نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان کےاولڈوارویٹرن لیفٹیننٹ کرنل(ر)سلطان محمد خان مینگل انتقال کرگئے
  • بریکنگ :- لیفٹیننٹ کرنل (ر)سلطان محمد خان مینگل کی عمر 103سال تھی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- سلطان محمدخان مینگل زبردست سولجر ،مہم جو اور کوہ پیما تھے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- لیفٹیننٹ کرنل (ر)سلطان محمدخان مینگل نے مختلف مہمات میں حصہ لیا
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

خوش گمانی سے بد گمانی تک

اس ریاست میں فراڈ کرنا نہ صرف یہ کہ بہت آسان ہے بلکہ اس پر عموماً کوئی ایکشن بھی نہیں لیا جاتا۔ فراڈ کی فراوانی کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ لالچیوں کے شہر میں فراڈیے کبھی بھوکے نہیں مرتے اور دوسری وجہ یہ ہے انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ تو میں آپ کو ان دونوں وجوہ کی تفصیل بتاتا ہوں۔
اس ملک میں فراڈیے نہ صرف یہ کہ مسلسل اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں بلکہ ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے جب فراڈیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دکانداری چل رہی ہے۔ ان کے پاس گاہک نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی گاہکی میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ یہ تو سیدھا سیدھا سپلائی اینڈ ڈیمانڈ والا معاملہ ہے۔ خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہو تو مارکیٹ میں اسی جنس کی سپلائی بڑھ جاتی ہے۔ ان گاہکوں میں تھوڑی تعداد تو احمقوں، بیوقوفوں اور جاہلوں کی ہے مگر ان کی کثیر تعداد ان لالچیوں پر مشتمل ہے جو دوروپے لگا کر سو روپے کمانے کے چکر میں ہیں اور بلا سوچے سمجھے اس شرح منافع کی لالچ میں آ جاتے ہیں۔ جب ان کی ساری جمع شدہ پونجی لٹ جاتی ہے تو انہیں پتا چلتا ہے کہ ان کے ساتھ تو فراڈ ہو گیا ہے۔ پھر وہ اپنے لٹنے کا سارا ملبہ لوٹنے والے پر ڈال دیتے ہیں۔ اسی دوران اکثر فراڈیے سارا مال‘ متاع سمیٹ کر دبئی وغیرہ بھاگ جاتے ہیں۔ چند لوگ از قسم ڈبل شاہ، مفتی احسان الحق، مفتی ادریس، عبدالمالک، مفتی ابرار اور ملتان کی مدد کمیٹی وغیرہ قانون کی پکڑ میں آ جاتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ بھی ان کا لالچ ہی ہوتا ہے‘ جو ارب ڈیڑھ ارب روپے کما کر غائب ہو جانے کے بجائے مزید فراڈ کے لالچ میں ہاتھ مارتے رہتے ہیں تاوقتیکہ پکڑے جاتے ہیں۔ انہیں بھی ان کا لالچ مرواتا ہے۔
دوسری وجہ انصاف میں تاخیر ہے۔ اگر ایسے معاملات میں بروقت فیصلے ہو جائیں اور مجرم کو فوری طور پر سزا مل جائے تو اس کا معاشرے پر مثبت اثر ہوتا ہے اور جرائم پیشہ افراد میں قانون کا خوف پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ جرم وقوع پذیر ہونے کے بعد برسوں عدالتی کارروائی چلتی ہے‘ پھر مہینوں فیصلہ محفوظ رہتا ہے اور جب لوگ سب کچھ بھول بھال جاتے ہیں تب کہیں جاکر مقدمے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی کو یہ یاد ہی نہیں رہتاکہ کیس کیا تھا اور کیا سزا ملی تھی۔ فیصلے وقت پر نہ ہوں تو نہ کسی کو کیس یاد رہتا ہے اور نہ ہی سزا۔ یہ رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو جاتا ہے۔
ایک اور سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب تک پانی سر سے نہ گزر جائے حکومت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتی ہے اور از خود کوئی ایکشن لینے کے بجائے مدعیوں کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔ موبائل فونز پر دھڑا دھڑ میسج آ رہے ہیں کہ آپ کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں تیس ہزار روپے نکل آئے ہیں‘ اور آپ مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔ یہ پیغامات کثرت سے آ رہے ہیں اور دئیے گئے نمبر پر رابطہ کریں تو آگے سے جواب بھی ملتا ہے اور پیسے دینے کا اقرار بھی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے بہت سے لوگ اسے جھوٹ اور فراڈ سمجھتے ہیں لیکن بے شک آٹھ دس فیصد ہی سہی، مگر لوگ اس فراڈ کا شکار ہوتے ہیں اور فراڈیوں کا کام چلتا رہتا ہے۔ ضرورت مند کے دل میں لالچ غیر حاجتمند کی نسبت شاید جلد پیدا ہو جاتا ہے اس لیے وہ ان پیغامات پر یقین لے آتا ہے اور فراڈ کا شکار ہو کر بعد میں پچھتاتا ہے۔ لٹنے والے کا لالچ اپنی جگہ کہ بغیر درخواست دیے وہ اس رقم نکلنے والی بات پر یقین ہی کیوں کرتا ہے۔ لیکن لالچ ایسی بری بلا ہے کہ اس قسم کی باتیں سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی اور بندہ فراڈیوں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اس سلسلے میں جرائم کنٹرول کرنے والے متعلقہ محکمے ایسے پیغامات بھیجنے والے فراڈیوں پر کریک ڈائون کریں اور ایک باروسیع پیمانے پر آپریشن کرکے سو پچاس جتنے بھی لوگ ہوں ان کو لوٹ مار سے قبل ہی قانون کی گرفت میں لائیں اور اس سلسلے میں اخبارات میں تنبیہی اشتہارات دینے کے بجائے اس کریک ڈائون کی تشہیر کریں اور مجرموں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو اخبارات کی زینت بنائیں تاکہ مجرموں پر قانون کا خوف طاری ہو، مگر ہوتا کیا ہے؟ سرکار ایک اشتہار دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے اور لوگ لٹتے رہتے ہیں۔ جب لوگ لٹ لٹاکر ایف آئی اے وغیرہ میں روتے ہوئے پہنچتے ہیں تو آگے سے سرکاری اہلکار ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور الٹا ان کو ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے لٹنے کے پیچھے ان کا لالچ کار فرما ہوتا ہے مگر اس کے باوجود حکومت اپنی ذمہ داری سے پہلوتہی نہیں کر سکتی۔
آج کل ایک اورفر اڈ زوروں پر ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کے اے ٹی ایم کارڈ کے بلاک ہو جانے کا میسج جو جعلی طور پر سٹیٹ بینک کی جانب سے بھیجا جا رہا ہے کہ آپ کی طرف سے تصدیق (verification) نہ ہونے کے باعث آپ کا کارڈ بلاک ہو گیا ہے‘ آپ درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔ آگے ساری کہانی کا آپ کو علم ہی ہو گا۔ مجھے مورخہ 24 اگست کو اسی قسم کا ایک میسج 0315-1417998 سے موصول ہوا جس میں مجھے 0309-4240852 سے رابطہ کرنے کا کہا گیا۔ میں نے یہ میسج نظر انداز کر دیا۔ پھر مورخہ 26 اگست کو ہوبہو یہی پیغام 0315-1472183 سے موصول ہوا اور مجھے اس بار 0323-1719715 پررابطہ کرنے کا کہا گیا۔ میں نے سوچا‘ ذرا اس فراڈیے سے بات کرکے دیکھتا ہوں۔ میں نے بجائے اپنے موبائل فون کے اسے لینڈلائن سے فون کیا اور پوچھا کہ آپ کون ہے؟ جواب ملا کہ میں سٹیٹ بینک سے بات کررہا ہوں۔ میں نے پوچھا: میرے کس بینک کا کارڈ بلاک ہوا ہے۔ جواب ملا: یو بی ایل کا کارڈ بلاک ہوا ہے۔ میں نے کہا، بھائی! نہ میں نے آپ کو اپنا نام بتایا ہے۔ نہ اپنے فون سے بات کر رہا ہوں۔ نہ میں نے آپ کو اپنا شناختی کارڈ نمبر بتایا ہے تو آپ کو کس طرح پتا چلا کہ میں کون ہوں اور میرا کون سا اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہوا ہے؟ جواب ملا: ہمیں پتا ہے۔ میں نے کہا: تو آپ میرا نام ہی بتا دیں۔ فون بند ہو گیا۔
میں نے سوچا کہ اس کی اطلاع متعلقہ محکمے کو کرنی چاہیے۔ میں نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے دفتر فون کیا۔ جواب ملا: درخواست لے کر آئیں۔ درخواست لے کر دفتر پہنچ گیا۔ ایک سست الوجود سے اہلکار نے پوچھا کہ آپ کا کوئی نقصان ہوا ہے؟ میں نے کہا: بالکل نہیں۔ آگے سے مشورہ ملاکہ جب آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوا تو آپ اللہ کا شکر ادا کریں اور مزے کریں‘ آپ یہ درخواست کیوں لائے ہیں؟ میں نے کہا: مخلوق خدا کو اس فراڈ سے بچانے کیلئے اپنا فرض ادا کرنے آیا ہوں۔ اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا اور ایک اور مشورہ دیا کہ میں بجائے یہاں درخواست دینے کے وزیراعظم پورٹل پر شکایت درج کروا دوں۔ میں نے کہا: یہ فراڈ آپ سے متعلقہ ہے اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔ بادل نخواستہ وہ مجھے اندر کمرے میں لے گیا۔ وہاں پر اعتراض ہواکہ آپ کی درخواست فائل کور میں نہیں ہے‘ اس لیے قبول نہیں ہو سکتی۔ وہاں موجود چپڑاسی سے فائل کور خریدا اور درخواست اس میں لگا کر پیش کردی۔ پندرہ منٹ لگا کر اس کا اندراج کیا گیا‘ اور رسید مجھے پکڑا دی گئی۔ میں ایک خوش گمان آدمی ہوں اور یہ درخواست بھی اسی خوش گمانی کے زیر اثر متعلقہ دفتر میں لے کر گیا تھا کہ شاید اس پر کوئی عمل ہو اور مخلوق خدا کا بھلا ہو جائے مگر اپنی درخواست کے ساتھ اس ابتدائی سلوک نے میری خوش گمانی کو تھوڑا بدگمانی میں بدل دیا ہے۔ خدا نہ کرے کہ میری بدگمانی درست ثابت ہو۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں