یعنی آج سے پورے پچاس سال پہلے ڈاکٹری کا امتحان پاس کرنے والے۔ یہ 1969ء کی ایم بی بی ایس کلاس کی پچاس سالہ ''ری یونین‘‘ تھی۔ عمر کا حساب یوں لگایا کہ اگر اوسطاً کوئی لڑکا یا لڑکی تئیس سال کی عمر میں ایم بی بی ایس پاس کر لے (جو میرے خیال میں کم از کم عمر ہو سکتی ہے جس میں کوئی طالب علم یہ امتحان پاس کر سکتا ہے) تو 1969 ء میں ایم بی بی ایس کرنے والا آج 2019ء میں بہتّر سال کا ہو گا۔ سو یہ اکٹھے ہونے والوں کی کم از کم عمر یا رعایتاً اوسط عمر بہتّر سال کے لگ بھگ تھی۔
یہ امریکہ میں ''اپنا‘‘ کے بیالیسویں سالانہ اجلاس کے دوران اپنی کلاس کی ''ری یونین‘‘ منا رہے تھے۔ ''اپنا‘‘ دراصل جنوبی امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم کا نام ہے۔ یہ پورے امریکہ میں پاکستانیوں کی مضبوط ترین تنظیم ہے جس کے ارکان کی تعداد بلا مبالغہ ہزاروں میں ہے۔ یہ ہر سال دو تین کنونشن کرتے ہیں لیکن ان کا ''سمر کنونشن‘‘ اصل سالانہ اجتماع ہوتا ہے۔ اس میں رکن ڈاکٹر حضرات اپنی فیملی سمیت (ارکان کی اکثریت) شرکت کرتے ہیں۔ اس اجتماع میں بے شمار دلچسپیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ خواتین کے لیے پورا بازار لگایا جاتا ہے۔ بچوں کے لیے ان کی عمر کے مطابق کشش رکھنے والی دلچسپیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر حضرات کے لیے مختلف علمی موضوعات پر تحقیقی مقالہ جات اور گفتگو کا انتظام، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ مشاعرہ، محفلِ موسیقی اور دیگر دلچسپیاں بھی اس تین چار روزہ کنونشن کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس سال یہ کنونشن ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں تھا۔ 
مجھے اس کلاس کی ری یونین میں بطور مہمان شاعر مدعو کیا گیا تھا اور مدعو کرنے والا میرا دوست ڈاکٹر آصف ریاض قدیر تھا۔ ہیوسٹن میں رہائش پذیر ڈاکٹر آصف ریاض قدیر سے میری دوستی پندرہ سولہ سال پرانی ہے لیکن مجھے اس ''ری یونین‘‘ میں شرکت سے پہلے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میرا یہ دوست اتنا بزرگ ہے۔ زندہ دل، متحرک اور خوش باش ڈاکٹر آصف ریاض قدیر میرے اندازے کے مطابق اپنی اصل عمر سے دس سال چھوٹا لگتا تھا۔ جب میں تقریب میں پہنچا تو اس وقت کوئی ڈاکٹر قاضی پروجیکٹر پر اپنے زمانہ طالب علمی کی تصاویر دکھا رہے تھے۔ وہاں موجود لوگ ان تصاویر میں سے خود کو، دوسرے دوستوں اور کلاس فیلوز کو پہچان رہے تھے۔ ایسے میں میری نظر ایک سفید داڑھی والے دراز قد ڈاکٹر پر پڑی تو مجھے اس کی شکل تھوڑی جانی پہچانی سی محسوس ہوئی۔ میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ ڈاکٹر طارق ہیں۔ طارق افتخار! اشفاق احمد صاحب کے بھتیجے۔ میں نے پوچھا: اپنے اشفاق صاحب؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اپنے اشفاق صاحب۔ میں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر (میں اس وقت کافی پی رہا تھا) اپنا کافی کا مگ بھی میز پر رکھا اور آخری میز پر چلا گیا جہاں ڈاکٹر طارق بن افتخار بیٹھے تھے۔
ڈاکٹر طارق افتخار مجھے دیکھ کر اشتیاق سے اٹھے اور بڑی گرمجوشی سے گلے لگ گئے۔ ان کی محبت اور سرشاری ایسی تھی کہ دل کھل اٹھا لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کو ملتے ہوئے میری محبت، اشتیاق اور گرمجوشی ان سے درجہ بھر زیادہ ہی ہوگی، کم نہ تھی۔ ان کے پاس بیٹھتے ہی یادوں کا دفتر کھل گیا۔ اشفاق صاحب کی باتیں۔ بانو آپا کے بارے میں گفتگو۔ میں نے ان کو یاد دلایا کہ ان کے چچا آفتاب نے اشفاق صاحب کے تعزیتی ریفرنس میں گفتگو کی تھی اور اشفاق صاحب کی شہرۂ آفاق داستان گوئی کی یاد تازہ کر دی تھی۔ ایسی شاندار گفتگو اور ایسا حیران کر دینے والا انداز جو صرف اشفاق صاحب کا خاصہ تھا۔ ان کے بھائی آفتاب خان صاحب نے ایسا سماں باندھا کہ سب لوگ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئے۔ یہی حال اس میز پر تھا۔ ڈاکٹر افتخار کی گفتگو میں اشفاق خان صاحب اس شدت سے نہ سہی، مگر کہیں کہیں جھلکتے تھے اور کبھی کبھی جھانکتے بھی تھے۔
ڈاکٹر طارق سے میں نے پوچھا: وہ اشفاق صاحب کی بانو آپا سے شادی پر کیا فساد پڑا تھا؟ طارق مسکرائے اور کہنے لگے: اس فساد سے ایک تو یہ ہوا کہ میں ڈاکٹر بن گیا وگرنہ میٹرک کر کے آوارہ گردی کر رہا ہوتا۔ میں نے کہا‘ اشفاق صاحب کی ''لو میرج‘‘ کا یہ بالکل حیران کن پہلو ہے۔ ڈاکٹر طارق ایکدم ماضی میں کھو گئے۔ کہنے لگے: دادا مرحوم بڑے ہی خوشحال تھے اور ہم سب خاندان والے ایک حویلی نما کئی منزلہ مکان میں رہتے تھے۔ لاہور شہر کے پر رونق علاقے میں۔ جب اشفاق چچا نے بانو چچی سے شادی کا اعلان کیا تو گھر میں ایسی ہلچل مچی کہ سب کچھ تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ دادا مرحوم غصے والے دبنگ پٹھان تھے اور معافی دینے یا مرضی کے خلاف بات سننے کے قائل ہی نہ تھے۔ اشفاق صاحب کو گھر سے بیدخل کرنے کا اعلان تو خیر سے کیا ہی، ساتھ ہی یہ نادر شاہی حکم جاری کیا کہ جو شخص اشفاق کا ساتھ دے گا وہ بھی گھر سے بوریا بستر اٹھا کر لے جائے۔ ابا جی (افتخار خان صاحب) سے اشفاق چچا نے کہا کہ کیا وہ ان کی شادی میں شرکت کریں گے؟ ابا جی نے ایک لمحہ سوچا اور پھر ہاں کر دی۔ یہ بھی ایک پٹھان کی ہاں تھی۔ پکّی اور پتھر پر لکیر۔ سو ابا جی نے شادی میں شرکت کی اور دادا جی کے عتاب کے شکار ہوئے۔ نرمی، درگزر اور رعایت جیسے الفاظ دادا جی کی ڈکشنری میں موجود ہی نہ تھے۔ صرف ایک پیشی ہوئی۔ دادا جی نے پوچھا: افتخار! تم شادی میں جا رہے ہو؟ ابا جی نے کہا: جی ابا جی۔ وہ اشفاق نے پوچھا تھا کہ تم آئو گے؟ اب آپ بتائیں میں انکار کیسے کرتا؟ گھر میں سے آخر کسی نے تو اس کی شادی میں جانا ہی تھا۔ حکم ہوا: تم بھی گھر سے چلے جائو۔ سو ابا جی نے بوریا بستر اٹھایا اور گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ بھلا اب جاتے کہاں؟ نہ کوئی ٹھکانہ نہ آسرا۔ تب چچی بانو قدسیہ نے ہمیں اپنے پاس بلا لیا۔ ہم ان کے گھر برسوں رہے۔
ڈاکٹر طارق ایک لمحہ رکے پھر لمبی سانس لی اور چھت کی طرف دیکھ کر کہنے لگے (مجھے شک سا ہے کہ وہ شاید اپنے آنسو چھپا رہے تھے) اللہ چچی بانو قدسیہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ایسی خاتون کبھی دوبارہ دیکھنے کو شاید نہ ملے۔ انہوں نے اتنا پیار دیا کہ سگی ماں بھی اتنا پیار نہ دے۔ دادا کی خوشحال حویلی سے نکلا تو مصائب اور مشکلات نے ایک راہ دکھائی۔ چچی بانو کی محبت، تربیت اور حوصلہ دینے کا انعام یہ نکلا کہ میں آج ڈاکٹر ہوں۔ یہاں امریکہ میں ہوں۔ کیا کچھ زندگی میں حاصل نہیں کیا مگر بانو چچی جیسی خاتون دنیا بھر میں دوسری کہیں دکھائی نہیں دی۔ چچا کی محبت تو فطری ہے مگر چچی! وہ بھی مکمل طور پر غیروں میں سے۔ اوپر سے خاندان نے اسے قبول بھی نہ کیا ہو اور ایسا اخلاق اور ایسی وسعت قلبی کہ آہستہ آہستہ سب کو اپنی محبت میں لپیٹ لیا۔ دادا نے قریب دس سال بعد معاف کیا مگر تب تک سب کچھ بدل چکا تھا۔ اشفاق صاحب کی پسند کی شادی نہ ہوتی، دادا گھر سے نہ نکالتے اور بانو چچی بیاہ کر کے ہمارے خاندان میں نہ آتیں تو ہم سب ایسے نہ ہوتے۔ میں نے کہا: اور اردو ادب بھی بانو آپا کے بغیر بھلا ایسا کب ہوتا؟ پھر ایک لمبی خاموشی درمیان میں آن پڑی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں