نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 8 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 761 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 431 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 47 ہزار 84 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.91 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

آئندہ گندم کی فصل، امکانات اور عرضداشت

کئی امکانی خساروں اور اپنے برخلاف جانے والے حالات کے باوجود تقریباً دو کروڑ پینتیس لاکھ ایکڑ پر کاشت ہونے والی گندم ہمارے ملک کی سب سے بڑی فصل ہے‘ اس کے باوجود گندم کی پیداوار اور اس کے استعمال کا درمیانی فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ گندم کی پیداوار میں اضافہ ملکی آبادی میں ہونے والے اضافے کی نسبت سے کم ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ گندم کی کاشت پر ہونے والا خرچہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کی شرح منافع مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے کاشتکار کے ہاں اس فصل کی اہمیت رو بہ زوال ہے۔
دیگر وجوہات میں ہمارے ہاں کسی ترقی یافتہ ملک کے برابر پیداوار دینے والے گندم کے بیج کی عدم موجودگی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں فی ایکڑ گندم کی پیداوار ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ نیوزی لینڈ میں فی ایکڑ گندم کی پیداوار ایک سو من جبکہ ہمارے یہاں تیس من سی بھی کم ہے۔ ہمارے زرعی سائنسدان اب تک کسی زیادہ پیداوار والے مقامی بیج کی تیاری کے معاملے میں کوئی قابل قدر کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے۔ پیداوار میں کمی کے حوالے سے اگر صرف اسی ایک پہلو پر کام کیا جائے تو صرف دس من فی ایکڑ زیادہ پیداوار دینے والا بیج ملکی پیداوار میں تقریباً نو ملین ٹن کا اضافہ کر سکتا ہے۔ اگر اس کام میں کامیابی حاصل کر لی جائے تو پاکستان گندم برآمد کر سکتا ہے۔
ایک اور چیز جس سے ملک میں گندم کا بحران پیدا ہوتا ہے‘ گندم کی سمگلنگ ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں جن کا مفاد اس سمگلنگ کے ساتھ وابستہ ہے۔ سمگلنگ کے کوئی دستاویزی ثبوت تو نہیں ہوتے تاہم ایک بات بڑی قابل غور ہے کہ پاکستان میں جب بھی گندم کی سپورٹ پرائس عالمی منڈی میں گندم کی قیمت کے برابر یا زیادہ ہوتی ہے پاکستان گندم برآمد کرتا ہے اور جب پاکستان میں گندم کی قیمت عالمی منڈی میں گندم کی قیمت سے کم ہوتی ہے، یہاں گندم ملکی ضرورت سے کم پڑ جاتی ہے اور درآمد کرنا پڑتی ہے۔ ملک میں پیدا ہونے والی گندم کو ارد گرد کے ممالک میں سمگل ہونے سے روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان میں گندم کی قیمت عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت کے کم از کم برابر ضرور ہو۔ اس طرح تین فوائد حاصل ہوں گے۔ پہلا یہ کہ بہتر ریٹ کی صورت میں گندم کا کاشتہ رقبہ بڑھ جائے گا اور بہتر قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاشتکار گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے ہرضروری خرچہ کرنے پر تیار ہو گا۔ نتیجتاً فصل کا رقبہ بڑھ جائے گا اور فی ایکڑ پیداوار بھی ممکنہ حد تک زیادہ ہو جائے گی۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اردگرد کے ممالک کو گندم کی سمگلنگ کم ہو جائے گی اور گندم ملکی ضرورت کے لیے نہ صرف کافی رہے گی بلکہ اسے برآمد کرکے زر مبادلہ بھی کمایا جا سکے گا۔ تیسرا یہ کہ گندم کی امدادی قیمت کے بڑھنے سے گندم کے کاشتکار کو ملنے والی رقم بہرحال ملکی معیشت کی مضبوطی کا باعث بنے گی۔ دوسری صورت میں یہ ہوتا ہے کہ لوکل کاشتکار کو کم قیمت کی وجہ سے اقتصادی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ یہی پیسہ زر مبادلہ کی صورت میں ان ملکوں کے کاشتکاروں کی جیب میں چلا جاتا ہے جہاں سے مہنگی گندم درآمد کرکے ملکی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک حماقت بار بار ہوتی ہے اور وہ یہ کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا اعلان عموماً تب کیا جاتا ہے جب اس کی کاشت مکمل ہو چکی ہوتی ہے اور گندم کی سپورٹ پرائس حکومت کی جانب سے اعلان میں تاخیر کے باعث نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔ کاشت کا سیزن ختم ہونے پر امدادی قیمت میں اضافہ غلط وقت کی وجہ سے اس سال کاشت ہونے والی گندم کی فصل کے کاشتکاروں کیلئے بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں عقل سے کام لیتے ہوئے یہ کام بروقت کرنا چاہیے بصورت دیگر گندم کی امدادی قیمت میں کسی قسم کے اضافے کا عملی طور پر گندم کی فصل کی بڑھوتری پر مثبت اثر نہیں ہوتا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ گندم کی فصل کیلئے درکار پیداواری مداخل اور اخراجات میں گزشتہ سال کی نسبت بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث کاشت کیلئے استعمال ہونے والی مشینری کے خرچے بھی اسی نسبت سے بڑھ گئے ہیں۔ ٹریکٹر، ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویل اور ہارویسٹر وغیرہ کے استعمال کی لاگت میں ناقابل برداشت اضافہ ہو چکا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹیوب ویل سے کاشت ہونے والی زمین کی تیاری اور سیزن کے دوران استعمال ہونے والے پانی کا خرچہ بہت بڑھ گیا ہے اور بیج کے علاوہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے نے آئندہ فصل کے ممکنہ اخراجات بہت زیادہ بڑھا دئیے ہیں۔
اس سال گندم کی کاشت کے وقت سب سے بڑا مسئلہ ڈی اے پی کھاد کا ہوگا۔ ہماری زمین میں فاسفیٹ کی کمی کو دور کرکے گندم کی بھرپور فصل حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ڈی اے پی کھاد ہے۔ ملکی ضرورت کی تقریباً ستر فیصد ڈی اے پی صرف گندم کی فصل کیلئے استعمال ہوتی ہے اور اس کھاد کے بغیر گندم کی بھرپور فصل لینا ممکن ہی نہیں۔ ترجیحی طور پر فی ایکڑ ڈی اے پی کی دو بوریاں استعمال کرنا یوں سمجھیں کہ ایک ایسا سٹینڈرڈ ہے جو گندم کی فصل کیلئے طے شدہ ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ چند ماہ قبل ڈی اے پی کی بوری کی قیمت ساڑھے پانچ سے چھ ہزار روپے کے درمیان تھی جو اب ساڑھے 7 ہزار روپے ہو چکی ہے اور اندازہ ہے کہ گندم کی کاشت شروع ہوتے ہی اس کی قیمت مزید بڑھ جائے گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈی اے پی شارٹ ہے اور آنے والے دنوں میں جونہی طلب کا گراف اوپر جائے گا اس کی شارٹیج پیدا ہوگی اور جن کے پاس ڈی اے پی پڑی ہوگی وہ کاشتکار کی مجبوری کا فائدے اٹھاتے ہوئے اس کی قیمت بڑھا کر بلیک میں بیچیں گے۔ جیسے جیسے طلب بڑھے گی ویسے ویسے قیمت اوپر چلی جائے گی اور اندازہ ہے کہ ڈی اے پی کی قیمت دس ہزار روپے فی بوری ہو جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کاشتکار اپنے حساب کے مطابق خرچ کرنے کی غرض سے ڈی اے پی کی فی ایکڑ مقدار کم کر دے گا۔ اگر اس نے سات ہزار روپے فی بوری کے حساب سے ایک ایکڑ میں چودہ ہزار کی ڈی اے پی ڈالنی تھی تو وہ اب بھی چودہ ہزار کی ڈی اے پی ہی ڈالے گا لیکن دو بوری کے بجائے ڈیڑھ بوری ڈالے گا۔ اس کا براہ راست اثر گندم کی پیداوار پر پڑے گا۔
اگر حکومت کو گندم کی بھرپورفصل اور ملکی ضروریات کے برابر یا زیادہ گندم کی خواہش ہے تو اسکا حل یہ ہے کہ وہ گندم کی امدادی قیمت کا اعلان فصل کاشت ہونے سے قبل‘ بروقت کرے اور گندم کیلئے ضروری مداخل کی قیمتوں میں استحکام لائے۔ بصورت دیگر امدادی قیمت میں اضافہ بھی بالکل بے کار اور بے فائدہ ثابت ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ڈر ہے کہ اگلے سال پھر گندم درآمد کرنا پڑے گی اور اربوں روپے کا زر مبادلہ ملکی کاشتکار کے بجائے غیرملکی کاشتکار کی جیب میں چلا جائے گا۔ اگے تہاڈی مرضی!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں