نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان میڈیکل کمیشن کیخلاف اسٹوڈنٹس سراپااحتجاج ہیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- اسٹوڈنٹس اورپرفیشنلزکےمطالبات کی حمایت کرتےہیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- امتحانات میں ہونیوالی بےضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- حکومت نےتعلیم اورصحت کاشعبہ مکمل طورپرتباہ کردیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- پورےملک میں پی ایم سی کےخلاف مظاہرےجاری ہیں،سراج الحق
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ایک شہرِ ناپید کا مرثیہ …(2)

بوہڑ دروازہ، حرم دروازہ اور لوہاری دروازہ۔ میرا بچپن انہی تین دروازوں کے درمیان بستا ہوا پرانا شہر تھا۔ روزانہ دو بار ان راستوں سے گزرنا۔ سارا راستہ توجیسے ازبر تھا۔ کہاں ملتان کے تب سب سے اعلیٰ سکول لاسال ہائی سکول کی انگریزی کی ٹیچر لنکو اپنا پرس ہاتھ میں پکڑے بڑے اجلے اورماڈرن کپڑے پہنے اپنے تانگے کے انتظار میں کھڑی ہوں گی۔ ایم سی پرائمری سکول سٹی سنٹرل کے آگے دال سویوں والا کہاں کھڑا ہوگا اور چورن کو آگ لگانے والے کی چھابڑی کس جگہ ہوگی۔ ملتان کے سب سے لذیذ کلچے صابن والی گلی میں کہاں لگتے ہیں اور اندرون شہر سب سے مزیدار تل شکری کہاں سے ملے گی۔ یہ سب اندرون شہر کے خاص کلچر کا حصہ تھا۔ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی حکیم فیروز اجملی کا دواخانہ تھا۔ اس کے بعد چھریاں، قینچیاں اور حجامت کی مشینوں کی دکانیں تھیں۔ منیاری، گوٹہ کناری، سٹیشنری، کتابیں، بہی کھاتے اور دینی کتب کی دکانیں، لنڈے کے کپڑوں کی دکانیں اور بے شمار الابلا۔
بوہڑ گیٹ کے اندر ایک میونسپل پرائمری سکول جامعہ تعلیم و تربیت تھا۔ اس کے اندر صحن کے ایک طرف برآمدے میں چھوٹے چھوٹے ماڈل بنے ہوئے تھے۔ پن چکی، نہریں، کنواں، رہٹ، پہاڑ، آبشاریں، دریا اور پُل۔ میں ماں جی کے سکول سے نکل کردوسرے چوتھے دن ادھر آ جاتا۔ سارے ٹیچر اور چوکیدار میرے مہربان دوست بن چکے تھے۔ مجھے دیکھتے تو کہتے لوجی! وہ ہمارے سکول کا انسپکٹر آ گیا۔ گزشتہ پچاس سال سے بے شمار بار دل کیا کہ اس سکول میں کبھی دوبارہ جائوں مگر اس خوف سے نہ گیا کہ اگر وہ سب کچھ ویسا نہ ہوا تو میرے ساتھ کیا گزرے گی؟ میرا ڈر بجا تھا۔ کاش میں گزشتہ دنوں وہاں نہ گیا ہوتا۔ یہی گمان مجھے بوہڑ کے اندر واقع ایک بیکری کے کریم رول کے بارے میں تھا۔
قریب چالیس برس بعد گزشتہ ہفتے میں نے دوبارہ اندرون شہرجانے کا ارادہ کیا۔ دفترسے جم جانے کے بجائے میں نے شہر کی گلیوں میں گھومنے کا قصد کیا اور بوہڑ دروازے سے اندرون شہر کا سفرشروع کردیا۔ داخل ہوتے ہی جوپہلی تبدیلی نظر آئی وہ حکیم فیروز اجملی دواخانے کی جگہ کوئی اور بورڈ لگا ہواتھا اوراس کے عین سامنے دہی بھلے کی دکان بھی غائب تھی۔ قینچیوں اور چھریوں کی چار پانچ دکانوں کی جگہ اب صرف ایک دکان تھی وہاں سان چل رہی تھی اور چنگاریاں اڑرہی تھیں۔ اس کے بعد سارا بازار کپڑوں کی دکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ منیاری، گوٹہ کناری، سٹیشنری اور سب سے بڑھ کر لنڈے کے کپڑوں کی بیسیوں دکانیں گویا وہاں کبھی تھیں ہی نہیں۔ دینی کتابوں کی تین میں سے صرف ایک دکان باقی تھی۔ دندان ساز کی دکان کا تو پتا ہی نہ چلا کہ وہ تھی کہاں؟
میونسپل پرائمری سکول جامعہ تعلیم و تربیت کا دروازہ بند تھا۔ میں نے کھٹکھٹایا توساتھ والی دکان پر بیٹھے ہوئے نوجوان نے بتایاکہ یہ دروازہ بند ہے آگے سے گلی میں جاکر پچھلا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ گھوم کر سکول کے اندر گیا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ خوبصورت سکول کسی کھنڈر کی تصویر پیش کررہا تھا۔ دو کمروں کی چھتیں باقاعدہ گرچکی تھیں۔ پل، رہٹ، آبشاریں، دریا، کنویں اور دیگر ماڈل تو معلوم پڑتا تھا کہ کبھی تھے ہی نہیں۔ سارا سکول دھول، مٹی اور گرد سے اٹا ہوا تھا۔ ایک طرف پرانے کمرے گرا کر بنیادیں کھودی جا رہی تھیں۔ اوپر والی منزل کی کھڑکیوں کو تختیاں لگاکر کیلوں سے جڑ کر بند کردیاگیا تھا۔ میں کئی منٹ تک ملال سے برآمدے میں پڑے ہوئے اینٹ مٹی کے ملبے پرکھڑا رہا۔ مجھے خوف تو تھاکہ سب کچھ ویسا نہ ہوگا لیکن یہ سب کچھ ہوگا؟ میرے تو گمان میں بھی نہیں تھا۔ ایسی بربادی! یقین کریں لگتا تھا‘ یہ سکول کسی خانہ جنگی میں برباد ہوا ہے۔
اس سکول کے بعد اگلی گلی کے اندر پرانی حویلی میں وہ سکول ہوتا تھا جہاں ماں جی ہیڈمسٹریس تھیں۔ میں اس گلی میں داخل ہوا پھر واپس آگیا۔ یہ وہ گلی نہیں تھی۔ پھر آگے گیا لیکن آگے توکوئی گلی تھی ہی نہیں۔ پھر واپس آیا اور حیران ہوا کہ وہ گلی کہاں چلی گئی؟ وہ تو ایک خالص رہائشی گلی تھی اور اس گلی میں تو دکانیں ہی دکانیں تھیں۔ آگے گیا تو نہ وہ سکول کی حویلی نما عمارت اور نہ ہی کونے پر کنویں والی خالی جگہ کا کوئی نام و نشان۔ میں پھر واپس پلٹا اور بازارمیں آگے جاکر موڑ کے پاس والی چھوٹی گلی سے داخل ہوا تو پھر وہیں پہنچ گیا۔ سکول کی سیڑھیاں، دھوبیوں کے گھر اور دیگر مکان‘ سب کچھ دکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ جہاں کبھی کنواں تھا وہاں دو منزلہ مکان تھا۔ وہ کنواں سکول کی ملکیت تھا لیکن وہاں سے سب لوگ پانی بھرتے تھے۔ بشیر بہشتی اپنی چمڑے کی مشک بھرتا اور سکول کے اندر باہر چھڑکائو کرتا۔ گھڑے بھرتا، گملوں کو پانی دیتا اور بڑے جستی کولر بھرتا۔ میونسپلٹی کے ماشکی بھی یہیں اپنی مشکیں بھرتے۔ سکول کا ایک حصہ سرخ رنگ کی بے ڈھب سی عمارت میں بدل چکا تھا۔ کچھ بھی پہچاننے میں نہیں آرہا تھا۔
میں گلی میں حیران کھڑا اس حویلی کوایک بدوضع سی عمارت کے روپ میں دیکھ رہا تھا۔ مجھے اس طرح حیرانی سے کھڑا دیکھ کر پیچھے سے آواز آئی: بائوجی! پرانی عمارت کی تلاش میں ہو؟ میں نے پلٹ کر دیکھا پیچھے کوئی نظر نہ آیا۔ پھر آواز آئی: میں یہاں ہوں، مسجد میں‘ پیچھے کھڑکی میں۔ میں نے دیکھا تو ایک بڑی عمر کا آدمی مسجدکی کھڑکی کی جالی کے پیچھے مجھے بلا رہا تھا۔ کہنے لگا: آپ بڑی آپاجی کے بیٹے ہو؟ میں حیرانی سے گنگ ہو گیا کہ یہ کون ہے جو مجھے پچپن سال بعد بھی پہچان گیا ہے؟ وہ کہنے لگا: آپ چھوٹے سے تھے اور سکوٹر کے آگے کھڑے ہوتے تھے۔ آپ کوکچھ اور یاد ہے؟ میں نے کہا: ہاں! اس ساتھ والی گلی میں ایک خاتون تھیں جو چنے بیچتی تھیں۔ وہ کہنے لگا: بڑی بی تو کبھی کی گزر گئیں۔ میں ان کے ساتھ والے گھر میں رہتا ہوں۔ وہ بتانے لگاکہ یہ حویلی میں نے نو ہزار چار سو روپے میں نیلامی میں لی تھی۔ پھر سکول ختم ہوا تو یہ پونے پانچ لاکھ میں فروخت ہوئی۔ اب یہ سرخ عمارت والا حصہ اڑھائی کروڑ میں بکا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسے ہی بہت آ گئے ہیں۔
دنیاکے سب سے مزیدار کریم رول بنانے والی بیکری (تب میرا یہی خیال تھا) کی جگہ اب کپڑے کی دکان تھی۔ تھوڑا آگے بائیں ہاتھ پر ایک دکان تھی جہاں ایک بابا ہارمونیم مرمت کرتا تھا۔ میں وہاں کافی کافی دیرکھڑا رہتا اور ہارمونیم کے سروں کو چیک کرتے ہوئے سنتا۔ ایک دو لوگوں سے اس دکان کا پوچھا‘ کسی کو پتا نہ تھا۔ ایک بزرگ نے بتایاکہ اس دکان کو تو ختم ہوئے بھی بیس پچیس سال ہوگئے۔ سعید حلوائی کی دکان فیروز پوری سویٹ کی جگہ پر بھی کپڑے کی دکان تھی۔ سامنے دربار کے ساتھ دنیا کی سب سے بہترین نہاری کی دکان تھی۔ بشیر نہاری والا۔ ایک بزرگ نے بتایا کہ بشیر فوت ہو گیا تو دکان بند ہو گئی۔ میں نے پوچھا: مغلیہ گھی والے کہاں گئے؟ وہ کہنے لگا: جہاں باقی سب جاتے ہیں وہیں مالک چلے گئے اور تبھی دکان بھی بند ہو گئی۔ بس لے دے کر ایک پرانی دکان سلنکی واچ موجود تھی۔ حرم گیٹ کا بھی ایسا ہی حال تھا۔ سٹیشنری کی قدیمی دکان ختم ہوچکی تھی۔ ابراہیم واچ کا کہیں پتا نہیں تھا۔ اباجی مرحوم یہاں سے گھڑی مرمت کرواتے تھے۔ چمکتے نمبروں والی پرانی West end کی گھڑی بعد میں کہیں گر گئی تھی۔ کاکا کھیر والا موجود تھا مگر پردیسی کی دکان ندارد تھی۔ حرم دروازے کے باہر سب کچھ بدل چکا تھا۔ حرم دروازے کی کہانی کبھی پھر سہی۔ اٹلی کی حکومت کا پیسہ جس طرح ہم نے برباد اور خورد برد کیا‘ ایک علیحدہ داستان ہے۔
قارئین! یہ صرف ملتان کا نہیں ہر اس شہر کا نوحہ ہے جو کمرشل ازم کی یلغار کے سامنے آہستہ آہستہ نابود ہوتا جا رہا ہے۔ آپ ملتان شہر کی تصویر میں اپنا اپنا شہر تلاش کریں جو گم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسے شہرِ ناپید کا مرثیہ ہے جو ہم سب کے اردگرد کہیں نہ کہیں کبھی موجود تھا۔ (ختم)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں