نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان کےاولڈوارویٹرن لیفٹیننٹ کرنل(ر)سلطان محمد خان مینگل انتقال کرگئے
  • بریکنگ :- لیفٹیننٹ کرنل (ر)سلطان محمد خان مینگل کی عمر 103سال تھی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- سلطان محمدخان مینگل زبردست سولجر ،مہم جو اور کوہ پیما تھے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- لیفٹیننٹ کرنل (ر)سلطان محمدخان مینگل نے مختلف مہمات میں حصہ لیا
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ملتان کی سیاست

بیان بازیوں سے ہٹ کر دیکھیں تو سیاست مکمل جمود کا شکار ہے۔ عوامی مسائل کو حل کرنے میں مکمل ناکام موجودہ حکومت ‘اپنی کرپشن کو چھپانے اور ناجائز آمدنی کو بچانے میں مصروف اپوزیشن اورمہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام۔ ایسے میں سیاست کا وہی حال ہے جو کیچڑ میں پھنسے ہوئے بیل ریڑھے کا ہوتا ہے۔ زور بھی لگ رہا ہوتا ہے مگر ریڑھا وہیں پھنسا ہوتا ہے۔ نہ ایک قدم آگے نہ ایک قدم پیچھے۔
صورتحال اس حد تک مایوس کن ہے کہ اب میرے جیسے رجائی شخص نے بھی یہ جان لیا ہے کہ نام کی حد سے آگے تبدیلی ممکن نہیں ہے‘ اپوزیشن کے تلوں میں تیل نہیں ہے اور حکومت کہیں نہیں جا رہی۔ جب حالت یہ ہو کہ اپوزیشن حکومت کی رخصتی کے بجائے قبل از وقت الیکشن پر آ جائے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ خود کس حد تک مایوس ہیں۔ اتنی مایوس کہ ان حالات میں تو اب یہ یقین پیدا ہو گیا ہے کہ عثمان بزدار بھی پانچ سال پورے کریں گے۔ اب آپ صرف اسی ایک بات سے حکومت کی بے فکری اور تسلی کا اندازہ لگا لیں۔
ملتان میں بھی سب کچھ اسی طرح چل رہا ہے جس طرح گزشتہ تین سال سے چل رہا ہے۔ پانچ ایم پی ایز کا ٹولہ مزے کر رہا ہے۔ اس ٹولے کا سربراہ جو ایک صوبائی وزیر ہے‘ موج میلے کی ''اخیر‘‘ کر رہا ہے۔ سرکاری سکولوں کو سولر انرجی پر چلانے کے پروجیکٹ نے جن لوگوں کے وارے نیارے کیے ہیں ان کے نام سب کی زبان پر ہیں مگر اب لوگ ایسی باتوں کو نہ تو معیوب سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے کرپشن کے نام پر جو تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا وہ ان کی ٹیم میں شامل بہت سے ایسے ناموں کی بدولت ویسے تو روزِ اول سے ہی مشکوک ہو گیا تھا جو گزشتہ دو تین حکومتوں کے اقتدار کی بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو چکے تھے؛ تاہم اب نئے ناموں نے جوشہرت کمائی ہے اس نے خان صاحب کے بیانیے میں سے رہی سہی ہوا بھی نکال دی ہے۔ اللہ جانے اس بات میں کتنی حقیقت ہے مگر ایک واقفِ حال بتا رہا تھا کہ سکولوں کو سولر انرجی پر لانے کا پروجیکٹ بڑا سود مند جا رہا ہے۔ میں نے کہا‘ ظاہر ہے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں سولر انرجی کی ابتدائی لاگت ضرور زیادہ ہے لیکن بعد ازاں یہ بجلی بڑی سستی پڑتی ہے اس سے بجلی کے بل میں بچت ہو گی۔ وہ دوست ہنسا اور کہنے لگا: میں سرکاری سکولوں کے نہیں بلکہ اس پروجیکٹ کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنیوں کے پس پردہ رہ کر کمائی کرنے والوں کی بات کر رہا ہوں۔ اس سارے منصوبے کے اصل بینی فشری دراصل وہی ہیں جو اس منصوبے کے نگران اور سرپرست ہیں۔ شنید یہی ہے کہ کام کرنے والے محض فرنٹ مین ہیں اور اصل مستفید ہونے والے وہی ہیں جو اس کے محافظ ہیں۔ اور ہاں! محافظوں سے یاد آیا! ایک واقفِ حال یہ بھی بتا رہا تھا کہ سکولوں کوسولر انرجی پر Convert کرنے کیلئے جو سامان لگتا ہے اس میں سب سے قیمتی چیز اس کے سولر پینلز ہیں۔ عالم یہ ہے کہ کئی سرکاری سکولوں سے یہ سولر پینل چوری ہو چکے ہیں اور یہی چوری شدہ سولر پینلز دوسرے سکولوں میں لگ چکے ہیں یعنی ڈکیتی در ڈکیتی ہو رہی ہے۔ چور اورمحافظ ملے ہوئے ہیں۔
تاہم ملتان کی سیاست میں ایک تھوڑی سی ہلچل مچی ہے اور وہ یہ کہ ملتان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 217 ملتان VII سے 2018 ء کے الیکشن میں کامیاب ہونے والے نوجوان سلمان نعیم کو بطور رکن صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحال کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تین سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد سلمان نعیم کے حق میں آیا ہے۔ قصہ یوں ہے کہ 2018ء میں سلمان نعیم نے ملتان کے اس صوبائی حلقے سے پہلی بار آزاد امیدوار کے طور پر جنوبی پنجاب کے ہیوی ویٹ سیاستدان اور ہمارے پیارے مخدوم شاہ محمود قریشی کو سا ڑھے تین ہزار سے زائد ووٹ سے شکست دے کر جہاں تمام مبصرین کے اندازے غلط ثابت کر دیے وہیں ان کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواب کو بری طرح چکنا چور کر دیا۔ یہ شاہ محمود قریشی کی سیاسی زندگی کی ''شاید‘‘ سب سے حیران کن شکست تھی۔ لفظ شاید میں نے محض مروتاً لکھا ہے۔شاہ محمود قریشی کی اس حیران کن (خود شاہ محمود قریشی کیلئے ) شکست کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاہ محمود قریشی نے جو بظاہر صرف اور صرف ملتان شہر سے قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر این اے 156 ملتان III سے امیدوار تھے اور انہوں نے اپنے نیچے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 218 پر پی ٹی آئی کے بڑے متحرک ورکر سلمان نعیم کو ٹکٹ دلوانے کا وعدہ کررکھا تھا اور وہ نوجوان خود اپنے لیے اور شاہ محمود قریشی کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے تھا۔ اس حلقہ میں پی ٹی آئی کی الیکشن مہم کا گڑھ ''انصاف ہاؤس ‘‘ تھا۔ یہ سلمان نعیم کا ڈیرہ تھا۔ جہاں سے اس حلقہ کی ساری الیکشن کمپین چلائی جا رہی تھی؛ تاہم شاہ محمود قریشی نے حسب ِوعدہ اس حلقہ سے ٹکٹ سلمان نعیم کو ٹکٹ دلوانے کے بجائے دل ہی دل میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج اپنے سر پر رکھ لیا اور حسب معمول سلمان نعیم کو غچہ کروا دیا۔ حسب معمول اس لیے لکھا ہے کہ الیکشن 2018 ء میں ملتان کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر شاہ محمود قریشی نے کئی لوگوں سے وعدہ کیا اور تقریباً سبھی کو سلمان نعیم کی طرح غچہ دیا۔ موجودہ پی ایچ اے کے چیئرمین اور سابقہ صدر پی ٹی آئی ملتان ڈسٹرکٹ اعجاز جنجوعہ پی پی 216 سے تحریک انصاف کے امیدوار تھے اور شاہ محمود قریشی نے انہیں بڑا پکا ''لارا‘‘ لگا رکھا تھا کہ وہ اس صوبائی نشست پر ٹکٹ دلوانے میں اپنا زور لگائیں گے مگر ہوا یہ کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 116 سے موجودہ سینیٹر اور ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ اس پر شاہ محمود قریشی اور عامر ڈوگر جو شہر سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے‘ اکڑ گئے۔عون عباس بپی چند روز قبل شاہ محمود کے خلاف پریس کانفرنس کر چکا تھا لہٰذا ہر دو حضرات نے زور لگا کر عون عباس بپی کی صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کینسل کروا دی۔اسی دوران عامر ڈوگر پر بجلی چوری کا کیس بن گیا۔ اس کیس سے جان چھڑوانے میں ندیم قریشی نے عامر ڈوگر کی عملی مدد کی اور پی پی 216 کا ٹکٹ لے اڑا۔بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے اعجاز جنجوعہ کو تو پی ایچ اے کی چیئر مینی اور اپنے فنانسر خاص خالد جاوید وڑائچ کو تحریک انصاف کی ضلعی صدارت دلوا دی۔ موصوف سکولز کی ایک چین چلاتے ہیں اور اس کی فرنچائز پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش میں چند دن قبل ہتھکڑی لگوا چکے ہیں۔ ادھر متوقع ضلعی حکومتوں کے انتخابات کے سلسلے میں میئر ملتان کیلئے کئی امیدوار میدان میں آ چکے ہیں۔ شا ہ محمود قریشی کا امیدوار ان کی بھانجی کا شوہر اور سابقہ سٹی ڈسٹرکٹ ناظم پیر ریاض حسین قریشی کا فرزند معین ریاض قریشی ہے۔ عامر ڈوگر اپنے چھوٹے بھائی کیلئے زور لگا رہا ہے۔ اعجاز جنجوعہ بھی امیدوار ہے اور اس کے علاوہ ایک دو موٹی موٹی''اسامیاں‘‘ سیاسی طاقت کے بجائے اپنے پیسے کے زور پر امیدوار ہیں۔ شنید ہے کہ شہر کے معاملات میں عامر ڈوگر آج کل عملی طور پر شاہ محمود قریشی پر حاوی ہیں اور اندر خانے دونوں ایک دوسرے سے پرخاش کھائے بیٹھے ہیں۔ بقول ایک سیانے کے ''مفاد پرستوں کی آخری لڑائی ان کی باہمی لڑائی ہوتی ہے‘‘ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے؛ تاہم دو عدد مدعیوں کی پشت پر موجود شاہ محمود قریشی کو تین سالہ محنت کے باوجود سپریم کورٹ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور سلمان نعیم قریشی ایک بار بھر شاہ محمود قریشی کے سینے پر مونگ دلنے کیلئے بحال ہو کر آ گیا ہے۔ آج ایسے ہی دل کیا کہ ملتان کی سیاست پر آپ لوگوں کو تھوڑی جانکاری دے دوں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں