نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پاکستان اور حیاتِ جنگلی…(1)

سردی اور جنگل میری سداسے کمزوری ہیں۔ پہلے دوستوں کے ساتھ شکار اور بعد ازاں صرف کیمپنگ سے گزارہ چلایا۔ جب تک میری اہلیہ حیات تھی پاکستان بھر کے جنگلات کے ریسٹ ہاؤسز میں کئی کئی دن قیام کیا۔ سب سے قریب عیسن والا جنگل تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے کے ساتھ بستی گورمانی سے آگے جنگل میں بناہوا دو کمروں کا ''ڈانڈے والا‘‘ ریسٹ ہاؤس ہمارا سب سے آسان اور قریبی نشانہ تھا۔ منہ اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ کر عیسن والا پہنچ گئے۔ عشروں پہلے جب پہلی بار وہاں گیا تو ریسٹ ہاؤس میں بجلی بھی تھی اور ایئرکنڈیشنڈ کا ایک یونٹ بھی موجود تھا۔ پھر گئے تو ایئرکنڈیشنڈ غائب تھا۔ خیر سردیوں میں ہمیں کون سا اے سی چلانا تھا ؛تاہم اس تنزلی پر افسوس ہوا۔ جب تیسری بار جانے کیلئے ڈیرہ غازی خان فارسٹ آفس رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ بجلی کٹ چکی ہے اس لیے اگر وہاں نہ جائیں تو بہتر ہوگا۔ کہنے لگے:کسی اور ریسٹ ہاؤس میں کمرے درکار ہوں تو بتائیں۔ میں نے کہا: ہم تو جنگل انجوائے کرنے جاتے ہیں بھلے سے بجلی نہ بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے‘ ریسٹ ہاؤس بک کر دیں۔
پہلے جاتے ہوئے گاڑی کی ڈگی میں جو سامان بھرا جاتا تھا اب اس میں بیٹری والا لیمپ اور دو درجن موم بتیاں بھی شامل کر لیں۔ بجلی کٹنے سے دیگر کئی چیزوں کی بھی چھٹی ہو گئی۔ پہلے غسل خانوں میں پانی ٹینکی سے آتا تھا۔ بجلی کی عدم موجودگی سے پانی کی موٹر زمین سے پانی نکالنے اور ٹینکی تک پہنچانے کی مشقت سے آزاد ہو گئی تھی۔ پہلے پانی کی بالٹی میں الیکٹرک راڈ ڈال کر پانی گرم کر لیتے تھے اب ڈائریکٹ نلکے کے نیچے بیٹھ کر صبح سردی میں نہانے سے لطف لیا جانے لگا۔ پہلے کچن میں ہیٹر پر کھانا پک جاتا تھا پھر لکڑیوں کا چولہا دوبارہ با عزت ہو گیا تھا۔ رات کو ریسٹ ہاؤس کے سامنے لکڑیاں جلا کر الاؤ کے گرد بیٹھ کر کافی پی جاتی۔ علی الصبح اُٹھ کر جنگل کی سیر کی جاتی۔ قسم قسم کے پرندوں سے واسطہ پڑتا۔ کبھی کبھار جنگلی سور نظر آتے۔ ایک آدھ بار بڑے سائز کے جنگلی بلے پر بھی نظر پڑی۔مرغابیوں کے جھنڈ سر سے گزرتے۔ سیاہ اور بھورے تیتروں کی آوازیں چاروں طرف سے سنائی دیتی تھیں۔ اکثر و بیشتر تیتر سامنے سے اڑتے۔ جنگلی خرگوش با افراط تو نہیں مگر بہر حال نظر آتے تھے۔ پھر درختوں کی کٹائی نے جنگل ہی برباد کر دیا۔ لے دے کر واہیات سے سفیدے کے درخت ہی رہ گئے۔
ریسٹ ہاؤس اُجڑ گیا‘ پرندے رخصت ہو گئے‘ تیتر ناپید اور خرگوش عنقا ہو گئے۔ جنگلی بلے کا تو ذکر ہی کیا؟ وہاں رہنے والے بزرگ بتاتے ہیں کہ کبھی ادھر چنگارے چوکڑیاں بھرتے تھے۔ مگھ (راج ہنس) پرے کے پرے اترتے تھے۔ تیتر تو ہر جھاڑی کے پیچھے سے اڑتے تھے اور تلور بھی دو چار نظر آ جاتے تھے لیکن ہم نے جنگل اور حیاتِ جنگلی کو جی بھر کر برباد کیا۔
عرصہ ہوا نارنگ منڈی سے آگے ہندوستان کے بارڈر کے ساتھ متصل ذخیروں پر ایسے ایسے رنگدار اور خوبصورت پرندے نظر آئے کہ ادھر کے میدانی علاقوں میں کبھی ایسے خوش رنگ پکھیرو دیکھے ہی نہیں تھے۔ یہ بھارت کی طرف سے اڑ کر آتے تھے‘ لیکن پرندے بھی ایسے سمجھدار ہو چکے تھے کہ ادھر آتے ضرور تھے مگر ڈیرہ نہیں لگاتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ ادھر کے گوشت خور انہیں پیٹ میں پہنچا کر دم لیں گے۔ یہی حال چولستان کا تھا۔ کبھی ادھر چنکارے اور کالے ہرن کے علاوہ نیل گائے بھی بکثرت ملتی تھیں۔ تلور بے تحاشا تھا۔ سیاگوش (Lynx) جھلک دکھا کر غائب ہو جاتے تھے اور کبھی کبھار خوش قسمتی ساتھ دیتی تو بگھڑ (Great Indian bustard) جو اُڑنے والے پرندوں میں اس خطے کا سب سے بڑا پرندہ ہے‘ کبھی کبھار دکھائی دے جاتا تھا۔ اگر اسے ایک بار خود نہ دیکھا ہوتا تو اسے افسانوی پرندہ قرار دیتا مگر یہ حقیقت میں موجود تھا۔ شکاریوں کو اس کی سن گن مل جاتی تو ہفتوں اسے تلاش کرتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عرصے سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس نے یہ پرندہ خود دیکھا ہے۔ 2018ء میں لگائے گئے ایک محتاط اندازے کے مطابق اب ان کی کل تعداد (پورے خطے میں) 150 کے قریب باقی رہ گئی ہے اوریہ ڈیڑھ سو پرندے بھی ہندوستان میں راجستھان‘ کرناٹک‘ مہاراشٹرا‘ مدھیا پردیش اور ڈیزرٹ نیشنل پارک میں ہی ہیں۔ کالا ہرن اس طرح نایاب ہوا کہ یہاں سے تحفہ میں دیے گئے کالے ہرنوں کی افزائش نسل سے حاصل ہونے والے کالے ہرن ہمیں واپس دیے گئے کہ آپ کے ہاں یہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں لہٰذا اپنے تحفہ کردہ ہرنوں کی آل اولاد سے اپنے ہاں دوبارہ صحیح طریقے سے تحفظ دے کر اس کی آبادی بڑھائیں۔ ہندوستان میں کالے ہرن کو وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972ء کے انڈیکس III کے تحت تحفظ حاصل ہے‘ لیکن وہاں یہ تحفظ ویسا نہیں جیسا ہمارے ہاں ہے کہ زور آور جب چاہے اور جتنے چاہے چنکارے اور کالے ہرن شکار کر لے۔ بھارت میں کالے ہرن کا شکار کرنے پر اداکار سلمان خان کو جتنا ذلیل و خوار ہونا پڑا ہمارے ہاں اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں شکاریوں نے وہ کردار انجام دیا کہ انہیں شکاری سے زیادہ قصائی کا لقب ملنا چاہیے۔
ایک دوست نے بتایا کہ کیرتھر نیشنل پارک میں ایک تگڑے بندے نے سات آٹھ سندھ آئی بکس شکار کرنے کے بعد واپسی کی راہ لی تو راستے میں اسے زیادہ بڑے سینگوں والا جانور نظر آ گیا۔ اس نے اس کا شکار کر لیا۔ اب جیپ میں مزید شکار رکھنے کی گنجائش نہیں تھی لہٰذا اس نے ایک چھوٹے سینگوں والا آئی بکس جیپ سے نیچے پھینکا اور نیا شکار کردہ آئی بکس جیپ پر لاد لیا۔ راستے میں اس نے مزید دو عدد آئی بکس شکار کیے اور پہلے سے موجود شکار شدہ آئی بکس میں سے دو جیپ سے پھینکے اور گھر آ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سندھ آئی بکس کو کنزرویشن سٹیٹس میں تیسری کیٹیگری Vulnerable میں ڈال دیا گیا ہے۔پاکستان میں برفانی چیتا اس لسٹ میں خطرے کے سب سے اونچے درجے یعنی Endangered میں شمار ہوتا ہے۔ مارکو پولو شیپ کبھی پاکستان کی پامیر رینج اور خنجراب کے آس پاس اچھی خاصی تعداد میں نظر آ جاتی تھیں لیکن اب اس کا حال برفانی چیتے اور مارخور سے بھی زیادہ خراب ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد شاید چند درجن بھی باقی نہیں بچی یہ اس وقت حیات ِجنگلی کے خطرے کے سب سے اوپر والے درجے Critically Endangeredمیں شمار ہو رہی ہے اور ان تمام حالات کا ذمہ دار ہمارا محکمہ تحفظ حیات جنگلی ہے‘ بلکہ دوسرے لفظوں میں حکومت ہے جو قانون تو بناتی ہے مگر اس پر عملدرآمد کے وقت کوئی محکمہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔ غیر قانونی شکار اس کی بنیادی وجہ ہے اور اس میں دو طرح کے لوگ شامل ہیں‘ ایک وہ اناڑی جن کے پاس بندوق ہے اور تھیلے میں کارتوس ہیں۔ وہ سب سے خطرناک شکاری ہیں کہ وہ شکار کو گیم نہیں بلکہ گوشت اکٹھا کرنے کا ذریعہ شمار کرتے ہیں۔ دوسرے وہ زور دار اور طاقتور لوگ جو کسی کو جوابدہ نہیں اور باقاعدہ پروٹوکول کے ساتھ غیر قانونی شکار کھیلتے ہیں۔ ان کا مقصد ٹرافیاں اکٹھی کرنا اور اپنے گھر کی دیواروں کو جانوروں کے سروں سے سجانا ہے‘ لہٰذا یہ ہمہ وقت مزید بڑے سے بڑے سینگوں والے ہیڈ کی تاک میں رہتے ہیں۔
امریکہ ایک دوست جو خود بڑا اچھا شکاری ہے پوچھنے لگا کہ پاکستان میں حیاتِ جنگلی کا اتنا برا حال ہے اور آپ لوگوں کو اس کی رتی برابر فکر نہیں ہے‘ آپ کیسے لوگ ہیں؟ میں نے کہا آپ کا گلہ بجا‘ لیکن ابھی ہمیں انسانوں کی جان کی قدر کا طریقہ اور حکمرانوں کو اپنے زیر سایہ پلنے والی انسانوں پر مشتمل مخلوق ِخدا کو تحفظ دینے کا سلیقہ نہیں‘ آپ جانوروں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں؟ ابھی جانوروں کا تحفظ ہماری ترجیحات میں بہت پیچھے اور نیچے ہے۔ (جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں