نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ کی ایم کیو ایم کارکن اسلم کے گھر آمد
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ کی اسلم کے ورثا سےتعزیت
  • بریکنگ :- اسلم کےاہل خانہ کےدکھ میں برابرکےشریک ہیں،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- فیملی جس طرح کی انکوائری چاہتی ہےوہ کرائی جائےگی،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ کےہمراہ سعیدغنی،ناصرشاہ اوردیگر بھی تھے،ترجمان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

خاک نشین کہاں جائیں؟

عجب نسبتِ معکوس ہے کہ موت جتنی سستی ہوتی جا رہی ہے لکھنا اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی صرف گیارہ دن پہلے اس سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ ان گیارہ دنوں نے اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اور بھلا اس میں عجب کیا ہے؟ ابا جی مرحوم‘ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ‘جب اپنے چھتیس سال کے کڑیل بیٹے کو دفن کرکے واپس گھر آئے تو صحن میں بچھی دری پر بیٹھ کر خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے: میں نے بڑے غم اورصدمات دیکھے ہیں لیکن دنیا کا سب سے بڑا غم یہ ہے کہ بوڑھا والد اپنے جوان بیٹے کو کندھا دے کر قبرستان لے جائے اور پھر اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر پر مٹی ڈالے۔ فکشن ہاؤس والا ظہور احمد خان بھی اسی صدمے سے دوچار تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگا کہ ابا جی دری پر بیٹے ہیں اور بھائی طارق مرحوم کی تعزیت کیلئے آنے والوں کو دیکھے بغیر آسمان کی طرف دیکھ کر کہہ رہے ہیں: اچھا بھئی اللہ میاں! تیری مرضی۔ اب بھلا آنکھوں کے سامنے یہ منظر گھومتا ہو تو لکھنا آسان کیسے ہو سکتا ہے؟
ظہور احمد کو مجھ سے جس ڈور نے باندھ رکھا ہے اس کا نام کتاب ہے اور اس ڈور فکشن ہاؤس نامی گانٹھ نے جکڑ رکھا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ابا جی کے ساتھ لاہور جاتا تھا تو فیروزسنز‘ آئینۂ ادب‘ آئیڈیل بک ڈپو اور امپیریل بک ڈپو میری دلچسپی کا محور ہوتے تھے۔ کبھی کبھار مرزا بک ایجنسی بھی اس زد میں آ جاتی تھی۔ پھر خود لاہور گھومنے کا زمانہ آیا تو یہ ہوا کہ ہماری دلچسپی فیروز سنز سے ہوتی ہوئی سنگ میل پبلی کیشنز تک جا پہنچی۔ اس دوران لوہاری دروازے کے باہر مسلم مسجد کے نیچے آئینہ ادب کی جگہ میڈیکل سپلائیز کی دکان کھل گئی۔ آئیڈیل بک ڈپو انار کلی کی جگہ جوتوں کی دُکان نے لے لی اور امپیریل بک ڈپو ریگل چوک میں کتابوں کی جگہ برگر نے سنبھال لی۔ ان دکانوں سے جڑا ہوا رومانس کہیں اڑن چھو ہو گیا اور حسین یادوں کے کئی پرانے دروازے رفتہ رفتہ بند ہو گئے۔ نئے کھلنے والے دروازوں میں سنگ میل پبلی کیشنز اور اُردو بازار کے کئی بک سیلرز تھے۔ تب چودھری نیاز صاحب حیات تھے اور اعجاز بھی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ وہیں ہوتا تھا۔ سنگ میل کا شو روم موجودہ جگہ کے عین اوپر پہلی منزل پر ہوتا تھا جس کی سیڑھیاں سائیڈ والی گلی سے اوپر جاتی تھیں۔ اوپر سنگ میل کے سامنے طاہر اسلم گورا کی گورا پبلشرز تھی۔ پھر گورا پبلشرز گردش کی زد میں آ گئی۔ نیاز صاحب اور اعجاز اللہ کو پیارے ہو گئے۔
سنگ میل کا شوروم نیچے شفٹ ہو گیا جہاں برادر عزیز افضال احمد ہوتاہے۔ اسی دوران ہمارا آنا جانا مزنگ روڈ پر شروع ہو گیا۔ یہاں فکشن ہاؤس تھا‘ نگارشات تھا‘ بک ہوم تھا اور کئی دوسرے پبلشرز تھے جو دنیا بھر کا ادب ترجمہ کرکے چھاپ رہے تھے۔ فکشن ہاؤس پر ظہور احمد‘ نگارشات پر آصف جاوید‘ بک ہوم پر رانا عبدالرحمن‘ تخلیقات پر لیاقت علی اور پیپلز پبلشنگ ہاؤس پر ملک عبدالرؤف‘ جو عبداللہ ملک کے بھائی تھے‘ ہوتے تھے۔ کیا شاندار زمانہ تھا جو گزر گیا۔ آہستہ آہستہ مصروفیات اور شاکر حسین شاکر کے طفیل ملتان میں کتابوں کی آسان دستیابی نے مزنگ روڈ کو مجھ سے چھین لیا۔ آخری بار تب جانا ہوا جب معین نظامی کی نظموں کی کتاب ''طلسمات‘‘ کی تلاش تھی۔ جو بک ہوم نے چھاپی تھی۔ کتاب تو نہ ملی لیکن اس کے طفیل اس روز اس سڑک پر تین گھنٹے گزر گئے۔ ہر دکان سے دو تین کتابیں اٹھائیں۔ کسی نے اتنی سستی قیمت پر کتابیں دیں کہ ان کی محبت پر دل سے دعا نکلی اور ایک آدھ نے قیمت لینے سے انکار کر دیا۔ اصرار کیا تو جواب ملا کہ اگلی بار دے دیجئے گا‘ اس بار ہماری طرف سے۔ کہا کہ آج کئی سال بعد آنا ہوا ہے اللہ جانے اگلی بار کب آنا ہو۔ جواب ملا کہ اسی لیے تو پیسے لینے میں عار ہے کہ کئی برس بعد آئے ہیں۔ کیا شاندار لوگ ہیں یہ بھی‘ جو آہستہ آہستہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔
ظہور احمد خان سے آخری ملاقات تو چند دن پرانی بات ہے۔ ملتان ٹی ہاؤس میں ملتان لٹریری فیسٹیول تھا۔ اس دو روزہ فیسٹیول کے پہلے روز تو اس لیے شرکت نہ کر سکا کہ میں ملتان میں نہیں تھا؛ تاہم دوسرے دن دوپہر کے بعد کے سیشن میں گل نوخیز اختر کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارنا گویا ہنسی کے سمندر میں مزاج کی ناؤ پر قہقہوں کے بادبان تلے بیٹھ کر لطف اندواز ہونے کے مترادف تھا۔ ملتان ٹی ہاؤس کے برآمدے کے سامنے فکشن ہاؤس کا بک سٹال سجا ہوا تھا۔ ایک عرصے بعد ظہور احمد سے ملاقات ہوئی۔ ظہور احمد نے اپنی روایتی خوش اخلاقی سے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا۔ اس روز اس کے چہرے سے پھوٹنے والی مسرت اور خوشی نے میرا بھی دل شاد کر دیا۔ صرف کتاب کے طفیل اس باہمی محبت کا لطف تو لیا جا سکتا ہے مگر اظہار ممکن نہیں۔ اس مختصر سی ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے کا حال چال پوچھا۔ ظہور احمد نے ملاقات میں لمبے وقفے کا شکوہ بھی کیا جو میں نے صرف مسکرا کر ٹال دیا۔ ظہور احمد سے یہ ملاقات چودہ نومبر کو ہوئی۔ ظہور احمد نے کہا کہ کبھی دوبارہ فکشن ہاؤس آیئے گا۔ میں نے بھی روایتی مروت میں وعدہ کر لیا مگر کسے علم تھا کہ اگلی ملاقات اتنی جلد ہو گی اور اس طرح ہوگی۔
پچیس نومبر کو جب میں اور شاکر حسین شاکر لاہور پہنچ کر ظہور احمد کے گھر کی طرف جا رہے تھے تو مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہاں پہنچ کر ظہور احمد سے کیا بات کروں گا اور کس طرح کروں گا۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ایسے مواقع پر تعزیت کرنا‘ افسوس کا اظہار کرنا اور صبر کی تلقین کرنا بالکل بے معنی سی باتیں لگتی ہیں۔ دنیا داری نبھانے کی حد تک تو چلیں ٹھیک ہے لیکن بھلا اس غم و اندوہ کا اندازہ لگانا بھلا کس طرح ممکن ہے جس سے جوان بیٹے سے محروم ہونے والا باپ گزر رہا ہے۔ میں آخری بار ظہور کو چودہ نومبر کو ملا تھا اور آج پچیس نومبر تھی۔ درمیان گیارہ دن تھے۔ ظہور کا بیٹا ذیشان انیس نومبر کو قتل ہوا۔ گھر سے چند گز دور ہونے والے ذیشان ظہور کے قتل ناحق نے ظہور احمد کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ میں گنگ بیٹھا اور ظہور احمد ایسے کہ بس اس کے صبر کا پیمانہ ابھی لبریز ہوا۔ صبر کے بند اور غم کے سیلاب بلا کے درمیان کشمکش جاری تھی اور میرے پاس یہ منظر دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا لہٰذا میں وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔ بعد میں شاکر نے بتایا کہ بس آپ کے اٹھنے کی دیر تھی اور صبر کا بند ٹوٹ گیا۔
ظہور احمد ملتان لٹریری فیسٹیول کے بعد اپنی کتابیں لے کر بہاولپور کے ادبی میلے میں چلا گیا۔ وہاں سے واپس ملتان پہنچا تو اسے اپنے جوان بیٹے کے قتل کی خبر ملی۔ ساری تفصیل برادر عزیز رؤف کلاسرا اپنے کالم میں لکھ چکا ہے اسے اب کیا دہرانا! مگر حکمرانوں کی بے حسی‘ قانون کی کسمپرسی اور پولیس کی روایتی سنگدلی اس حد تک پہنچ سکتی ہے؟ سوچیں تو دل مملکت خدا داد کے سارے نظام سے اٹھ جاتا ہے۔ ''ریاست مدینہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے والوں پر رونے کو دل کرتا ہے لیکن اب تو آنکھیں بھی خشک ہوتی جا رہی ہیں کہ بھلا ''نینوں کا کھوہ‘‘ کتنی دیر گیڑاجا سکتا ہے؟ حکمرانوں کا کیا ہے؟ ان کے پاس ہر بات اور ہر چیز کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سارا پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے۔ گمان ہے کہ قانون کی کسمپرسی‘ پولیس کی سنگدلی‘ غریب کی بے کسی‘ طاقتور کی زور آوری اور دجلے کے کنارے بھوکے مرنے والے کتے کے بارے میں اگر حکمرانوں سے سوال کیا گیا تو وہ اس کی ساری ذمہ داری گزشتہ والے حکمرانوں پر ڈال دیں گے؛ تاہم مجھے ایک بات تو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ موجودہ حکمرانوں کا کیا کام ہے اور وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اور دوسری یہ کہ ہم جیسے خاک نشین آخر کدھر جائیں؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں