نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

کورونا وائرس کے خیالی مریض کی صحتیابی

اگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر دوسرا پاکستانی بزعم خود ڈاکٹر ہے۔ اگر آپ کو ان اعداد و شمار پر اعتراض ہے تو میں آپ کی خاطر یہ کر سکتا ہوں کہ اس نسبت کو تھوڑا بہتر کر دوں اور یہ کہوں کہ ہر تین میں سے ایک پاکستانی کے اندر ایک ڈاکٹر چھپا ہوا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ آپ کسی محفل میں بیٹھ کر کسی بیماری کی یا ناسازیٔ طبع کا ذکر کریں‘ حاضرین میں سے دو چار لوگ ضرور آپ کی اس بیماری کا کوئی نہ کوئی تیر بہدف نسخہ نہایت ہی یقین اور اعتماد کے ساتھ آپ کو بتائیں گے۔ اور نہ صرف نسخہ بتائیں گے بلکہ یہ بھی بتائیں گے کہ اس علاج سے بے شمار مریض صحت مند بھی ہوئے ہیں۔
اس رعایت شدہ عددی نسبت یعنی ہر تین میں سے ایک شخص کی پیدائشی طور پر علم طب میں مہارت کے بعد ویسے تو اس ملک میں میڈیکل کی باقاعدہ تعلیم کی کوئی حاجت نہیں رہ جاتی‘ مگر کیا کیا جائے؟ بعض با مروت لوگ صرف اور صرف اپنی وضع داری کے باعث ایم بی بی ایس‘ ایم آر سی پی اور این سی پی ایس وغیرہ کر لیتے ہیں تا کہ مریض نسبتاً زیادہ اعتماد کے ساتھ نسخہ استعمال کر سکے وگرنہ اتنے مادر زاد ڈاکٹروں کی موجودگی میں کسی میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ڈاکٹر کی ضرورت تو نہیں‘ مگر ہمارے ہاں کلینک پر بیٹھنے والے ڈاکٹروں کی شان و شوکت صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ فیس لے کر مشورہ دیتے ہیں اور ہمارے پیدائشی ڈاکٹر یہ مشورہ بغیر کسی فیس کے دیتے ہیں اور ایسے مشورے کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے جو بذات خود مفت میں دیا گیا ہو؟
آپ کسی محفل میں بتائیں کہ آپ کے کسی عزیز کو کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہے۔ دو ایک لوگ آپ کو کینسر کا علاج بتانا شروع کر دیں گے۔ ایسا ایسا مخیرالعقول نسخہ کہ عقل دنگ رہ جائے۔ کینسر کا علاج بتانے والا خود گزشتہ کئی ماہ سے ایک عام سے پھوڑے کے باعث مشکل سے گزر رہا ہوتا ہے اور اس پھوڑے کے علاج کے لیے ہر دوسرے تیسرے دن کسی جراح سے مرہم لے کر لگا رہا ہوتا ہے لیکن اس کے پاس کینسر سے لے کر دل کے علاج تک اور بواسیر سے لے کر آنکھ کی دیگر بیماریوں تک کے لیے کئی تیر بہدف نسخے ہوں گے۔ آج کل کورونا وائرس کے ماہرین کی ایک نئی کھیپ سامنے آئی ہے۔
ایک دوست بتانے لگا کہ کورونا وائرس کا علاج پیاز سے کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اسے منع کیا کہ وہ یہ افواہ نہ پھیلائے۔ کورونا وائرس تو اس پیاز سے خاک ٹھیک ہونا ہے‘ پیاز پانچ سو روپے کلو ہو جائیں گے۔ پھر میں نے اس سے مزید تفتیش کرتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا اس نے ابھی تک کورونا وائرس سے متاثرہ کوئی شخص دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں میں نے ایسا کوئی مریض اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ میں نے کہا کہ اگر اس نے ابھی تک اس وائرس سے متاثرہ کوئی شخص اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں تو اس کا علاج کیسے دریافت کر لیا؟ اس نے کہا: دنیا بھر میں سائنسدان لیبارٹریوں میں مختلف بیماریوں کا علاج دریافت کر لیتے ہیں تو کیا وہ مریض دیکھ کر دوائی کی تیاری شروع کرتے ہیں؟ میں نے کہا: بندۂ خدا! سائنسدان اس بیماری کا وائرس یا جراثیم پہلے جانوروں میں منتقل کرتے ہیں مثلاً چوہا یا خرگوش وغیرہ میں۔ پھر اسے تجرباتی طور پر محدود تعداد میں انسانوں پر آزماتے ہیں اور تب جا کر کہیں وہ اپنی دوائی کو مارکیٹ میں لاتے ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ اپنی نئی ایجاد کردہ دوا کو اس وائرس ‘ بیکٹیریایا جراثیم پر باقاعدہ آزمانے اور اس پر قابو پانے کے کامیاب تجربات کے بعد ہی مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ آپ کیا شاندار سائنسدان ہیں کہ نہ آپ نے کورونا وائرس کی شکل دیکھی۔ نہ مریض دیکھا۔ نہ اپنے ایجاد کردہ علاج کو کہیں آزمایا۔ نہ اس کے نتائج دیکھے اور چل پڑے ہیں لوگوں کو بتانے کہ اس وائرس کے علاج کے لیے پیاز کے پانی میں فلاں فلاں چیز ملا کر استعمال کریں تو اس موذی مریض سے مکمل شفا حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ‘ رحمن اور رحیم ہے اور اس نے دنیا میں ایسی کوئی بیماری نہیں بھیجی جس کا علاج بھی اس دنیا میں ممکن نہ ہو۔ لیکن دوا کی دریافت اور تیاری کے کچھ طے شدہ اصول ہیں۔ ویسے ایک اور بات بتانا ضروری ہے کہ فقہا کے نزدیک کسی اناڑی شخص کے علاج یا از خود علاج (Self Medication) کے باعث مرنے والے کی موت ادنیٰ درجے کی خود کشی تصور کی جائے گی۔
ویسے پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض بڑی تیزی سے روبصحت ہو رہے ہیں۔ ایک مریض کے بارے میں تو مجھے خود ایک دوست نے سارا واقعہ سنایا ہے۔ میرا یہ دوست بڑا معقول آدمی ہے اور ایک عرصے سے دوائوں کے کاروبار سے منسلک ہے۔ ڈاکٹروں سے برسہا برس کے ذاتی تعلق اور ہمہ وقت دوائوں کے لٹریچر کو پڑھنے کے باعث ایسی چیزوں کے بارے میں ہم جیسے اناڑیوں کی نسبت بہت زیادہ علم رکھتا ہے۔ گزشتہ روز اس نے کورونا وائرس کے ایک مریض اور اس کے کامیاب علاج کا ایک ایسا واقعہ سنایا کہ سن کر طبیعت خوش ہو گئی۔
چائنا سے آنے والے شاہ زیب کو ایئر پورٹ پر نہ کسی نے چیک کیا اور نہ ہی سکیننگ کی۔ وہ ایئر پورٹ سے باہر نکلا اور اپنے گھر شہداد کوٹ پہنچ گیا۔ اسے ہلکا سا بخار بھی تھا اور کھانسی بھی۔ اسے شک گزرا کہ میں چائنا سے آیا ہوں‘ بخار اور کھانسی بھی ہے کہیں میں کورونا وائرس کا شکار نہ ہو گیا ہوں۔ وہ اپنا شک دور کرنے کی غرض سے ایک پرائیویٹ کلینک پہنچا اور ڈاکٹر کو بتایا کہ میں چائنا سے آیا ہوں اور مجھے بخار اور کھانسی کی شکایت ہے۔ مجھے شک ہے کہ کہیں یہ کورونا وائرس نہ ہو۔ ڈاکٹر نے یہ سن کر شاہ زیب کا معائنہ وغیرہ کرنے کی بجائے کلینک کے عقبی گیٹ سے راہ فرار اختیار کی اور باہر جا کر پولیس کو فون کر دیا کہ میرے کلینک میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض موجود ہے۔ پولیس نے انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ اب سب کی دوڑیں لگ گئیں۔
تھوڑی دیر بعد شہداد کوٹ کی انتظامیہ مع پولیس اس کلینک پر پہنچی اور شاہ زیب کو ایمبولینس میں ڈال کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خیر پور لے آئی۔ ڈاکٹروں نے اسے ایک کمرے میں لٹایا بلکہ عملی طور پر بند کیا اور اس کا علاج کرنے کے بجائے باہر سڑک پر جا کر احتجاج شروع کر دیا کہ ان کے پاس نہ حفاظتی ماسک ہیں اور نہ ہی احتیاطی تدابیر کے لیے درکار کوئی چیز۔ وہ ایسی حالت میں کورونا وائرس کے مریض کا علاج نہیں کریں گے۔ مریض (خیالی) آٹھ گھنٹے تک لاوارث اور بلا علاج کمرے میں پڑا رہا اور پھر تنگ آ کر کمرے سے نکلا اور کرائے پر گاڑی لے کر ملتان اپنے علاج کی غرض سے روانہ ہو گیا۔ اس دوران حالات کا جائزہ لینے کے بعد مریض کو کسی ٹیسٹ وغیرہ کے بغیر ہی اندازہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو اسے کورونا وائرس لاحق ہو گیا ہے۔ اور اسے اپنا علاج خود ہی کروانا ہو گا۔
مریض کے ہسپتال سے فرار کے تین گھنٹے بعد انتظامیہ کو علم ہوا کہ مریض غائب ہے۔ اب پھر دوڑیں لگ گئیں۔ بڑی تگ و دو کے بعد بذریعہ موبائل فون‘ لوکیشن کا پتا چلا کہ مریض ملتان‘ سکھر موٹروے پر ملتان کی طرف رواں دواں ہے۔ موٹر وے پر ناکہ لگایا گیا اور مفرور مریض کو بالآخر پکڑ لیا گیا۔ مریض کو واپس لے جا کر گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کروا دیا گیا۔ چند روز کے بعد اعلان کیا گیا کہ کورونا وائرس کا مریض صحت مند ہو گیا ہے لہٰذا اسے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے کورونا وائرس کا یہ خیالی مریض رو بہ صحت ہو کر گھر واپس جا چکا ہے۔ یقین کریں میں ڈاکٹر نہیں اور ایسے معاملات پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے قاصر ہوں؛ تاہم میں اس مریض کے خیالی ہونے کے بارے صرف اس لیے پُر یقین ہوں کہ شہداد کوٹ‘ خیر پور یا گمبٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کی سہولت کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ سو ‘بلا تشخیص کورونا وائرس کے خیالی مریض کے کامیاب علاج پر سرکار کو مبارک ہو۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں