نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب سےچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ملاقات
  • بریکنگ :- صادق سنجرانی نےعثمان بزدارکےہرضلع کی یکساں ترقی کےویژن کوسراہا
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ نےبلوچستان کی ترقی کیلئےپنجاب حکومت کےتعاون پرشکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- ہمارافرض ہےاتفاق کی قوت سےپاکستان کوآگےلےکرجائیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- بدقسمتی سےاپوزیشن نےہمیشہ افراتفری کی سیاست کی،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کاتحفظ چاہتی ہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- یہ ترقی کےسفرکوروکنےکیلئےمنفی سیاست کررہےہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت ہمیشہ بلوچستان کی مددمیں آگےرہی ہے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- صوبوں کےدرمیان ہم آہنگی کےفروغ کیلئےاقدامات کیے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- باہمی دلچسپی کےامور،سیاسی صورتحال،بین الصوبائی ہم آہنگی کےفروغ پرگفتگو
  • بریکنگ :- بلوچستان کےساتھ ہرطرح کاتعاون جاری رکھیں گے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- عثمان بزدارنےبین الصوبائی ہم آہنگی کیلئےٹھوس اقدامات کیے،صادق سنجرانی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

راوی کاشتکار کے بارے میں چین لکھتا ہے

ہماری تمام تر کوتاہیوں‘ نالائقیوں اور نااہلیوں کے باوجود ہمارا رب ہم گنہگاروں پر بڑا مہربان ہے اور کرم کرتا رہتا ہے۔ موجودہ حالات کو مدنظر رکھیں تو اربابِ اختیار نے تو ہمیں خوار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن وہی کریم ہے جو ہر مشکل میں کہیں نہ کہیں ہمیں سہارا دیے رکھتا ہے۔ اس بار اس نے ہمارے کاشتکار کی ڈوبتی نیاّ کو بڑا سہارا عطا کیا ہے۔بے وقت کی بارشوں اور ژالہ باری کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ گندم کی فصل بھرپور رہی ہے۔ پاکستان میں گندم کا کاشتہ رقبہ تقریباً دو کروڑ ایکڑ ہے اور اپنی پیداوار اور رقبے کے اعتبار سے گندم پاکستان کی سب سے بڑی فصل ہے۔ اس دو کروڑ ایکڑ میں سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ایکڑ کے لگ بھگ یا اس سے تھوڑا کم رقبہ صرف پنجاب میں ہے۔ اس سال گزشتہ سال کی نسبت گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار بہتر ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ گندم کی ملک بھر میں اوسط پیداوار تینتیس‘ چونتیس من فی ایکڑ ہو جائے گی۔ اس طرح سے ملک میں گندم کی پیداوار ستائیس ملین ٹن متوقع ہے بلکہ ہمارے دوست آصف مجید کا خیال ہے کہ یہ پیداوار اٹھائیس ملین ٹن کے لگ بھگ بھی ہو سکتی۔ اس اٹھائیس ملین ٹن میں سے تقریباً بیس ملین ٹن گندم صرف پنجاب میں پیدا ہوگی۔ گزشتہ سال گندم کی ملکی پیداوار تقریباً پچیس ملین ٹن تھی۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ امسال گندم کی کل ملکی پیداوارگزشتہ سال کی نسبت تقریباً بارہ فیصد زائد ہوگی۔ ممکن ہے یہ اندازہ تھوڑا بڑھا کر بتایا جا رہا ہو؛ تاہم یہ بات طے ہے کہ اس سال گندم کی پیداوار گزشتہ سال سے بہرحال کافی بہتر ہوگی۔ خدا کرے کہ گندم کے سیزن کے اختتام تک یہ صورتحال برقرار رہے۔
یہی صورتحال چاول اور مکئی کی ہے۔ چاول آہستہ آہستہ بہت زیادہ رقبے میں کاشت ہونے لگ گیا ہے اور اب یہ پاکستان کی دوسری بڑی فصل بن گیا ہے۔ 2020-21ء میں چاول کی پیداوار کا تخمینہ ساڑھے سات ملین ٹن کے لگ بھگ ہے جبکہ گزشتہ سال یہ پیداوار 6.9 ملین ٹن کے لگ بھگ تھی۔ یعنی ایک اندازے کے مطابق حالیہ فصل گزشتہ سال کی نسبت تقریباً سات فیصد زیادہ ہوگی۔ اس پر مزید یہ کہ مونجی کا ریٹ بھی گزشتہ سال کی نسبت کافی بہتر ہے اور اس فصل سے کاشتکار کو اس سال بہتر منافع ملنے کا یقین ہے۔ چاول کا کاشتہ رقبہ ستر لاکھ ایکڑ سے زیادہ ہو چکا ہے اور زرعی مداخل کی قیمت میں اضافے کے باوجود کاشتکار کو اس فصل میں منافع کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔یہی حال مکئی کا ہے۔ پاکستان میں پولٹری فیڈ کی صنعت میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کے باعث ملک میں مکئی کی کھپت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کبھی پاکستان میں مکئی کی پیداوار کا بیشتر حصہ سٹارچ بنانے والی ایک دو کمپنیاں خریدتی تھیں اور اس سے کارن آئل‘ سٹارچ‘ کا رن فلور اور کسٹرڈ وغیرہ بنتے تھے لیکن ملک میں مرغی کی کھپت میں اضافے نے پولٹری فیڈ کی صنعت کو بہت بڑھاوا دیا ہے اور اب مکئی کا بیشتر حصہ پولٹری فیڈ ملز کے استعمال میں آتا ہے۔ اوپر سے بہتری یہ ہوئی کہ مکئی کی بیشتر پیداوار درآمد شدہ ہائبرڈ بیج پر چلی گئی ہے جس کی فی ایکڑ پیداوار روایتی مکئی کی اقسام کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ بڑھتے ہوئے منافع کے باعث یہ فصل کاشتکاروں میں بہت مقبول ہے اور اس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ پیداوار بھرپور ہے اور ریٹ بہت اچھا مل رہا ہے اس کے باعث اب پاکستان میں مکئی کا کل کاشتہ رقبہ بیس لاکھ ایکڑ سے تجاوز کر چکا ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ مکئی کی فی ایکڑ پیداوار پندرہ بیس من آتی تھی جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ اس کی اوسط پیداوار ساٹھ ستر من فی ایکڑ ہو چکی ہے بلکہ کئی مثالی کاشتکار سو من فی ایکڑ تک کی پیداوار حاصل کر رہے ہیں اور اس کا ریٹ بھی چودہ سو روپے فی من سے متجاوز ہو گیا ہے۔ یہ صرف اچھے اور ترقی یافتہ بیج کے طفیل ممکن ہو سکا۔
گندم کے گزشتہ سال کے تلخ تجربے کے بعد اس سال حکومت نے پنجاب کی فصل کے مارکیٹ میں آتے ہی سختی شروع کر دی ہے اور اس سختی کا سارا نزلہ کاشت کار پر گر رہا ہے اور حکومت سرکاری خریداری ٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے زور زبردستی سے گندم کی خریداری میں مصروف ہے۔ ایک طرف عالم یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر کے کمسن بیٹے کی گاڑی چلانے کی وڈیو وائرل ہوتی ہے تو وزیر موصوف فرماتے ہیں کہ گاڑی میری ذاتی ہے‘ زمین میری اپنی ہے اور میرا بیٹا اگر گاڑی چلا لیتا ہے تو کسی کو کیا پرابلم ہے؟ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ زمین کاشتکار کی ہے‘ سارا سال محنت کاشتکار کرتا ہے‘ فصل پر سارا خرچہ کاشتکار کرتا ہے۔ آدھی رات کو اُٹھ کر پانی کاشتکار لگاتا ہے۔ بارش اور ژالہ باری کو کاشتکار برداشت کرتا ہے۔ فصل کاٹتا ہے اور گندم کا دانہ الگ کرتا ہے اور پھر دھونس جمانے کیلئے تحصیلدار‘ پٹواری آ جاتے ہیں۔
تذکرہ بیج کا ہو رہا تھا اور مجھے درمیان میں کاشتکار کی کسمپرسی کا خیال آیا اور ا سی خیال کے گھوڑے سے بندھا ہوا قلم کاشتکار کی مظلومیت کی طرف چلا گیا جس کی فصل زیادہ ہو جائے تو سرکار منہ نہیں لگاتی اور گندم کا ڈھیر کھلے آسمان تلے پڑا ہو تو بیوپاری اور آڑھتی اسے لوٹنے کیلئے پہنچ جاتا ہے۔ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ گندم سرکاری ریٹ اٹھارہ سو روپے فی من (پنجاب کا ریٹ) کے بجائے آڑھتی اور بیوپاری سترہ‘ ساڑھے سترہ سو روپے فی من خرید کر رہے ہیں کہ بے وسیلہ کاشتکار کو سرکاری باردانہ ہی نہیں مل رہا۔ اوپر سے بڑی مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ ضلعی انتظامیہ‘ سرکاری افسران اور محکمہ زراعت بیج کمپنیوں کو گندم کا بیج خریدنے کی راہ میں مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ پنجاب میں گندم کی پیداوار دو کروڑ ٹن کے لگ بھگ متوقع ہے جبکہ پنجاب کی بیج کی ضرورت محض آٹھ سے نو لاکھ ٹن ہے۔ یعنی کل پیداوار کامحض ساڑھے چار فیصد بیج کیلئے درکار ہے لیکن افسران بیج کی گاڑیاں اُتروا کراپنا ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے عام گندم میں ملا رہے ہیں اور اس سے اگلے سال اچھے بیج کی قلت سے جو ملکی پیداوار پر منفی اثر پڑے گا اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے سرکاری بابو دور رس نتائج کے حامل منصوبہ سازی سے قطعاً عاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر منصوبہ سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ مکئی کی فصل بیس من فی ایکڑ سے سو من فی ایکڑ پر پہنچی ہے تو اس کا سارا کریڈٹ برآمد شدہ ہائبرڈ بیج کے سر جاتا ہے ادھر عالم یہ ہے کہ ہمارے گندم کے بیج پہلے ہی کوئی بہت اعلیٰ پیداواری صلاحیت کا حامل نہیں اوپر سے یہ والے بیج بھی اگلے سال مطلوبہ مقدار میں میسر نہیں ہوں گے۔
ادھر سندھ میں وڈیروں اور سیاسی کھڑپینچوں کے مزے لگے ہوئے ہیں۔ سندھ میں گندم کی فصل پنجاب سے پہلے تیار ہو جاتی ہے اور وہاں ہارویسٹنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے مگر خریداری اب شروع ہوئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے سارے زور آور لوگ پنجاب سے سترہ‘ ساڑھے سترہ سو روپے فی من گندم خرید کر سندھ میں دو ہزار روپے من سرکاری محکمے کو بھگتا رہے ہیں اور فی من دو سے اڑھائی سو روپے اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں۔ گندم کے ریٹ میں بین الصوبائی فرق کے باعث سمگلنگ مافیا لمبے نوٹ کما لے گا؛ تاہم ممکن ہے پنجاب اس بمپر پیداوار کے باوجود گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی گندم کی شارٹیج کا شکار ہو جائے۔ گزشتہ سال یہی سب کچھ کے پی سے تعلق رکھنے والے زور آوروں نے کیا تھا جو اب سندھ والے زورآورں کی اشیر باد اور سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں گندم کے سرکاری نرخوں میں دوسو روپے فی من کے فرق کا اصل منافع وہ کمائیں گے جو سندھ حکومت کو پنجاب سے گندم سمگل کر کے بھگتائیں گے۔ ان چند انسانی نالائقیوں کے باوجود قدرت مہربان ہے اور کاشتکار کے بارے میں راوی فی الحال چین لکھتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں