نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ای وی ایم کیخلاف اپوزیشن بےبنیادپروپیگنڈاکررہی ہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- کون سی مشین سلیکٹ کرنی ہےیہ الیکشن کمیشن کاکام ہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- ووٹنگ مشین توکوئی بھی ہوسکتی ہے،وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی
  • بریکنگ :- پرانےطریقہ کارکےبجائےٹیکنالوجی کواستعمال کرناچاہیے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- قانون سازی پارلیمنٹ اورمشین کافیصلہ الیکشن کمیشن نےکرناہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- اپوزیشن ای وی ایم دیکھےبغیرتنقیدکررہی ہے،شبلی فراز
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ملتان میں سیاسی ناکامی کا ملبہ

ساری زندگی میں میرا سب سے زیادہ واسطہ بوسن روڈ سے پڑا ہے۔ ہمارا گھر چوک شہیداں تھا لیکن پانچویں جماعت پاس کرتے ہی مجھے گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ 1968ء کا سال تھا۔ بس تب سے یہ سڑک میری زندگی کا لازمہ بن چکی ہے۔ اب اس سڑک اور میرے تعلق کو ترپن سال کا عرصہ ہو چکا ہے یعنی نصف صدی سے تین سال زائد۔ 1968ء سے 1973ء تک گورنمنٹ سکول میں گزر گئے۔ 1974ء میں ایمرسن کالج میں داخل ہو گیا۔ یہ بھی میرے سکول سے متصل اور بوسن روڈ پر واقع تھا۔ پھر زکریا یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بے سروسامانی میں شروع کی جانے والی یونیورسٹی کا اولین کیمپس میرے ہائی سکول کی عمارت میں بنایا گیا اور میں دوبارہ اسی عمارت میں ایم بی اے کرنے آ گیا‘ جہاں سے میٹرک پاس کرکے کالج گیا تھا۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر والے کمرے میں ہمارے شعبہ کے ہیڈز ڈاکٹر محمود بولہ، سید رضا علی بابر اور بعد ازاں ڈاکٹر ظفراللہ صاحب بیٹھتے رہے اور میں نے یونیورسٹی کی اپنی کلاس عین اسی کلاس روم میں پڑھی، جہاں سے میں نے اس سکول میں اپنی دسویں جماعت کی آخری کلاس ماسٹر عبدالقادر صاحب سے پڑھی تھی۔ ہم دوست ہنستے تھے کہ دنیا گول ہونے کا بھلا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔
ایمرسن کالج کے سائنس بلاک کے ایک فرلانگ بعد چھ نمبر چونگی آ جاتی تھی۔ یہ شہر میں داخلے کا مقام تھا اور یہاں قابل محصول اشیا پر محصول چونگی وصول کی جاتی تھی۔ یہ ملتان شہر کا باقاعدہ آخری سرا تھا۔ اس کے بعد کھیت اور پھر آموں کے باغات آ جاتے تھے۔ بعد ازاں یہاں سے چونگی ختم ہوگئی تو اس کی ایک کمرے والی سرکاری عمارت میں‘ جس کی کھڑکیوں میں لوہے کی سلاخیں لگی ہوئی تھیں‘ ایک عدد چائے کا ہوٹل بن گیا جو آہستہ آہستہ چائے خانہ سے کھانے پینے والا ہوٹل بن گیا۔ اس کا نام اللہ دتہ ٹی سٹال تھا۔ یہاں تنور لگ گیا اور دال سبزی کے دیگچے بھی سج گئے۔ کونے پر ایک لکڑیوں کا آرا تھا اور بس۔ نیل کوٹ کے پاس ایک دو منزلہ پختہ گھر تھا جس کے نیچے پنکچروں والا بیٹھا ہوا تھا۔ یہ دور سے نظر آ جاتا تھا کہ یہ اس سارے علاقے میں اکیلا مکان تھا۔ نیل کوٹ کے بعد باغ والا آ جاتا تھا۔ یہاں سے باغات شروع ہو جاتے تھے اور پھر لطف آباد اور قصبہ بوسن تک، بلکہ اس کے بعد نواں شہر، ایلم پور، ککڑہٹہ، سلارواہن اور کبیر والا تک باغات ہی باغات تھے‘ اور باغ بھی آم کے۔
چہار چیز است تحفہ ملتان/ گرد، گرما، گدا و گورستان
ان چار چیزوں کے علاوہ ملتان کی سب سے نمایاں چیز آم ہوتے تھے، بلکہ اب بھی ہیں۔ کسی زمانے میں آموں کی لکڑی والی پیٹیوں کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہوتا تھا۔ جنگلی لئی کی باریک ٹہنیوں سے بنے ہوئے گول ٹوکروں میں کناروں پر گھاس لگا کر آم رکھے جاتے اور اوپر سے ٹاٹ کو ستلی سے سی کر آموں کے ٹوکرے دوسرے شہروں میں بطور تحفہ بھجوائے جاتے تھے۔ ٹاٹ پر سیاہی سے نام لکھا جاتا اور ریلوے سٹیشن سے آم بک کروائے جاتے۔ وہاں بھی اس ٹاٹ پر بکنگ کی رسید کا نمبر لکھا جاتا اور ٹرین کی ''بریک‘‘ میں رکھ کر مطلوبہ شہروں کو روانہ کر دیئے جاتے۔ آم بھیجنا ایک سالانہ ذمہ داری کی سی صورت اختیار کر گیا تھی۔ ویسے بھی ملتان کے لوگ اس معاملے میں بہت ہی روایتی واقع ہوئے ہیں۔ اسے ہرگز حسن طلب نہ سمجھا جائے‘ لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ جس طرح ملتان والے اپنے دوستوں اور عزیزوں کو ہر سال آم بھجواتے ہیں اس طرح پاکستان کے کسی دوسرے شہر یا علاقے سے پھلوں کی سوغات نہیں بھیجی جاتی۔ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی کہ کسی نے باقاعدگی سے ہر سال کوئٹہ سے ملتان اپنے کسی دوست یا عزیز کو چمن کے انگور، قندھاری انار یا چیری بھیجی ہو۔ کسی نے ہری پور یا خان پور سے لال مالٹے ارسال کیے ہوں یا خیر پور سے کھجور کا تحفہ بھیجا ہو۔ یہ صرف ملتان والے ہی ہیں جو آم بھیجنے کی روایت کو خوش دلی سے نبھا رہے ہیں۔ ایک دوست سرکاری افسر بتانے لگا کہ اسے ملتان سے ٹرانسفر ہوئے گیارہ سال اور ریٹائر ہوئے تین سال ہو چکے ہیں مگر ملتان سے اسے اس سال بھی سترہ پیٹیاں آموں کی بھیجی گئیں۔ ارشد ملتانی کا شعر اہلِ ملتان کی کیا خوب ترجمانی کرتا ہے:
ڈھونڈنے سے بھی نہ پائو گے ارشد جہان میں
خوئے وفائے مہر جو ملتانیوں میں ہے
بوسن روڈ سے گزرتے ترپن سال ہو گئے ہیں۔ جونہی نیل کوٹ سے آگے جاتے تھے، آموں کے درخت سڑک کی دونوں طرف اپنی بہار دکھاتے تھے۔ زکریا یونیورسٹی کا مجوزہ کیمپس باغ والا میں قرار پایا اور ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر آم کے درخت کٹ گئے اور سنگ و خشت کا باغ اُگ آیا۔ جب ہم ابو بکر ہال (نیو کیمپس) سے گلگشت ہائی سکول والے اولڈ کیمپس میں آتے اور واپس جاتے تو نیل کوٹ سے لے کر باغ والا تک اور جب کبھی اس سے آگے لطف آباد، نواں شہر، ککڑ ہٹہ، ٹھل نجیب، جھوک سلارواہن اور ممدال کی طرف جاتے تو مارچ کے اواخر میں آموں کا بور پھول میں بدلتا اور ساری فضا ایک مسحور کن مہک سے لبریز ہو جاتی۔ یہ مہک دن کو تھوڑی کم ہوتی لیکن رات کو ایسی تیز ہوتی کہ بیان سے باہر۔ تین ماہ میں یہ پھول آم میں بدل جاتے۔ سب سے پہلے دسہری آتا پھر انور رٹول اور آخر میں ثمر بہشت۔ ان کے علاوہ بھی مزید ڈھیروں اقسام، لنگڑا، مالدہ، فجری، ثمر محمود، طوطا پری، سرولی اور دیسی آم۔ پھر دیر سے پکنے والی ورائٹیاں از قسم سفید چونسا، کالا چونسا اور رٹول بارہ نمبر وغیرہ۔ لیکن اب ایک عرصہ ہو گیا ہے بوسن روڈ پر روزانہ شام سے لے کر رات گئے تک قصبہ بوسن کی طرف سے شہر کی جانب درجنوں بیل گاڑیاں اور لوڈر رکشے کٹے ہوئے درختوں کے تنے لے کر لکڑ منڈی (ٹمبر مارکیٹ) جا رہے ہوتے ہیں۔ میں یہ منظر گزشتہ کئی برسوں سے دیکھ رہا ہوں۔
گزشتہ تین چار سال میں ملتان کے اردگرد کچھ بھی نہیں تو کم از کم بارہ تیرہ ہزار ایکڑ کے لگ بھگ باغات کٹ کر ختم ہو چکے ہیں۔ ظاہر ہے باغات بیچنے اور کاٹنے والوں کے پاس اپنے دلائل ہیں‘ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کسی زمانے میں ملتان کا ایک ماسٹر پلان تھا۔ اس ماسٹر پلان میں ایک خاص اصطلاح استعمال ہوتی تھی اور وہ تھی آرچرڈ ایریا۔ یہ وہ علاقہ تھا جسے محفوظ قرار دیتے ہوئے یہاں کے باغات اور درخت کاٹنے پر اور ہائوسنگ سوسائٹی وغیرہ بنانے پر بھی پابندی تھی‘ لیکن یہ پابندی بھی بالکل ویسے ہی ہوا میں اڑا دی گئی جس طرح آج کل زورآور پتنگ باز بسنت پر پابندی کو اپنی پتنگ کے ساتھ ہوا میں اڑا دیتے ہے۔
بعض راوی‘ جو بڑے معتبر ہیں اور بہت سی باتوں سے آگاہ بھی‘ ملتان ضلع میں افراتفری میں ہونے والی سرکاری افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ کو بھی اسی سے جوڑ رہے ہیں۔ بقول ان کے ضلع کا ایک توپ سرکاری افسر سو سال پرانے خسرہ گرداوری میں موجود شارع عام کو بند کرنے، پرانے کھالے، نالے اور راجباہ بند کرنے، نہر پر سرکاری پل پر چیک پوسٹ بنانے کے خلاف درخواستوں پر ایکشن لیتے ہوئے ان سرکاری راستوں، راجباہوں اور پل کھولنے کے لیے جو احکامات جاری کر رہا تھا، ان لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے تھے جو اس سارے معاملے میں بینی فشری تھے؛ تاہم اسے تبدیل کرنے کے لیے بہانہ کچھ اور بنایا گیا ہے اور اوپر یہ اطلاع دی گئی تھی کہ ملتان سے جن دو ممبران قومی اسمبلی پر سینیٹ میں حکومتی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا شک ہے وہ اس سرکاری افسر کے عدم تعاون کے باعث تنگ تھے۔ میں نے شاہ جی سے پوچھا تو وہ کہنے لگے سیاسی ناکامی کا ملبہ سرکاری افسروں پر ڈالنا بذات خود سیاسی ناکامی کا اعتراف ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں