نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- جسٹن ٹروڈوکی لبرل پارٹی 100 نشستوں کےساتھ پہلےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- کنزرویٹوپارٹی 51 نشستوں کےساتھ دوسرےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

مہرانو سے محبت کرنے والوں کیلئے ایک خوشخبری

میرے مورخہ گیارہ فروری کے کالم کے بارے میں‘ جس میں مہرانو وائلڈ لائف سینکچری کا ذکر تھا‘ بہت سی ای میلز اور پیغامات آئے۔ ظاہر ہے یہ میلز اور پیغامات انہی پڑھنے والوں کے تھے جنہیں حیاتِ جنگلی کے تحفظ سے دلچسپی تھی۔ اب یہ لفظ ''دلچسپی‘‘ بھی اپنے اندر دو معانی رکھتا ہے‘ ایک دلچسپی ان لوگوں کی ہے جو اندھا دھند شکار کرنے کے قائل ہیں اور پاکستان میں حیاتِ جنگلی کی بدترین صورتحال انہی لوگوں کی اسی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ ان شکاریوں کی کئی اقسام ہیں۔ آج کل پی سی پی ایئر گنز سے خاموش طریقے سے پرندوں کو مارنے والے‘ بلارے تیتروں اور بٹیروں یا ٹیپ کے ذریعے محفوظ علاقوں میں شکار کرنے والے اور سب سے بڑھ کر زور زبردستی‘ دھونس اور طاقت کے نشے میں چُور اشرافیہ کا اخلاقی اور قانونی پابندیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اندھا دھند شکار‘ شکاریوں کی یہ قسم سب سے خطرناک اور خوفناک ہے۔
حیاتِ جنگلی سے مثبت معانی میں دلچسپی رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو اس کا واقعتاً تحفظ چاہتے ہیں اور اس کے لیے کچھ حدود و قیود کی بات کرتے ہیں۔ طے شدہ ضابطوں پر عمل کرنے پر زور دیتے ہیں۔ حیاتِ جنگلی کومحفوظ رکھنے میں سرگرم ہیں اور ملک میں بچی کھچی باقی ماندہ حیاتِ جنگلی کو مکمل طور پر نابود ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ یہ عاجز اب تقریباً شکار چھوڑ چکا ہے تاہم اللہ جانتا ہے کہ جب شکار کرتا بھی تھا تب بھی اس سرگرمی کو محض ''لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ‘‘ سمجھتا تھا اور اس میں شکار اکٹھا کرنے اور گوشت جمع کرنے کے بجائے دریا کے وسط میں کسی ٹاپو پر‘ صحرا میں کسی ٹیلے پر یا جنگل کے کنارے پر کسی مناسب سی جگہ پر کیمپ لگانے کے بعد دو تین دن تک اخبار‘ ٹی وی اور موبائل فون کی غلامی سے نجات حاصل کر لیتا تھا اور بس۔ اس دوران سارا دن دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں گزر جاتا۔ کیمپ میں موجود ایک ''دو کہانی بازوں‘‘ کی صلاحیتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ دھوپ سینکتے اور رات گئے تک کیمپ فائر سے مزہ لیتے۔ علی الصبح شکار پر جاتے تو طے پاتا کہ گنتی کے اتنے پرندے یا اتنے کارتوس‘ جو بھی پہلے پورے ہو گئے تو واپس آ جائیں گے۔ ہمارا نقطۂ نظر تھا کہ سائبیریا سے آنے والے پرندے اس طرح ختم نہ کر دئیے جائیں کہ وہ واپس ہی نہ جا سکیں۔ زندگی کا سائیکل ہر حال میں چلتا رہنا چاہیے۔
بات کہیں کی کہیں چلی گئی۔ بات ہو رہی تھی حیاتِ جنگلی سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کی۔ مہرانو پر لکھے گئے کالم کے حوالے سے بہت سی میلز آئیں اور ان میں سے کئی قارئین نے اس وائلڈ لائف سینکچری کا راز افشا کرنے پر مجھ سے شکایت کی ہے۔ بلکہ ایک دوست نے تو باقاعدہ برا بھلا کہنے کی بھی ڈھکی چھپی کوشش کی ہے۔ اب اس دوست کا نام کیا چھپانا! یہ دوست عزیزم رؤف کلاسرا تھا۔ انہوں نے مجھے طنزیہ مبارکباد دی ہے کہ میں نے محض ایک اچھا کالم لکھنے کے لالچ میں مہرانو میں حالتِ امن اور حفاظت میں رہنے والی حیات ِجنگلی کی نشاندہی کر کے ان کیلئے مصیبت کھڑی کر دی ہے اور اب زور آور شکاری اس جگہ پر ٹوٹ پڑیں گے اور پھر اس جگہ کا جو حال ہو گا اس کا ذمہ دار صرف اور صرف خالد مسعود خان ہو گا۔ برادرِ بزرگ اعجاز احمد نے اٹلانٹا سے میسج کیا کہ آپ نے خود تو یہ جگہ ایک نہایت ہی شاندار ماحول کے ساتھ دیکھ لی ہے لیکن آپ کے اس کالم کے بعد اس جگہ کی خیر نہیں۔ آپ نے کالم لکھ کر پاکستان کے طاقتور طبقے سے تعلق رکھنے والے شکاریوں کو جگہ بھی بتا دی ہے اور منظر نامہ پیش کر کے باقاعدہ اُکسا بھی دیا ہے ‘اب اس کی تباہی کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ سعودیہ سے عزیزم دیوان باسط اور باقی قارئین نے بھی الفاظ کے ہیر پھیر سے یہی کچھ کہا ہے اور مجھے مطعون کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اس حرکت کی وجہ سے باقی تو رہے ایک طرف‘ آپ خود بھی آئندہ اس وائلڈ لائف سینکچری کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکیں گے‘ جیسا کہ آپ دیکھ کر آئے ہیں اور لکھا ہے۔
میں اس کالم کے ذریعے حیاتِ جنگلی سے دلچسپی رکھنے والوں کو ایک عدد خوشخبری اور ایک عدد بری خبر سنانا چاہتا ہوں۔ اچھی خبر ان کیلئے جو حیاتِ جنگلی کا تحفظ چاہتے ہیں اور مجھے اس سلسلے میں اپنے خیالات سے آگاہ کر چکے ہیں۔ اور بری خبر ان کیلئے جو میرا کالم پڑھنے کے بعد بندوقیں صاف کر رہے تھے‘ ان کو تیل لگا ر ہے تھے‘ کارتوس تھیلے میں ڈال رہے تھے اور گوگل پر ''مہرانو وائلڈ لائف سینکچری‘‘ کو سرچ کر کے تیاریاں پکڑ رہے تھے۔
حیاتِ جنگلی سے محبت کرنے والوں کیلئے عرض ہے کیا میں اتنا احمق اور بے وقوف ہوں ‘میں پاکستان کی طاقتور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے‘ شکاریات کی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے یکسر عاری شکاریوں کو اس قسم کی نشاندہی کر کے وہاں کی حیات ِجنگلی کا صفایا کروا دیتا؟ میں ان نام نہاد شکاریوں کی نفسیات اور حرکات سے ناواقف نہیں ہوں۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ اس کالم سے کیسے کیسے شکاریوں کے منہ میں پانی بھر آئے گا اور وہ ادھر دوڑ لگانے کا ارادہ کریں گے۔ میں نے ایک بار پاکستان میں عموماً اور جنوبی پنجاب میں خصوصاً خود کشی کرنے کیلئے استعمال ہونے والی ایک انتہائی مہلک اور با آسانی دستیاب زہر پر پابندی کے لیے کالم لکھا تھا۔ تاہم‘ سارے کالم میں اس مہلک زہر کا نام لکھنا تو کجا‘ اس کی نشانیاں تک نہیں بتائی تھیں کہ کہیں اس سے لا علم لوگوں کو اس کا علم نہ ہو جائے اور فائدہ تو شاید ہو یا نہ ہو‘ الٹا نقصان ہو جائے۔ اگر مجھے رتی برابر بھی شبہ ہوتا کہ میرے اس کالم کا مہرانو کی حیاتِ جنگلی پر کوئی منفی اثر پڑے گا تو میں محض اپنے ایک کالم کا پیٹ بھرنے کے بجائے اس سارے تجربے کو اپنی یادوں کا حصہ بنائے رکھتا اور جب جی چاہتا ماضی میں جا کر جھانکتا اور خود کو مہرانو کی جھیل کنارے خفیہ نظارہ گاہ کے آٹھ انچ کے چوکور سوراخ سے چپکا ہوا پاتا۔ خود کو ہزاروں آبی پرندوں سے محض چند گز کے فاصلے پر محسوس کرتا اور ہر بار یہ سوچ کر حیرت سے دم بخود ہو جاتا کہ وہ کیسا منظر تھا جس نے مجھے ایسے بچے کی طرح حیران کر دیا‘ جس نے زندگی میں پہلی باررات کے اندھیرے میں جگنو ٹمٹماتے دیکھا ہو یا آسمان پر رنگ برنگی پھلجھڑی چھوٹتے دیکھی ہو۔
یہ وائلڈ لائف سینکچری 1790ء سے موجود ہے‘ یعنی اسے قائم ہوئے دو سو تیس سال ہو چکے ہیں اور یہ سینکچری تمام تر زور رکھنے والے سندھی وڈیروں اور پاکستانی شکاریوں سے محفوظ ہے تو آخر اس کی کوئی وجہ تو ہو گی؟ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میر سہراب خان تالپور کی قائم کردہ یہ گیم سینکچری چاروں طرف سے قریب دس فٹ اونچی دیوار کے اندر واقع ہے‘ بھلا دیوار پھاندنا یا توڑنا کون سا مشکل کام ہے؟ یہ گیم سینکچری مکمل طور پر پرائیویٹ ہے اور اس کا مالک میر علی مراد تالپور سابقہ حکمران ریاست خیر پور ہے اور وہ اپنی اس گیم سینکچری کے بارے میں بہت حساس بھی ہے اور مکمل چوکنا بھی۔ اسے بھی علم ہے کہ ان چھیچھڑوں پر کون کون سی بلی جھپٹنے کے لیے تیار بیٹھی ہے ‘مگر وہ اپنے آباؤ اجداد کے ورثے کا وارث بھی ہے اور محافظ بھی۔ اس کے بعد اس کے دونوں بیٹے میر مہدی رضا خان اور میر عباس رضا خان اپنے والد سے بھی بڑھ کر اس کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ میں نے کہا تھا نا کہ اس کالم میں حیاتِ جنگلی سے دلچسپی رکھنے والوں کے ایک گروہ کیلئے خوشخبری اور دوسرے کیلئے بہت ہی بری خبر ہے۔ سو حیاتِ جنگلی کے بارے میں فکر مند حضرات تسلی رکھیں کہ مہرانو محفوظ ہاتھوں میں ہے اور دوسرے گروہ کیلئے مشورہ ہے کہ وہ اپنی بندوقوں کو واپس بندوق کورز میں ڈال لیں اور جو تیل وہ بندوقوں کو لگانے کی تیاری کر رہے تھے اسے اپنی حسرتوں پر مل لیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں