نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

باقی سارا ملک بھی اسی طرح چل رہا ہے!

نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب کا تیسرے درجے کی بیماریوں کے علاج کا واحد ہسپتال ہے۔ انگریزی میں ایسے ہسپتالوں کیلئے Tertiary care hospital کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ ہسپتال 1953ء میں قائم ہوا۔ اس کی تعمیر کی نگرانی ڈاکٹر جمال بھٹہ نے کی اور اس نگرانی کا حق ادا کر دیا۔ ہر چیز پر شکرے جیسی آنکھ رکھی اور بنیادوں سے لے کر تعمیر مکمل ہونے تک سر پر کھڑے ہو کر ایک ایک مرحلہ طے کروایا۔ آج بھی یہ عمارت پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے تو اس کا سارا کریڈٹ مرحوم ڈاکٹر جمال بھٹہ کو جاتا ہے۔ لیکن سڑسٹھ برس کے مسلسل استعمال سے اس عمارت کی مضبوطی سے قطع نظر جو حال ہو سکتا ہے، اس کا تصور کرنا مشکل نہیں۔ لفٹیں عرصہ ہوا ناکارہ ہو گئی تھیں۔ فرش ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ دروازے لکڑی کے تھے کب تک ساتھ دیتے اور لوہے کی جالیاں زنگ اور موسم کی سختیوں کا کب تک مقابلہ کرتیں؟ اپنے وقت کے ایشیا کے سب سے بڑے ہسپتال کی سالانہ مرمت کا فنڈ آپ سنیں تو حیرت سے گنگ ہو جائیں۔ سترہ سو بیڈز کے منظور شدہ ہسپتال کی تزئین و مرمت کا سالانہ فنڈ محض اڑھائی لاکھ روپے ہے۔ باتھ روم اور ٹوائلٹس اس حالت میں ہیں کہ مریض تو مجبور ہیں لیکن تیماردار گھنٹہ گھنٹہ صبر کر لیتے ہیں کہ واپس گھر جاکر عزت و آبرو سے فراغت حاصل کریں گے۔ جیساکہ میں بتا چکا ہوں‘ اس ہسپتال کے منظور شدہ بیڈز کی تعداد 1700 ہے؛ تاہم 2019ء میں داخل ہونے والے مریضوں کی اوسط نکالی گئی تو یہ 2740 مریض فی یوم نکلی‘ یعنی منظور شدہ بیڈز سے ساٹھ فیصد زائد۔اندازہ لگالیں کہ سترہ سو مریضوں کیلئے منظور شدہ ہسپتال میں جہاں تعینات ڈاکٹر، نرسیں، صفائی کا عملہ، انتظامیہ اور دیگر ملازمین کی تعداد منظور شدہ بیڈز کے مطابق ہے‘ وہاں ستائیس سو سے زائد مریض داخل ہوں گے تو سروس اور سہولتوں کا کیا معیار ہوگا؟
ہسپتال میں ایمرجنسی کا حال اس سے بھی خراب ہے۔ دنیا بھر میں ایمرجنسی میں بیڈز کی تعداد عموماً ہسپتال کے بیڈز کا دس فیصد ہوتی ہے۔ اس ہسپتال کے منظور شدہ بیڈز کو معیار بنا لیں تو یہاں ایک سو ستر بیڈز کی ایمرجنسی کی ضرورت تھی لیکن ایک سو بارہ بیڈز کی ایمرجنسی ہے اور اس میں کوئی ایسا ہال نہیں جہاں کسی بڑے حادثے یا اجتماعی آفت کے نتیجے میں یکدم زیادہ مریضوں کو ایمرجنسی علاج کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ دنیا بھر کی ایمرجنسیوں میں ایک عدد ہال ضروری چیز ہے‘ لیکن جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے ہسپتال کی ایمرجنسی اس سے محروم ہے۔ اللہ جانے اس عمارت کا ڈیزائنر کون تھا اور کنسلٹنٹ کون سا تکنیکی ماہر تھاکہ ایمرجنسی جب تعمیر ہوئی (نئی ایمرجنسی چند سال پہلے ہی بنی) تو سارے دروازے اڑھائی فٹ چوڑے تھے۔ دروازے میں سے مریض کا بیڈ ہی نہیں گزر سکتا تھا‘ لہٰذا دروازے توڑکر کھلے کیے گئے تاکہ بیڈ دروازے میں سے گزارے جا سکیں۔ تین منزلہ ایمرجنسی میں لفٹ سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ ملتان کے ایک صنعتکار اور ہمارے دوست فضل گروپ کے رحمان نسیم نے دو عدد لفٹیں لگوائیں‘ لیکن لفٹوں کیلئے چھوڑے گئے کھانچے اتنے چھوٹے تھے کہ لفٹ میں بیڈ پورا نہیں آتا تھا۔ پھر ایک جگاڑ لگایا گیا اور لفٹ کے دروازے باہر کی طرف لگاکر چھ انچ مزید جگہ حاصل کی گئی‘ تب لفٹس اس قابل ہوئیں کہ ان میں بیڈز کو اوپر نیچے لایا لے جایا جا سکے۔ ایمرجنسی میں روزانہ آنے والے مریضوں کی اوسط تعداد سولہ سو ہے‘ جن میں سے ساڑھے تین سو مریض وہ ہوتے ہیں جو سٹریچر پر آتے ہیں‘ لیکن کسی بزرجمہر نے یہ کیاکہ ایمرجنسی سے ہسپتال جانے والی چپس کی ہموار سطح والا فٹ پاتھ تڑوا کر وہاں ٹف ٹائل لگوا دی‘ جو جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہے اور اس پر کسی زخمی یا شدید بیمار کو جھٹکوں سے بچاکر سٹریچر یا وہیل چیئر پر ایمرجنسی سے ہسپتال منتقل کرنا کسی طور ممکن نہیں رہا؛ تاہم انجینئرنگ کے ان شاندار کارناموں پر لعنت بھیجیں اور ہسپتال کی حالت زار کا اندازہ لگائیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں نہ کوئی وی آئی پی آتا ہے اور نہ ہی کوئی پیسے والا۔ یہاں لاوارث، بے وسیلہ، بے حیثیت اور بے کس لوگ ہی آتے ہیں لہٰذا یہاں آنے والوں کو انسان کے بجائے کیڑے مکوڑے تصور کیا جاتا ہے اور اسی حساب سے سلوک کیا جاتا ہے۔ حکومت کسی ادارے یا عمارت کی مرمت کروانے میں، اس کو ٹھیک کرنے میں یا اس کی حالت سنوارنے پر یقین ہی نہیں رکھتی کیونکہ جتنی چاہیں مرمت کروا لیں وہاں وہ تختی نہیں لگتی جو نئے پروجیکٹ پر لگتی ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو، وہ اپنی کارکردگی‘ کسی تعمیر شدہ پروجیکٹ کی بہتری سے نہیں نئے پروجیکٹ اور اس پر لگنے والی تختی سے ظاہر کرتی ہے لہٰذا حکومت نشتر (ون) کو ٹھیک کرنے سے زیادہ نشتر ٹو کی تعمیر کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔
ہسپتال کی ہر سڑک پارکنگ سٹینڈ بن چکی ہے۔ ہسپتال کے فرنٹ پر کبھی پھولوں بھرا سرسبز لان ہوا کرتا تھا، اب اس جگہ پارکنگ لاٹ ہے مگر اتنی ناکافی کہ ہر وارڈ کے ساتھ، فارمیسی کے سامنے، نرسنگ سکول کے مقابل، ہر لان میں اور ہر خالی جگہ پر گاڑیاں پارک ہوتی ہیں۔ ایک وقت میں روزانہ پارک ہونے والی گاڑیوں کی اوسط تعداد 897، موٹر سائیکلوں کی تعداد 1980 اور گیٹ 2 سے داخل ہونے والی گاڑیوں کی روزانہ تعداد 2400 اور رکشوں کی تعداد 1184 ہے۔ اس کیلئے کثیر منزلہ پارکنگ پلازہ ناگزیر ہے؛ تاہم اسکی لوکیشن کے معاملے میں ویسی حماقتیں متوقع ہیں جیسی ایمرجنسی کے دروازوں اور لفٹوں کے بارے میں بتا چکا ہوں۔ 
نشتر کالج کو یونیورسٹی بنانے کا معاملہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ پوری یونیورسٹی میں صرف ایک شخص تھا جسے یونیورسٹی کا باقاعدہ ملازم کہا جا سکتا تھا۔ وہ ہمارے دوست مرحوم ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی تھے۔ اب ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد یونیورسٹی کا ایک بھی باقاعدہ ملازم باقی نہیں رہا۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کو یونیورسٹی بنانے کیلئے کچھ لازمے ہیں‘ مثلاً یہ کہ اس کے ساتھ کم از کم چار Constituent کالجز ہونے چاہئیں۔ نشتر کالج کو یونیورسٹی بنانے کیلئے جو چار کالجز پیش کیے گئے وہ نشتر کالج، نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹسٹری، نشتر کالج آف نرسنگ اور زور زبردستی سے قرار دیا جانے والا چوتھا کالج نشتر سکول آف پیرامیڈکس ہے۔ جب یونیورسٹی کی رجسٹریشن کا مرحلہ آیا تو انسپکشن ٹیم نے پوچھا: یونیورسٹی کی فیکلٹی کونسی ہے؟ جواب میں ایک لسٹ فراہم کر دی گئی۔ اب اس ٹیم نے پوچھا کہ نشتر کالج کی فیکلٹی کہاں ہے؟ انہیں دوبارہ وہی لسٹ پکڑا دی گئی۔ ٹیم نے پوچھا: اگر یہ نشتر میڈیکل کالج کی فیکلٹی ہے تو یونیورسٹی کی فیکلٹی کہاں ہے؟ اور اگر یہ یونیورسٹی کی فیکلٹی ہے تو نشتر میڈیکل کالج کی فیکلٹی کہاں ہے؟ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ہوتا بھی کیا؟
حال یہ ہے نشتر میڈیکل کالج میں (میرے حساب کے مطابق جس میں انیس بیس کی کمی بیشی ممکن؛ تاہم میں نے یہ حساب بڑے محتاط انداز میں کیا ہے) پینتالیس پروفیسروں کی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں کل انیس پروفیسر موجود ہیں اور چھبیس سرے سے ہیں ہی نہیں۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر کا حال بھی پتلا ہے‘ انسٹھ پوسٹوں کے مقابلے میں پچیس ایسوسی ایٹ پروفیسر موجود ہیں اور چونتیس کم ہیں۔ یہی حال اسسٹنٹ پروفیسروں اور دیگر ڈاکٹروں کا ہے۔ اللہ جانے اس کالج کی رجسٹریشن اور الحاق اب تک کیسے قائم ہے؟ کئی اہم شعبوں میں جیسے اناٹومی، فزیالوجی اور بائیو کیمسٹری میں نہ کوئی پروفیسر ہے اور نہ ہی ایسوسی ایٹ پروفیسر نیورولوجی، کارڈیالوجی، نفرالوجی اور یورالوجی میں پروفیسر سرے سے نہیں ہیں۔ یعنی چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے۔ یہ صرف ایک ادارے کا حال ہے‘ باقی سارا ملک بھی تقریباً اسی طرح چل رہا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں