نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مالی سال 21-2020میں 10.19ارب روپےریونیو وصولی کاریکارڈ
  • بریکنگ :- کان کنی کےوسائل کابھرپوراوربہتراستعمال یقینی بنایاجائےگا،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- کنسٹرکشن سیکٹرکےفروغ کیلئےسیمنٹ سیکٹرپرعائدپابندیاں ختم کردی گئیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- نئی سیمنٹ فیکٹریوں کیلئے 22 این او سی جاری کیےجا رہے ہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- 3 سال میں 10 سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے این او سی جاری ہو چکے ہیں،عثمان بزدار
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اچیاں لمیاں ٹاہلیاں

جنگلات کی حالت ِزار پر کتنا لکھوں؟ لکھنے کیلئے کالم کا تنگ سا دامن میسر ہے اور یہ دکھ بھرا افسانہ شب ِہجراں سے بھی کہیں زیادہ طویل ہے۔ گزشتہ کالم میں ایشیا کے تب سب سے بڑے مصنوعی جنگل چھانگا مانگا کی ہلکی سی منظر کشی کی تھی۔ چھانگا مانگا سے میرا پہلا تعارف ریل گاڑی کے طفیل ہوا جب میں ابا جی کے ہمراہ لاہور جاتا تھا تو ریل گاڑی کی کھڑکی میں بیٹھنا تب شاید دنیا کی سب سے مزیدار تفریح تھی۔ ریل کے اس سفر کے دوران راستے میں دو چیزیں لازمی دیکھی جاتی تھیں ‘ ایک تو رینالہ خورد کے ساتھ مچلز فروٹ فارمز والوں کا وسیع و عریض باغ۔ یہ باغ کافی دیر تک ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتا۔ مالٹوں کے موسم میں اس باغ کے درخت مالٹوں سے لدے نظر آتے۔ دوسری چیز چھانگا مانگا کا جنگل تھا۔ دورانِ سفر یہ دونوں چیزیں بیسیوں بار دیکھیں مگر ہر بار یوں دیکھتے تھے کہ گویا پہلی بار نظر پڑی ہے۔ وہی اشتیاق اور وہی حیرانی!
ریل گاڑی اور چھانگا مانگا صرف میرے لیے ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں تھے بلکہ ان دونوں کا آپس میں تعلق بھی بہت ہی مضبوط اور پختہ تھا۔ چھانگا مانگا کا وجود میں آنا ہی اس ریل گاڑی کے طفیل ممکن ہوا۔ انیسویں صدی میں اس علاقے کی ریلوے تب ''نارتھ ویسٹ ریلوے‘‘ کہلاتی تھی۔ میں نے خود اپنے بچپن میں پرانی ریل گاڑیوں کی سیٹوں پر منڈھے ہوئے ریگسین پر گول دائرے کے اندر ''این ڈبلیو آر‘‘ کا لوگو بنا ہوا دیکھا ہے۔لاہور سے کراچی کیلئے اس ریلوے لائن پر چلنے والی گاڑیوں کو کھینچنے والے سٹیم انجنوں کو چلانے کیلئے تب کوئلہ اور لکڑی جلائی جاتی تھی۔ 1864ء میں لکڑی کی اس مستقل ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے تب پنجاب کے پہلے ''کنزرویٹو آف فاریسٹ‘‘ ڈاکٹر جان لنڈسے سٹیوارٹ نے اس کا تخمینہ لگاتے ہوئے اس جگہ پر زمین کا ایک بلاک جنگل کیلئے مختص کیا اور پندرہ سال کی عمر کے پختہ درختوں سے 4850 مکعب فٹ فی ایکڑ سالانہ لکڑی کے حصول کو اپنا مطمح نظر بناتے ہوئے نارتھ ویسٹ ریلوے کے انجنوں کی لکڑی اور کوئلے کی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے اس جنگل میں شجر کاری کا پندرہ سالہ منصوبہ اس طرح بنایا کہ ایک طرف پندرہ سالہ پختہ درخت کٹ رہے ہوں تو عین اسی وقت جنگل کے دوسرے سرے پر اتنے ہی رقبے میں نئے پودے لگائے جا رہے ہوں جو اگلے پندرہ سال بعد تیار ہو جائیں۔ اس طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہر سال اس جنگل کا ایک بلاک کٹتاتھا اور ایک بلاک کی نئی شجرکاری ہو جاتی تھی۔ یوں یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہا کہ سارا جنگل ہمہ وقت ایک سے لے کر پندرہ سال تک کی عمر کے درختوں سے لہلاتا رہا۔ تاوقتیکہ گورا انسانی ہاتھوں سے لگایا گیا اس خطے کا سب سے بڑا اور پرانا جنگل ہمارے حوالے کر کے انگلستان چلا گیا۔
یہ اس خطے کا ہی نہیں‘ اس وقت دنیا کا سب سے پرانا اور بڑا مصنوعی جنگل تھا جو یہاں لگایا گیا تھا۔ جنگل کیلئے شجرکاری شروع کرنے سے قبل Berthold Ribbentropنے جو برٹش انڈیا کے جنگلات کا انسپکٹر جنرل تھا اس قطعۂ اراضی کا جنگل کیلئے مناسب ہونے کا جائزہ لیا اور اس جگہ کو درست قرار دیتے ہوئے شیشم‘ کیکر اور سفید شہتوت کو ریلوے کی ضرورت کیلئے درکار لکڑی کے طور پر مناسب قرار دیا اور ان درختوں کی شجر کاری شروع کروا دی۔ درختوں کی یہ تینوں اقسام مقامی تھیں۔
شجر کاری کا آغاز 1866ء میں ہوا اور ابتدائی طور پر 8500 ایکڑ پر درخت لگائے گئے۔ 1870ء میں یہ رقبہ 9129 ایکڑ تک پہنچ گیا۔ درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی کو جان فاؤلر اینڈ کمپنی لیڈز برطانیہ کے بنے ہوئے انجنوں تک پہنچنانے کیلئے جنگل سے ریلوے یارڈ تک لے جانے کیلئے درمیان میں ایک پرائمری سٹیشن بنایا گیا اور جنگل سے اس پرائمری ریلوے سٹیشن تک ایک (610 ملی میٹر) دو فٹ چوڑی چھوٹے ٹریک (Narrow Gauge ) کی ریل پٹڑی بچھائی گئی اور اس چھوٹی پٹڑی کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ چھوٹے انجن اور مال بردار ڈبے کٹی ہوئی لکڑی کی باربرداری کیلئے استعمال میں لائے گئے۔ یہ چھانگا مانگا فاریسٹری ریلوے تھی۔ عرصہ ہوا ایک بار میں اور میرے بچے دو دن کیلئے چھانگا مانگا میں بنے ہوئے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے تو اس ٹرین پر بھی چڑھے۔ تب یہاں رہنے کے حالات خاصے بہتر تھے۔ دوسری بار کئی سال کے بعد گئے تو حالت اتنی خراب تھی کہ ٹھہرے بغیر واپس چل پڑے۔ تب اس چھوٹے گیج والی ٹرین کے تین انجن چالو حالت میں تھے اب خدا جانے یہ انجن چل رہے ہیں یا کسی جگہ نمائش کے طور پر کھڑے یا کسی فاؤنڈری میں ڈھل چکے ہیں۔ بدگمانی اچھی نہیں‘ مگر کیا کروں؟ ہر چیز کا یہی حال ہے تو انجن کوئی آسمان سے اترے ہیں؟
اس جنگل کا کل رقبہ 12515 ایکڑ کے لگ بھگ ہے اور کبھی یہ جنگل شیشم کی لکڑی کا ملک میں سب سے بڑا پیداواری ذریعہ تھا مگر اب بیماری‘ اندھا دھند کٹائی اور درختوں کی چوری کے باعث شیشم کے لاتعداد رخت صفحہ ہستی سے غائب ہو چکے ہیں۔ لے دے کر سارا زور پاپلر کی شجرکاری پر ہے۔ ساٹھ فیصد سے زیادہ جنگل ختم ہو چکا ہے۔ شہباز شریف نے درمیان میں ایک بار اس جنگل کی بربادی کے ذمہ داروں کو شکنجے میں لانے کی کوشش کی اور پنجاب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے چیف کنزرویٹو اور کنزرویٹو کو معطل کرنے کے ساتھ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو اس سلسلے میں سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی اور اس کے ساتھ چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کے چیئرمین کو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ 1990ء کی دہائی میں وہاں تعینات ڈی ایف اور ایس ڈی اوز‘ بلاک آفیسرز اور گارڈز کے خلاف کارروائی شروع ہوئی۔ اور انہیں معطل وغیرہ بھی کیا گیا مگر سب کی پہلے تو ضمانت ہو گئی اور پھر سب بحال ہو کر اپنی اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئے۔ اسی دوران شہباز شریف بھی دیگر ''شوبازیوں‘‘ میں مصروف ہو گئے۔ اللہ جانے اس جنگل کے لاکھوں درخت کون کھا گیا اور جنگل کو کس نے برباد کیا کیونکہ سارے ملزمان کو کلین چٹ مل گئی اور وہ سب بے گناہ قرار پا گئے۔
یہی حال ملتان کے نواحی ضلع خانیوال سے چھ سات کلو میٹر دور لگے ہوئے پیرووال جنگل کے ساتھ ہوا۔ اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے‘ جنگلوں کی حالت‘ درختوں کی غیر قانونی کٹائی‘ ٹمبر مافیا کی لوٹ مار‘ مسلسل کم ہوتا ہوا جنگلوں کا رقبہ اور جنگلوں میں پختہ (میچور)درختوں کا ناپید ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سارے کا سارا محکمہ جنگلات ہی (سوائے کوئی ایک آدھ استثنا کے) بے ایمانوں‘ نالائقوں اور نا اہلوں سے بھرا پڑا ہے لیکن پیرووال کے جنگل کا حال دیکھیں تو لگتا ہے کہ سارے محکمہ جنگلات میں مزید محنت اور تحقیق و تفتیش کے بعد بے ایمانی‘ رشوت ستانی‘ نالائقی اور نا اہلی میں نہایت اعلیٰ درجے کے حامل افسران و اہلکاران کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور پھر انہیں پیرووال بھجوا دیا گیا۔ چند عشرے پہلے جس جنگل میں بلا مبالغہ لاکھوں درخت تھے اب وہاں درخت ڈھونڈے سے بمشکل ملتا ہے۔ شیشم یعنی ٹاہلی اس خطے کا شاندار درخت تھا۔ چھاؤں‘ لکڑی اور ماحول دوستی کے حوالے سے بے مثل یہ درخت کبھی پنجاب کی شاہرات کے کنارے‘ پیرووال‘ چھانگا مانگا‘ چیچہ وطنی‘ کمالیہ‘ لوہی بھیر‘ تخت پری‘ بپی رینج‘ عیسن والا اور لہڑی کے جنگلات کے علاوہ نہروں کے کنارے لہلہاتا تھا مگر اب یہ درخت ہر جگہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ صرف لے دے کر اب کچھ ٹاہلی کے درخت لال سوہانرا میں بچے ہیں‘ لیکن کب تک؟ اوپر سے نیچے تک سب چور اس کے پیچھے ہیں بھلا بے زبان درخت کیا کر سکتے ہیں؟
لگتا ہے آنے والے وقتوں میں ٹاہلیوں کی جگہ صرف ٹاہلیوں کے لوک گیت ہی رہ جائیں گے۔
اچیاں لمیاں ٹاہلیاں نی اوئے ...وچ گجری دی پینگھ وے ماہیا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں