نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں مبینہ عسکریت پسندکی گرفتاری کابھارتی پروپیگنڈا
  • بریکنگ :- پاکستان نےمبینہ عسکریت پسندسےمتعلق بھارتی میڈیاکاپروپیگنڈامستردکردیا
  • بریکنگ :- ایک عسکریت پسندکی گرفتاری اوردوسرےکی ایل اوسی پرہلاکت کی خبریں بےبنیادہیں
  • بریکنگ :- جھوٹی خبروں کامقصددنیاکی توجہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سےہٹانا ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- پاکستان بھارتی مظالم سےمتعلق دستاویزی ثبوت دنیاکےسامنےپیش کرچکاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- درحقیقت ہزاروں بےگناہ کشمیری نوجوان بھارتی جیل میں قیدہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- نوجوان کشمیریوں کوبوقت ضرورت عسکریت پسندکےطورپرپیش کیاجاتاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت پرجب بھی عالمی برادری کادباؤبڑھتاہےوہ یہ ہتھکنڈےاستعمال کرتاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی اشتعال انگیزیوں کےباوجودپاکستان صبرکامظاہرہ کررہاہے،ترجمان دفترخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

محض دودن!

فاصلہ تو صرف سولہ کلومیٹر تھا مگر صورتحال یہ تھی کہ سڑک نام کی صرف تہمت تھی۔ تنگ اتنی کہ جیپ کے ایک طرف پہاڑ کی بلندی اور دوسری طرف سینکڑوں فٹ کی گہرائی کے درمیان بمشکل اتنی جگہ تھی کہ جیپ کو احتیاط سے چلائیں تو دونوں طرف ایک ڈیڑھ فٹ کا فاصلہ بچتا تھا۔ راستہ کچا تھا اور اس پر مزید ستم یہ کہ پتھر تھے اور بے شمار تھے۔ موڑ اتنے تنگ کہ دو جگہوں پر تو جیپ کو تین بار ریورس کرکے موڑ کاٹا گیا۔ اوپر سے مسلسل چڑھائی۔ پارس سے روانگی کے وقت سڑک پر لگا ہوا بورڈ پڑھا۔ پارس سطح سمندر سے4300 فٹ کی بلندی پر تھا اور سولہ کلومیٹر بعد آنے والی ہماری منزل مقصود شاران کی بلندی آٹھ ہزار فٹ تھی‘ یعنی ہمیں سولہ کلومیٹر میں تقریباً تین ہزار سات سو فٹ کی چڑھائی چڑھنا تھی۔ دو گھنٹوں پر مشتمل اس سفر نے جیپ کی اگلی سیٹ پر بیٹھے ہونے کے باوجود میرا انجرپنجر ہلا کر رکھ دیا۔ پچھلی سیٹ پر موجود بچوں نے پیچھے سے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سڑک رتی گلی جھیل سے زیادہ ''بمپی‘‘ ہے لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ ملتان سے پارس تک کے ساڑھے نو گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ کے بعد دو گھنٹے پر مشتمل اس جوڑ ہلا دینے والے سفر کے بعد شاران پہنچے تو ساری تھکاوٹ اس ایک منظر نے اتار دی جو ہمارے سامنے تھا۔
ایک زمانہ تھا جب ریسٹ ہائوس بک کروانا ایک باقاعدہ مہم کا درجہ رکھتا تھا۔ کبھی سفارش اور کبھی کسی دوست کا حوالہ، تاہم اس معاملے میں آزاد کشمیر میں کافی آسانی تھی۔ ان کے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ فون کرتے تھے اور کسی نہ کسی ریسٹ ہائوس میں کمرہ بک کروا لیتے تھے۔ بڑا مناسب کرایہ اور سادہ سا صاف ستھرا ماحول۔ سدھن گلی، چکار، بنجوسہ جھیل، دھیرکوٹ اور وادیٔ نیلم میں کئی جگہ ان ریسٹ ہائوسز میں بسیرا کیا۔ آزاد کشمیر میں ایسی سہولت اور آسانی ان کے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ پی ڈبلیو ڈی اور جنگلات کے ریسٹ ہائوسز میں بھی حاصل ہو جاتی تھی۔ سات سو روپے سے لے کر دو ہزار روپے تک فی یوم کرایہ۔ کرائے میں یہ فرق کمرے اور رہائشی سہولیات کے مطابق ہوتا تھا۔ اس کے بعد دوسرا خوشگوار تجربہ گلگت بلتستان میں ہوا۔ سکردو، استور، راما جھیل، نلتر اور وادی ہنزہ میں بھی یہ سہولت میسر ہو گئی۔ اب اس سلسلے میں نیا اضافہ خیبر پختونخوا کے ریسٹ ہائوسز ہیں۔
نظام میں اصلاح کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے؛ تاہم خیبر پختونخوا میں ریسٹ ہائوسز کی بکنگ جتنی آسان اور شفاف ہوگئی ہے اس کے بعد اب کسی ریسٹ ہائوس کو بک کروانے کیلئے کسی دوست کو تلاش کرنا یا ادھر ادھر سے کہلوانے کا سارا جھنجٹ ہی ختم ہوگیا۔ خیبر پختونخوا کے کلچرل اینڈ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے اکثروبیشتر ریسٹ ہائوسز کی بکنگ اور اس کی ادائیگی کی آن لائن سہولت فراہم کردی ہے۔ آپ اپنی مرضی کے ریسٹ ہائوس کی آن لائن بکنگ کریں اور آن لائن بینکنگ یا ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کریں اور جاکر ریسٹ ہائوس میں ڈیرہ لگائیں۔ شاران میں لکڑی کے ہٹ (Wooden pods) بھی اسی سہولت کے ذریعے بک کروا لئے۔
گزشتہ دنوں کالام کے جنگل میں جاکر جو مایوسی ہوئی اور جنگل سے وابستہ سکون، تنہائی اور خاموشی کا تصور جس بری طرح برباد ہوا اس کے بعد ایک مہم یہ شروع کی کہ اب کوئی پرسکون جگہ تلاش کی جائے جہاں درخت، سبزہ اور سردی تو ہو مگر شور شرابا اور کھپ نہ ہو۔ ایک دوست نے شاران کا بتایا؛ تاہم ساتھ ہی بتا دیاکہ راستہ خراب ہے۔ میں نے کہا عزیزم! وہاں سکون اور خاموشی کی وجہ یہی ہوگی کہ راستہ خراب ہے‘ اگر راستہ آسان ہوتا تو وہاں بھی کالام کے جنگل والا حال ہو چکا ہوتا‘ سو دو چھوٹے ووڈن پاڈ بک کروائے۔ سامان اٹھاکر گاڑی میں رکھا اور اللہ کا نام لے کر سفر شروع کردیا۔ ملتان سے ایم فور پر چڑھ کر ایم ٹو پکڑی اور ایم ون سے دریائے ہرّو عبور کرتے ہی ہزارہ ایکسپریس وے یا ایم پندرہ پکڑی اور مانسہرہ پہنچ گئے۔ ملتان سے مانسہرہ تک کا سفر اب اتنا آسان اور آرام دہ ہو گیا ہے کہ چند سال پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تاہم موٹروے کے اختتام پر مانسہرہ شہر کا بائی پاس بھی بائی پاس کے نام پر تہمت ہے اور موٹروے سے اتر کر بالاکوٹ روڈ تک پہنچنے میں آدھا پونا گھنٹہ صرف ہو جاتا ہے تاہم پھر بھی غنیمت ہے۔ پہلے مانسہرہ سے بالاکوٹ پہنچنے کیلئے گڑھی حبیب اللہ براستہ بٹراسی والا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا جو لمبا، پیچ و خم سی بھرا ہوا اور مشکل تھا مگر اب بہت بہتری ہوگئی ہے۔
مانسہرہ سے پارس کا راستہ تقریباً70 کلومیٹر ہے؛ تاہم وقت تقریباً2 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ لگ جاتا ہے۔ مانسہرہ سے بالاکوٹ اور وہاں سے کوائی سے گزر کر پارس آجاتا ہے۔ شاران کا راستہ دریائے کنہار کی دوسری طرف سے جاتا ہے۔ رسیوں والے پل سے دریا پار کریں اور پھر اگلے سولہ کلومیٹر ایک تنگ، کچی اور پتھروں سے بھری سڑک پر مسلسل چڑھتے جائیں۔ جب آپ اس سفر سے تنگ آ جاتے ہیں اور تھک کر چور ہوجاتے ہیں تو ایکدم آپ کے سامنے ایک سرسبز چھوٹا سا میدان آجاتا ہے۔ اس میدان کے ایک طرف ندی، دوسری طرف جنگل اور عقب میں مانشی ٹاپ ہے جو مزید دو ہزار فٹ بلند ہے۔ میدان میں ایک طرف دو دو لوگوں کے ٹھہرنے والے چار لکڑی کے گول چھت والے ہٹ ہیں جو ''ووڈن پاڈ‘‘ کہلاتے ہیں۔ دوسری طر ف بھی اسی طرح کے چار ہٹ ہیں اور ایک طرف چار چار افراد کیلئے تین بڑے ہٹ ہیں۔ کل اٹھائیس لوگوں کیلئے تو رہائشی سہولت ہے؛ تاہم اس کے پیچھے جنگل میں تھوڑی جگہ صاف کرکے چار عدد ٹینٹ لگائے گئے ہیں اور سامنے پرائیویٹ ٹینٹ لگانے کی جگہ دستیاب ہے۔ ساتھ فائبر گلاس کے باتھ رومز ہیں۔ ایک طرف کچن اور ڈائننگ روم ہے۔ باریک لکڑی سے بنے ہوئے یہ دو کمرے مشترکہ استعمال کیلئے ہیں۔
سیلف کوکنگ کا بندوبست موجود ہے۔ برتن دستیاب ہیں۔ کئی لوگ اپنا ایل پی جی کا چولہا ساتھ لائے تھے مگر ہم نے ایسا جنجال نہیں پالا تھا۔ وہاں پہنچ کر شاران کے کیئرٹیکر تنویر شاہ کو شروع میں ہی بتا دیاکہ ہمارے کھانے کا بندوبست آپ نے کروانا ہے۔ دودھ، کافی، جوس، ڈبل روٹی، مکھن، جیم وغیرہ ہم اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ سب سے مزے کی بات یہ تھی کہ یہاں فون یا انٹرنیٹ نہیں تھا۔ یہاں ہونے والی بکنگ نوٹ کرنے کیلئے تنویر شاہ روزانہ نیچے جاتا ہے‘ جہاں فون کے سگنل آتے ہیں۔ وہ نیچے سے روزانہ بکنگ کی تفصیل لے کر اوپر آتا ہے اور اسی حساب سے ٹھہرنے والوں کا بندوبست کرتا ہے۔ رہائشی میدان کے سامنے ایک کھیت تھا اور اس میں آلو کاشت ہوئے تھے۔ سامان ہٹس میں رکھنے کے بعد پہلا کام یہ تھاکہ جنگل کو نکل پڑے۔ ایک موڑ مڑا اور ہم ایک ایسی دنیا میں پہنچ گئے جس میں خاموشی، سکون، درخت، سبزہ اور خنکی تھی۔ ایسی خنکی کہ جیکٹ مزہ دے رہی تھی۔ وہیں جنگل میں کھڑے کھڑے ارادہ کیاکہ اگر زندگی رہی تو انشااللہ اگلے سال پھر یہاں آئیں گے۔ امید ہے کم از کم اگلے سال تک تو سڑک ایسی ہی ہوگی اور ظاہر ہے پھر شاران بھی ایسا ہی ہوگا۔ دو دن دل شاد رہا۔ بھلا ایسی جگہ بھی دل سکھ کا سانس نہ لے گا تو پھر کہاں لے گا؟ ان دو دنوں میں لگا کہ اگر فون کی گھنٹی اور واٹس ایپ کی الرٹ ٹون گونگی ہو جائے تو آپ کو نیچر سے گفتگو کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ ایسی گفتگو ہوتی ہے جو نہ تو خاموشی کو چھیڑتی ہے اور نہ کسی اردگرد و الے کو تنگ و پریشان کرتی ہے‘ لیکن ایسی جگہوں پر سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ دن بڑی جلدی گزر جاتے ہیں اور اگر وہ ہوں بھی محض دو دن۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں