نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں نے تاریخی ترسیلات زرملک میں بھیجیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اوورسیز نے29.4بلین ڈالرکی ترسیلات وطن بھیجیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ملک کوجب بھی ضرورت پڑی اووسیز نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کےلیےایک پورٹل بھی لانچ کردیاگیاہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہمیشہ سفارتکاروں کواوورسیز پاکستانیوں سےاخلاق سےپیش آنےکی ہدایت کی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہم چاہتے ہیں جب بھی پاکستانی یہاں آئیں انہیں کوئی مشکل نہ پیش آئے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانی ہمارے ملک کاسرمایہ ہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوہرممکن سہولتوں کی فراہمی جاری رہےگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کوجب بھی یاد کیاگیاانہوں نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز کوووٹ کاحق دینےکےلیےقانون سازی کررہےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ملکی ترقی میں حصہ ڈالنےوالوں کوخوش آمدید کہیں گے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- مشکلات کےباوجوداوورسیزکوووٹ کاحق دلانےکی کوشش جاری رہےگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سہولت شروع کردی گئی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز کےلیےای کچہری کاسسٹم بھی لایاجارہا ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیویارک:شاہ محمودقریشی کی پاکستان ہاؤس آمد،نادراڈیسک کاافتتاح کردیا
  • بریکنگ :- تقریب میں شہریارآفریدی،مستقل مندوب منیراکرم،سفیراسدمجیدبھی موجود
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام پر چیئرمین نادرا کےشکرگزارہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام سے اوورسیز پاکستانیوں کوفائدہ ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیراعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےمسائل سے آگاہ ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم چاہتےہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوتمام سہولتیں فراہم کی جائیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانی ہرشعبےمیں تعاون کرتےہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارافخر ہیں،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- گزشتہ حکومت کی وجہ سے پی آئی اے دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- مالی مشکلات وجہ سے پی آئی اے کو نئے طیارےنہیں دےپارہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پی آئی اے میں بھی کئی مسائل ہیں جن کوحل کرنےکی کوشش کررہےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اصلاحات کےذریعے پی آئی اے کوبہتر بناناچاہتےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- طیاروں کی کمی کی وجہ سے براہ راست پروازوں میں مشکلات ہیں،شاہ محمود
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کوتمام سہولتیں دینےکی پیشکش کی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کوہیلی کاپٹر بھی فراہم کرنےکی پیشکش کی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نےہربات ماننے سے انکارکردیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- سیکیورٹی ایجنسیز نےآگاہ کیاکہ کوئی سیکیورٹی تھرٹ نہیں ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کادورہ منسوخ کرنےکےپیچھےپڑوسی ملک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- 12ستمبرکےڈوزیئرمیں بھارت کوانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےثبوت پیش کیے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- مسئلہ کشمیرکوعالمی سطح پراجاگرکرکےاس میں نئی روح پھونک دی،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

مردِ درویش

جو لوگ رئوف طاہر کو جانتے تھے وہ تو اسے جانتے ہی تھے جو نہیں جانتے وہ یہ جان لیں کہ لاہور چند روز پہلے ایک درویش صفت صحافی سے محروم ہو گیا ہے۔ میری اور رئوف طاہر کی نظریاتی اٹھان ایک ہی شخص سے جڑی ہوئی تھی۔ میرا رئوف طاہر سے پہلا تعارف مرحوم ذوالکفل بخاری کے توسط سے ہوا۔ تب ذوالکفل بخاری مکہ میں عربیوں کو انگریزی پڑھا رہا تھا اور رئوف طاہر جدہ میں اردو نیوز کے واسطے سے اردو کے پھولوں کی آبیاری کر رہا تھا۔ رئوف طاہر اپنے سعودی عرب کے اسی قیام کے دوران میاں نواز شریف سے راہ و رسم بنا بیٹھا اور پھر تا عمر اسے نبھاتا رہا۔
وہ دھڑے کا آدمی تھا۔ دھڑے کا آدمی اگر دھڑلے کا نہ ہو تو مزہ نہیں آتا۔ اس میں دونوں خوبیاں تھیں۔ شاید اسی وجہ سے میری جب بھی اس سے ملاقات ہوئی تکلف کا ایک پردہ سا درمیان میں رہا۔ میں میاں نواز شریف کا ناقد تھا اور وہ میاں صاحب کا صرف ممدوح ہی نہیں، متوالا تھا۔ لاہور میں رئوف طاہر سے میری ملاقاتوں کا بہانہ دوستوں کے بچوں کی خوشیوں میں شرکت کے طفیل چلتا رہا تھا۔ میری اس سے آخری ملاقات بھی ارشاد عارف کے بیٹے شاہ حسن کے ولیمہ کی تقریب میں ہوئی۔ میں ملتان سے سیدھا تقریب میں آیا تھا۔ تھوڑی تاخیر ہو چکی تھی اور میں پنڈال کے اندر کسی میز پر دوستوں کو تلاش کر رہا تھا، اسی دوران مجھے رئوف طاہر کی آواز سنائی دی۔ بلند آہنگ رئوف طاہر دکھائی دینے سے پہلے ہی سنائی دے دیا کرتا تھا، اور یہی ہوا۔ دوستوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ کبھی بھی اس کی کمزوری کو نہ چھیڑا جائے اور میاں نواز شریف اس کی کمزوری تھا۔ میری اور اس کی گفتگو کے دوران کبھی بھی سیاست نہیں آتی تھی۔ مجھے علم تھا کہ اس کا نتیجہ بدمزگی کے علاوہ اور کچھ نہ ہو گا۔ لیکن اس سیاسی گفتگو سے مراد محض حالیہ سیاسی صورتحال تھی۔ رئوف طاہر پاکستانی سیاست کا ایسا انسائیکلوپیڈیا تھا جسے واقعات پوری جزئیات، ترتیب، تفصیل اور تاریخ وار یاد ہوتے تھے۔ اس لیے اس کے ساتھ بیٹھ کر وہ ساری باتیں سننے کا مزہ آتا تھا جس کا ہم بذات خود حصہ تھے اور شاہد بھی، لیکن جس حسن ترتیب سے وہ واقعات کو پوری تفصیل اور تمہید کے ساتھ سناتا‘ وہ اسی کا خاصہ تھا۔ افسوس پاکستان کی سیاسی تاریخ سے آگاہی کا ایک اور باب بند ہوا۔
اس روز بھی وہ اسی روانی سے مختلف واقعات سنا رہا تھا۔ زیادہ دیر کسی ایک موضوع پر بات کرنا شاید اسے مزہ نہیں دے رہا تھا۔ ہر چند منٹ کے بعد وہ گفتگو کے کسی ذیلی واقعے کی طرف مڑ جاتا اور اس ذیلی واقعے کو مرکزی بنا دیتا اور پھر چند منٹ بعد اس کے ساتھ بھی وہی کرتا جو پہلے واقعے کے ساتھ کیا تھا۔ بالکل ایسی روانی کے ساتھ جیسے ریل گاڑی پوری رفتار سے چلتے چلتے پٹڑیاں بدلتی جائے، لیکن تسلسل نہ ٹوٹے۔ زندگی سے بھرپور اور کرارا لہجہ۔ لگتا ہی نہیں تھاکہ یہ آواز اس طرح اچانک اور غیر متوقع طور پر ہم سے کھو جائے گی‘ لیکن یہی زندگی ہے۔ ذوالکفل بھی بالکل اسی طرح اچانک ہی چلا گیا تھا۔ سید عطااللہ شاہ بخاری کا نواسہ دراصل شروع میں تو میرے لیے سید کفیل بخاری کا چھوٹا بھائی تھا اور ہم اسے بالکل اسی طرح لیتے تھے جس طرح دوستوں کے چھوٹے بھائیوں کو لیا جاتا ہے۔ برخوردار سمجھنا اور ہلکا لینا۔ بعد میں ملال رہا کہ ہم نے اس نوجوان کو خواہ مخواہ اتنا عرصہ Under estimate کیا۔ تعارف کروانے والا بھی اچانک ہی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور بالکل اسی طرح رئوف طاہر بھی۔
میں حسب معمول سفر میں تھا کہ ملتان سے شوکت علی انجم کا فون آیا۔ کہنے لگا: رئوف طاہر کے بارے میں آپ کو کچھ پتا چلا ہے؟ میں نے کہا: خیر ہے‘ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگا: میں نے ابھی سوشل میڈیا پر پڑھا ہے کہ رئوف طاہر کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں نے کہا: میں تو گاڑی چلا رہا ہوں اور ویسے بھی انہی افواہوں کے باعث سوشل میڈیا سے قطع تعلق کیے ایک عرصہ ہوگیا ہے‘ آپ کنفرم کرکے مجھے بتائیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور دوست نے اس خبر کی تصدیق کردی۔ میں نے خبر سن کرگاڑی ایک طرف روکی۔ اس کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ وہ اپنے سیاسی نظریات اور میاں صاحب سے محبت کے حوالے سے اپنی تحریروں کے باعث بے شک بہت سے لوگوں کی پسند سے ہٹ کر لکھتا تھا‘ مگر اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی وہ جیسا تھا ویسا ہی نظر آتا تھا اور وہ اس پر خوش اور مطمئن بھی بہت تھا۔
اردو صحافت کے جید اخبارات و رسائل میں کام کرکے اپنا مقام بنانے والے رئوف کو اگر تھوڑی سی مالی آسودگی اور گھر کی چھت ملی تو اس کا سارا سہرا اردو نیوز کی ملازمت اور پردیس کی مشقت کے سرجاتا ہے۔ برادر عزیز سلمان غنی کے ساتھ رئوف طاہر کی باتیں چلیں تو ایسی ایسی چیزوں کا علم ہواکہ لکھنے کا یارا نہیں۔ جدہ سے واپسی کے بعد دوبارہ قلم ہاتھ میں لیا اور لکھنے کی مشفقت پھر شروع کردی۔ ایک دوبار غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے دفتر میں برادر عزیز عامر محمود جعفری کے ہاں ملاقات ہوئی تو لگتا ہی نہیں تھاکہ ہم اتنے عرصے کے بعد مل رہے ہیں۔ ہرحال میں خوش نظر آنے والا رئوف طاہر کیا واقعی اتنا خوش تھا یا محض ہمیں لگتا تھا؟
اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے؟
ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں
رئوف طاہر کی وفات کے اگلے روز عامر محمود جعفری سے بات ہوئی تو وہ بتانے لگاکہ رئوف طاہر کے جنازے پر بہت سے لکھنے والے موجود تھے۔ میں نے پوچھا اور جن کیلئے وہ بہت سی مخالفتیں پالتا رہا اور جن کی لڑائیاں لڑتا رہا‘ ان میں سے کون کون آئے تھے؟ عامر کہنے لگا: یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی کہ سوائے خواجہ سعد رفیق کے کوئی بھی اور قدآور سیاسی شخصیت اس کے جنازے میں موجود نہ تھی۔ خواجہ سعد رفیق بھی بالکل ذاتی نوعیت کے تعلقات کی وجہ سے آیا تھا۔ اسے آپ اس کے محبوب سیاسی دھڑے کی نمائندگی نہیں کہہ سکتے۔ میں ایک دم سوچ میں پڑگیا کہ کیا رئوف طاہر ان کا بے لوث جنگجو نہ تھا‘ جو قلم سے ان کی خاطر کسی کو خاطر میں لائے بغیر لڑتا رہا؟ اسے ذاتی طور پر اس ساری محبت میں سوائے دو عدد ڈکیتیوں کے اور کیا حاصل ہوا؟ جس میں اس کی ساری جمع پونجی چلی گئی۔ آج جبکہ کسی بھی سیاسی نظریے کیلئے لکھنے والے کیلئے ہر مخالف شخص 'لفافہ صحافی‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے‘ اس گئے گزرے دور میں رئوف طاہر ان لکھنے والوں میں سے تھا جنہوں نے قلم کو پاکیزہ رکھا۔ ایک دوست کہنے لگا: کیا اب ایسے صحافی موجود ہیں جو کسی دھڑے کے ساتھ بھی کھڑے ہوں اور ان کا مطمح نظر نظریے سے وفاداری کے علاوہ اور کچھ نہ ہو‘ تو میں نے جن لوگوں کا نام لیا، رئوف طاہر ان میں سے ایک تھا۔ افسوس یہ فہرست‘ جو پہلے ہی خاصی مختصر تھی‘ اس کے جانے کے بعد اور بھی چھوٹی ہو گئی ہے۔
جنازوں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کرنے والے اگر رئوف طاہر کے جنازے پر آ جاتے تو کیا حرج تھا؟ مسلسل اور بے لوث قلم کے سپاہی کیلئے صرف ٹویٹ کافی نہیں ہوتا۔ اور سپاہی بھی ایساکہ جس نے مالی منفعت کے اس دور میں درویشی، قلندری اور فقر پر گزارہ کیا ہو۔ لکھنے والوں میں کتنے ہیں جن کے بارے میں لوگ ایسی گواہی دیں گے؟ اللہ پر ایمان اور رسول کی محبت کے طفیل ایک منور قبر کے مکین کو جتنا نقصان اس کے محبوب لیڈر کے دائیں بائیں موجود لوگوں نے پہنچایا، کسی نے بھی نہیں پہنچایا ہو گا، وہ ایسا باوفا مردِ درویش تھاکہ اسے غیروں سے زیادہ اپنوں نے اور دشمنوں سے زیادہ دوستوں نے زک پہنچائی۔ ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں ہم ایسے لوگوں کی خاطر اپنے دوستوں سے بگاڑ لیتے ہیں جو ہماری زندگی میں بھی ہمارے نہیں ہوتے مرنے کے بعد کی تو بات ہی اور ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں