نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

تین دن بلوچستان میں…(1)

یہ عمارت قائد کے آخری دو ماہ کے شب و روز کی خاموش گواہ ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ‘ محترمہ فاطمہ جناح‘ ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش‘ نرس اے ایس نتھیانیل اور ریذیڈنسی کے ملازمین۔ ان کے علاوہ آنے والے چند مخصوص مہمان۔ ان مہمانوں میں خاص مہمان وزیراعظم لیاقت علی خان اور سیکرٹری جنرل کیبنٹ چوہدری محمد علی تھے جو قائداعظم سے ملنے کیلئے تیس جولائی کو زیارت آئے تھے۔ قائداعظم کراچی سے کوئٹہ آئے اور پھر چودہ جولائی 1948 کوئٹہ سے زیارت آ گئے۔ وہ یہاں کیوں آئے‘ کس کا مشورہ تھا اور اس کے پیچھے کیا رمز تھی؟ یہ عاجز اس بارے زیادہ نہیں جانتا اور افواہوں پر یا سنی سنائی پر یقین نہیں کرنا چاہتا اس لیے کہ یہ میرا مضمون نہیں۔ کہیں پڑھا تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی کتاب 'مائی برادر‘ سے وہ ایک پیراگراف غائب ہے جو انہوں نے اس رات کے بارے میں لکھا کہ جب وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے زیارت پہنچے اور قائداعظم سے ملاقات کے لیے کہا تو قائداعظم نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا: فاطی! آپ کو پتا ہے وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور میں مزید کتنا عرصہ زندہ رہوں گا۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد قائداعظم نے کہا کہ نیچے جائو اور وزیراعظم کو کہو کہ میں ان سے ملنے کا منتظر ہوں۔
اب کیا کہا جائے کہ اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ۔ قائداعظم کا زیارت آنا‘ ان کی صحت کی صورتحال‘ ڈاکٹروں کے انکشاف پر کہ انہیں ٹی بی کا مرض لاحق ہے قائداعظم کا کہنا کہ انہیں اس بارے میں گزشتہ کئی سال سے علم ہے اور پھر قائداعظم کی کراچی روانگی سے قبل ڈاکٹر الٰہی بخش کو یہ کہنا کہ میں جب زیارت آیا تو زندہ ہنا چاہتا تھا مگر اب ایسا نہیں۔ یہ کہتے ہوئے قائد کی آنکھوں میں آنسو جھلملائے۔ غیر جذباتی اور ناقابل یقین حد تک حوصلہ مند قائداعظم کا یہ پہلو بالکل ہی انوکھا تھا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا کام ختم کر لیا ہے۔
یہ سب کچھ مجھے نیچے ریذیڈنسی کے پیچھے بننے والی نئی فوٹو گیلری میں تصویریں دیکھتے ہوئے ایک تصویر دیکھ کر یاد آیا۔ اس تصویر میں قائداعظم اور لیاقت علی خان بیٹھے ہوئے ہیں اور قائداعظم کے چہرے کے تاثرات اسی قسم کی کسی صورتحال کی عکاسی کر رہے تھے۔ ڈاکٹر عنایت نے اس تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ آپ کو اس تصویر کو دیکھ کر دونوں صاحبان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی کیا سمجھ آتی ہے؟ میں نے چند فٹ پر قائداعظم کی نواب آف بہاولپور کے ساتھ لگی ہوئی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: آپ اس تصویر میں قائداعظم کے تاثرات دیکھ لیں اور پھر ساری صورتحال کا خود اندازہ لگا لیں۔ مجھے نہیں پتا اس دوران گیلری کا محافظ‘ جو گائیڈ کے فرائض بھی سر انجام دے رہا تھا‘ کیا کہہ رہا تھا۔ جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ بتا رہا تھا کہ قائداعظم کی وفات کراچی کے پاس ایمبولینس میں نہیں ہوئی تھی بلکہ ادھر ریذیڈنسی میں ہی ہو گئی تھی‘ اس بات کو چھپایا گیا‘ سیڑھیاں تنگ تھیں‘ قائد اعظم کی میت کو چارپائی پہ رکھ کر اوپرکی منزل سے رسیوں کے ذریعے نیچے لایا گیا ۔ پھر اس نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے مزید بتایا کہ یہ بات اسے اس کے سسر کے ماموں نے بتائی ہے جو اس وقت ریذیڈنسی میں چوکیدار تھا اور اس دن اس سارے واقعے کا عینی گواہ تھا۔ ڈاکٹر عنایت نے میری طرف دیکھا اور سرگوشی کی کہ ایسے تاریخی مقامات کے گائیڈ اپنی اہمیت اور معلومات کا رعب جھاڑنے کے لیے ایسے واقعات گھڑ لیتے ہیں اور اپنے علم کا سکہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ہنسا اور کہا: بہرحال اس کا انعام تو بنتا ہے۔
زیارت کا پروگرام تو درمیان میں ایسے ہی بن گیا تھا۔ اصل پروگرام تو سنجاوی سے ہرنائی تک کا سفر تھا۔ خدا جانے ڈاکٹر عنایت کو کس نے یہ پٹی پڑھائی کہ سنجاوی سے ہرنائی تک کا سفر بڑا خوبصورت اور مناظر قدرت سے بھرپور ہیں۔ بس عنایت صاحب نے دو تین ماہ پہلے ہی کہہ دیا کہ کسی دن سنجاوی جانا ہے۔ اگر دو ماہ پہلے چلے جاتے تو منظر اور بھی خوبصورت ہوتا لیکن کوئی نہ کوئی مسئلہ آن پڑتا رہا اور پروگرام آگے جاتے جاتے اکتوبر کے آخری روز تک آن پہنچا۔ ڈاکٹر عنایت کا خیال تھا کہ موسم سرد ہو رہا ہے‘ سفر میں سردی کی وجہ سے کپڑوں کا بوجھ بڑھے جائے گا؛ تاہم میرا خیال تھا کہ خزاں میں سفر کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ سبزے کی چادر جب سونے کی چمک میں بدل جاتی ہے تو اس کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ سو ڈاکٹر عنایت کو میری بات سے اتفاق کرتے ہی بنی حالانکہ ڈاکٹر صاحب کے تعلقات سردی سے کوئی خاص اچھے نہیں ہیں جبکہ میرا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ میری نظر میں‘ سردی کے ساتھ ساتھ زیارت کے صنوبر کے جنگلات بھی تھے؛ تاہم شروع میں میں نے ڈاکٹر صاحب کو زیارت میں رات گزارنے کا نہ بتایا؛ البتہ یہ طے پایا کہ دن زیارت میں گزار کر رات واپس لورالائی آ جائیں گے۔
جس کسی دوست کو پتا چلا کہ بلوچستان جا رہے ہیں تو دو قسم کا ردعمل سامنے آیا۔ کچھ دوست اس بات پر پریشان تھے کہ آخر ہمیں ان حالات میں بلوچستان جانے کی کیا سوجھی ہے؟ حالات خراب ہیں اور امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں اور ہم چلے ہیں بلوچستان کی سیر کو۔ انہیں بتایا کہ ہم پشتون علاقے میں جا رہے ہیں جہاں حالات ٹھیک ہیں اور امن و امان کے ساتھ ساتھ سفر خاصا محفوظ ہے‘ آگے اللہ کرم کرے گا۔ کچھ دوست اس بات پر حیران و پریشان تھے کہ آخر ہمیں کسی کام کے بغیر اس طرح سڑکوں پر خوار ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن ہم نے کان لپیٹ لیے اور ملتان سے لورالائی روانہ ہو گئے۔
فورٹ منرو تک سڑک ٹھیک تھی؛ تاہم فورٹ منرو کا وہی برا حال تھا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ خستہ حال تھا‘ نہ کوئی کام کا ہوٹل اور نہ کوئی سہولت۔ وہی پرانے چند سرکاری ریسٹ ہائوس اور ان کا وہی انتظام؛ البتہ یہ فرق ضرور پڑا ہے کہ بے ہنگم اور بے ترتیب دکانوں کی ایک کثیر تعداد وجود میں آ چکی ہے اور آبادی کے منصوبہ بندی سے عاری پھیلاؤ نے جو تھوڑا بہت سکون تھا وہ بھی برباد کر دیا ہے۔ فورٹ منرو سے پہلے تنگ پہاڑی موڑ جاپانی حکومت کی طرف سے بنائے گئے سٹیل کے پل نما کھلے موڑوں کے طفیل ٹریفک کو رواں رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ آگے رکھنی تک سڑک بس گزارے لائق تھی؛ تاہم بلوچستان سے آنے والے ٹرکوں کی تعداد کے حوالے سے سڑک کی حالت اور سائز ناکافی تھا۔ ڈیرہ غازی خان سے لورالائی تک کی سڑک بلوچستان کو پنجاب بلکہ پورے بالائی علاقوں سے ملانے والی سب سے بڑی گزرگاہ ہے اور اس پر بلوچستان سے آنے والے پھلوں اور اب سبزیوں سے لدے ہوئے ٹرکوں کی تعداد کو مدنظر رکھیں تو یہ سڑک اس کیلئے خاصی حد تک ناکافی ہو چکی ہے۔ کسی موٹروے کی مزید منصوبہ بندی کرنے سے قبل کوئٹہ ڈیرہ غازی خان شاہراہ کو دو رویہ اور مناسب حد تک سیدھا کیا جانا بہت ضروری ہے۔ خدا خدا کرکے ملتان ڈیرہ غازی خان کی سڑک کی تعمیر نے راستہ آسان کر دیا ہے لیکن یہ مرکزی شاہراہ‘ جو بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ کو پنجاب سے ملانے کی واحد اور محفوظ سڑک ہے آئندہ چند سال میں ٹریفک کے لیے بالکل ہی ناکافی ہو جائے گی۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کی جائے اور اگلے ایک دو برسوں میں اس کی تعمیر شروع کر دی جائے۔ سارے کا سارا زور سی پیک کے تحت موٹرویز پر ہی نہ لگا دیا جائے۔ یہ راستہ مستقبل میں افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے چمن کے ذریعے بلوچستان سے پنجاب کیلئے سب سے بہترین اور مختصر روٹ کے طور پر اپنی اہمیت اور افادیت ثابت کر دے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں